مضمون کے اہم نکات
بسم الله الرحمن الرحيم
كِتَابُ التَّوْحِيدِ
7373: حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن أبي حصين والأشعث بن سليم: سمعا الأسود بن هلال، عن معاذ بن جبل قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: يا معاذ، أتدري ما حق الله على العباد. قال: الله ورسوله أعلم، قال: أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئا، أتدري ما حقهم عليه؟ قال: الله ورسوله أعلم، قال: أن لا يعذبهم.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کا اس کے بندوں پر کیا حق ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:کہ یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کا کوئی شریک نہ ٹھہرائیں۔ کیا تمہیں معلوم ہے پھر بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں ، فرمایا یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔
◈ [يا معاذ، أتدري ما حق الله على العباد] اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کا اس کے بندوں پر کیا حق ہے؟
یہ حق حتمی اور قطعی ہے،اس میں کمی بیشی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
مسائل کی دو اقسام ہیں۔
① مسائل شرعیّہ
② مسائل قدریّۃ و کونیّۃ
① مسائل شرعیّہ: میں اگر کوئی سوال ہو تو اس میں کہہ سکتے ہیں کہ اللہ ورسولہ اعلم
(کیونکہ) رسول اللہ ﷺ عالم باالشریعہ ہیں اور اللہ کی وحی کے مخاطب ہیں۔
② مسائل قدریّۃ و کونیّۃ: میں سوال ہوتو صرف اللہ اعلم کہیں گے۔
(مثلا) اگر کوئی کہے کل بارش ہوگی؟ تو جواب اسکا یہ ہے اللہ اعلم۔
امور قدریّۃ اللہ رب الغزت کے علم میں ہیں اس کی خبر اللہ تعالی نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دی۔ امور قدریّۃ کا سارا علم اللہ کے پاس ہے۔
◈ [أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئا]کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کا کوئی شریک نہ ٹھہرائیں۔
میں توحید کے بڑے عظيم قواعد موجود ہیں۔
أن يعبدوه: میں پورا جواب آ سکتا ہےجو بندہ صرف اللہ تعالی کی عبادت کرے تو یقینا شرک سے بچے گا۔ صرف اللہ کی عبادت کر رہا ہے مگر یہ کمال توحید نہیں ہے۔کمال توحید یہ ہے کے اللہ رب العزت کی عبادت کے ساتھ شرک کی نفی بھی کرے تب توحید کامل ہوگی۔
یہ بات ہم چار مرحلوں میں کرتے ہیں۔
① زبان سے توحید کا اقرار کرنا، یعنی [لا الہ الا اللہ]کہنا۔
② دل سے اس اقرار کی تصدیق کرنا۔
③ عمل کے ذریعے صرف ایک اللہ رب العزت کی عبادت کرنا۔
④ ہر قسم کے شرک، باطل معبودوں اور غیراللہ کی عبادت سے انکار اور بیزاری اختیار کرنا۔
- خالی عبادت کافی نہیں ہےبلکہ ہر قسم کے شرک سے بیزاری اور ہر قسم کے شرک کا انکا ضروری ہے ، تب توحید کامل ہوگي۔
- کمال توحید کے لئے توحید کا اقرار، توحید کی تصدیق، عملا توحید کا مظاہرہ، اور ہر قسم کے شرک کی نفی اور اسکا انکار ، مشرکین سے براءت، یہ کمال توحید کے لئے ضروری ہے۔
- یہ حدیث اس اہم قاعدہ پر [أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئا] مشتمل ہے کہ عقیدہ توحید نفیا و اثباتا، اللہ رب العزت کی عبادت اور ہر قسم کے شرک سے انکار۔
سوال: کیا انسان اللہ رب العزت پہ کوئی چيز واجب فرض کر سکتا ہے؟
جواب: نہیں
حدیث میں جو اللہ نے اپنے اوپر بندوں کا حق واجب کیا ہے وہ اس وجہ سے کے توحید کا مسئلہ اتنا اہم ہے کہ اس توحید کے مسئلہ کی محبت میں اللہ تعالی نے اپنی مرضی سے بندوں کا حق اپنے ذمہ لیا ہے۔(مسئلہ:توحید کے اثبات کا اور شرک سے بیزاری کا)۔
یہ حق اللہ تعالی نے اپنی مرضی سے اپنے اوپر فرض کیا کے اے میرے بندوں اگر تم یہ دو کا سر انجام دو ① صرف ایک اللہ رب العزت کی عبادت کرو اور ② ہر قسم کے شرک سے بیزاری و انکار کرو۔
تو پھر تمھارا مجھ پر حق ہے (جوتم نے مجھ پہ مسلّط نہیں کیا اور نہ کوئی کر سکتاہے) بلکہ اتنا عظیم مسئلہ اپنی محبت میں میں نے تمھارا حق اپنے ذمہ لیا ہے۔اور وہ حق یہ ہے (أن لا يعذبهم)کہ اللہ رب العزت ایسے بندوں کو عذاب نہ دے۔
تو جو شخص یہ دو اعمال سر انجام دیتا ہے:توحید کامل نفیاواثباتا ، اللہ تعالی کی عبادت ہو اور ہر غیراللہ کا انکار نفی ہو۔ تو یہ دعوت انبیاءکرام علیہم السلام کی تھی۔ [وَ لَقَدۡ بَعَثۡنَا فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ اجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ] اور بلاشبہ یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔ (النحل:36)
اس میں بھی دو چیزیں ہیں ① صرف ایک اللہ رب العزت کی عبادت اور ② ہر طاغوت کا انکار۔
(طاغوت) ہر وہ چیز جس کو اللہ کے سوا پکارا جائے۔
اور یہ دعوت ہر نبی کی دعوت ہے (اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ اجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ) یہاں بھی توحید نفیا و اثباتا سامنے آرہی ہے۔
[فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی لَا انۡفِصَامَ لَہَا] پھر جو کوئی باطل معبود کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے تو یقینا اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جسے کسی صورت ٹوٹنا نہیں۔ (البقرۃ:256)
جو طاغوت کا انکار کرے اور ایک اللہ رب العزت کو مان لے اور ایک اللہ تعالی پہ ایمان لائے۔ (أمرهم بالإيمان بالله عز وجل وحده، قال: هل تدرون ما الإيمان بالله وحده؟ قالوا: الله ورسوله أعلم، قال: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله) اول انہیں حکم دیا کہ ایک اللہ پر ایمان لائیں ۔ (پھر) فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ ایک اللہ پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے عرض کیا، اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: (ایک اللہ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ) اس بات کا اقرار کرنا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد (ﷺ) اللہ کے سچے رسول ہیں۔ (صحیح البخاری:87)
لَا إِلَهَ: میں نفی ہے۔ (ہر غیراللہ کا انکار کرنا ہے)
إِلَّا اللَّهُ: میں اثبات ہے۔(ایک اللہ رب العزت کا اثبات کررہا ہے)
- مندرجہ ذیل اصول ہمارے سامنے آئے ہیں:
- توحید اوّل واجب ہے۔
- فہم توحید نفیا و اثباتا
تمام توحید کی اقسام:
توحید الوہیت:
ایک اللہ رب العزت معبود برحق ہے اور کوئي معبود نہیں ہے۔
توحید ربوبیت:
صرف ایک اللہ رب العزت رب ہے اور کوئی رب نہیں ہے۔ایک اللہ رب العزت ہی خالق و مالک ہے۔
توحید اسماء وصفات:
ایک اللہ رب العزت رحمن و رحیم ہے اور کوئی نہیں۔صرف اللہ رب العزت ہی سمیع و بصیر ہے اور کوئی نہیں۔
- تو ہمیں اعلانیہ طور پہ اللہ رب العزت کی توحید کا اثبات کرنا ہے اور ہر شرک سے اعلانیہ براءت کرنی ہے تاکہ قیامت کے دن میزان حسنات میں اثبات کو بھی تولا جائے اورنفی کو بھی تولا جائے۔
- [عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لأن أقول سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر، أحب إلي مما طلعت عليه الشمس]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ بات کہ میں: سبحان اللہ والحمد للہ ولا الٰہ الا اللہ واللہ اکبرکہوں، مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ (مسلم:2695)
[سُبْحَانَ اللَّهِ: میں نفی کا عقیدہ ہے]
[وَالْحَمْدُ لِلَّهِ: میں عقیدہ اثبات ہے]
[لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ: میں نفی واثبات کا عقیدہ ہے]
[اللَّهُ أَكْبَرُ: میں اثبات کا عقیدہ ہے]
تو ہمیں توحید کو نفیا و اثباتا مضبوطی سے تھامنا ہے۔