حدیث نمبر: 1364
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ : ذَكَرَ الْمَسْحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ عِنْدَ عُمَرَ سَعْدٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فَقَالَ عُمَرُ : سَعْدٌ أَفْقَهُ مِنْكَ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ : يَا سَعْدُ ، إِنَّا لَا نُنْكِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسَحَ ، وَلَكِنْ هَلْ مَسَحَ مُنْذُ نَزَلَتِ الْمَائِدَةُ ، فَإِنَّهَا أَحْكَمَتْ كُلَّ شَيْءٍ ، وَكَانَتْ آخِرَ سُورَةٍ نَزَلَتْ مِنَ الْقُرْآنِ ، أَلَا تَرَاهُ قَالَ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ؟ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ - وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ - وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ التَّمَّارُ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَقَالَ : يُغْرِبُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے موزوں پر مسح کا ذکر کیا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ( سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ) فرمایا : سعد ( دینی احکام کی ) تم سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اے سیدنا سعد ! ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے ہیں ، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسح کیا تھا ، لیکن ( سوال یہ ہے ) کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت مسح کیا تھا ، جب سورہ مائدہ نازل ہوئی تھی ، کیونکہ اس نے ہر چیز کو محکم کر دیا اور وہ قرآن میں ، نازل ہونے والی آخری سورت ہے ، کیا آپ نے اس چیز پر غور نہیں کیا ؟ راوی بیان کرتے ہیں : تو کسی نے بھی کوئی بات نہیں کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام ابن ماجہ نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی عبید بن عبیدہ تمار ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے اور یہ بات بیان کی ہے : یہ غریب روایات نقل کرتا ہے -

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1364
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن