کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان جو لہسن یا اس جیسی کوئی ( بدبودار چیز ) کھا لے اور پھر مسجد میں آئے
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ لَهُ فَنَزَلْنَا فِي مَكَانٍ كَثِيرِ الثُّومِ ، وَإِنَّ أُنَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَصَابُوا مِنْهُ ، ثُمَّ جَاءُوا إِلَى الْمُصَلَّى يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَهَاهُمْ عَنْهَا ، ثُمَّ جَاءُوا بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى الْمُصَلَّى فَوَجَدَ رِيحَهَا مِنْهُمْ فَقَالَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو الزَّيَّاتِ وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ہم نے ایک ایسی جگہ پر پڑاؤ کیا جہاں لہسن بہت زیادہ تھا مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے اسے حاصل کیا جب وہ لوگ نماز کی جگہ پر آئے تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا پھر اس کے بعد جب وہ لوگ نماز ادا کرنے کی جگہ پر آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان لوگوں سے لہسن کی بو محسوس ہوئی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے اس درخت میں سے کھایا ہو وہ ہماری مسجد کے قریب ہرگز نہ آئے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوزیاد ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1989
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْخَضْرَاوَاتِ الثُّومِ وَالْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ وَالْفُجْلِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ؛ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : " وَالْفُجْلِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ الْبَرَاءُ الْبَصْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ان سبزیوں لہسن پیاز ، گندنہ اور فجل ( شاید اس سے مراد چقندر ہے ) کو کھا لے وہ ہماری مسجد کے قریب ہرگز نہ آئے کیونکہ جس چیز سے انسانوں کو اذیت ہوتی ہے فرشتوں کو بھی اس سے اذیت ہوتی ہے “ ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : فجل “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن راشد البراء بصری ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے وہ یہ فرماتے ہیں : یہ غلطی بھی کرتا ہے ، اور ( دوسروں کے ) برخلاف بھی نقل کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1990
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الصغير للطبراني من اسمه احمد حديث 37 ، المعجم الاوسط للطبراني باب الالف من اسمه احمد 192»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ الثُّومِ وَالْبَصَلِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا ، وَلْيَأْتِنِي أَمْسَحْ وَجْهَهُ وَأُعَوِّذْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ سَلَامُ بْنُ أَبِي خُبْزَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص ان دو درختوں لہسن اور پیاز میں سے کھا لے وہ ہماری نماز کی جگہ کے ہرگز قریب نہ آئے اور جب وہ میرے پاس آئے گا ، تو میں اس کے چہرے پر ہاتھ پھیروں گا ، اور اسے دم کروں گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلام بن ابوخبزہ ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1991
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْمُنْكَرَةِ - يَعْنِي الثُّومَ - فَلْيَجْلِسْ فِي بَيْتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مَجَاهِيلُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ میں رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اس ناگوار سبزی کو کھا لے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد لہسن تھا ) تو وہ اپنے گھر میں بیٹھا رہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس میں مجہول راوی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1992
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ وَقَعَ النَّاسُ فِي الثُّومِ فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي الْقَاسِمِ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا تو لوگوں کو لہسن ملا انہوں نے وہ کھانا شروع کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ بدبودار سبزی کھا لے وہ ہماری مسجد ( یا نماز کی مخصوص جگہ ) کے قریب ہرگز نہ آئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام ابوالقاسم کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے میں نے کسی کو اس شخص کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1993
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِيَّاكُمْ وَهَاتَيْنِ الْبَقْلَتَيْنِ الْمُنْتِنَتَيْنِ أَنْ تَأْكُلُوهُمَا وَتَدْخُلُوا مَسَاجِدَنَا ، فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ آكِلُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا بِالنَّارِ قَتْلًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم لوگ ان دو بدبودار سبزیوں سے بچ کے رہو کہ انہیں کھاؤ اور پھر ہماری مسجد میں داخل ہو جاؤ اگر تم نے ان دونوں کو ضرور کھانا ہے ، تو آگ کے ذریعے انہیں ( یعنی ان کی بدبو کو ) مار دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1994
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبَّنَ مَسَاجِدَنَا - يَعْنِي الثُّومَ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اس درخت میں سے کھائے وہ ہماری مساجد کے قریب ہرگز نہ آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد لہسن تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے معجم کبیر کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1995
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ فَلَا يَقْرَبَّنَ مَسَاجِدَنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنِ الشَّامِيِّينَ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اس خبیث ( یعنی بدبودار ) سبزی کو کھائے وہ ہماری مساجد کے قریب ہرگز نہ آئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسماعیل بن عیاش کی اہل شام سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1996
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ بَشِيرٍ الْأَسْلَمِيِّ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ فَلَا يَقْرَبَّنَ مَسَاجِدَنَا - يَعْنِي الثُّومَ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بشیر اسلمی رضی اللہ عنہ جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اس خبیث سبزی کو کھا لے وہ ہماری مساجد کے قریب ہرگز نہ آئے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد لہسن تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1997
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ فَوَجَدُوا فِي جِنَانِهَا بَصَلًا وَثُومًا فَأَكَلُوا مِنْهُ وَهُمْ جِيَاعٌ ، فَلَمَّا رَاحَ النَّاسُ إِلَى الْمَسْجِدِ إِذَا رِيحُ الْمَسْجِدِ بَصَلٌ وَثُومٌ ، قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّا " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَهُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں شرکت کی ان لوگوں کو راستے میں پیاز اور لہسن ملا لوگوں نے اسے کھانا شروع کر دیا کیونکہ وہ بھوکے تھے جب لوگ نماز کی مخصوص جگہ کی طرف آئے تو مسجد میں سین اور پیاز کی بو پھیل گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اس خبیث درخت میں سے کھائے وہ ہمارے قریب ہرگز نہ آئے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے ایک طویل حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1998
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ أَبِي غَالِبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ - لَا أَحْسَبُهُ إِلَّا رَفَعَهُ - قَالَ : " الثُّومُ وَالْبَصَلُ وَالْكُرَّاثُ مِنْ سَكِّ إِبْلِيسَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : أَبُو سَعِيدٍ رَوَى عَنْ أَبِي غَالِبٍ ، وَرَوَى عَنْهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
ابوغالب نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے اسے ” مرفوع “ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” لہسن پیاز اور گندنا ابلیس کی مینڈھیوں میں سے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہے ، جسے ابوسعید کہا: گیا ہے ، اس نے ابوغالب سے بروایت نقل کی ہے ، اور اس سے عبدالعزیز بن عبدالصمد نے روایت نقل کی ہے : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1999
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف