حدیث نمبر: 1727
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : كُنَّا نُصْلِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ نَرْجِعُ إِلَى مَنَازِلِنَا وَهِيَ مِيلٌ وَأَنَا أُبْصِرُ مَوَاقِعَ النَّبْلِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ التِّرْمِذِيُّ وَاحْتَجَّ بِهِ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مغرب کی نماز ادا کر لیتے تھے ، پھر ہم اپنے گھر واپس چلے جاتے تھے ، جو ایک میل کے فاصلے پر ہوتا تھا ، اور میں اُس وقت تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ لیتا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے ، عبداللہ بن محمد بن عقیل سے نقل کی ہے ، اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، امام ترمذی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، امام أحمد اور دیگر حضرات نے اس سے استدلال کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے ، عبداللہ بن محمد بن عقیل سے نقل کی ہے ، اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، امام ترمذی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، امام أحمد اور دیگر حضرات نے اس سے استدلال کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1728
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَغْرِبَ وَنَنْصَرِفُ إِلَى السُّوقِ ، وَلَوْ رَمَى أَحَدُنَا بِنَبْلٍ لَأَبْصَرْتَ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ فِي آخِرِ عُمُرِهِ ، قَالَ ابْنُ مَعِينٍ : سَمِعَ مِنْهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ قَبْلَ الِاخْتِلَاطِ . وَهَذَا مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مغرب کی نماز ادا کرتے تھے ، پھر ہم بازار واپس چلے جاتے تھے ، اگر ہم میں سے کوئی ایک شخص تیر پھینکتا ، تو تم اس تیر کے گرنے کی جگہ کو دیکھ سکتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح مولی تو امہ ہے ، جو آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، یحییٰ بن معین کہتے ہیں : ابن ابوذئب نے اختلاط سے پہلے اس سے سماع کیا تھا ، اور یہ روایت ابن ابوذئب نے اس سے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح مولی تو امہ ہے ، جو آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، یحییٰ بن معین کہتے ہیں : ابن ابوذئب نے اختلاط سے پہلے اس سے سماع کیا تھا ، اور یہ روایت ابن ابوذئب نے اس سے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 1729
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالُوا : كُنَّا نُصْلِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَغْرِبَ ثُمَّ نَنْصَرِفُ ، فَنَتَرَامَى حَتَّى نَأْتِيَ دِيَارَنَا ، فَمَا يَخْفَى عَلَيْنَا مَوَاقِعُ سِهَامِنَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
علی بن بلال نے ، کچھ انصار کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مغرب کی نماز ادا کرتے تھے ، پھر ہم واپس چلے جاتے تھے ، ہم دوڑتے ہوئے جاتے تھے ، یہاں تک کہ ہم اپنے علاقے میں پہنچ جاتے تھے ، تو ہم میں سے کسی ایک پر ، اُس کے تیر کے گرنے کی جگہ مخفی نہیں رہتی تھی ۔ ( یعنی اتنی روشنی ہوتی تھی کہ اتنی دور تک نگاہ کام کرتی تھی ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 1730
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطْرَةِ مَا صَلَّوُا الْمَغْرِبَ قَبْلَ طُلُوعِ النَّجْمِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت اُس وقت تک فطرت پر گامزن رہے گی ، جب تک وہ ستاروں کے طلوع ہونے سے پہلے ، مغرب کی نماز ادا کرتے رہیں گئے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1731
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلُّوا الْمَغْرِبَ لِفِطْرِ الصَّائِمِ ، وَبَادِرُوا طُلُوعَ النَّجْمِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَلَفْظُهُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ : " صَلُّوا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ مَعَ سُقُوطِ الشَّمْسِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مغرب کی نماز اُس وقت ادا کر لو ! جب روزہ دار ، افطار کرتا ہے ، اور اسے ستارے نکلنے سے پہلے ادا کر لو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی ، مغرب کی نماز ادا کر لو“ ۔ یہ روایت امام أحمد نے یزید بن ابوحبیب کے حوالے سے ، ایک شخص کے حوالے سے ، سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ، اسے امام طبرانی نے یزید بن ابوحبیب کے حوالے سے ، اسلم ابوعمران کے حوالے سے ، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی ، مغرب کی نماز ادا کر لو“ ۔ یہ روایت امام أحمد نے یزید بن ابوحبیب کے حوالے سے ، ایک شخص کے حوالے سے ، سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ، اسے امام طبرانی نے یزید بن ابوحبیب کے حوالے سے ، اسلم ابوعمران کے حوالے سے ، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1732
وَعَنْ أَبِي طَرِيفٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ حَاصَرَ الطَّائِفَ ، فَكَانَ يُصَلِّي بِنَا صَلَاةَ النَّصْرِ ، حَتَّى لَوْ أَنَّ رَجُلًا رَمَى لَرَأَى مَوَاقِعَ نَبْلِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُمَيْلَةَ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَرِجَالُ الْمُسْنَدِ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ لَيْسَ هُوَ عِنْدِي الْآنَ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، فَجَعَلَ مَكَانَ النَّصْرِ الْعَصْرَ وَهُوَ وَهْمٌ - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - قُلْتُ : الْوَلِيدُ هَذَا هُوَ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُمَيْرَةَ كَمَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَكَذَا ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَذَكَرَ رِوَايَتَهُ عَنْ أَبِي ظَرِيفٍ وَأَنَّهُ اخْتُلِفَ فِي اسْمِ جَدِّهِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوظریف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تھا ، آپ نے ہمیں ” نصر “ ( یہاں درست لفظ عصر ہے ) کی نماز پڑھائی ، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص تیر پھینکتا ، تو وہ تیر کے گرنے کی جگہ کو دیکھ سکتا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ولید بن عبداللہ بن شمیلہ ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس مقام پر ” مسند “ کے رجال میرے ذہن میں نہیں ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے لفظ ” نصر “ کی جگہ ” عصر “ روایت کیا ہے ، اور یہ وہم ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : ولید نامی یہ راوی ولید بن عبداللہ بن سمیرہ ہے ، جیسا کہ امام طبرانی نے یہ روایت نقل کی ہے ، ابن حبان نے اس راوی کا ذکر کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، انہوں نے اس راوی کی سیدنا ابوظریف رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کا ذکر کیا ہے ، اُن کے دادا کے نام کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ولید بن عبداللہ بن شمیلہ ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس مقام پر ” مسند “ کے رجال میرے ذہن میں نہیں ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے لفظ ” نصر “ کی جگہ ” عصر “ روایت کیا ہے ، اور یہ وہم ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : ولید نامی یہ راوی ولید بن عبداللہ بن سمیرہ ہے ، جیسا کہ امام طبرانی نے یہ روایت نقل کی ہے ، ابن حبان نے اس راوی کا ذکر کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، انہوں نے اس راوی کی سیدنا ابوظریف رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کا ذکر کیا ہے ، اُن کے دادا کے نام کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 1733
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنَّا نُصْلِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ نَأْتِي بَنِي سَلَمَةَ وَنَحْنُ نُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِنَا فِي بَنِي سَلَمَةَ أَقْصَى الْمَدِينَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ ، فَيُصَلِّي مَعَهُ رِجَالٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُونَ إِلَى بَنِي سَلَمَةَ وَهُمْ يُبْصِرُونَ مَوَاقِعَ النَّبْلِ . ¤ وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَاضِي ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُمْ ، وَقَالَ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ : كَانَ صَدُوقًا وَلَمْ يَكُنْ مِنْ فُرْسَانِ الْحَدِيثِ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : حَسَنُ الْحَدِيثِ ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ مَعَ ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مغرب کی نماز ادا کر لیتے تھے پھر ہم بنو سلمہ کے محلے میں آتے تھے تو بنو سلمہ کے محلے میں جو مدینہ کا منورہ کا سب سے دور کا علاقہ تھا وہاں پہنچ کر ہم اپنے تیروں کے گرنے کی جگہ دیکھ سکتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز ادا کر لیتے تھے آپ کی اقتداء میں بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نماز ادا کر لیتے تھے پھر وہ بنوسلہ کے محلے کی طرف واپس چلے جاتے تھے تو وہ تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ سکتے تھے اس روایت کی سند میں ایک راوی عمر بن محمد قاضی ہے ، جسے یحیی بن معین امام بخاری رحمہ اللہ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے زکریا بن یحیی ساجی بیان کرتے ہیں : یہ صدوق تھا تاہم علم حدیث کے ماہرین میں سے نہیں ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : یہ حسن الحدیث ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث کو اس کے ضعیف ہونے کے باوجود نوٹ کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز ادا کر لیتے تھے آپ کی اقتداء میں بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نماز ادا کر لیتے تھے پھر وہ بنوسلہ کے محلے کی طرف واپس چلے جاتے تھے تو وہ تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ سکتے تھے اس روایت کی سند میں ایک راوی عمر بن محمد قاضی ہے ، جسے یحیی بن معین امام بخاری رحمہ اللہ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے زکریا بن یحیی ساجی بیان کرتے ہیں : یہ صدوق تھا تاہم علم حدیث کے ماہرین میں سے نہیں ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : یہ حسن الحدیث ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث کو اس کے ضعیف ہونے کے باوجود نوٹ کیا جائے گا ۔
حدیث نمبر: 1734
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ، وَيَرْجِعُونَ إِلَى بَنِي سَلَمَةَ وَهُمْ يُبْصِرُونَ مَوَاقِعَ النَّبْلِ حِينَ يُرْمَى بِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ : هَكَذَا رَوَاهُ يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ كَعْبٍ : أَخْبَرَنِي رَجُلٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے انہیں یہ بات بتائی کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مغرب کی نماز ادا کرتے تھے ، اور پھر بنو سلمہ کے محلے میں واپس چلے جاتے تھے تو تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ سکتے تھے اگر تیر کو پھینکا جاتا -
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے وہ یہ بیان کرتے ہیں : یونس نے ابن شہاب کے حوالے سے ابن کعب سے یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے وہ کہتے ہیں : ایک صاحب نے مجھے یہ بات بتائی ہے ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے وہ یہ بیان کرتے ہیں : یونس نے ابن شہاب کے حوالے سے ابن کعب سے یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے وہ کہتے ہیں : ایک صاحب نے مجھے یہ بات بتائی ہے ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 1735
وَعَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَذَّنْتَ لِلْمَغْرِبِ فَاحْدُرْهَا وَالشَّمْسُ حَدْرَاءُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم مغرب کے لئے اذان دو تو جلدی دو ، جب سورج غروب ہو جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 1736
قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَقْتُ الْمَغْرِبِ احْدُرْهَا وَالشَّمْسُ حَدْرَاءُ " . ¤ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے معجم کبیر میں یہ روایت بھی منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مغرب کے وقت ( اذان ) جلدی دے دو جب سورج غروب ہو جائے “ ۔
اس کی سند حسن ہے ۔
اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 1737
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَنْ تَزَالَ أُمَّتِي عَلَى الْإِسْلَامِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى تَشْتَبِكَ النُّجُومُ مُضَاهَاةَ الْيَهُودِ ، وَمَا لَمْ يُعَجِّلُوا الْفَجْرَ مُضَاهَاةَ النَّصَارَى ، وَمَا لَمْ يَكِلُوا الْجَنَائِزَ إِلَى أَهْلِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي فَضْلِهَا فِي الصَّلَاةِ الْوُسْطَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حارث بن وہب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میری امت اسلام ( کی تعلیمات ) پر اس وقت تک گامزن رہے گی جب تک وہ مغرب کو اتنا مؤخر نہیں کرے گی کہ ستارے چمکنے لگیں جو یہودیوں کا طریقہ ہے ، اور جب تک وہ فجر کی نماز کو اتنی جلدی ادا نہیں کریں گے جو عیسائیوں کا طریقہ ہے ، اور جب تک وہ جنائز کو اس کے اہل کے سپرد نہیں کریں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے درمیانی نماز سے متعلق باب میں اس کی فضیلت سے متعلق حدیث گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے درمیانی نماز سے متعلق باب میں اس کی فضیلت سے متعلق حدیث گزر چکی ہے ۔
حدیث نمبر: 1738
وَعَنِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ أُمَّتِي فِي مَسْكَةٍ مِنْ دِينِهَا مَا لَمْ يَنْتَظِرُوا بِالْمَغْرِبِ اشْتِبَاكَ النُّجُومِ مُضَاهَاةَ الْيَهُودِ ، وَمَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْفَجْرَ مُضَاهَاةَ النَّصْرَانِيَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صنابحی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میری امت دین کی تعلیمات پر اس وقت تک گامزن رہے گی ، جب تک وہ مغرب کے لئے ستاروں کے چمکنے کا انتظار نہیں کریں گے جو یہودیوں کا طریقہ ہے ، اور جب تک وہ فجر کو اتنا مؤخر نہیں کریں گے جو عیسائیوں کا طریقہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 1739
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : كُنَّا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ : هَذَا غَسَقُ اللَّيْلِ ، ثُمَّ أَذَّنَ ، ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ هُوَ وَقْتُ هَذِهِ الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں : ہم لوگ مکہ کے راستے میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے جب سورج غروب ہو گیا تو انہوں نے فرمایا : یہ غسق الیل ہے پھر انہوں نے اذان دی اور پھر یہ کہا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے یہ اس نماز کا وقت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 1740
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ : كُنَّا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ : هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ حِينَ دَلَكَتِ الشَّمْسُ وَحَلَّ وَقْتُ الصَّلَاةِ . ¤ وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے ہی یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے جب سورج غروب ہو گیا تو انہوں نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے یہ وہ وقت ہے کہ جب سورج غروب ہو گیا ہے ، اور نماز کا وقت شروع ہو گیا ہے ۔
اس روایت کی سند صحیح ہے ۔
اس روایت کی سند صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 1741
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : دُلُوكُ الشَّمْسِ : غُرُوبُهَا ، تَقُولُ الْعَرَبُ : إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ : دَلَكَتْ . ¤ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سورج کے ” دلوک “ سے مراد اس کا غروب ہونا ہے عرب جب سورج غروب ہو جائے تو اس کے لئے یہ کہتے ہیں : دلکت
اس روایت کی سند حسن ہے ۔
اس روایت کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 1742
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ ( إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ ) قَالَ : الْعِشَاءُ الْآخِرَةُ . ¤ وَفِيهِ جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :« الي غسَقِ اللَّيْلِ» اس سے مراد عشاء کی نماز ہے ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی جابر بن یزید جعفی ہے ، اور وہ ” ضعیف ہے “ شعبہ اور سفیان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی جابر بن یزید جعفی ہے ، اور وہ ” ضعیف ہے “ شعبہ اور سفیان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔