مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ . باب: موزوں پر مسح کرنا
حدیث نمبر: 1375
وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ سِكَكِ الْمَدِينَةِ ، فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَقَالَ : " يَا حُذَيْفَةُ ، اسْتُرْنِي " فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَالَ قَائِمًا ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ ، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفِّ وَصَلَّى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ يُحَدِّثُ بِالْأَبَاطِيلِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے کسی گلی میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ کچرے کے ڈھیر کے پاس پہنچے اور ارشاد فرمایا : اے حذیفہ ! میرے لئے پردہ کر دو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا پھر آپ نے پانی منگوایا اور وہ وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کیا اور نماز ادا کر لی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ، وہ باطل روایات نقل کرتا ہے ۔