تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {”جَلَابِيْبُ“ ”جِلْبَابٌ“} کی جمع ہے، بڑی چادر جو جسم کو ڈھانپ لے۔ {” مِنْ “} کا لفظ تبعیض کے لیے ہے، یعنی اپنی چادروں کا کچھ حصہ۔ {” يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ “}، {”أَدْنٰي يُدْنِيْ“} کا معنی قریب کرنا ہے، {” عَلَيْهِنَّ “} کے لفظ سے اس میں لٹکانے کا مفہوم پیدا ہو گیا۔ عرب کی عورتیں تمام جاہل معاشروں کی طرح سب لوگوں کے سامنے کھلے منہ پھرتی تھیں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور ایمان والوں کی عورتوں سے کہہ دے کہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے آپ پر لٹکا لیا کریں۔“ اس لٹکانے سے مراد کیا ہے؟ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ترجمان القرآن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل فرمایا: {” أَمَرَ اللّٰهُ نِسَاءَ الْمُؤْمِنِيْنَ إِذَا خَرَجْنَ مِنْ بُيُوْتِهِنَّ فِيْ حَاجَةٍ أَنْ يُّغَطِّيْنَ وُجُوْهَهُنَّ مِنْ فَوْقِ رُؤُوْسِهِنَّ بِالْجَلاَبِيْبِ، وَ يُبْدِيْنَ عَيْنًا وَاحِدَةً “} [طبري: ۲۸۸۸۰] ”اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی عورتوں کو حکم دیا کہ جب وہ کسی ضرورت کے لیے گھر سے نکلیں تو اپنے چہرے کو اپنے سروں کے اوپر سے پڑی چادروں کے ساتھ ڈھانپ لیں اور ایک آنکھ کھلی رکھیں۔“ ام سلمہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: [لَمَّا نَزَلَتْ: «يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ» خَرَجَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ كَأَنَّ عَلٰی رُءُوْسِهِنَّ الْغِرْبَانَ مِنَ الْأَكْسِيَةِ] [أبو داوٗد، اللباس، باب في قول اللّٰہ تعالٰی: «یدنین علیھن من جلا بیبھن» : ۴۱۰۱، و قال الألباني صحیح] ”جب آیت {” يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ“} نازل ہوئی تو انصار کی عورتیں اس طرح نکلیں جیسے ان کے سروں پر (سیاہ) چادروں کی وجہ سے کوّے ہوں۔“
➌ { ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ:} یہاں ایک سوال ہے کہ اگر اپنے آپ پر چادروں کا کچھ حصہ اس طرح لٹکایا جائے کہ صرف ایک آنکھ کھلی رہے، چہرہ نظر ہی نہ آئے تو اس طرح تو عورت کی پہچان ہو ہی نہیں سکتی، پھر یہ فرمانے کا کیا مطلب ہے کہ ”یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انھیں تکلیف نہ پہنچائی جائے۔“ جواب اس کا یہ ہے کہ پہچانی جائیں سے یہ مراد نہیں کہ یہ فلاں عورت ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ پردہ کرنے کی وجہ سے ان کی پہچان ہو جائے کہ یہ شریف اور باحیا عورتیں ہیں، پھر کوئی انھیں چھیڑنے کی جرأت نہیں کرے گا، نہ کسی کے دل میں انھیں اپنی طرف مائل کرنے کا لالچ پیدا ہو سکے گا۔ اس کے برعکس بے پردہ عورت کی کیا پہچان ہو سکتی ہے کہ وہ شریف ہے یا بازار میں پیش ہونے والا سامان، جسے کوئی بھی حاصل کر سکتا ہے۔ پردہ اتارنے کے بعد اسے ایذا سے محفوظ رہنے کے بجائے فاسق و فاجر لوگوں کی چھیڑ چھاڑ، زبردستی اور بعض اوقات اغوا کا منتظر رہنا چاہیے۔
➍ بعض لوگ کہتے ہیں کہ چہرے کا پردہ نہیں، مگر یہ آیت ان کا رد کرتی ہے، اس کے علاوہ سورۂ نور کی آیت (۳۱ اور ۶۰) سے اور سورۂ احزاب کی آیت (۵۳ اور ۵۵) سے بھی واضح طور پر پردے کا حکم ثابت ہو رہا ہے۔ زیر تفسیر آیت کے ساتھ ایک مرتبہ ان آیات کا ترجمہ و تفسیر بھی دیکھ لیں۔ واقعۂ افک میں عائشہ رضی اللہ عنھا کا کہنا کہ صفوان نے مجھے پردے کی آیات اترنے سے پہلے دیکھا تھا، بھی چہرے کے پردے کی واضح دلیل ہے۔
➎ { وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا: ” غَفُوْرًا “} پردہ ڈالنے والا، {” رَحِيْمًا “} بے حد مہربان۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کے لیے پردے کا جو حکم دیا ہے اس کی وجہ اس کی صفت مغفرت و رحمت ہے۔ وہ تم پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے اور تم پر رحم کرنا چاہتا ہے اور اس کے حکم کی تعمیل ہی سے تم اس کی پردہ پوشی اور رحمت کے حق دار بنو گے، اگر تم نے اس کی اطاعت نہ کی تو اپنی کوتاہیوں پر اس کی پردہ پوشی کی اور رحمت کی امید نہ رکھو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ لغوی لحاظ سے دنٰی یدنی کا مطلب قریب ہونا، جھکنا اور لٹکنا سب کچھ آتا ہے۔ قرآن میں ہے: ﴿وَجَنَا الْجَنَّـتَيْنِ دَانٍ﴾ [54:55] یعنی ان دونوں باغوں کے پھل جھک رہے ہیں یا لٹک رہے ہیں اور ﴿اَدْنٰي يَدْنِي ﴾یعنی قریب کرنا، جھکانا اور لٹکانا اور ادنی الستر بمعنی پردہ لٹکانا ہے (منجد) اب اگر ﴿ادنٰي اليهن من جلابيبهن﴾ کے الفاظ ہوتے تو پھر ان معانی کی بھی گنجائش نکل سکتی تھی جو یہ حضرات چاہتے ہیں لیکن قرآن میں ادنیٰ کا صلہ علیٰ سے ہے جو اس کے معنی کو ﴿اِرْخَاء﴾ یعنی اوپر سے لٹکانے کے معنوں سے مختص کر دیتا ہے۔ اور جب لٹکانا معنی ہو تو اس کا مطلب سر سے نیچے کو لٹکانا ہو گا جس میں چہرہ کا پردہ خود بخود آجاتا ہے۔
اس حدیث میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ دیکھنے کی ہی ہدایت فرمائی۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر ﴿يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ﴾ کا معنی وہ ہو جو یہ حضرات ہمیں سمجھانا چاہتے ہیں تو کیا (معاذ اللہ) سیدہ عائشہؓ اور دوسرے صحابہؓ نے اس کا معنی غلط سمجھا تھا؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کے سوال پر عبیدہ سلمانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا چہرہ اور سر ڈھانک کر اور بائیں آنکھ کھلی رکھ کر بتا دیا کہ ”یہ مطلب اس آیت کا ہے۔“
عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”اپنی چادر سے اپنا گلا تک ڈھانپ لے۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس آیت کے اترنے کے بعد انصار کی عورتیں جب نکلتی تھیں تو اس طرح لکی چھپی چلتی تھیں گویا ان کے سروں پر پرند ہیں سیاہ چادریں اپنے اوپر ڈال لیا کرتی تھیں۔“
زہری رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ کیا لونڈیاں بھی چادر اوڑھیں؟ خواہ خاوندوں والیاں ہوں یا بے خاوند کی ہوں؟ فرمایا ”دوپٹیا تو ضرور اوڑھیں اگر وہ خاوندوں والیاں ہوں اور چادر نہ اوڑھیں تاکہ ان میں اور آزاد عورتوں میں فرق رہے۔“
سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”فاسق لوگ اندھیری راتوں میں راستے سے گزرنے والی عورتوں پر آوازے کستے تھے اس لیے یہ نشان ہو گیا کہ گھر گرہست عورتوں اور لونڈیوں باندیوں وغیرہ میں تمیز ہو جائے اور ان پاک دامن عورتوں پر کوئی لب نہ ہل اس کے۔“
پھر فرمایا کہ ”جاہلیت کے زمانے میں جو بے پردگی کی رسم تھی جب تم اللہ کے اس حکم کے عامل بن جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمام اگلی خطاؤں سے درگزر فرمالے گا اور تم پر مہر و کرم کرے گا۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه الآية هي التي تسمَّى آية الحجاب، فأمر الله نبيَّه أن يأمُرَ النساء عموماً، ويبدأ بزوجاتِهِ وبناتِهِ ـ لأنَّهنَّ آكدُ من غيرهنَّ، ولأنَّ الآمر لغيره ينبغي أن يبدأ بأهله قبل غيرهم؛ كما قال تعالى: {يا أيُّها الذين آمنوا قُوا أنفسَكم وأهليكم ناراً}. {يُدْنينَ عليهنَّ من جلابيبِهنَّ}: وهنَّ اللاَّتي يَكُنَّ فوق الثياب من ملحفةٍ وخمارٍ ورداءٍ ونحوه؛ أي: يغطِّين بها وجوهَهن وصدورَهن، ثم ذكر حكمة ذلك، فقال: {ذلك أدنى أن يُعْرَفْنَ فلا يُؤْذَيْنَ}: دلَّ على وجود أذيَّةٍ إن لم يحتَجِبْن، وذلك لأنهنَّ إذا لم يحتجِبْن، ربَّما ظنَّ أنهنَّ غير عفيفاتٍ، فيتعرَّض لَهُنَّ مَنْ في قلبهِ مرضٌ، فيؤذيهنَّ، وربما استُهين بهنَّ، وظُنَّ أنهنَّ إماء، فتهاون بهنَّ من يريدُ الشرَّ؛ فالاحتجابُ حاسمٌ لمطامع الطامعين فيهنَّ. {وكان الله غفوراً رحيماً}: حيث غفر لكم ما سَلَفَ ورَحِمَكُم بأن بيَّن لكم الأحكام وأوضح الحلال والحرام؛ فهذا سدٌّ للباب من جهتهنَّ.