مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ السُّنْبُلَةِ . باب: مومن کی مثال سنبل ( کھیت کی بالی ) کی مانند ہے
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ السُّنْبُلَةِ يَمِيلُ أَحْيَانًا وَيَقُومُ أَحْيَانًا ، وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ أَرْزٍ يَخِرُّ وَلَا يَشْعَرُ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُهَلَّبُ بْنُ الْعَلَاءِ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي فِي الْأَدَبِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحَادِيثُ نَحْوَ هَذَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مومن کی مثال ( کھیت کی ) بالی کی مانند ہے ، جو کبھی جھک جاتی ہے ، اور کبھی کھڑی ہو جاتی ہے ، اور کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی مانند ہے کہ جو ( ایک ہی مرتبہ ) گر جاتا ہے ، اور اس کا پتہ بھی نہیں چلتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مہلب بن العلاء ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ادب سے متعلق باب میں آگے چل کر کچھ احادیث آئیں گی جو اس کی مانند ہوں گی باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔