حدیث نمبر: 1986
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : نُهِينَا أَنْ نُصَلِّيَ فِي مَسْجِدٍ مُشْرِفٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہمیں اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ ہم اونچی مسجد میں نماز ادا کریں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ، تاہم وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ، تاہم وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 1987
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : نَهَانَا - أَوْ نُهِينَا - أَنْ نُصَلِّيَ فِي مَسْجِدٍ مُشْرِفٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : انہوں نے ہمیں منع کیا ہے ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہمیں اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ ہم اونچی مسجد میں نماز ادا کریں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف لیث بن ابوسلیم کا معاملہ مختلف ہے وہ ” ثقہ “ اور تدلیس کرنے والا شخص ہے یہ روایت اس نے عنعنہ کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف لیث بن ابوسلیم کا معاملہ مختلف ہے وہ ” ثقہ “ اور تدلیس کرنے والا شخص ہے یہ روایت اس نے عنعنہ کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 1988
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَتِ الْأَنْصَارُ : إِلَى مَتَى يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى هَذَا الْجَرِيدِ ؟ فَجَمَعُوا لَهُ دَنَانِيرَ فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : نُصْلِحُ هَذَا الْمَسْجِدَ وَنُزَيِّنُهُ ، فَقَالَ : " لَيْسَ لِي رَغْبَةٌ عَنْ أَخِي مُوسَى ، عَرِيشٌ كَعَرِيشِ مُوسَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ خِرَاشٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار نے سوچا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کب تک کھجور کی اس شاخ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہیں گے ان لوگوں نے اس کے لئے دینار جمع کیے اور وہ دینار لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے انہوں نے عرض کی : اس رقم کے ذریعے ہم مسجد کو ٹھیک کر دیں گے اور اسے آراستہ کر دیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے اس بات میں دلچسپی نہیں ہے کہ میں اپنے بھائی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے طریقے سے منہ موڑوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے چھپر کی طرح چھپر ( یعنی شاخوں سے بنی ہوئی چھت ) ہونا چاہیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سنان ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ عجلی ابن حبان اور ایک روایت کے مطابق ابن خراش نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سنان ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ عجلی ابن حبان اور ایک روایت کے مطابق ابن خراش نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔