عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَضِّئْنِي " . قَالَ : فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوءٍ فَاسْتَنْجَى ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التُّرَابِ فَمَسَحَهَا ثُمَّ غَسَلَهَا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رِجْلَاكَ لَمْ تَغْسِلْهُمَا . قَالَ : " إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے وضو کرواؤ ! میں آپ کے لئے وضو کا پانی لے کر آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے استنجاء کیا ، پھر اپنا ہاتھ مٹی میں ڈال کر اسے پونچھ کر اُسے دھو لیا ، پھر آپ نے وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ اپنے پاؤں نہیں دھوئیں گے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : میں نے ان دونوں کو جب موزوں میں داخل کیا تھا ، تو یہ دونوں پاک ( یعنی باوضو ) تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّهُ نَزَعَ خُفَّيْهِ ، فَنَظَرُوا إِلَيْهِ فَقَالَ : أَمَا إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْسَحُ عَلَيْهِمَا ، وَلَكِنْ حُبِّبَ لِيَ الْوُضُوءُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے موزے اُتارے ، لوگوں نے اُن کی طرف دیکھنا شروع کر دیا تو انہوں نے فرمایا : میں نے اللہ کے رسول کو ان دونوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ، لیکن مجھے وضو کرنا پسند ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَيَغْسِلُ رِجْلَيْهِ ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ : بِئْسَ مَا لِي إِنْ كَانَ لَكُمْ مَهْنَاهُ وَعَلَيَّ مَأْثَمُهُ . ¤ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ روایت نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیتے تھے اور خود پاؤں دھویا کرتے تھے ، اُن سے اس بارے میں بات کی گئی ، تو انہوں نے فرمایا : یہ تو میرے لیے بہت برا ہو گا ، کہ اگر اس کی سہولت تمہارے لئے ہو ، اور اس کا گناہ مجھ پر ہو ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : وَضَّأْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَنْزِعُ خُفَّيْكَ ؟ قَالَ : " لَا ، إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ ، ثُمَّ لَمْ أَمْشِ حَافِيًا بَعْدُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : " ثُمَّ لَمْ أَمْشِ حَافِيًا بَعْدُ " - رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک سفر کے دوران ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کروایا ، آپ نے اپنا چہرہ اور دونوں بازو دھو لیے ، اپنے سر پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ کے موزے اتار دوں ؟ آپ نے فرمایا : جی نہیں ! میں نے جب ان دونوں ( پاؤں کو موزوں میں ) داخل کیا تھا ، تو یہ دونوں پاک تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اُس کے بعد میں کبھی ننگے پاؤں نہیں چلا ،
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، یہ ” صحیح “ میں بھی منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اس کے بعد میں کبھی بھی ننگے پاؤں نہیں چلا “ اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، یہ ” صحیح “ میں بھی منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اس کے بعد میں کبھی بھی ننگے پاؤں نہیں چلا “ اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَقَالَ : يَرْوِي الْمَقَاطِيعَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے موزوں اور چادر پر مسح کیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عتبہ بن ابوامیہ ہے ، ابن حبان نے اس کا ذکر کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے وہ فرماتے ہیں یہ ” مقطوع “ روایات نقل کرتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عتبہ بن ابوامیہ ہے ، ابن حبان نے اس کا ذکر کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے وہ فرماتے ہیں یہ ” مقطوع “ روایات نقل کرتا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ أَنَّهُ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ السَّلَامِ عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ وَعَنْهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، فَإِنْ كَانَ ابْنَ حَرْبٍ ، وَإِلَّا فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث روایت کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے طویل حدیث نقل کی ہے ، جس میں یہ مذکور ہے : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام ہے ، جس نے ازرق بن قیس سے روایت نقل کی ہے اور اس سے یزید بن ہارون نے روایت نقل کی ہے ، اگر تو وہ حرب کا بیٹا ہے ، تو پھر ٹھیک ہے ، ورنہ میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام ہے ، جس نے ازرق بن قیس سے روایت نقل کی ہے اور اس سے یزید بن ہارون نے روایت نقل کی ہے ، اگر تو وہ حرب کا بیٹا ہے ، تو پھر ٹھیک ہے ، ورنہ میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُ بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ إِذَا لَبِسَهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَلِعُمَرَ فِي الصَّحِيحِ ذِكْرٌ فِي قِصَّةِ سَعْدٍ غَيْرُ هَذَا ، وَلَهُ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ آخَرُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیتے ہوئے سنا ہے ، جبکہ آدمی نے انہیں باوضو حالت میں پہنا ہو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا واقعہ منقول ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ، اُن کے حوالے سے امام ابن ماجہ نے ایک اور حدیث بھی نقل کی ہے ، اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا واقعہ منقول ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ، اُن کے حوالے سے امام ابن ماجہ نے ایک اور حدیث بھی نقل کی ہے ، اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ دَخَلَ الْكَنِيفَ ثُمَّ خَرَجَ ، فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَقَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ خَرَجَ فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَعِنْدَ الْبَزَّارِ نَحْوُهُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ قضائے حاجت کے لئے گئے ، جب وہ واپس آئے ( تو وضو کرتے ہوئے ) انہوں نے موزوں پر مسح کیا اور یہ بات بیان کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ( ایک مرتبہ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے تھے ) جب آپ واپس تشریف لائے ( تو وضو کرتے ہوئے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
وَعَنْ عَوْسَجَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : إِنَّمَا يُرْوَى عَنْ عَوْسَجَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَأَخْطَأَ فِيهِ مَهْدِيُّ بْنُ حَفْصٍ . قُلْتُ : كَذَا قَالَ ، وَيَأْتِي حَدِيثُ عَوْسَجَةَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
عوسجہ ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہا تھا ، آپ موزوں پر مسح کرتے رہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : یہ عوسجہ کے حوالے سے ، اُن کے والد کے حوالے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، اور مہدی بن حفص نامی راوی نے اس میں غلطی کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : انہوں نے اسی طرح کہا: ہے ، عوسجہ بن مسلم کے حوالے سے ، اُن کے والد سے منقول روایت آگے آئے گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : یہ عوسجہ کے حوالے سے ، اُن کے والد کے حوالے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، اور مہدی بن حفص نامی راوی نے اس میں غلطی کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : انہوں نے اسی طرح کہا: ہے ، عوسجہ بن مسلم کے حوالے سے ، اُن کے والد سے منقول روایت آگے آئے گی ۔
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ دَخَلَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ وَعَلَيْهِ خُفَّانِ ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ رَأَيْتُ عَلَيْهِ الْخُفَّيْنِ فِي الْإِسْلَامِ الْمُغِيرَةُ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَمْسَحُونَهَا وَيَقُولُونَ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : الْخِفَافُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكُمْ " سَيَكْثُرُ لَكُمْ مِنَ الْخِفَافِ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا تَأْمُرُنَا بِالْوُضُوءِ لِلصَّلَاةِ ؟ قَالَ : " تَمْسَحُونَ أَوْ تَوَضَّئُوا عَلَيْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، اسی دوران سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اندر آئے انہوں نے موزے پہنے ہوئے تھے ، میں نے اسلام قبول کرنے کے بعد ، سب سے پہلے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو موزے پہنے ہوئے دیکھا لوگوں نے اُن پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور دریافت کرنا شروع کیا : یہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا : موزے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنقریب تم لوگوں کو بکثرت موزے ملیں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! نماز کے لیے وضو کے حوالے سے آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ان پر مسح کر لینا ، راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ان پر وضو کر لینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن دینار ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن دینار ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : وَضَّأْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ ، فَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْعِمَامَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ : قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ الْفُضَيْلِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے ایک ماہ پہلے ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کروایا ، تو آپ نے موزوں پر اور عمامہ پر مسح کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کو امام ابن ماجہ نے بھی نقل کیا ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” آپ کے وصال سے ایک ماہ پہلے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن فضیل بن عبدالعزیز ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کو امام ابن ماجہ نے بھی نقل کیا ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” آپ کے وصال سے ایک ماہ پہلے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن فضیل بن عبدالعزیز ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ ، فَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے موزوں اور چادر پر مسح کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَى عَلَى غَدِيرٍ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَزَلْنَا ، وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا بِلَالُ ، قُمْ فَأَذِّنْ " فَانْطَلَقَ بِلَالٌ فَأَهْرَاقَ الْمَاءَ ، ثُمَّ أَتَى الْغَدِيرَ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، وَأَهْوَى إِلَى خُفَّيْهِ ، وَكَانَ عَلَيْهِ خُفَّانِ أَسْوَدَانِ ، وَذَلِكَ بِعَيْنَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا بِلَالُ ، امْسَحْ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ غَسَّانُ بْنُ عَوْفٍ ، قَالَ الْأَزْدِيُّ : ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں شریک ہوئے ، آپ ایک کنویں کے پاس تشریف لائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا ، تو ہم بھی اپنی سواریوں سے اتر گئے ، نماز کا وقت ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے بلال ! اُٹھ کر اذان دے دو ! سیدنا بلال رضی اللہ عنہ گئے ، انہوں نے پیشاب کیا ، پھر وہ کنویں کے پاس آئے ، اپنے چہرے اور دونوں بازؤں کو دھویا ، پھر انہوں نے موزوں کی طرف ہاتھ بڑھایا ، انہوں نے سیاہ رنگ کے دو موزے پہنے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں انہیں مخاطب کر کے فرمایا : اے بلال ! موزوں اور چادر پر مسح کر لو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی غسان بن عوف ہے ، ازدی کہتے ہیں : وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی غسان بن عوف ہے ، ازدی کہتے ہیں : وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى رَجُلٍ يَتَوَضَّأُ فَغَسَلَ خُفَّيْهِ ، فَنَخَسَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ : " لَيْسَ هَكَذَا السُّنَّةُ ، أُمِرْنَا بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ هَكَذَا " وَأَمَرَّ يَدَيْهِ عَلَى خُفَّيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ بَقِيَّةُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا ، جو وضو کر رہا تھا ، اُس نے موزوں بھی دھو لیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے پاؤں مارا ، اور ارشاد فرمایا : سنت اس طرح نہیں ہے ، ہمیں موزوں پر اس طرح مسح کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دونوں موزوں پر پھیر کر یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور یہ بات بیان کی ہے ۔ بقیہ اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور یہ بات بیان کی ہے ۔ بقیہ اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔
وَعَنْ جَابِرٍ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اگر اللہ نے چاہا ، تو اس کی سند حسن ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اگر اللہ نے چاہا ، تو اس کی سند حسن ہو گی ۔
وَعَنْ جَابِرٍ - يَعْنِي ابْنَ سَمُرَةَ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ، ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى عِمَامَتِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَكَمِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحکم بن میسرہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحکم بن میسرہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موزوں اور چادر پر مسح کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ : ذَكَرَ الْمَسْحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ عِنْدَ عُمَرَ سَعْدٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فَقَالَ عُمَرُ : سَعْدٌ أَفْقَهُ مِنْكَ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ : يَا سَعْدُ ، إِنَّا لَا نُنْكِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسَحَ ، وَلَكِنْ هَلْ مَسَحَ مُنْذُ نَزَلَتِ الْمَائِدَةُ ، فَإِنَّهَا أَحْكَمَتْ كُلَّ شَيْءٍ ، وَكَانَتْ آخِرَ سُورَةٍ نَزَلَتْ مِنَ الْقُرْآنِ ، أَلَا تَرَاهُ قَالَ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ؟ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ - وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ - وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ التَّمَّارُ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَقَالَ : يُغْرِبُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے موزوں پر مسح کا ذکر کیا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ( سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ) فرمایا : سعد ( دینی احکام کی ) تم سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اے سیدنا سعد ! ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے ہیں ، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسح کیا تھا ، لیکن ( سوال یہ ہے ) کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت مسح کیا تھا ، جب سورہ مائدہ نازل ہوئی تھی ، کیونکہ اس نے ہر چیز کو محکم کر دیا اور وہ قرآن میں ، نازل ہونے والی آخری سورت ہے ، کیا آپ نے اس چیز پر غور نہیں کیا ؟ راوی بیان کرتے ہیں : تو کسی نے بھی کوئی بات نہیں کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام ابن ماجہ نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی عبید بن عبیدہ تمار ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے اور یہ بات بیان کی ہے : یہ غریب روایات نقل کرتا ہے -
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام ابن ماجہ نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی عبید بن عبیدہ تمار ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے اور یہ بات بیان کی ہے : یہ غریب روایات نقل کرتا ہے -
وَعَنْ أُسَامَةَ - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، فَلَمْ أَعْرِفْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ وَلَا يَزِيدَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اسے عبدالرحمن بن یزید نے ، اپنے والد کے حوالے سے ، عطاء بن یسار سے نقل کیا ہے ، میں نہ تو عبدالرحمن سے واقف ہوں ، اور نہ ہی یزید سے واقف ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اسے عبدالرحمن بن یزید نے ، اپنے والد کے حوالے سے ، عطاء بن یسار سے نقل کیا ہے ، میں نہ تو عبدالرحمن سے واقف ہوں ، اور نہ ہی یزید سے واقف ہوں ۔
وَعَنْ عَوْسَجَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَعَوْسَجَةُ بْنُ مُسْلِمٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّ الذَّهَبِيَّ قَالَ : عَوْسَجَةُ بْنُ أَقْرَمَ ، رَوَى عَنْ يَحْيَى بْنِ عَوْسَجَةَ . حَدِيثَهُ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ لَمْ يَصِحَّ - قَالَهُ الْبُخَارِيُّ . ¤
محمد محی الدین
عوسجہ بن مسلم ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کرنے کے بعد وضو کرتے ہوئے ، موزوں پر مسح کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عوسجہ بن مسلم کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ، البتہ امام ذہبی نے یہ بات بیان کی ہے : یہ عوسجہ بن اقرم ہیں ، جس نے یحیی بن عوسجہ سے روایت نقل کی ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں ہے اور وہ مستند نہیں ہے ، یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ نے کہی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عوسجہ بن مسلم کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ، البتہ امام ذہبی نے یہ بات بیان کی ہے : یہ عوسجہ بن اقرم ہیں ، جس نے یحیی بن عوسجہ سے روایت نقل کی ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں ہے اور وہ مستند نہیں ہے ، یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ نے کہی ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْعِمَامَةِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامہ پر مسح کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ الشَّرِيدِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، فِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شرید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ دِينَارٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں اور چادر پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صلت بن دینار ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صلت بن دینار ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : مَنْ رَغِبَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَدْ رَغِبَ عَنْ سُنَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ ، وَنُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” جو شخص موزوں پر مسح کرنے سے منہ موڑے گا ، وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے منہ موڑے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے ، جس کی نسبت جھوٹ بولنے کی طرف کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے ، جس کی نسبت جھوٹ بولنے کی طرف کی گئی ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل موزوں پر مسح کرتے رہے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی روح ) کو ، اللہ تعالیٰ نے قبض کر لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے اور اپنے حافظے کی خرابی کی وجہ سے وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے اور اپنے حافظے کی خرابی کی وجہ سے وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ نے وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبدالغفار ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبدالغفار ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَعَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ رَوَاحَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے ، جبکہ عطاء بن یسار نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے ، جبکہ عطاء بن یسار نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ سِكَكِ الْمَدِينَةِ ، فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَقَالَ : " يَا حُذَيْفَةُ ، اسْتُرْنِي " فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَالَ قَائِمًا ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ ، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفِّ وَصَلَّى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ يُحَدِّثُ بِالْأَبَاطِيلِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے کسی گلی میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ کچرے کے ڈھیر کے پاس پہنچے اور ارشاد فرمایا : اے حذیفہ ! میرے لئے پردہ کر دو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا پھر آپ نے پانی منگوایا اور وہ وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کیا اور نماز ادا کر لی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ، وہ باطل روایات نقل کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ، وہ باطل روایات نقل کرتا ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ قَالَ : رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ حَزْمٍ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَيَقُولُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن طفیل بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَزَلْ يَمْسَحُ قَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ وَبَعْدَهَا حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورہ مائدہ کے نازل ہونے سے پہلے اور اس کے بعد اپنے وصال تک مسلسل موزوں پر مسح کرتے رہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي عُتْبَةَ عَنِ الْحَسَنِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کرنے کے بعد وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، ابوعتبہ کی ، حسن سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، ابوعتبہ کی ، حسن سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ عُبَادَةَ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، كُلَّمَا يُرِيدُ الصَّلَاةَ يَخْلَعُهُمَا وَيَتَوَضَّأُ . قَالَ : " لَا ، بَلْ يَمْسَحُ عَلَيْهِمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى عَنْ عُبَادَةَ ، وَلَمْ يُدْرِكْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا ، جو وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرتا ہے اور پھر موزوں پر مسح کر لیتا ہے ، لیکن جب وہ نماز ادا کرنے لگتا ہے ، تو انہیں اتار کر وضو کر لیتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! وہ اُن ( موزوں ) پر مسح کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسحاق بن یحیی کی سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، حالانکہ انہوں نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسحاق بن یحیی کی سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، حالانکہ انہوں نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ : حُدِّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رُخْصَةً فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ صَالِحٍ ، ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہمیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ، موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں ، رخصت بیان کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن صالح ہے ، جسے دارقطنی نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن صالح ہے ، جسے دارقطنی نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ جرابوں اور جوتوں پر مسح کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ يَرِيمَ بْنِ أَسْعَدَ قَالَ : كُنْتُ مَعَ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، وَقَدْ خَدَمَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَشْرَ سِنِينَ ، تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، فَمَا أَنْسَى أَثَرَ أَصَابِعِهِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ; لِأَنَّهُمَا جَدِيدَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَيَرِيمُ ذَكَرُهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ لَهُ رَاوِيًا غَيْرَ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ . ¤
محمد محی الدین
یریم بن اسد بیان کرتے ہیں : میں سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ، اُنہوں نے دس سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی تھی ، اُنہوں نے وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کیا ، میں موزوں پر ان کے انگلیوں کے نشان نہیں بھولا ، کیونکہ وہ دونوں ( موزے ) نئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، یریم نامی کا ذکر ، ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، اور انہوں نے ابواسحاق سبیعی کے علاوہ اور ایسے کسی شخص کا ذکر نہیں کیا ، جس نے یریم سے روایت نقل کی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، یریم نامی کا ذکر ، ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، اور انہوں نے ابواسحاق سبیعی کے علاوہ اور ایسے کسی شخص کا ذکر نہیں کیا ، جس نے یریم سے روایت نقل کی ہو ۔
وَعَنْ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ : رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ هَرَاقَ الْمَاءَ فَدَعَا بِمَاءٍ . قَالَ : فَمَسَحَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ہارون بن سلیمان بیان کرتے ہیں : میں نے عمرو بن حریث کو دیکھا ، انہوں نے پیشاب کرنے کے بعد پانی منگوایا ، راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے دونوں بازؤں اور چہرے پر مسح کیا ، اور جوتوں پر مسح کیا اور پھر کھڑے ہو کر نماز ادا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔