مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَسْتَحِلُّ الْحَرَامَ ، أَوْ يُحَرِّمُ الْحَلَالَ ، أَوْ يَتْرُكُ السُّنَّةَ . باب: اس شخص کا بیان جو کسی حرام چیز کو حلال قرار دے یا حلال چیز کو حرام قرار دے یا سنت کو ترک کر دے۔
حدیث نمبر: 825
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا ذَاتَ يَوْمٍ وَقُدَّامَهُ قَوْمٌ يَصْنَعُونَ شَيْئًا يَكْرَهُهُ مِنْ كَلَامِهِمْ وَلَغَطًا ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَنْهَاهُمْ ؟ فَقَالَ : لَوْ نَهَيْتُهُمْ عَنِ الْحَجُونِ لَأَوْشَكَ أَحَدُهُمْ أَنْ يَأْتِيَهُ وَلَيْسَتْ لَهُ حَاجَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ، آپ کے آگے کچھ لوگ ایسی حرکتیں کر رہے تھے ، جو آپ کو ناگوار گزر رہی تھیں ، ان کا کلام اور ان کا شور و غوغا ( آپ کو ناگوار گزر رہا تھا ) عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ انہیں منع کیوں نہیں کرتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر میں انہیں ” حجون “ جانے سے منع کر دوں ، تو ان میں سے کوئی ایک وہاں بھی چلا جائے گا اگرچہ اسے وہاں کوئی کام نہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔