عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ سَيِّئَةٌ وَدَفْنُهُ حَسَنَةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : "خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا" ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مسجد میں تھوک دینا برائی ہے ، اور اسے دفن کرنا اچھائی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” گناہ ہے ، اور اس کا کفارہ اسے دفن کرنا ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” گناہ ہے ، اور اس کا کفارہ اسے دفن کرنا ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيُغَيِّبْ نُخَامَتَهُ أَنْ تُصِيبَ جِلْدَ مُؤْمِنٍ أَوْ ثَوْبَهُ فَتُؤْذِيَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب کوئی شخص مسجد میں تھوک دے تو اسے اپنے تھوک کو ( مٹی میں ) چھپا دینا چاہیے تاکہ وہ کسی مؤمن کی جلد یا اس کے کپڑے پر لگ کر اسے اذیت نہ پہنچائے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَنَخَّعَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَمْ يَدْفِنْهُ فَسَيِّئَةٌ ، وَإِنْ دَفَنَهُ فَحَسَنَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص مسجد میں تھوک دے اور پھر اسے دفن نہ کرے تو یہ برائی ہے ، اور اگر وہ اسے دفن کر دے تو یہ اچھائی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهُ دَفْنُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مسجد میں تھوک دینا برائی ہے ، اور اس کا کفارہ اس کو دفن کرنا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا بَصَقَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا يَبْصُقُ عَنْ يَمِينِهِ ، لَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی شخص مسجد میں تھوک دے تو وہ اپنی دائیں طرف نہ تھوکے بلکہ وہ اپنی بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُهُمْ إِذَا كَانُوا فِي الصَّلَاةِ أَنْ لَا يَسْتَوْفِزُوا عَلَى أَطْرَافِ الْأَقْدَامِ، وَيَقُولُ : " إِذَا نَفَثَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلَا يَنْفُثُ قُدَّامَ وَجْهِهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلَكِنْ تَحْتَ قَدَمِهِ ثُمَّ يَدْلُكُهَا بِالْأَرْضِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو یہ حکم دیتے تھے کہ جب وہ لوگ نماز ادا کر رہے ہوں تو وہ پاؤں کے بل اکڑوں نہ بیٹھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے کہ جب کسی شخص نے نماز کے دوران تھوکنا ہو تو وہ اپنے سامنے کی طرف یا اپنی دائیں طرف نہ تھوکے بلکہ اپنے پاؤں کے نیچے تھوکے اور پھر اسے زمین کے ساتھ مل دے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تُبْعَثُ النُّخَامَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الْقِبْلَةِ وَهِيَ فِي وَجْهِ صَاحِبِهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قبلہ کی سمت میں پھینکے گئے تھوک کو قیامت کے دن دوبارہ اٹھایا جائے گا ، اور وہ تھوک پھینکنے والے شخص کے چہرے پر ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عمر ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عمر ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْزُقُ فِي ثَوْبِهِ فِي الصَّلَاةِ فَيَفْتِلُهُ بِإِصْبَعَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نماز کے دوران اپنے کپڑے میں تھوک دیا پھر انگلیوں کے ذریعے اسے مل دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ بَزَقَ فِي قِبْلَةٍ وَلَمْ يُوَارِهَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحْمَى مَا تَكُونُ حَتَّى تَقَعَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ " ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص قبلہ کی سمت میں تھوک دیتا ہے ، اور اسے چھپاتا نہیں ہے ، تو وہ تھوک قیامت کے دن زیادہ گرم ہو کر آئے گا یہاں تک کہ اس شخص کی دونوں آنکھوں کے درمیان لگ جائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَاسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ فَرَأَى نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ ثُمَّ مَشَى إِلَيْهَا فَحَكَّهَا فَفَعَلَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ فِي مَقَامٍ عَظِيمٍ بَيْنَ يَدَيْ رَبٍّ عَظِيمٍ ، يَسْأَلُ أَمْرًا عَظِيمًا ؛ الْفَوْزَ بِالْجَنَّةِ وَالنَّجَاةَ مِنَ النَّارِ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ يَقُومُ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مُسْتَقْبِلَ رَبِّهِ ، وَمَلَكُهُ عَنْ يَمِينِهِ وَقَرِينُهُ عَنْ يَسَارِهِ، فَلَا يَتْفُلَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ ثُمَّ لْيَعْرُكْ فَلْيَشْدُدْ عَرْكَهُ ، فَإِنَّمَا يَعْرُكُ أُذُنَ الشَّيْطَانِ، وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ لَوْ يَنْكَشِفُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ الْحُجُبُ أَوْ يُؤْذَنُ فِي الْكَلَامِ لَشَكَا مَا يَلْقَى مِنْ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے نماز شروع کی تو آپ کو قبلہ کی سمت میں تھوک لگا ہوا نظر آیا آپ نے اپنا جوتا اتارا پھر چلتے ہوئے اس کی طرف گئے اور اسے کھرچ دیا ایسا آپ نے تین مرتبہ کیا جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو آپ اپنا چرہ پھیر کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! جب تم میں سے کوئی ایک شخص نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے عظیم پروردگار کے سامنے ایک اہم جگہ پر کھڑا ہوتا ہے ، اور وہ عظیم چیز کے بارے میں مانگتا ہے ، جو جنت کے ذریعے کامیابی ہے ، اور جہنم سے نجات ہے ، تو جب تم میں سے کوئی ایک شخص نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے ، اس کا رخ اس کے پروردگار کے سامنے ہوتا ہے فرشتہ اس کے دائیں طرف ہوتا ہے ، اس کا قرین اس کے بائیں طرف ہوتا ہے ، تو کوئی بھی شخص اپنے سامنے کی طرف یا اپنے دائیں طرف ہرگز نہ تھوکے اسے بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہیے اور پھر کوئی شاخ لے کر اسے اچھی طرح سے صاف کر دینا چاہئے ۔ اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اگر تمہارے اور اس کے درمیان موجود حجابات کو ختم کر دیا جائے یا اسے کلام کرنے کی اجازت دی جائے تو وہ اس بات کی شکایت کرے گا کہ اسے اس صورت حال کا جو سامنا کرنا پڑا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں عبیداللہ بن زحر کی علی بن یزید کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں عبیداللہ بن زحر کی علی بن یزید کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ فُتِّحَتْ لَهُ الْجِنَانُ وَكُشِفَتْ لَهُ الْحُجُبُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ ، وَاسْتَقْبَلَتْهُ الْحُورُ الْعِينُ مَا لَمْ يَمْتَخِطْ أَوْ يَتَنَخَّمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ طَرِيفِ بْنِ الصَّلْتِ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هَرِمٍ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بندہ جب نماز میں کھڑا ہوتا ہے ، تو اس کے لئے جنت کھول دی جاتی ہے ، اور اس کے اور اس کے پروردگار کے درمیان سے حجابات ہٹا دیے جاتے ہیں ، اور حورعین اس کے سامنے آ جاتی ہیں جب تک وہ تھوکتا نہیں ہے یا ناک صاف نہیں کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں طریف بن صلت کے حوالے سے حجاج بن عبداللہ بن ہرم کے حوالے سے نقل کی ہے میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں طریف بن صلت کے حوالے سے حجاج بن عبداللہ بن ہرم کے حوالے سے نقل کی ہے میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ الظُّهْرَ فَتَفَلَ فِي الْقِبْلَةِ وَهُوَ يُصَلِّي لِلنَّاسِ فَلَمَّا كَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ أَرْسَلَ إِلَى آخَرَ فَأَشْفَقَ الرَّجُلُ الْأَوَّلُ ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَزَلَ فِيَّ ؟ قَالَ : " لَا، وَلَكِنَّكَ تَفِلْتَ بَيْنَ يَدَيْكَ وَأَنْتَ تَؤُمُّ النَّاسَ فَآذَيْتَ اللَّهَ وَالْمَلَائِكَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائے اس شخص نے لوگوں کو نماز پڑھانے کے دوران قبلہ کی طرف تھوک دیا جب عصر کی نماز کا وقت آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شخص کو پیغام بھیجا ( کہ وہ نماز پڑھائے ) پہلے والا شخص خوف زدہ ہو گیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! لیکن تم نے اپنے سامنے کی طرف تھوک دیا تھا جب کہ تم لوگوں کی امامت کر رہے تھے تو تم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کو اذیت پہنچائی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔