کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کسی اور کے قول کی گنجائش نہیں ہے
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَذَكَرَ قِصَّةً قَالَ فِيهَا : انْطَلَقْتُ أَنَا فَانْتَسَخْتُ كِتَابًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ فِي أَدِيمٍ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا هَذَا الَّذِي فِي يَدِكَ يَا عُمَرُ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كِتَابٌ نَسَخْتُهُ لِنَزْدَادَ بِهِ عِلْمًا إِلَى عِلْمِنَا ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ ، ثُمَّ نُودِيَ بِالصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : أَغْضِبَ نَبِيُّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ السِّلَاحَ السِّلَاحَ ، فَجَاءُوا حَتَّى أَحْدَقُوا بِمِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِمَهُ ، وَاخْتُصِرَ لِي اخْتِصَارًا ، وَلَقَدْ أَتَيْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً ، فَلَا تَتَهَوَّكُوا ، وَلَا يَغُرَّنَّكُمُ الْمُتَهَوِّكُونَ " . قَالَ عُمَرُ : فَقُمْتُ فَقُلْتُ : رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِكَ رَسُولًا . ثُمَّ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ ، وَيَأْتِي الْحَدِيثُ بِقِصَّتِهِ وَتَمَامِهِ فِي بَابِ الِاقْتِدَاءِ بِالسَّلَفِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : انہوں نے ایک پورا واقعہ بیان کیا ، جس میں انہوں نے یہ بات بیان کی : میں نے اہل کتاب کی کتاب کا کچھ حصہ نقل کیا ، وہ چمڑے پر لکھ کر میں اُسے لے کر آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے عمر ! یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ایک تحریر ہے ، جسے میں نے نقل کیا ہے ، تاکہ اس کے ذریعے ہمارے علم میں اضافہ ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے ، یہاں تک کہ آپ کے رخسار سرخ ہو گئے ، پھر یہ اعلان کیا گیا : نماز جمع کرنے والی ہے ( یعنی سب لوگ اکٹھے ہو جائیں ) انصار نے کہا: کیا تمہارے نبی کو غصہ آ گیا ہے ؟ ہتھیار نکالو ! ہتھیار نکالو ! وہ لوگ آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے گرد بیٹھ گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے لوگو ! مجھے جامع اور اختتامی کلمات عطا کیے گئے ہیں ، اور میرے لیے اختصار کیا گیا ہے ، میں وہ لے کر تمہارے پاس ایسی حالت میں آیا ہوں کہ وہ صاف شفاف ہے ، تو تم موشگافیاں نہ کرو اور موشگافیاں کرنے والے لوگ تمہیں دھوکہ کا شکار نہ کریں “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں کھڑا ہوا اور میں نے عرض کی : میں اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور آپ کے رسول ہونے سے راضی ہوں ( یعنی ان اُمور پر ایمان رکھتا ہوں ) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( منیر سے ) نیچے تشریف لے آئے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق ہے ، اسے امام أحمد اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، یہ مکمل حدیث اور پورا واقعہ اسلاف کی پیروی کرنے سے متعلق باب میں آگے آئے گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 805
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي مَرَرْتُ بِأَخٍ لِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ ، فَكَتَبَ لِي جَوَامِعَ مِنَ التَّوْرَاةِ ، أَلَا أَعْرِضُهَا عَلَيْكَ ؟ قَالَ : فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ ثَابِتٍ - : فَقُلْتُ : أَلَا تَرَى مَا بِوَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ عُمَرُ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَسُولًا . قَالَ : فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ أَصْبَحَ فِيكُمْ مُوسَى ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ ، أَنْتُمْ حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ ، وَأَنَا حَظُّكُمْ مِنَ النَّبِيِّينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ جَابِرًا الْجُعْفِيَّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ثابت بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : یا رسول اللہ ! میرا گزر بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والے میرے ایک دوست کے پاس سے ہوا ، تو اُس نے تورات سے تعلق رکھنے والی کچھ جامع باتیں مجھے لکھ کر دے دیں ، کیا میں وہ آپ کے سامنے پیش کروں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ تبدیل ہو گیا ، تو سیدنا عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ( سیدنا عمر سے ) کہا: کیا آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو نہیں دیکھ رہے ہیں ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے : ہم اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ، اسلام کے دین ہونے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے سے راضی ہیں ( یعنی ہم ان اُمور پر ایمان رکھتے ہیں ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ختم ہو گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، اگر سیدنا موسیٰ علیہ السلام تمہارے درمیان موجود ہوں ، اور پھر تم لوگ اُن کی پیروی کرو اور مجھے چھوڑ دو ، تو تم گمراہ ہو جاؤ گے ، دیگر امتوں میں سے تم لوگ میرا حصہ ہو اور انبیاء کرام میں سے میں تمہارا حصہ ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 806
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 265/4 ، 470/3 ، اورده المؤلف فى زوائد المسند 186»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ عُمَرَ نَسَخَ صَحِيفَةً مِنَ التَّوْرَاةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا جَابِرًا الْجَعْفِيَّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ اتُّهِمَ بِالْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تورات میں سے ایک صحیفہ کی ( عبارت ) نقل کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرو !
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ جابر جعفی کا معاملہ مختلف ہے ، وہ ضعیف ہے اور اس پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 807
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعيف جداً، جابر الجعفی کے متہم بالکذب ہونے کی وجہ سے۔
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى كشف الاستار 125»
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكِتَابٍ أَصَابَهُ مِنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فَقَرَأَهُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَغَضِبَ ، وَقَالَ : " أَمُتَهَوِّكُونَ فِيهَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ ! وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً ، لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقٍّ فَتُكَذِّبُوا بِهِ ، أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوا بِهِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ مُوسَى كَانَ فِيكُمْ حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُجَالِدِ بْنُ سَعِيدٍ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب ایک کتاب ( یعنی تحریر ) لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، جو کسی اہل کتاب سے انہیں ملی تھی ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اُسے پڑھنا شروع کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابن خطاب ! کیا اس میں غور و فکر کیا جا رہا ہے ؟ اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میں تمہارے پاس صاف و شفاف تعلیمات لے کر آیا ہوں ، تم اُن ( یعنی اہل کتاب ) سے کسی چیز کے بارے میں دریافت نہ کرو ، کیونکہ ہو سکتا ہے وہ تمہیں کوئی حق بات بتائیں اور تم اُس کی تکذیب کر دو ، یا وہ تمہیں کوئی باطل بات بتائیں اور تم اُس کی تصدیق کر دو ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر سیدنا موسیٰ علیہ السلام بھی تمہارے درمیان زندہ موجود ہوتے ، تو اُن کے لیے بھی میری پیروی کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ ہوتا ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے امام أحمد ، یحیی بن سعید اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 808
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف بوجہ مجالد بن سعید۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 378/3 ، اورده المؤلف فى زوائد المستد 188 اورده المؤلف فى كشف الاستار 124»
وَعَنْ جَابِرٍ أَيْضًا قَالَ : نَسَخَ عُمَرُ كِتَابًا مِنَ التَّوْرَاةِ بِالْعَرَبِيَّةِ ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ ، فَجَعَلَ يَقْرَأُ وَوَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَغَيَّرُ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : وَيْحَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، أَلَا تَرَى وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ ; فَإِنَّهُمْ لَنْ يَهْدُوكُمْ وَقَدْ ضَلُّوا ، وَإِنَّكُمْ إِمَّا أَنْ تُكَذِّبُوا بِحَقٍّ ، أَوْ تُصَدِّقُوا بِبَاطِلٍ ، وَاللَّهِ لَوْ كَانَ مُوسَى بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ مَا حَلَّ لَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَعِنْدَ أَحْمَدَ بَعْضُهُ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجَعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ اتُّهِمَ بِالْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ہی سے یہ روایت منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تورات میں سے ، عربی میں ایک تحریر نقل کی اور اُسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اُنہوں نے اسے پڑھنا شروع کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہونے لگا ، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بولے : اے ابن خطاب ! تمہارا ستیاناس ہو ! کیا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو نہیں دیکھ رہے ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرو ، کیونکہ وہ تمہاری رہنمائی نہیں کر سکیں گے ، وہ تو خود گمراہ ہیں اور تم لوگ یا تو کسی حق بات کی تکذیب کر دو گے یا کسی باطل کی تصدیق کر دو گے ، اللہ کی قسم ! اگر سیدنا موسیٰ علیہ السلام تمہارے درمیان موجود ہوتے تو اُن کے لیے بھی میری پیروی کرنے کے علاوہ اور کچھ حلال نہ ہوتا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ صنیف ہے ، اس پر جھوٹ کا الزام ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 809
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً، راوی جابر الجعفی کے ضعیف اور متہم بالکذب ہونے کی وجہ سے۔
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : جَاءَ عُمَرُ بِجَوَامِعَ مِنَ التَّوْرَاةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَوَامِعُ مِنَ التَّوْرَاةِ أَخَذْتُهَا مِنْ أَخٍ لِي مَنْ بَنِي زُرَيْقٍ ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الَّذِي أُرِيَ الْأَذَانَ : أَمَسَخَ اللَّهُ عَقْلَكَ ؟ أَلَا تَرَى الَّذِي بِوَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ عُمَرُ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا ، وَبِالْقُرْآنِ إِمَامًا . فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ كَانَ مُوسَى بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا ، أَنْتُمْ حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ وَأَنَا حَظُّكُمْ مِنَ النَّبِيِّينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو عَامِرٍ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَسَدِيُّ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تورات میں سے کچھ جامع کلمات لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ تورات کے جامع کلمات ہیں ، جو میں نے بنو زریق سے تعلق رکھنے والے ایک بھائی سے حاصل کیے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا ، سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ جنہیں خواب میں اذان کا طریقہ دکھایا گیا تھا ، وہ بولے : کیا اللہ تعالیٰ نے تمہاری عقل کو مسخ کر دیا ہے ؟ کیا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے ( میں موجود ناگواری کے تاثرات ) کو نہیں دیکھ رہے ہو ؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے : ہم اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ، اسلام کے دین ہونے ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے اور قرآن کے پیشوا ہونے سے راضی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ختم ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، اگر سیدنا موسیٰ علیہ السلام تمہارے درمیان موجود ہوتے اور تم اُن کی پیروی کرتے اور مجھے ترک کر دیتے ، تو تم انتہائی گمراہی کا شکار ہو جاتے ، تمام امتوں میں سے تم لوگ میرا حصہ ہو ، اور انبیائے کرام میں سے میں تمہارا حصہ ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعامر قاسم بن محمد اسدی ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 810
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف