حدیث نمبر: 806
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي مَرَرْتُ بِأَخٍ لِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ ، فَكَتَبَ لِي جَوَامِعَ مِنَ التَّوْرَاةِ ، أَلَا أَعْرِضُهَا عَلَيْكَ ؟ قَالَ : فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ ثَابِتٍ - : فَقُلْتُ : أَلَا تَرَى مَا بِوَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ عُمَرُ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَسُولًا . قَالَ : فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ أَصْبَحَ فِيكُمْ مُوسَى ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ ، أَنْتُمْ حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ ، وَأَنَا حَظُّكُمْ مِنَ النَّبِيِّينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ جَابِرًا الْجُعْفِيَّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن ثابت بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : یا رسول اللہ ! میرا گزر بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والے میرے ایک دوست کے پاس سے ہوا ، تو اُس نے تورات سے تعلق رکھنے والی کچھ جامع باتیں مجھے لکھ کر دے دیں ، کیا میں وہ آپ کے سامنے پیش کروں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ تبدیل ہو گیا ، تو سیدنا عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ( سیدنا عمر سے ) کہا: کیا آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو نہیں دیکھ رہے ہیں ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے : ہم اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ، اسلام کے دین ہونے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے سے راضی ہیں ( یعنی ہم ان اُمور پر ایمان رکھتے ہیں ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ختم ہو گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، اگر سیدنا موسیٰ علیہ السلام تمہارے درمیان موجود ہوں ، اور پھر تم لوگ اُن کی پیروی کرو اور مجھے چھوڑ دو ، تو تم گمراہ ہو جاؤ گے ، دیگر امتوں میں سے تم لوگ میرا حصہ ہو اور انبیاء کرام میں سے میں تمہارا حصہ ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 806
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 265/4 ، 470/3 ، اورده المؤلف فى زوائد المسند 186»