مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ لَيْسَ لِأَحَدٍ قَوْلٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کسی اور کے قول کی گنجائش نہیں ہے
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : جَاءَ عُمَرُ بِجَوَامِعَ مِنَ التَّوْرَاةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَوَامِعُ مِنَ التَّوْرَاةِ أَخَذْتُهَا مِنْ أَخٍ لِي مَنْ بَنِي زُرَيْقٍ ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الَّذِي أُرِيَ الْأَذَانَ : أَمَسَخَ اللَّهُ عَقْلَكَ ؟ أَلَا تَرَى الَّذِي بِوَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ عُمَرُ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا ، وَبِالْقُرْآنِ إِمَامًا . فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ كَانَ مُوسَى بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا ، أَنْتُمْ حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ وَأَنَا حَظُّكُمْ مِنَ النَّبِيِّينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو عَامِرٍ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَسَدِيُّ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تورات میں سے کچھ جامع کلمات لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ تورات کے جامع کلمات ہیں ، جو میں نے بنو زریق سے تعلق رکھنے والے ایک بھائی سے حاصل کیے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا ، سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ جنہیں خواب میں اذان کا طریقہ دکھایا گیا تھا ، وہ بولے : کیا اللہ تعالیٰ نے تمہاری عقل کو مسخ کر دیا ہے ؟ کیا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے ( میں موجود ناگواری کے تاثرات ) کو نہیں دیکھ رہے ہو ؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے : ہم اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ، اسلام کے دین ہونے ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے اور قرآن کے پیشوا ہونے سے راضی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ختم ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، اگر سیدنا موسیٰ علیہ السلام تمہارے درمیان موجود ہوتے اور تم اُن کی پیروی کرتے اور مجھے ترک کر دیتے ، تو تم انتہائی گمراہی کا شکار ہو جاتے ، تمام امتوں میں سے تم لوگ میرا حصہ ہو ، اور انبیائے کرام میں سے میں تمہارا حصہ ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعامر قاسم بن محمد اسدی ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔