مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ . باب: موزوں پر مسح کرنا
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ دَخَلَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ وَعَلَيْهِ خُفَّانِ ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ رَأَيْتُ عَلَيْهِ الْخُفَّيْنِ فِي الْإِسْلَامِ الْمُغِيرَةُ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَمْسَحُونَهَا وَيَقُولُونَ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : الْخِفَافُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكُمْ " سَيَكْثُرُ لَكُمْ مِنَ الْخِفَافِ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا تَأْمُرُنَا بِالْوُضُوءِ لِلصَّلَاةِ ؟ قَالَ : " تَمْسَحُونَ أَوْ تَوَضَّئُوا عَلَيْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، اسی دوران سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اندر آئے انہوں نے موزے پہنے ہوئے تھے ، میں نے اسلام قبول کرنے کے بعد ، سب سے پہلے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو موزے پہنے ہوئے دیکھا لوگوں نے اُن پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور دریافت کرنا شروع کیا : یہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا : موزے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنقریب تم لوگوں کو بکثرت موزے ملیں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! نماز کے لیے وضو کے حوالے سے آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ان پر مسح کر لینا ، راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ان پر وضو کر لینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن دینار ہے اور وہ متروک ہے ۔