عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - فِي سَفَرٍ ، فَمَرَّ بِمَكَانٍ فَحَادَ عَنْهُ ، فَسُئِلَ لِمَ فَعَلْتَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَلَ هَذَا ، فَفَعَلْتُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
مجاہد بیان کرتے ہیں : ایک سفر میں ، ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے ، ایک جگہ سے گزرتے ہوئے وہ راستے سے ذرا ہٹ گئے ، اُن سے سوال کیا گیا : آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کرتے ہوئے دیکھا تھا ، تو میں نے بھی یہ کر لیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - بِعَرَفَاتٍ ، فَلَمَّا كَانَ حِينَ رَاحَ رُحْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَى الْإِمَامُ فَصَلَّى مَعَهُ الْأُولَى وَالْعَصْرَ ، ثُمَّ وَقَفَ وَأَنَا وَأَصْحَابٌ لِي حَتَّى أَفَاضَ الْإِمَامُ ، فَأَفَضْنَا مَعَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَضِيقِ دُونَ الْمَأْزِمَيْنِ فَأَنَاخَ ، فَأَنَخْنَا وَنَحْنُ نَحْسَبُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُصَلِّيَ ، فَقَالَ غُلَامُهُ الَّذِي يُمْسِكُ رَاحِلَتَهُ : إِنَّهُ لَيْسَ يُرِيدُ الصَّلَاةَ ، وَلَكِنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا انْتَهَى إِلَى هَذَا الْمَكَانِ قَضَى حَاجَتَهُ ، فَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
انس بن سیرین بیان کرتے ہیں : میں عرفات میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ، جب روانگی کا وقت ہوا ، تو میں بھی ان کے ساتھ روانہ ہو گیا ، یہاں تک کہ امام آیا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اُس کی اقتداء میں ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کیں ، پھر وہ ، میں اور میرے ساتھی ٹھہرے رہے ، یہاں تک کہ امام روانہ ہوا ، تو ہم بھی اُن کے ساتھ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ “ ما زمین “ سے پہلے وہ ایک تنگ جگہ کے پاس پہنچے ، تو انہوں نے اپنی سواری کو بٹھا لیا ، ہم نے بھی سواری کو بٹھا لیا ، ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید وہ نماز ادا کرنا چاہتے ہیں ، اُن کا وہ غلام جو ان کی سواری کو تھامے ہوئے تھا ، اُس نے بتایا : اُن کا نماز ادا کرنے کا ارادہ نہیں ہے ، بلکہ انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس مقام پر پہنچے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں قضائے حاجت کی تھی ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ یہاں قضائے حاجت کریں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَأْتِي شَجَرَةً بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَيَقِيلُ تَحْتَهَا ، وَيُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ مکہ اور مدینہ کے درمیان موجود ایک درخت کے پاس آتے تھے اور اس کے نیچے آرام کرتے تھے ، انہوں نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا کیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ مَحْلُولَ الْأَزْرَارِ ، وَقَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَحْلُولَ الْأَزْرَارِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، قَالَ : يُغْرِبُ وَيُخْطِئُ . ¤
محمد محی الدین
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ اُن کے بٹن کھلے ہوئے تھے ( اس عمل کی وجہ بیان کرتے ہوئے ) انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بٹن کھلے ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن مالک ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ كتاب الثقات میں کیا ہے اور یہ بات بیان کی ہے : یہ غریب روایات نقل کرتا ہے اور غلطی کرتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن مالک ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ كتاب الثقات میں کیا ہے اور یہ بات بیان کی ہے : یہ غریب روایات نقل کرتا ہے اور غلطی کرتا ہے ۔