کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص بیمار نہ ہو
حدیث نمبر: 3751
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنَةٌ لِي كَذَا وَكَذَا - ذَكَرَتْ مِنْ حُسْنِهَا وَجَمَالِهَا - أُتْرِبُكَ بِهَا قَالَ : " قَدْ قَبِلْتُهَا " فَلَمْ تَزَلْ تَمْدَحُهَا حَتَّى ذَكَرَتْ أَنَّهَا لَمْ تَصْدَعْ وَلَمْ تَشْتَكِ شَيْئًا قَطُّ قَالَ : " لَا حَاجَةَ فِي ابْنَتِكِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری بیٹی ایسی ہے اس نے اپنی بیٹی کے حسن و جمال کا ذکر کیا ، اور یہ کہا: کہ میں اس کا رشتہ آپ کے ساتھ کرنا چاہتی ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اسے قبول کرتا ہوں وہ عورت مسلسل اس لڑکی کی تعریفیں بیان کرتی رہی یہاں تک کہ اس نے یہ بھی ذکر کیا کہ وہ لڑکی کبھی بیمار نہیں ہوئی اور اسے کبھی کسی بیماری کی شکایت نہیں ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے تمہاری بیٹی میں کوئی دلچپسی نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3751
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «مسند أحمد بن حنبل، مسند أنس بن مالك رضي الله تعالى عنه، 12353، مسند أبى يعلى الموصلي ، أبو عمران الجونى ، 4122 ، شعب الإيمان للبيهقى ، التاسع والثلاثون من شعب الإيمان، فصل فى ذكر ما فى الأوجاع والأمراض والمصيبات من الكفارات، 9527»
حدیث نمبر: 3752
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ أَخَذَتْكَ أُمُّ مِلْدَمٍ ؟ " قَالَ : وَمَا أُمُّ مِلْدَمٍ ؟ قَالَ : " حَرٌّ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ " قَالَ : مَا وَجَدْتُ هَذَا قَطُّ قَالَ : " فَهَلْ أَخَذَكَ هَذَا الصُّدَاعُ ؟ " قَالَ : وَمَا الصُّدَاعُ ؟ قَالَ : " عِرْقٌ يَضْرِبُ عَلَى الْإِنْسَانِ فِي رَأْسِهِ " قَالَ : مَا وَجَدْتُ هَذَا قَطُّ ! ! فَلَمَّا وَلَّى قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَقَالَ أَحْمَدُ فِي رِوَايَةٍ : مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْرَابِيٌّ فَأَعْجَبَهُ صِحَّتُهُ وَجِلْدُهُ فَدَعَاهُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : تمہیں کبھی بخار ہوا ہے ؟ اس نے دریافت کیا : بخار کیا ہوتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ایک تپش ہوتی ہے ، جو جلد اور گوشت کے درمیان ہوتی ہے اس نے کہا: میں نے یہ صورت حال کبھی نہیں پائی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کبھی صداع ہوا ہے ؟ اس نے دریافت کیا : صداع کیا ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایک رگ ہے ، جو انسان کے سر میں ضرب لگاتی ہے ( شاید اس سے مراد بلند فشار دم ہے ) اس نے کہا: میں نے یہ صورت حال بھی کبھی نہیں پائی ہے ، جب وہ شخص چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہو کہ کسی جہنمی کو دیکھے اسے اس شخص کو دیکھ لینا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ ایک روایت میں امام أحمد نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک دیہاتی کے پاس سے ہوا اس کی صحت اور جسمانی حالت آپ کو اچھی لگی آپ نے اسے بلوایا “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3752
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 3753
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " الضُّعَفَاءُ الْمَظْلُومُونَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " كُلُّ شَدِيدٍ جَعْظَرِيٍّ هُمُ الَّذِينَ لَا يَأْلَمُونَ رُؤُوسَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْبَرَاءُ بْنُ يَزِيدَ الْغَنَوِيُّ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : هُوَ عِنْدِي أَقْرَبُ إِلَى الصِّدْقِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تم لوگوں کو اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ضعیف اور مظلوم لوگ ( اہل جنت ہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں اہل جنم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر سخت مزاج سرکش ، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں سر میں درد بھی نہیں ہوتا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی براء بن یزید غنوی ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : یہ میرے نزدیک سچائی سے زیادہ قریب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3753
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3754
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَتَى عَهْدُكَ بِأُمِّ مِلْدَمٍ ؟ " قَالَ : وَمَا أُمُّ مِلْدَمٍ ؟ قَالَ : " حَرٌّ يَكُونُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَالْعَظْمِ يَمُصُّ الدَّمَ وَيَأْكُلُ اللَّحْمَ " قَالَ : مَا اشْتَكَيْتُ قَطُّ ! ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَخْرِجُوهُ عَنِّي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، قَالَ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ : صَدُوقٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : صَدُوقٌ وَهُوَ مِمَّنْ لَمْ يَتَعَمَّدِ الْكَذِبَ وَلَهُ أَحَادِيثُ صَالِحَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں اُم ملدم آخری مرتبہ کب ہوا تھا ؟ اس نے دریافت کیا : ام ملدم کیا ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک تپش جو جلد اور ہڈیوں کے درمیان ہوتی ہے ، اور خون چوس لیتی ہے ، اور گوشت کو کھا لیتی ہے اس نے کہا: مجھے یہ بیماری کبھی لاحق نہیں ہوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ جہنمی کو دیکھے اُسے اس شخص کو دیکھ لینا چاہیے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے میرے پاس سے لے جاؤ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے ، عمرو بن علی بیان کرتے ہیں : یہ صدوق اور منکر الحدیث ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : یہ صدوق ہے یہ ان افراد میں سے ایک ہے ، جو جان بوجھ کر غلط بیانی نہیں کرتے ہیں اس کے حوالے سے صالح احادیث منقول ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3754
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف