عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الرَّجُلَ لِيَكُونُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ الْمَنْزِلَةُ فَمَا يَبْلُغُهَا بِعَمَلِهِ فَمَا يَزَالُ اللَّهُ يَبْتَلِيهِ بِمَا يَكْرَهُ حَتَّى يَبْلُغَهَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ : " يَكُونُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ الْمَنْزِلَةُ الرَّفِيعَةُ " ، ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” کسی شخص کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک مخصوص مقام ہوتا ہے اس مقام تک آدمی اپنے عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکا تو اللہ تعالی اس شخص کو مسلسل اس آزمائش کا شکار کرتا ہے ، جسے وہ ناپسند کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ شخص اس مقام تک پہنچ جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ ان کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اللہ تعالی کی بارگاہ میں اس کا بلند مرتبہ ہوتا ہے “ ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ ان کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اللہ تعالی کی بارگاہ میں اس کا بلند مرتبہ ہوتا ہے “ ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلٍ ابْتَلَاهُ اللَّهُ فِي جَسَدِهِ ، فِي مَالِهِ أَوْ وَلَدِهِ ثُمَّ صَبَّرَهُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى يُبَلِّغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَأَحْمَدُ وَفِيهِ قِصَّةٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ وَأَبُوهُ : لَمْ أَعْرِفْهُمَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن خالد نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سے یہ روایت نقل کی ہے : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک بندے کے لئے جب اللہ تعالی کی طرف سے کوئی مقام طے ہو چکا ہو ، اور آدمی اپنے عمل کے ذریعے وہاں تک نہ پہنچ سکتا ہو تو اللہ تعالی اس شخص کو اس کے جسم یا اس کے مال یا اس کی اولاد کے حوالے سے آزمائش کا شکار کر دیتا ہے ، اور پھر اس آزمائش پر اسے صبر کی ، توفیق دیتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالی اس شخص کو اس مقام تک پہنچا دیتا ہے ، جو اللہ تعالی کی طرف سے اس کے لئے پہلے سے طے ہو چکا ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر معجم اوسط میں اور امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس میں پورا واقعہ ہے محمد بن خالد اور اس کے والدان دونوں سے میں واقف نہیں ہوں باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر معجم اوسط میں اور امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس میں پورا واقعہ ہے محمد بن خالد اور اس کے والدان دونوں سے میں واقف نہیں ہوں باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَزَالُ الْبَلَايَا بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” آزمائشیں مسلسل مؤمن مرد یا مومن عورت کو لاحق ہوتی رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے ، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ مُسْلِمٍ مَوْلَى الزُّبَيْرِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ أَبِي فَاطِمَةَ الضَّمْرِيِّ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ : " مَنْ يُحِبُّ أَنْ يَصِحَّ فَلَا يَسْقَمُ ؟ " فَابْتَدَرْنَا فَقُلْنَا : نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَرَفْنَاهَا فِي وَجْهِهِ فَقَالَ : " أَتُحِبُّونَ أَنْ تَكُونُوا كَالْحَمِيرِ الضَّالَّةِ ؟ " قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ تَكُونُوا أَصْحَابَ كَفَّارَاتٍ ؟ وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ إِنَّ اللَّهَ يَبْتَلِي الْمُؤْمِنَ بِالْبَلَاءِ وَمَا يَبْتَلِيهِ بِهِ إِلَّا لِكَرَامَتِهِ عَلَيْهِ ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ أَنْزَلَهُ مَنْزِلَةً لَمْ يَبْلُغْهَا بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ فَيَبْتَلِيهِ مِنَ الْبَلَاءِ مَا يُبَلِّغُهُ تِلْكَ الدَّرَجَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ عَدِيٍّ قَالَ : وَهُوَ مَعَ ضَعْفِهِ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
مسلم ، جو زبیر کے آزاد کردہ غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں عبداللہ بن ایاس بن ابوفاطمہ ضمری کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سے منقول یہ حدیث بیان کی وہ ( یعنی ان کے دادا ) بیان کرتے ہیں : ” میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے آپ نے دریافت کیا : کون شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ تندرست رہے بیمار نہ ہو ؟ تو ہم نے جلدی کی ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم ایسا چاہتے ہیں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناگواری کا احساس ہوا آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تم گمشدہ گدھے کی مانند ہو جاؤ ؟ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس چیز کو پسند نہیں کرتے ہو کہ تم ایسے ہو جاؤ کہ تمہارے گناہوں کا کفارہ ہو جائے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوالقاسم کی جان ہے اللہ تعالیٰ مؤمن کو آزمائش کا شکار کرتا ہے ، اور وہ اسے اس آزمائش کا شکار اس لئے کرتا ہے تاکہ اس پر اپنا کرم کرے اور اللہ تعالیٰ اسے ایک مخصوص مقام پر فائز کرنا چاہتا ہے اس مقام تک وہ شخص اپنے کسی عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو آزمائش کا شکار کر دیتا ہے ، اور وہ آزمائش اس شخص کو اس درجہ تک پہنچا دیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، البتہ ابن عدی یہ کہتے ہیں : اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، البتہ ابن عدی یہ کہتے ہیں : اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔