کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان جو کسی حرام چیز کو حلال قرار دے یا حلال چیز کو حرام قرار دے یا سنت کو ترک کر دے۔
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سِتَّةٌ لَعَنْتُهُمْ وَلَعَنَهُمُ اللَّهُ - وَكُلُّ نَبِيٍّ مُجَابٌ - : الزَّائِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَالْمُكَذِّبُ بِقَدَرِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَالْمُسْتَحِلُّ حُرْمَةَ اللَّهِ ، وَالْمُسْتَحِلُّ مِنْ عِتْرَتِي مَا حَرَّمَ اللَّهُ ، وَالتَّارِكُ السُّنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ شَيْبَةَ : فِيهِ ضَعْفٌ ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَوَثَّقَهُ فِي أُخْرَى ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : صَالِحُ الْحَدِيثِ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” چھ لوگ ایسے ہیں ، جن پر میں نے لعنت کی ہے ، اُن پر اللہ تعالیٰ نے اور ہر مستجاب الدعوات نبی نے لعنت کی ہے ، اللہ کی کتاب میں اضافہ کرنے والا ، اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والا ، اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمت کو حلال کرنے والا ، میری عترت کے حوالے سے اُس چیز کو حلال کرنے والا ، جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ، اور سنت کو ترک کرنے والا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن عبدالرحمن بن موہب ہے ، یعقوب بن شیبہ بیان کرتے ہیں : اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ صالح الحدیث ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے جال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 820
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 2883»
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شَغْوَى الْيَافِعِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَبْعَةٌ لَعَنْتُهُمْ - وَكُلُّ نَبِيٍّ مُجَابٌ - : الزَّائِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، وَالْمُكَذِّبُ بِقَدَرِ اللَّهِ ، وَالْمُسْتَحِلُّ حُرْمَةَ اللَّهِ ، وَالْمُسْتَحِلُّ مِنْ عِتْرَتِي مَا حَرَّمَ اللَّهُ ، وَالتَّارِكُ لِسُنَّتِي ، وَالْمُسْتَأْثِرُ بِالْفَيْءِ ، وَالْمُتَجَبِّرُ بِسُلْطَانِهِ لِيُعِزَّ مَنْ أَذَلَّ اللَّهُ وَيُذِلَّ مَنْ أَعَزَّهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَأَبُو مَعْشَرٍ الْحِمْيَرِيُّ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن شغوی یافعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” سات افراد ایسے ہیں ، جن پر میں نے اور ہر مستجاب الدعوات نبی نے لعنت کی ہے ، اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اضافہ کرنے نے والا ، اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ تقدیر کو جھٹلانے والا ، اللہ تعالیٰ کی حرمت کو حلال قرار دینے والا ، میری عترت کے حوالے سے اس چیز کو حلال قرار دینے والا ، جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ، میری سنت کو ترک کرنے والا ، مال فے کے بارے میں امتیازی سلوک کرنے والا ، اور اپنی حکومت کی وجہ سے جبر کرنے والا ، تاکہ وہ اُس کی عزت کرے ، جسے اللہ تعالیٰ نے ذلیل کیا ہے ، اور اُسے ذلیل کرے ، جسے اللہ تعالیٰ نے عزت عطا کی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے اور ایک راوی ابورمعشر حمیری ہے ، میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 821
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 43/17»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ مُحَرِّمَ الْحَلَالِ كَمُحِلِّ الْحَرَامِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” حلال چیز کو حرام قرار دینے والا ، حرام کو حلال قرار دینے والے کی مانند ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 822
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح، اس کے تمام راوی ثقہ اور صحیحین
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 7982»
وَعَنْ أُمِّ مَعْبَدٍ مَوْلَاةِ قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ قَالَتْ : [ أَيْ بُنَيَّ ] إِنَّ الْمُحَرِّمَ مَا أَحَلَّ اللَّهُ كَالْمُسْتَحِلِّ مَا حَرَّمَ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ أَكْثَرَهُمْ . ¤
محمد محی الدین
ام معبد جو قرظہ بن کعب کی مالکن ہیں : انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے ، اُسے حرام قرار دینے والا ، اس شخص کی مانند ہے جو اللہ تعالیٰ کی حرام قرار دی ہوئی چیز کو حلال قرار دیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند ایسی ہے کہ اس کے زیادہ تر راویوں کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 823
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 171/25»
وَعَنْ عَبْدَةَ السُّوَائِيِّ قَالَ : لَغَطَ قَوْمٌ قُرْبَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَصْحَابُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ بَعَثْتَ إِلَى هَؤُلَاءِ بَعْضَ مَنْ يَنْهَاهُمْ عَنْ هَذَا ، فَقَالَ : " لَوْ بَعَثْتُ إِلَيْهِمْ فَنَهَيْتُهُمْ أَنْ يَأْتُوا الْحَجُونَ لَأَتَاهُ بَعْضُهُمْ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ بِهِ حَاجَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عہدہ سوائی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کچھ لوگ شور و غوغا کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ کسی کو ان لوگوں کی طرف بھجوائیں جو انہیں اس حرکت سے منع کر دے ( تو یہ مناسب ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر میں ان کی طرف پیغام بھیج کر انہیں اس بات سے منع کر دوں کہ انہوں نے ” حجون “ نہیں جانا ، تو ان میں سے کوئی وہاں بھی چلا جائے گا ، اگرچہ اسے وہاں کوئی کام نہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 824
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا ذَاتَ يَوْمٍ وَقُدَّامَهُ قَوْمٌ يَصْنَعُونَ شَيْئًا يَكْرَهُهُ مِنْ كَلَامِهِمْ وَلَغَطًا ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَنْهَاهُمْ ؟ فَقَالَ : لَوْ نَهَيْتُهُمْ عَنِ الْحَجُونِ لَأَوْشَكَ أَحَدُهُمْ أَنْ يَأْتِيَهُ وَلَيْسَتْ لَهُ حَاجَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ، آپ کے آگے کچھ لوگ ایسی حرکتیں کر رہے تھے ، جو آپ کو ناگوار گزر رہی تھیں ، ان کا کلام اور ان کا شور و غوغا ( آپ کو ناگوار گزر رہا تھا ) عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ انہیں منع کیوں نہیں کرتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر میں انہیں ” حجون “ جانے سے منع کر دوں ، تو ان میں سے کوئی ایک وہاں بھی چلا جائے گا اگرچہ اسے وہاں کوئی کام نہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 825
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 123/22124»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : عَسَى رَجُلٌ يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ أَمَرَ بِكَذَا ، أَوْ نَهَى عَنْ كَذَا ، فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُ : كَذَبْتَ ، أَوْ يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ كَذَا وَأَحَلَّ كَذَا ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ : كَذَبْتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عنقریب ایسا ہو گا کہ کوئی شخص یہ کہے گا : بیشک اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے اور اس چیز سے منع کیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اُس سے فرمائے گا : تم نے جھوٹ بولا: ہے ، یا وہ شخص یہ کہے گا : بے شک اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو حرام قرار دیا ہے اور اس نے اس کو حلال قرار دیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا : تم نے جھوٹ بولا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 826
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 8995»
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ مُحَرِّمَ الْحَلَالِ كَمُسْتَحِلِّ الْحَرَامِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَلَهُ طَرِيقٌ يَأْتِي فِي كِتَابِ الصَّيْدِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بیشک حلال چیز کو حرام قرار دینے والا ، حرام چیز کو حلال قرار دینے والے کی مانند ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اس کے اور بھی طرق ہیں ، جو شکار سے متعلق کتاب میں آئیں گے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 827
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنْ صُهَيْبٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا آمَنَ بِالْقُرْآنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرُّهَاوِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَأَبُوهُ يَزِيدُ ضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ : مُقَارَبُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” وہ شخص قرآن پر ایمان نہیں رکھتا جو اس کی حرام قرار دی ہوئی چیزوں کو حلال قرار دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یزید بن سنان رہاوی ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے اس کے باپ یزید کو امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے ضعیف کہا: ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ ” مقارب الحدیث “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 828
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7295»