مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ لَيْسَ لِأَحَدٍ قَوْلٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کسی اور کے قول کی گنجائش نہیں ہے
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكِتَابٍ أَصَابَهُ مِنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فَقَرَأَهُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَغَضِبَ ، وَقَالَ : " أَمُتَهَوِّكُونَ فِيهَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ ! وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً ، لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقٍّ فَتُكَذِّبُوا بِهِ ، أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوا بِهِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ مُوسَى كَانَ فِيكُمْ حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُجَالِدِ بْنُ سَعِيدٍ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُمَا . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب ایک کتاب ( یعنی تحریر ) لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، جو کسی اہل کتاب سے انہیں ملی تھی ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اُسے پڑھنا شروع کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابن خطاب ! کیا اس میں غور و فکر کیا جا رہا ہے ؟ اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میں تمہارے پاس صاف و شفاف تعلیمات لے کر آیا ہوں ، تم اُن ( یعنی اہل کتاب ) سے کسی چیز کے بارے میں دریافت نہ کرو ، کیونکہ ہو سکتا ہے وہ تمہیں کوئی حق بات بتائیں اور تم اُس کی تکذیب کر دو ، یا وہ تمہیں کوئی باطل بات بتائیں اور تم اُس کی تصدیق کر دو ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر سیدنا موسیٰ علیہ السلام بھی تمہارے درمیان زندہ موجود ہوتے ، تو اُن کے لیے بھی میری پیروی کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ ہوتا ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے امام أحمد ، یحیی بن سعید اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔