پڑوسی کے حقوق ادا کرنے کے فضائل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

پڑوسی کے حقوق ادا کرنے کے فضائل

عن أبى هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يؤذ جاره، ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه، ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليسكت .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو ایذاء نہ پہنچائے، جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ مہمان کی عزت کرے، اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ بھلائی کی (ہی) بات کرے ورنہ خاموش رہے۔“
صحیح بخاری، کتاب الأدب، باب إکرام الضيف وخدمته إياه بنفسه، رقم: 6136۔ صحیح مسلم، کتاب الإيمان، باب الحث على إكرام الجار، رقم: 47۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
لا يدخل الجنة من لا يأمن جاره بوائقه .
”وہ شخص جنت میں نہ جائے گا جس کا پڑوسی اس کے خطرات سے محفوظ نہ ہو۔“
صحیح مسلم، کتاب الإيمان، باب بيان تحريم إيذاء الجار، رقم: 46۔
یعنی معلوم ہوا کہ جو شخص پڑوسی کے ساتھ اچھے طریقے سے اور عمدہ اخلاق سے پیش آئے گا، وہ مؤمن بھی ہے اور جنت میں بھی جائے گا۔ جیسا کہ درجِ ذیل حدیثِ پاک سے وضاحت ہو رہی ہے:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ایک آدمی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں عورت دن کو روزے رکھتی ہے، رات کو قیام کرتی ہے، اور صدقہ خیرات بھی کرتی ہے، لیکن ہمسایوں کو زبان سے اذیت پہنچاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ عورت جہنمی ہے۔ پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: فلاں عورت صرف فرض نماز ادا کرتی ہے، اور پنیر کے ٹکڑے وغیرہ صدقہ کرتی ہے، لیکن ہمسایوں کو اذیت نہیں پہنچاتی۔ آپ نے فرمایا: ”یہ عورت جنتی ہے۔“
مسند أحمد: 440/2۔ الأدب المفرد، رقم: 119۔ صحیح ابن حبان، رقم: 5764۔ ابن حبان نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:
خير الأصحاب عند الله، خيرهم لصاحبه، وخير الجيران عند الله خيرهم لجاره .
”اللہ کے نزدیک لوگوں میں سے سب سے بہتر وہ شخص ہے، جو اپنے ساتھی کے لیے بہتر ہو۔ اور پڑوسیوں میں سب سے بہتر وہ ہے، جو اپنے پڑوسی کے لیے بہتر ہو۔“
سنن الترمذی، کتاب البر والصلة، باب ماجاء في حق الجوار، رقم: 1944۔ سلسلة الصحيحة، رقم: 1030۔