پردے کی اہمیت و فضیلت قرآن کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

پردے کی اہمیت و فضیلت

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ﴾ ‎
”اے میرے نبی! آپ ایمان والوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، ایسا کرنا ان کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ بیشک وہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔“
(24-النور:30)
ڈاکٹر لقمان سلفی حفظہ اللہ رقمطراز ہیں:
”مسلمانوں کی روح کی طہارت و پاکیزگی کے لیے اور فحاشی و بدکاری کے دروازوں کو بند کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اجنبی اور غیر محرم عورتوں کو نہ دیکھیں، اور اگر کبھی اچانک کسی غیر محرم عورت پر نگاہ پڑ جائے تو فوراً اپنی نظریں پھیر لیں۔ اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، نہ بدکاری کریں اور نہ اپنی شرمگاہ کسی ایسے کے سامنے کھولیں جس کے لیے اس کا دیکھنا حرام ہے۔ ان دونوں باتوں پر عمل کرنے سے مسلمان کی روح پاکیزہ رہتی ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ نوافل کی ادائیگی سے زیادہ نگاہ و دل کی حفاظت کرنے سے روح کی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔“ (تیسیر الرحمن: 2/ 1001)
﴿وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ ‎
”اور اے میرے نبی! آپ ایمان والی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ظاہر رہتا ہے، اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں، اور اپنا بناؤ سنگھار کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں، سوائے اپنے شوہروں کے، یا اپنے باپ کے، یا اپنے شوہروں کے باپ کے، یا اپنے بیٹوں کے، یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے، یا اپنے بھائی کے، یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں کے، یا اپنی بہنوں کے بیٹوں کے، یا اپنی عورتوں کے، یا گھر میں رہنے والے ان لوگوں کے سوا جو عورتوں کی خواہش نہیں رکھتے، یا ان بچوں کے سوا جو ابھی عورتوں کی شرمگاہوں سے آگاہ نہیں ہیں، اور اپنے پاؤں زمین پر مار کر نہ چلیں، تاکہ ان کی پوشیدہ زینت لوگوں کو معلوم ہو جائے اور اے مومنو! تم سب مل کر اللہ کے حضور توبہ کرو، تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔“
(24-النور:31)
اس آیت مقدسہ میں اللہ تعالیٰ نے پردے کے احکامات بیان کیے ہیں۔ اور آخر میں بیان فرما دیا ہے کہ اللہ کی طرف توبہ، رجوع کرنے میں ہی تمہاری کامیابی ہے۔ بالفاظ دیگر اللہ کے احکامات کی پیروی، اور اس کی منہیات سے اجتناب میں ہی تمہاری کامیابی کا راز مضمر ہے۔
﴿يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا ۖ وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ﴾
”اے آدم کے بیٹو! ہم نے تمہارے لیے لباس اتارا ہے، جو تمہاری شرمگاہوں کا پردہ کرتا ہے، اور وسیلہ زینت بھی ہے، اور پرہیزگاری کا لباس ہی بہترین ہے۔ یہ لباس اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔“
(7-الأعراف:26)
اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں رہنے کی جگہ اور کھانے پینے کی مختلف چیزیں دیں، اور جنت کا لباس چھن جانے کے بعد لباس دیا جس کے ذریعہ وہ ستر پوشی کرتا ہے، اور زیب و زینت اختیار کرتا ہے۔ ان نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ پر ایمان لائے، شرک و معاصی سے تائب ہو اور تقویٰ کی راہ پر گامزن ہو، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد فرمایا کہ آدمی اگر تقویٰ کا لباس زیب تن کرے، یعنی ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کرے، اور ہر حال میں اللہ کی خشیت اس کے دل و دماغ پر طاری رہے تو اس کے لیے ہر طرح سے بہتر ہے۔“ (تیسیر الرحمن: 1/ 460)
‏ ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾
”اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی، اور اللہ بڑا مغفرت کرنے والا مہربان ہے۔“
(33-الأحزاب:59)
﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ ۖ وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾
”اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیمی جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو، اور نماز ادا کرتی رہو، اور زکوۃ دیتی رہو، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو۔ اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والو! تم سے ہر قسم کی لغو بات کو دور کر دے اور تمہیں خوب صاف کرے۔“
(33-الأحزاب:33)
ان تمام آیات مقدسات سے پردے کی اہمیت واضح ہو رہی ہے کہ پردہ عورت کی عزت و آبرو، لوگوں کی بری نگاہوں سے اس کا محافظ ہے۔ لامحالہ جو عورت بن سنور کر باہر نکلے گی تو مرکزِ نگاہ بنے گی۔ اس پر آوازے بھی کسے جائیں گے تو کئی اس کے ساتھ مزید چھیڑ چھاڑ کا ارتکاب بھی کریں گے، جبکہ پردے میں وہ ان تمام باتوں سے محفوظ رہتی ہے۔ کیونکہ وہ اس صورت میں مرکزِ نگاہ نہیں بنے گی۔
؎ بے غیرتی کی دوڑ میں کتنے ہوئے شریک
کتنوں نے خود ہی خود کو تماشا بنا لیا
دشتِ کفر کی خاک کیوں چہروں پہ چھا گئی
کیوں چمن راہِ دید میں یہ آندھی آ گئی