عَنْ أَبِي أَرْوَى قَالَ : كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْعَصْرِ بِالْمَدِينَةِ ، ثُمَّ آتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ ، وَهِيَ عَلَى قَدْرِ فَرْسَخَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو وَاقَدٍ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالدَّارَقُطْنِيُّ وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابواروی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں عصر کی نماز ادا کرتا تھا ، پھر میں سورج غروب ہونے سے پہلے ” ذوالحلیفہ “ آ جاتا تھا ، اور یہ جگہ دو فرسخ کے فاصلے پر ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن محمد ابوواقد ہے ، جسے امام أحمد نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جب کہ یحیی بن معین امام دارقطنی رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن محمد ابوواقد ہے ، جسے امام أحمد نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جب کہ یحیی بن معین امام دارقطنی رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُ بِتَأْخِيرِ الْعَصْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ قِصَّةٌ ، وَلَمْ يُسَمِّ تَابِعِيَّهُ ، وَقَدْ سَمَّاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَافِعٍ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ نَافِعٍ الْكُلَاعِيُّ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَذَكَرَهُ فِي الضُّعَفَاءِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کا حکم دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، جس میں پورا واقعہ ذکر ہوا ہے ۔ انہوں نے اس روایت کے تابعی کا نام بیان نہیں کیا ہے ، امام طبرانی نے اس کا نام عبداللہ بن رافع بیان کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد بن نافع کلاعی ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور انہوں نے اس راوی کا ذکر کتاب ” الضعفاء “ میں بھی کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، جس میں پورا واقعہ ذکر ہوا ہے ۔ انہوں نے اس روایت کے تابعی کا نام بیان نہیں کیا ہے ، امام طبرانی نے اس کا نام عبداللہ بن رافع بیان کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد بن نافع کلاعی ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور انہوں نے اس راوی کا ذکر کتاب ” الضعفاء “ میں بھی کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يُؤَخِّرُ الْعَصْرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عصر کی نماز تاخیر سے ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ أَبْعَدَ رَجُلَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ دَارًا مِنْ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبُو لَبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ - مِنْ أَهْلِ قُبَاءٍ - وَأَبُو عَبَسِ بْنُ جَبْرٍ - وَمَسْكَنُهُ فِي بَنِي حَارِثَةَ - فَيُصَلِّيَانِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَصْرَ ، ثُمَّ يَأْتِيَانِ قَوْمَهُمَا وَمَا صَلَّوْا لِتَعْجِيلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْعَصْرِ . ¤ قُلْتُ : لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي تَعْجِيلِ الْعَصْرِ غَيْرِ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ ، إِلَّا ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے جن دو افراد کے گھر ، اللہ کے رسول کی مسجد سے سب سے زیادہ دور تھے ، وہ افراد یہ ہیں : سیدنا ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ جن کا تعلق قباء سے ہے ، اور سیدنا ابوعبس بن جبر رضی اللہ عنہ جن کی رہائش گاہ بنو حارثہ کے محلے میں تھی ، لیکن یہ دونوں صاحبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں عصر کی نماز ادا کرتے تھے ، اور پھر یہ دونوں اپنی قوم میں واپس چلے جاتے تھے ، اور اُن لوگوں نے ابھی تک نماز ادا نہیں کی ہوتی تھی ، اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز جلدی ادا کر لیتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں بھی مذکور ہے ، جو عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کے بارے میں ہے ، لیکن وہ اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے ، وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اور اس نے یہ روایت ” عنعنہ “ کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے ، وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اور اس نے یہ روایت ” عنعنہ “ کے ساتھ نقل کی ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ بِقَدْرِ مَا يَذْهَبُ الرَّجُلُ إِلَى بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَيَرْجِعُ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت ادا کر لیتے تھے کہ اگر کوئی شخص اُس کے بعد بنو حارثہ بن حارث کے محلے میں جاتا ، تو سورج غروب ہونے سے پہلے وہاں سے واپس بھی آ سکتا تھا ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس روایت پر کلام اس سے پہلے گزر چکا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَلَهُ عِنْدَ أَبِي يَعْلَى وَالْبَزَّارِ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَآتِي عَشِيرَتِي فَأَقُولُ لَهُمْ : قُومُوا فَصَّلُوا ، فَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
اُن کے حوالے سے ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے یہ روایت نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرتا تھا ، پھر میں اپنے خاندان میں آ جاتا تھا اور اُن سے یہ کہتا تھا : تم لوگ اُٹھو اور نماز ادا کر لو ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر چکے ہیں ۔
اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ - يَعْنِي الْعَصْرَ - فُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا ، فَمَنْ حَافَظَ [ مِنْكُمُ الْيَوْمَ ] عَلَيْهَا أُعْطِيَ أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يُرَى الشَّاهِدُ ، - يَعْنِي النَّجْمَ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک یہ نماز ( راوی کہتے ہیں : یعنی عصر کی نماز ) تم سے پہلے لوگوں پر فرض قرار دی گئی تھی ، لیکن انہوں نے اُسے ضائع کر دیا ، تم میں سے آج جو اس کی حفاظت کرے گا ، اُسے اس کا دگنا اجر دیا جائے گا ، اور پھر اس کے بعد کوئی ( نفل ) نماز ادا نہیں کی جائے گی ، یہاں تک ” شاہد “ دکھائی دے “ ( راوی کہتے ہیں : اس سے مراد ستارہ ہے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، وہ ” ثقہ “ ہے ، تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، وہ ” ثقہ “ ہے ، تدلیس کرنے والا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - أَظُنُّهُ ابْنَ عَمْرٍو . قَالَ شُعْبَةُ : كَانَ أَحْيَانًا يَرْفَعُهُ وَأَحْيَانًا لَا يَرْفَعُهُ - قَالَ : وَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ يَحْضُرْ وَقْتُ الْمَغْرِبِ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوایوب نے ، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : شعبہ نامی راوی کہتے ہیں : بعض اوقات انہوں نے اسے ” مرفوع “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اور بعض اوقات اسے ” مرفوع “ روایت کے طور پر نقل نہیں کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : ” عصر کی نماز کا وقت ، اُس وقت تک رہتا ہے ، جب تک مغرب کا وقت شروع نہیں ہو جاتا “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَئِنْ يُوتَرُ أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ وَمَالَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَفُوتَهُ وَقْتُ صَلَاةِ الْعَصْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبدالرحمن بن نوفل بن معایہ ، اپنے والد کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” آدمی کے اہل خانہ اور مال برباد ہو جائیں ، یہ اُس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ اُس کی عصر کی نماز کا وقت فوت ہو جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
وَعَنْ أَبِي طَرِيفٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَيْثُ حَاصَرَ الطَّائِفَ ، فَكَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ حِينًا لَوْ أَنَّ رَجُلًا رَمَى لَرَأَى مَوَاقِعَ نَبْلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ فَقَالَ : يُصَلِّي الْعَصْرَ . وَصَوَابُهُ : الْمَغْرِبُ . كَمَا رَوَاهُ أَحْمَدُ فَقَالَ : كَانَ يُصَلِّي بِنَا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ، وَسَيَأْتِي - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُمَيْرَةَ هَكَذَا قَالَ الطَّبَرَانِيُّ . وَعِنْدَ أَحْمَدَ : الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي شُمَيْلَةَ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . قُلْتُ : الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُمَيْرٍ ، وَيُقَالُ : ابْنُ سُمَيْرَةَ ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطریف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، یہ اُس وقت کی بات ہے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا ہوا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز اس وقت ادا کی کہ اگر کوئی شخص تیر پھینکتا ، تو وہ اپنے تیر کے گرنے کی جگہ کو دیکھ سکتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت عصر کی نماز ادا کی “ حالانکہ درست یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت مغرب کی نماز ادا کی تھی ، جیسا کہ امام أحمد نے یہ روایت نقل کی ہے ، جس میں اُن کے یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی ۔ “
یہ روایت آگے چل کر آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ، اس کی سند میں ایک راوی ولید بن عبداللہ ابوسمیرہ ہے ، امام طبرانی نے اسی طرح کہا: ہے ، جب کہ امام أحمد نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ولید بن عبداللہ بن ابوشمیلہ ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، میں یہ کہتا ہوں : یہ ولید بن عبداللہ بن ابوسمیر ہے ، اور ایک قول کے مطابق اس کا نام ابن سمیرہ ہے ، اس کا تذکرہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
یہ روایت آگے چل کر آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ، اس کی سند میں ایک راوی ولید بن عبداللہ ابوسمیرہ ہے ، امام طبرانی نے اسی طرح کہا: ہے ، جب کہ امام أحمد نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ولید بن عبداللہ بن ابوشمیلہ ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، میں یہ کہتا ہوں : یہ ولید بن عبداللہ بن ابوسمیر ہے ، اور ایک قول کے مطابق اس کا نام ابن سمیرہ ہے ، اس کا تذکرہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔