مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الصَّلَاةِ الْوُسْطَى . باب: درمیانی نماز کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ أَقْبَلَ حَتَّى نَزَلَ دِمَشْقَ ، فَنَزَلَ عَلَى أَبِي كُلْثُومٍ الدَّوْسِيِّ ، فَتَذَاكَرُوا الصَّلَاةَ الْوُسْطَى فَقَالَ : اخْتَلَفْنَا كَمَا اخْتَلَفْتُمْ وَنَحْنُ بِفِنَاءِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِينَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَبُو هَاشِمِ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ ، فَقَالَ : أَنَا أَعْلَمُ لَكُمْ ذَلِكَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ جَرِيئًا عَلَيْهِ ، فَاسْتَأْذَنَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا ، فَأَخْبَرَنَا أَنَّهَا صَلَاةُ الْعَصْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ وَقَالَ : لَا نَعْلَمُ رَوَى أَبُو هَاشِمِ بْنُ عُتْبَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ وَحَدِيثًا آخَرَ . قُلْتُ : وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ آئے اور انہوں نے دمشق میں پڑاؤ کیا ، وہ ابوکلثوم دوسی کے ہاں ٹھہرے ، اُن حضرات نے درمیانی نماز کے بارے میں گفتگو شروع کی ، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے بھی اسی طرح اختلاف کا اظہار کیا تھا ، جس طرح تمہاری آراء مختلف ہیں ، ہم اُس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے صحن میں موجود تھے ، ہمارے درمیان ایک نیک شخص سیدنا ابوہاشم بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس موجود تھے ، انہوں نے فرمایا : میں تمہارے لئے اس کا علم حاصل کر کے آتا ہوں ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہ صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بے تکلف بات کر لیتے تھے ، انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، پھر باہر تشریف لائے اور انہوں نے ہمیں یہ بتایا : اس سے مراد ، عصر کی نماز ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ یہ فرماتے ہیں : سیدنا ابوہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث روایت کی ہو ، اس بارے میں ہمیں صرف اس حدیث کا علم ہے ، یا ایک اور حدیث کا علم ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔