حدیث نمبر: 809
وَعَنْ جَابِرٍ أَيْضًا قَالَ : نَسَخَ عُمَرُ كِتَابًا مِنَ التَّوْرَاةِ بِالْعَرَبِيَّةِ ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ ، فَجَعَلَ يَقْرَأُ وَوَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَغَيَّرُ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : وَيْحَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، أَلَا تَرَى وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ ; فَإِنَّهُمْ لَنْ يَهْدُوكُمْ وَقَدْ ضَلُّوا ، وَإِنَّكُمْ إِمَّا أَنْ تُكَذِّبُوا بِحَقٍّ ، أَوْ تُصَدِّقُوا بِبَاطِلٍ ، وَاللَّهِ لَوْ كَانَ مُوسَى بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ مَا حَلَّ لَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَعِنْدَ أَحْمَدَ بَعْضُهُ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجَعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ اتُّهِمَ بِالْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ہی سے یہ روایت منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تورات میں سے ، عربی میں ایک تحریر نقل کی اور اُسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اُنہوں نے اسے پڑھنا شروع کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہونے لگا ، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بولے : اے ابن خطاب ! تمہارا ستیاناس ہو ! کیا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو نہیں دیکھ رہے ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرو ، کیونکہ وہ تمہاری رہنمائی نہیں کر سکیں گے ، وہ تو خود گمراہ ہیں اور تم لوگ یا تو کسی حق بات کی تکذیب کر دو گے یا کسی باطل کی تصدیق کر دو گے ، اللہ کی قسم ! اگر سیدنا موسیٰ علیہ السلام تمہارے درمیان موجود ہوتے تو اُن کے لیے بھی میری پیروی کرنے کے علاوہ اور کچھ حلال نہ ہوتا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ صنیف ہے ، اس پر جھوٹ کا الزام ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 809
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً، راوی جابر الجعفی کے ضعیف اور متہم بالکذب ہونے کی وجہ سے۔