حدیث نمبر: 1312
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْبَابِ الثَّانِي مِنْ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا بِكَتِفٍ فَتَعَرَّقَهَا ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ، ثُمَّ قَالَ : جَلَسْتُ مَجْلِسَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَكَلْتُ مَا أَكَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَنَعْتُ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے دوسرے دروازے پر بیٹھے ، انہوں نے کندھے کا گوشت منگوایا اسے کھایا ، اور پھر کھڑے ہو کر نماز ادا کی ، انہوں نے دوبارہ وضو نہیں کیا ، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی : میں اُس جگہ بیٹھا ہوں ، جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تھے ، اور میں نے وہی چیز کھائی ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھائی تھی اور پھر میں نے وہی کیا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 1313
وَلِعُثْمَانَ عِنْدَ الْبَزَّارِ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكَلَ خُبْزًا وَلَحْمًا ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . ¤ ضُعِّفَ إِسْنَادُهُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ
محمد محی الدین
امام بزار نے ، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روٹی اور گوشت کھایا ، اور پھر دوبارہ وضو کیے بغیر نماز ادا کر لی ۔
اس کی سند کو ” ضعیف “ قرار دیا گیا ہے ، امام أحمد کی سند کے رجال ثقہ ہیں ۔
اس کی سند کو ” ضعیف “ قرار دیا گیا ہے ، امام أحمد کی سند کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 1314
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْكُلُ اللَّحْمَ ثُمَّ يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَا يَمَسُّ مَاءً . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گوشت کھا لیتے تھے اور پھر نماز کے لیے اُٹھ جاتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانی استعمال نہیں کرتے تھے ( یعنی دوبارہ وضو نہیں کرتے تھے ) ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1315
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكَلَ طَعَامًا ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ وَقَدْ كَانَ تَوَضَّأَ قَبْلَ ذَلِكَ ، فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ لِيَتَوَضَّأَ مِنْهُ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ : " وَرَاءَكَ " فَسَاءَنِي وَاللَّهِ ذَلِكَ ، ثُمَّ صَلَّى ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّ الْمُغِيرَةَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِ انْتِهَارُكَ إِيَّاهُ ، وَخَشِيَ أَنْ يَكُونَ فِي نَفْسِكَ عَلَيْهِ شَيْءٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ عَلَيْهِ فِي نَفْسِي إِلَّا خَيْرٌ ، وَلَكِنْ أَتَانِي بِمَاءٍ لِأَتَوَضَّأَ ، وَإِنَّمَا أَكَلْتُ طَعَامًا ، وَلَوْ فَعَلْتُ فَعَلَ النَّاسُ ذَلِكَ بَعْدِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا ، پھر نماز کھڑی ہوئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ گئے ، آپ اس سے پہلے وضو کر چکے تھے ، میں آپ کے لئے پانی لے کر آیا ، تاکہ آپ اُس سے وضو کریں ، تو آپ نے مجھے ڈانٹا اور فرمایا : پیچھے کرو ! ( راوی بیان کرتے ہیں ) اللہ کی قسم مجھے یہ بات بہت گراں گزری ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی ، میں نے اس کی شکایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کی ، تو انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ نے مغیرہ کو جو ڈانٹا ہے ، وہ اسے گراں گزرا ہے ، اسے یہ اندیشہ ہے کہ شاید آپ اُس سے ناراض ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے من میں صرف بھلائی ہے ، یہ میرے پاس پانی لے کر آیا تھا کہ میں وضو کروں ، میں نے کھانا کھایا تھا ، اگر میں ایسا کر لیتا ، تو میرے بعد لوگوں نے بھی ایسا ہی کرنا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 1316
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَأُمِّي وَأَبُو طَلْحَةَ جُلُوسًا ، فَأَكَلْنَا لَحْمًا وَخُبْزًا ثُمَّ دَعَوْتُ بِوَضُوءٍ ، فَقَالَا : لِمَ نَتَوَضَّأُ ؟ فَقُلْتُ : لِهَذَا الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْنَا ، فَقَالَا : أَنَتَوَضَّأُ مِنَ الطَّيِّبَاتِ ؟ لَمْ يَتَوَضَّأْ مِنْهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ، میری والدہ ( سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ) اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیٹھے ، ہم نے گوشت اور روٹی کھایا پھر میں نے وضو کا پانی منگوایا ، تو اُن دونوں نے کہا: ہم کیوں وضو کریں ؟ میں نے کہا: اس کھانے کی وجہ سے ، جو ہم نے کھایا ہے ، اُن دونوں نے کہا: کیا ہم پاکیزہ چیز کی وجہ سے وضو کریں گے ؟ اس کی وجہ سے اُس ہستی ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے وضو نہیں کیا ، جو تم سے بہتر تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 1317
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَشَ مِنْ كَتِفٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ایک مرتبہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جانور کے ) کندھے کا گوشت کھایا اور پھر نماز ادا کر لی اور دوبارہ وضو نہیں کیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن مصلک ہے ، اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن مصلک ہے ، اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حدیث نمبر: 1318
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْكُلُ الثَّرِيدَ وَيَشْرَبُ اللَّبَنَ ، وَيُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَامِرٍ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : حَدَّثَ عَنْهُ الثِّقَاتُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ثرید کھا لیتے تھے ، دودھ پی لیتے تھے اور دوبارہ وضو کیے بغیر نماز ادا کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلی بن عامر ہے ، جسے امام أحمد اور ابوحاتم نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : ثقہ راویوں نے اس سے حدیث روایت کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلی بن عامر ہے ، جسے امام أحمد اور ابوحاتم نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : ثقہ راویوں نے اس سے حدیث روایت کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1319
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : نَشَلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَتِفًا مِنْ قِدْرِ الْعَبَّاسِ ، فَأَكَلَهَا وَقَامَ يُصَلِّي وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی ہنڈیا میں سے کندھے کا گوشت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نکالا ، آپ نے اسے کھایا ، پھر دوبارہ وضو کے بغیر نماز ادا کر لی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن ابوسلمہ ہے اور یہ حدیث ، حسن ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن ابوسلمہ ہے اور یہ حدیث ، حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 1320
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ ، ثُمَّ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : ثُمَّ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ الْبَزَّارِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پنیر کے ٹکڑے کھانے کے بعد وضو کیا ، پھر آپ نے بکری کے کندھے کا گوشت کھایا اور دوبارہ وضو کیے بغیر نماز ادا کر لی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، یہ ” صحیح “ میں بھی منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے کندھے کا گوشت کھایا اور دوبارہ وضو کیے بغیر نماز ادا کر لی “ امام بزار کے استاد کے علاوہ ، اس روایت کے تمام رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، یہ ” صحیح “ میں بھی منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے کندھے کا گوشت کھایا اور دوبارہ وضو کیے بغیر نماز ادا کر لی “ امام بزار کے استاد کے علاوہ ، اس روایت کے تمام رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1321
وَعَنْ رَجُلٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكَلَ لَبَنًا ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
ایک شخص نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا اور پھر دوبارہ وضو کیے بغیر نماز ادا کر لی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1322
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ عَلَى وُضُوءٍ ، فَأَكَلَ طَعَامًا - لَا يَتَوَضَّأُ مِنْهُ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَبَنَ الْإِبِلِ ، إِذَا شَرِبْتُمُوهُ فَتَمَضْمَضُوا بِالْمَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَ أَحَدًا مِنْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے یہ فرمایا : جب کوئی شخص باوضو ہو اور پھر کھانا کھا لے ، تو وہ اس کے بعد دوبارہ وضو نہ کرے ، البتہ اونٹ کے دودھ کا معاملہ مختلف ہے ، جب تم اُسے پیو گے ، تو بعد میں پانی کے ذریعے کلی کر لو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ایسے ہیں کہ میں نے کسی کو ان میں سے کسی ایک کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ایسے ہیں کہ میں نے کسی کو ان میں سے کسی ایک کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 1323
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَصْلُوبُ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد دوبارہ وضو نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعید مصلوب ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعید مصلوب ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 1324
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَغَرَفَتْ لَهُ - أَوْ قَرَّبَتْ لَهُ - عَرْقًا ، فَوَضَعَتْهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ غَرَفَتْ أَوْ قَرَّبَتْ آخَرَ ، فَوَضَعَتْهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَكَلَ ، ثُمَّ أَتَى الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ : الْوُضُوءَ الْوُضُوءَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا الْوُضُوءُ عَلَيْنَا مِمَّا خَرَجَ ، وَلَيْسَ عَلَيْنَا مِمَّا يَدْخُلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، وَهُمَا ضَعِيفَانِ لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِهِمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، تو انہوں نے ہڈی والا گوشت آپ کی خدمت میں پیش کیا ، وہ انہوں نے آپ کے سامنے رکھا ، پھر مزید پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھا لیا ، پھر مؤذن آیا تو اس نے کہا: آپ وضو کر لیں ، آپ وضو کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہم پر وضو کرنا اس چیز کے حوالے سے لازم ہوتا ہے ، جو ( جسم میں اندر سے ) باہر آتی ہے ، اس چیز کی وجہ سے لازم نہیں ہوتا ، جو ( باہر سے جسم کے ) اندر جاتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اُسے عبیداللہ بن زحر نے علی بن یزید سے نقل کیا ہے ، یہ دونوں راوی ضعیف ہیں اور ان دونوں سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اُسے عبیداللہ بن زحر نے علی بن یزید سے نقل کیا ہے ، یہ دونوں راوی ضعیف ہیں اور ان دونوں سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 1325
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكَلَ ذِرَاعًا ، فَلَمَّا فَرَغَ أَمَرَّ أَصَابِعَهُ عَلَى الْجِدَارِ ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمَكِّيُّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمَا ، وَلَهُ طَرِيقٌ آخَرُ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ نے دستی کا گوشت کھایا ، جب آپ فارغ ہوئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں دیوار پر پھیر لیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ وضو کیے بغیر عصر اور مغرب کی نمازیں ادا کیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے عمرو بن قیس مکی نے ابراہیم بن محمد بن خالد بن زبیر سے نقل کیا ہے ، میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ،
یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے ، جس میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے عمرو بن قیس مکی نے ابراہیم بن محمد بن خالد بن زبیر سے نقل کیا ہے ، میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ،
یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے ، جس میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 1326
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِهِ وَفِي يَدِهِ عَرْقٌ يَتَعَرَّقُ مِنْهُ . قَالَ : فَتَنَاوَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَهَشَ مِنْهُ نَهْشَةً أَوْ نَهْشَتَيْنِ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ وَلَكِنَّهُ عَنْعَنَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے پاس سے گزرے ، اُن کے ہاتھ میں ہڈی والا گوشت تھا جس میں سے وہ کھا رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے لیا اور اس میں سے ایک یا دو مرتبہ کھایا ، پھر آپ نے دوبارہ وضو کیے بغیر نماز ادا کر لی
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ، اور
یہ روایت اس نے ” عنعنہ “ کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ، اور
یہ روایت اس نے ” عنعنہ “ کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 1327
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَيْضًا أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِ فَاطِمَةَ ، فَنَاوَلَتْهُ كَتِفَ شَاةٍ مَطْبُوخَةٍ فَأَكَلَهَا ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَأَخَذَتْ ثِيَابَهُ ، فَقَالَتْ : أَلَا تَوَضَّأُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مِمَّ يَا بُنَيَّةُ ؟ " قَالَتْ : قَدْ أَكَلْتَ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ . قَالَ : " إِنَّ أَطْهَرَ طَعَامِكُمْ لَمَا مَسَّتْهُ النَّارُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بکری کے شانے کا پکا ہوا گوشت پیش کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے کھا لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ کر نماز ادا کرنے لگے ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ کا کپڑا پکڑ لیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ وضو نہیں کریں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے میری بیٹی ! کس وجہ سے ؟ انہوں نے عرض کی : آپ نے آگ پر پکی ہوئی چیز کھائی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے کھانے میں سب سے زیادہ پاکیزہ وہ ( کھانا ) ہوتا ہے ، جو آگ پر پکا ہو ۔ اس روایت کو امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، وہ تدلیس کرنے والا ہے ، لیکن ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 1328
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكَلَ آخِرَ أَمْرَيْهِ لَحْمًا ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دونوں معاملات میں سے آخری یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت کھا کر دوبارہ وضو کیے بغیر نماز ادا کر لی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یونس بن ابوخالد ہے ، میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یونس بن ابوخالد ہے ، میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 1329
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : إِنَّمَا أَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ بِغَسْلِ الْيَدَيْنِ وَالْفَمِ لِلتَّنْظِيفِ ، وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ ، وَقَدْ نُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد جو وضو کرنے کا حکم دیا ہے ، اس سے مراد دونوں ہاتھ اور منہ کو دھونا ہے ، یہ صفائی کے لیے ہے ، واجب نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مطرف بن مازن ہے ، جس کی نسبت جھوٹ بولنے کی طرف کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مطرف بن مازن ہے ، جس کی نسبت جھوٹ بولنے کی طرف کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1330
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَسْلَخُ شَاةً فَقَالَ لِي : " يَا مُعَاذُ ، هَاتِ - أَوْ أَرِنِي - " فَدَسَعَهَا دَسْعَتَيْنِ بَيْنَ اللَّحْمِ وَالْجِلْدِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا مُعَاذُ ، هَكَذَا ، ثُمَّ مَضَى إِلَى الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے ، میں اُس وقت بکری کی کھال اتارنے لگا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے معاذ ! مجھے دو ! راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : مجھے دکھاؤ ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت اور جلد کے درمیان دو مرتبہ ہاتھ ڈالا اور پھر ارشاد فرمایا : اے معاذ ! اس طرح کرتے ہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے تشریف لے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 1331
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ فَاطِمَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَكَلَ عَرْقًا ، فَجَاءَ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ فَقَامَ لِيُصَلِّيَ ، فَأَخَذْتُ بِثَوْبِهِ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَتَوَضَّأُ ؟ فَقَالَ : " مِمَّ أَتَوَضَّأُ يَا بُنَيَّةُ ؟ " فَقُلْتُ : مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ، فَقَالَ : " أَوَلَيَسَ أَطْيَبُ طَعَامِكُمْ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ؟ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أَوَلَيْسَ أَطْهَرُ طَعَامِكُمْ " ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ وُلِدَ بَعْدَ وَفَاةِ فَاطِمَةَ ، وَالْحَدِيثُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
حسن بن ابوالحسن بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی والا گوشت کھایا ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ کو بلانے کے لیے آئے ، تو آپ نماز ادا کرنے کے لیے اُٹھ گئے ، میں نے آپ کا کپڑا پکڑا ، اور میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ وضو نہیں کریں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے میری بیٹی ! میں کس وجہ سے وضو کروں ؟ میں نے عرض کی : آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کی وجہ سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تمہارا سب سے زیادہ پاکیزہ کھانا وہ نہیں ہوتا ، جو آگ پر پکا ہو ؟ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ لفظ نقل کیا ہے : ” سب سے زیادہ پاک کھانا “ ۔ حسن بن ابوالحسن نامی راوی کی پیدائش ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد ہوئی تھی اور
یہ روایت ” منقطع “ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ لفظ نقل کیا ہے : ” سب سے زیادہ پاک کھانا “ ۔ حسن بن ابوالحسن نامی راوی کی پیدائش ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد ہوئی تھی اور
یہ روایت ” منقطع “ ہے ۔
حدیث نمبر: 1332
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمُرُّ بِالْقِدْرِ ، فَيَأْخُذُ الْعَرْقَ فَيُصِيبُ مِنْهُ ، ثُمَّ يُصَلِّي وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : بعض اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنڈیا کے پاس سے گزرتے ہوئے ہڈی والا گوشت لے لیتے تھے اور اُسے کھا لیتے تھے اور پھر دوبارہ وضو کیے بغیر نماز ادا کر لیتے تھے ، آپ پانی استعمال نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1333
وَعَنْ صَفِيَّةَ - يَعْنِي بِنْتَ حُيَيٍّ - قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ كَتِفًا بَارِدًا ، فَكُنْتُ أَسْحَاهَا ، فَأَكَلَهَا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، میں نے آپ کی خدمت میں کندھے کا ٹھنڈا گوشت پیش کیا ، میں نے اسے تیار کیا تھا ، آپ نے اُسے کھا لیا اور پھر اٹھ کر نماز ادا کر لی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 1334
وَعَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ أَنَّهَا وَضَعَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَحْمًا ، فَانْتَهَشَ مِنْهُ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَأَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے کھایا اور پھر دوبارہ وضو کیے بغیر نماز ادا کر لی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 1335
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ أَنَّ أُمَّ حَكِيمٍ ابْنَةَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ ، فَنَهَشَ مِنْ كَتِفٍ عِنْدَهَا ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ مِنْ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حارث بن نوفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام حکیم بنت زبیر رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ بات بتائی : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ضباعہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے ، تو آپ نے اُن کے ہاں ( جانور کے ) کندھے کا گوشت کھایا اور پھر نماز ادا کر لی ، آپ نے اس کی وجہ سے دوبارہ وضو نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1336
وَعَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ الزُّبَيْرِ أَنَّهَا قَالَتْ : نَاوَلْتُ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَتِفًا مِنْ لَحْمٍ ، فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ صَلَّى . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام حکیم بنت زبیر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کندھے کا گوشت پیش کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھا لیا اور پھر نماز ادا کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 1337
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّهُ أَكَلَ كَتِفًا ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ - يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن منکدر نے ، سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کندھے کا گوشت کھایا اور پھر دوبارہ وضو کیے بغیر نماز ادا کر لی “ ۔ ان کی مراد یہ تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1338
وَعَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَشَ مِنْ كَتِفٍ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّكَنِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کندھے کا گوشت کھایا اور پھر دوبارہ وضو کیے بغیر نماز ادا کر لی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سکن ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سکن ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 1339
وَعَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ الزُّبَيْرِ أَنَّهَا كَانَتْ تَصْنَعُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَعَامًا وَتَبْعَثُ بِهِ إِلَيْهِ ، وَرُبَّمَا أَتَاهَا فَأَكَلَ عِنْدِهَا ، فَزَعَمَتْ أَنَّهُ أَتَاهَا ذَاتَ يَوْمٍ ، فَأَتَتْهُ بِكَتِفٍ ، فَجَعَلْتُ أَسْحَاهَا لَهُ ، وَزَعَمَتْ أَنَّهُ أَكَلَ وَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام حکیم بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیج کر بلوایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات اُن کے ہاں تشریف لا کر اُن کے ہاں کھانا کھایا کرتے تھے ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اُن کے ہاں تشریف لائے ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کندھے کا گوشت پیش کیا ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے کھا لیا اور پھر دوبارہ وضو کیے بغیر نماز ادا کر لی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1340
وَعَنْ عَمْرَةَ بِنْتَ حِزَامٍ ، أَنَّهَا " جَعَلَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صُورِ نَخْلٍ كَنَسَتْهُ وَطَيَّبَتْهُ ، وَذَبَحَتْ لَهُ شَاةً فَأَكَلَ مِنْهَا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَصَلَّى الظُّهْرَ فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِ مِنْ لَحْمِهَا ، وَصَلَّى الْعَصْرَ ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عمرہ بنت حزام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھجور کے باغ میں صفائی کر کے جگہ تیار کی ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بکری ذبح کروائی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کا گوشت کھایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کر کے ظہر کی نماز ادا کی ، اس خاتون نے آپ کی خدمت میں اس بکری کا گوشت پیش کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ وضو کیے بغیر عصر کی نماز ادا کر لی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت بنانی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت بنانی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1341
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ : سَمِعْتُ هِنْدَ بِنْتَ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ تُحَدِّثُ عَنْ عَمَّتِهَا . قَالَتْ : جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَائِدًا لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَقَدَّمْنَا إِلَيْهِ ذِرَاعَ شَاةٍ فَأَكَلَ ، وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَتَمَضْمَضَ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طُرُقٍ ، وَبَعْضُهَا رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا هِنْدَ بِنْتَ سَعِيدٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهَا ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن محمد بن عمرو بن سعد بن معاذ بیان کرتے ہیں : میں نے ہند بنت سعید بن سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو اپنی پھوپھی کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہوئے سنا ہے : وہ خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے تشریف لائے ، تو ہم نے آپ کی خدمت میں بکری کی دستی کا گوشت پیش کیا ، آپ نے اُسے کھا لیا ، نماز کا وقت ہوا ، تو آپ نے کلی کر کے دوبارہ وضو کیے بغیر نماز ادا کر لی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف طرق کے حوالے سے نقل کی ہے ، جن میں سے بعض کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں ، البتہ ہند بنت سعید نامی خاتون کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے انہیں ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف طرق کے حوالے سے نقل کی ہے ، جن میں سے بعض کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں ، البتہ ہند بنت سعید نامی خاتون کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے انہیں ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1342
وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَتْ : قَرَّبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَتِفًا مَشْوِيَّةً ، فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ عَنْهَا ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَ مُحَمَّدًا هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کندھے کا بھنا ہوا گوشت پیش کیا ، آپ نے اسے کھا لیا ، پھر آپ نماز کے لئے تشریف لے گئے اور آپ نے دوبارہ وضو نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں محمد بن یوسف نامی راوی کے حوالے سے ، اس خاتون سے نقل کی ہے ، میں نے کسی کو محمد نامی اس راوی کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں محمد بن یوسف نامی راوی کے حوالے سے ، اس خاتون سے نقل کی ہے ، میں نے کسی کو محمد نامی اس راوی کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 1343
وَعَنْ أُمِّ عَامِرٍ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ - وَكَانَتْ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ - أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَرْقٍ ، فَتَعَرَّقَهُ وَهُوَ فِي مَسْجِدِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَلِيفَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ صَامِتٍ عَنْهَا ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَ هَذَيْنِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام عامر بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کرنے والی خواتین میں سے ایک ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہڈی والا گوشت لے کر حاضر ہوئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھایا آپ اس وقت بنو عبداشہل کی مسجد میں موجود تھے ، پھر آپ نے اُٹھ کر نماز ادا کی اور دوبارہ وضو نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابراہیم بن اسماعیل بن ابوخلیفہ کے حوالے سے ، عبدالرحمن بن عبدالرحمن بن ثابت بن صامت کے حوالے سے اس خاتون سے نقل کی ہے اور میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابراہیم بن اسماعیل بن ابوخلیفہ کے حوالے سے ، عبدالرحمن بن عبدالرحمن بن ثابت بن صامت کے حوالے سے اس خاتون سے نقل کی ہے اور میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 1344
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : أَتَيْنَا بِقَصْعَةٍ وَنَحْنُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ فِي الطَّرِيقِ ، فَأَكَلَ مِنْهَا وَأَكَلْنَا مَعَهُ ، وَجَعَلَ يَدْعُو مَنْ مَرَّ بِهِ ، ثُمَّ مَضَيْنَا إِلَى الصَّلَاةِ ، فَمَا زَادَ عَلَى أَنْ غَسَلَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ وَمَضْمَضَ فَاهُ ، ثُمَّ صَلَّى . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : أُتِينَا بِقَصْعَةٍ مِنْ بَيْتِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ . فَذَكَرَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُمَا مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بیان کرتے ہیں : ہم ایک بڑا برتن لے کر آئے ، ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، انہوں نے اس برتن کے بارے میں حکم دیا ، تو وہ راستے میں رکھ دیا گیا ، انہوں نے اس میں سے کھایا ، اُن کے ساتھ ہم نے بھی کھایا ، وہ ہر گزرنے والے فرد کو بھی دعوت دے دیتے ، پھر ہم نماز ادا کرنے کے لئے گئے ، تو انہوں نے صرف یہ کیا کہ انگلیوں کے کونے دھو لیے اور منہ میں کلی کر لی ، اور پھر نماز ادا کی ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر سے ایک برتن ہمارے پاس لایا گیا ، جس میں روٹی اور گوشت موجود تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ان دونوں روایات کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ان دونوں روایات کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1345
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَأَنْ أَتَوَضَّأَ مِنَ الْكَلِمَةِ الْخَبِيثَةِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَوَضَّأَ مِنَ الطَّعَامِ الطَّيِّبِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں کوئی بری بات کرنے کے بعد وضو کروں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں پاکیزہ کھانا کھانے کے بعد وضو کروں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔