مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الصَّلَاةِ الْوُسْطَى . باب: درمیانی نماز کا بیان
عَنِ الزِّبْرِقَانِ قَالَ : إِنَّ رَهْطًا مِنْ قُرَيْشٍ مَرَّ بِهِمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُمْ مُجْتَمِعُونَ ، فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ غُلَامَيْنِ لَهُمْ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى ، فَقَالَ : هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ مِنْهُمْ فَسَأَلَاهُ ، فَقَالَ : هِيَ الظُّهْرُ ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَسَأَلَاهُ فَقَالَ : هِيَ الظُّهْرُ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَجِيرِ ، وَلَا يَكُونُ وَرَاءَهُ إِلَّا الصَّفُّ وَالصَّفَّانِ ، وَالنَّاسُ فِي قَائِلَتِهِمْ وَفِي تِجَارَتِهِمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ( حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ ) فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَقَالَ الشَّيْخُ فِي الْأَطْرَافِ : لَيْسَ فِي السَّمَاعِ ، وَلَمْ يَذْكُرْهُ أَبُو الْقَاسِمِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا أَنَّ الزِّبْرِقَانَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَلَا مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤زبرقان بیان کرتے ہیں : قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد موجود تھے ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اُن کے پاس سے گزرے ، وہ لوگ اکٹھے تھے ، انہوں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کی طرف اپنے دو غلام بھیجے اور اُن سے یہ سوال کیا : کہ درمیانی نماز سے مراد کیا ہے ؟ تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ عصر کی نماز ہے ، پھر اُن لوگوں میں سے دو افراد اُٹھ کر ان کے پاس گئے اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : یہ ظہر کی نماز ہے ، پھر وہ دونوں صاحبان حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے بھی فرمایا : اس سے مراد ظہر کی نماز ہے ، نبی اکرم ﷺ ظہر کی نماز دوپہر میں ادا کر لیتے تھے ، جب کہ آپ کے پیچھے ایک صف یا دو صفیں موجود ہوتی تھیں ، باقی لوگ اس وقت یا قیلولہ کر رہے ہوتے تھے ، یا تجارت میں مصروف ہوتے تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ تم لوگ نمازوں کی حفاظت کرو ، اور درمیانی نماز کی بھی ، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ کھڑے رہو ،، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام نسائی نے نقل کی ہے ، شیخ نے ’’ اطراف ،، میں یہ بات بیان کی ہے : یہ سماع میں نہیں ہے ، اور نہ ہی ابوالقاسم نے اس کا ذکر کیا ہے ، یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ زبرقان نامی راوی نے ، نہ تو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے ، اور نہ ہی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ ۔