عَنِ الزِّبْرِقَانِ قَالَ : إِنَّ رَهْطًا مِنْ قُرَيْشٍ مَرَّ بِهِمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُمْ مُجْتَمِعُونَ ، فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ غُلَامَيْنِ لَهُمْ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى ، فَقَالَ : هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ مِنْهُمْ فَسَأَلَاهُ ، فَقَالَ : هِيَ الظُّهْرُ ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَسَأَلَاهُ فَقَالَ : هِيَ الظُّهْرُ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَجِيرِ ، وَلَا يَكُونُ وَرَاءَهُ إِلَّا الصَّفُّ وَالصَّفَّانِ ، وَالنَّاسُ فِي قَائِلَتِهِمْ وَفِي تِجَارَتِهِمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ( حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ ) فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَقَالَ الشَّيْخُ فِي الْأَطْرَافِ : لَيْسَ فِي السَّمَاعِ ، وَلَمْ يَذْكُرْهُ أَبُو الْقَاسِمِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا أَنَّ الزِّبْرِقَانَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَلَا مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
زبرقان بیان کرتے ہیں : قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد موجود تھے ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اُن کے پاس سے گزرے ، وہ لوگ اکٹھے تھے ، انہوں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کی طرف اپنے دو غلام بھیجے اور اُن سے یہ سوال کیا : کہ درمیانی نماز سے مراد کیا ہے ؟ تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ عصر کی نماز ہے ، پھر اُن لوگوں میں سے دو افراد اُٹھ کر ان کے پاس گئے اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : یہ ظہر کی نماز ہے ، پھر وہ دونوں صاحبان حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے بھی فرمایا : اس سے مراد ظہر کی نماز ہے ، نبی اکرم ﷺ ظہر کی نماز دوپہر میں ادا کر لیتے تھے ، جب کہ آپ کے پیچھے ایک صف یا دو صفیں موجود ہوتی تھیں ، باقی لوگ اس وقت یا قیلولہ کر رہے ہوتے تھے ، یا تجارت میں مصروف ہوتے تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ تم لوگ نمازوں کی حفاظت کرو ، اور درمیانی نماز کی بھی ، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ کھڑے رہو ،، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام نسائی نے نقل کی ہے ، شیخ نے ’’ اطراف ،، میں یہ بات بیان کی ہے : یہ سماع میں نہیں ہے ، اور نہ ہی ابوالقاسم نے اس کا ذکر کیا ہے ، یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ زبرقان نامی راوی نے ، نہ تو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے ، اور نہ ہی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ ۔
یہ روایت امام نسائی نے نقل کی ہے ، شیخ نے ’’ اطراف ،، میں یہ بات بیان کی ہے : یہ سماع میں نہیں ہے ، اور نہ ہی ابوالقاسم نے اس کا ذکر کیا ہے ، یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ زبرقان نامی راوی نے ، نہ تو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے ، اور نہ ہی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ الصَّلَاةِ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ ، وَمَنْ صَلَّى بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب سے زیادہ فضیلت والی نماز مغرب کی نماز ہے ، جو شخص اس نماز کے بعد دو رکعات ادا کرے گا ، اللہ تعالی اس کے لئے جنت میں گھر بنا دے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَاتَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَدُوًّا فَلَمْ يَفْرَغْ مِنْهُمْ حَتَّى أَخَّرَ الْعَصْرَ عَنْ وَقْتِهَا ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ : " اللَّهُمَّ مَنْ حَبَسَنَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى فَامْلَأْ بُيُوتَهُمْ نَارًا ، وَامْلَأْ قُبُورَهُمْ نَارًا " - أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وُالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے ساتھ جنگ کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جنگ میں مصروف رہے ، یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت گزر گیا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ملاحظہ فرمائی تو یہ دعا کی : اے اللہ ! جس نے ہمیں درمیانی نماز ادا کرنے سے روکے رکھا تھا ، تو ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے ، اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے ، ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یا اس کی مانند کوئی اور کلمات ارشاد فرمائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَلَهُ عِنْدُ الْبَزَّارِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ " . ¤ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ أَيْضًا .
محمد محی الدین
اُن کے حوالے سے ، امام بزار نے یہ روایت نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” درمیانی نماز سے مراد ، عصر کی نماز ہے “ ۔
اس کے رجال کی بھی توثیق کی گئی ہے ۔
اس کے رجال کی بھی توثیق کی گئی ہے ۔
وَلَهُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَسِيَ صَلَاةَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ ، فَذُكِّرَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ روایت نقل کی ہے : غزوہ احزاب کے موقع پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نمازیں ادا نہیں کر سکے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مغرب کے بعد ادا کیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ،
اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْأَحْزَابِ : " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب کے موقع پر ارشاد فرمایا : ان لوگوں نے ہمیں درمیانی نماز ادا نہیں کرنے دی ، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ : " مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خندق کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے ، کیونکہ انہوں نے سورج غروب ہونے تک ہمیں نماز ادا نہیں کرنے دی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ أَقْبَلَ حَتَّى نَزَلَ دِمَشْقَ ، فَنَزَلَ عَلَى أَبِي كُلْثُومٍ الدَّوْسِيِّ ، فَتَذَاكَرُوا الصَّلَاةَ الْوُسْطَى فَقَالَ : اخْتَلَفْنَا كَمَا اخْتَلَفْتُمْ وَنَحْنُ بِفِنَاءِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِينَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَبُو هَاشِمِ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ ، فَقَالَ : أَنَا أَعْلَمُ لَكُمْ ذَلِكَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ جَرِيئًا عَلَيْهِ ، فَاسْتَأْذَنَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا ، فَأَخْبَرَنَا أَنَّهَا صَلَاةُ الْعَصْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ وَقَالَ : لَا نَعْلَمُ رَوَى أَبُو هَاشِمِ بْنُ عُتْبَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ وَحَدِيثًا آخَرَ . قُلْتُ : وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ آئے اور انہوں نے دمشق میں پڑاؤ کیا ، وہ ابوکلثوم دوسی کے ہاں ٹھہرے ، اُن حضرات نے درمیانی نماز کے بارے میں گفتگو شروع کی ، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے بھی اسی طرح اختلاف کا اظہار کیا تھا ، جس طرح تمہاری آراء مختلف ہیں ، ہم اُس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے صحن میں موجود تھے ، ہمارے درمیان ایک نیک شخص سیدنا ابوہاشم بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس موجود تھے ، انہوں نے فرمایا : میں تمہارے لئے اس کا علم حاصل کر کے آتا ہوں ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہ صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بے تکلف بات کر لیتے تھے ، انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، پھر باہر تشریف لائے اور انہوں نے ہمیں یہ بتایا : اس سے مراد ، عصر کی نماز ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ یہ فرماتے ہیں : سیدنا ابوہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث روایت کی ہو ، اس بارے میں ہمیں صرف اس حدیث کا علم ہے ، یا ایک اور حدیث کا علم ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ یہ فرماتے ہیں : سیدنا ابوہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث روایت کی ہو ، اس بارے میں ہمیں صرف اس حدیث کا علم ہے ، یا ایک اور حدیث کا علم ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَفْلَحَ أَنَّ نَفَرًا مِنَ الصَّحَابَةِ أَرْسَلُونِي إِلَى ابْنِ عُمَرَ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى ، فَقَالَ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهَا الصَّلَاةُ الَّتِي وُجِّهَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْقِبْلَةِ : الظُّهْرُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن افلح بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا ، تاکہ اُن سے درمیانی نماز کے بارے میں دریافت کریں ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ہم لوگ یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ اس سے مراد وہ نماز ہے ، جس کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ قبلہ کی طرف پھیر دیا گیا تھا ، اور وہ ظہر کی نماز ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ ، مَلَأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُلُوبَهُمْ نَارًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ الْمُلَائِيُّ الْأَعْوَرُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ أَبِي مَالِكٍ فِي الصَّلَاةِ الْوُسْطَى فِي ( وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ ) - إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ان لوگوں نے ہمیں درمیانی نماز ، یعنی عصر کی نماز ، ادا نہیں کرنے دی اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں کو اور ان کے دلوں کو آگ سے بھر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن ملائی اعور ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ، درمیانی نماز سے متعلق باب میں آئے گئی ، جو سورہ بروج سے متعلق باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن ملائی اعور ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ، درمیانی نماز سے متعلق باب میں آئے گئی ، جو سورہ بروج سے متعلق باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔