حدیث نمبر: 1998
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ فَوَجَدُوا فِي جِنَانِهَا بَصَلًا وَثُومًا فَأَكَلُوا مِنْهُ وَهُمْ جِيَاعٌ ، فَلَمَّا رَاحَ النَّاسُ إِلَى الْمَسْجِدِ إِذَا رِيحُ الْمَسْجِدِ بَصَلٌ وَثُومٌ ، قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّا " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَهُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں شرکت کی ان لوگوں کو راستے میں پیاز اور لہسن ملا لوگوں نے اسے کھانا شروع کر دیا کیونکہ وہ بھوکے تھے جب لوگ نماز کی مخصوص جگہ کی طرف آئے تو مسجد میں سین اور پیاز کی بو پھیل گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اس خبیث درخت میں سے کھائے وہ ہمارے قریب ہرگز نہ آئے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے ایک طویل حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1998
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔