ذمی (اسلامی حکومت کے غیر مسلم شہری)
مذکورہ ہدایات تمام اہل کتاب کے سلسلہ میں ہیں، خواہ وہ کہیں بھی رہتے ہوں، لیکن جو اہل کتاب اسلامی حکومت کے زیر سایہ مقیم ہوں ان کا ایک خاص مقام ہے۔ اصطلاحا ان کو ذمی کہا جاتا ہے۔ ذمی لفظ ذمہ یعنی عہد و معاہدہ کے معنی میں ہے۔ یہ لفظ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کے ساتھ اللہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی جماعت کا یہ عہد و معاہدہ ہے کہ وہ اسلام کے زیر سایہ امن و اطمینان کی زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ یہ لوگ جدید اصطلاح میں اسلامی حکومت کے شہری ہیں اور قرون اولی سے لے کر آج تک مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ ان کے حقوق وفرائض وہی ہیں جو مسلمانوں کے ہیں، بجز ان امور کے جو عقیدہ و مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، کیونکہ اسلام ان کو ان کے مذہب پر قائم رہنے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔
ميں كهتا هوں يه اس قسم كے فاضل مؤلف كو وهم هوا هے. ميرے خيال ميں اس كا سبب يه هے كه يه سر تسليم خم كرنے كا سبب وه احاديث هيں جو زبان زد عام هيں. مؤلف ان سے متاثر هوئے هيں اور ان كي صحت كے بارے ميں جانچ پركه نهيں كي. يه بات كه انكے ليے وهى هے جو مسلمانوں كے ليے هے اور ان پر وهى هے جو مسلمانوں پر هے. يه بهي ان گردش كرنے والي احاديث ميں سے ايك هے. زياده تر خطباء علم سنت وفقه سے عدم واقفيت كي بناء پر اسے بهت شوق سے بيان كر رهے هيں. حالانكه فقهاء كي نظر ميں بهي معامله اس قدر مطلق و آزاد نهيں. اور يه هو بهي كيسے سكتا هے جبكه جمهور علمائے كرام اس كے قائل هيں كه مسلمان كو ذمي كے عوض قتل نه كيا جائے گا اور ذمي كي ديت مسلمان كي ديت سے نصف هے.
علاوه ازيں بهت سارے حقوق ايسے هيں جو مسلمان كے مسلمان كے ليے هيں اور ذمي ان ميں شامل نهيں جيسا كه نبي صلى الله عليه وسلم كا قول اس طرف اشاره كرتا هے. مسلمان كے مسلمان پر پانچ حقوق هيں. ايك روايت ميں چه آتے هيں. اس كے علاوه بهي حقوق هيں جن كا ذكر حديث كي كتابوں ميں آتا هے.
اس ليے يه حديث جو لوگوں كي زبان پر گردش كر رهي هے اس كي سنت كي كتابوں ميں كوئي اصل نهيں اور يه اپنے اطلاق كے لحاظ سے بهي باطل هے. ميں جب اسے كسي سے سنا كرتا تها تو ميں اس كے ساته بهت حسن ظن ركهتا تها اور ميں اسے بيان بهي كيا كرتا تها اور مجهے يه علم تك نه تها كه يه بے اصل هے. تاهم يه ميرے ذهن ميں تها كه يه اپنے اطلاق پر باقي نهيں هوگي كه هر مسلمان كا حق اور ذمي كا حق برابر هوں. يهاں تك كه ميں نے مؤلف عفا الله عنه كو ديكها كه اسے عام قرار ديتے هيں. خاص نهيں كهتے يا يوں كهه ليں مطلق بيان كرتے هيں مقيد نهيں كرتے. بلكه انهوں نے وضاحت و صراحت سے كهه ديا هے كه ذمي اور مسلمان برابر هيں. صرف يه مستثنيٰ هيں كه دين اور عقيده كے معاملات مخصوص هيں كه اسلام هر ايك كو اس كي مرضي كا دين اپنانے كي اجازت ديتا هے.
حديث ميں وهم كا منشاء و بنياد يه هے كه يه اهل كتاب كے بارے ميں وارد هوئي هے جبكه وه اسلام لے آئيں تو مسلمانوں كے مؤلف نے اس مناسبت كي بناء پر حديث كي تفصيل كي هے پهر اسے مطلقا استعمال كيا هے. يه اس وهم كا اصلي سبب هے. والله المستعان
ميں نے اس بات پر سير حاصل بحث احاديث ضعيفه رقم نمبر (1103) كے تحت كي هے. (غابة 213)
اس بات پر پہلے زمانہ سے لے کر آج تک تمام مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ ان کے حقوق و فرائض وہی ہیں جو مسلمانوں کے ہیں بجز اُن امور کے جو عقیدہ و مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، کیونکہ اسلام ان کو ان کے مذہب پر قائم رہنے کی آزادی دیتا ہے۔
تاہم ذمیوں کے حقوق کا خیال رکھنے کی بابت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی تاکید فرمائی ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔ چنانچہ احادیث میں آیا ہے :
من آذى ذميا فقد آذاني ومن آذاني فقد آذى الله
”جس نے کسی ذمی کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی۔ اور جس نے مجھے اذیت دی اس نے اللہ کو اذیت دی۔“
قال الشيخ الالبانى رحمہ اللہ لا أصل له بهذا اللفظ لا عند الطبراني ولا عند غيره الخ غاية المرام (ص212) وقال ملا على القاري من احاديث الباطلة من آذى ذميا فقد آذاني اسرار المرفوعة ص : 482
من آذى ذميا فأنا خصمه ومن كنت خصمه خصمته يوم القيامة
”جس نے کسی ذمی کو اذیت دی اس کے خلاف میں مقدمہ لڑوں گا اور جس کے خلاف میں مقدمہ لڑوں گا وہ قیامت کے دن ضرور مغلوب ہوگا۔“
تاریخ بغداد : 370/8 واسناده منكر
من ظلم معاهدا أو انتقصه حقا أو كلفه فوق طاقته أو أخذ منه شيئا بغير طيب نفس منه فأنا حجيجه يوم القيامة
”جس نے کسی معاہد (جس کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہو) پر ظلم کیا یا اس کی حق تلفی کی یا اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ اس پر ڈال دیا یا اس کی مرضی کے بغیر اس کی کوئی چیز لے لی، تو قیامت کے دن میں اس کی طرف سے مقدمہ لڑوں گا۔“
ابو داؤد کتاب الخراج باب فى تعشير اهل الذمة إذا اختلفوا بالتجارة ح : 3052 ۔ السنن الكبرى للبيهقي : 2005/9
ان غیر مسلم شہریوں کے حقوق اور حرمتوں کا لحاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء برابر کرتے رہے اور فقہائے اسلام نے فقہی اختلافات کے باوجود ان حقوق اور حرمتوں سے پورا پورا اتفاق کیا ہے۔
مالکی فقہ کے عالم شہاب الدین قرافی رحمہ اللہ کہتے ہیں :
ذمیوں کے معاہدہ نے ہم پر کچھ حقوق عائد کیے ہیں، کیونکہ وہ ہماری ہمسائیگی حفاظت اور امان میں آگئے ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام نے امان عطا کی ہے۔ لہذا جو شخص ان پر کسی قسم کی زیادتی کرے گا خواہ وہ معمولی حد تک ہو مثلاً : ان سے بری بات کہنا یا ان میں سے کسی کی غیبت کرنا یا انہیں کسی قسم کی اذیت پہنچانا یا اس طرح کی باتوں میں تعاون کرنا تو وہ اللہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دینِ اسلام کے عطاء کر دہ امان کو تلف کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔
كتاب الفروق للقرافي
علامہ ابن حزم ظاہری رحمہ اللہ کہتے ہیں :
جو ذمی ہو اور اہل حرب ہمارے ملک میں داخل ہو کر اس پر حملہ کرنا چاہیں تو ہم پر واجب ہے کہ مسلح ہو کر ان کا مقابلہ کریں اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امان میں ہے اس کی حفاظت کرتے ہوئے مر جانا پسند کریں، لیکن اس کو دشمنوں کے حوالہ نہ کریں کہ یہ ذمی بنا لینے کے معاہدہ سے بے اعتنائی برتنے کے مترادف ہے۔
مراتب الاجماع لا بن حزم