مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ نَحْوَهُ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ . باب: اس شخص کا بیان جو لہسن یا اس جیسی کوئی ( بدبودار چیز ) کھا لے اور پھر مسجد میں آئے
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْخَضْرَاوَاتِ الثُّومِ وَالْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ وَالْفُجْلِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ؛ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : " وَالْفُجْلِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ الْبَرَاءُ الْبَصْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ان سبزیوں لہسن پیاز ، گندنہ اور فجل ( شاید اس سے مراد چقندر ہے ) کو کھا لے وہ ہماری مسجد کے قریب ہرگز نہ آئے کیونکہ جس چیز سے انسانوں کو اذیت ہوتی ہے فرشتوں کو بھی اس سے اذیت ہوتی ہے “ ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : فجل “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن راشد البراء بصری ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے وہ یہ فرماتے ہیں : یہ غلطی بھی کرتا ہے ، اور ( دوسروں کے ) برخلاف بھی نقل کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔