تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {يُوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِيْشًا:} یعنی لباس کا مقصد ستر پوشی اور زینت ہے۔ اس کے علاوہ وہ سردی، گرمی اور چوٹ وغیرہ سے بھی بچانے کے باعث بنتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيْلَ تَقِيْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِيْلَ تَقِيْكُمْ بَاْسَكُمْ» [النحل: ۸۱] ”اور اس نے تمھارے لیے کچھ قمیصیں بنائیں جو تمھیں گرمی سے بچاتی ہیں اور کچھ قمیصیں جو تمھیں تمھاری لڑائی میں بچاتی ہیں۔“
➌ {وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى ذٰلِكَ خَيْرٌ:} یعنی اس ظاہری لباس کے علاوہ جس سے تم صرف بدن ڈھانکتے ہو یا زینت کا کام لیتے ہو ایک اور معنوی لباس بھی ہے جو ہر لباس سے بہتر ہے، لہٰذا تمھیں اس کا اہتمام کرنا چاہیے اور وہ ہے پرہیز گاری، یعنی اﷲ کا خوف، ایمان اور عمل صالح کا لباس۔ بعض نے کہا ہے کہ {” لِبَاسُ التَّقْوٰى “} سے مراد اون کھدر وغیرہ کی قسم کا کھردرا اور موٹا لباس ہے، جسے صوفی لوگ پہنتے ہیں، مگر یہ صحیح نہیں، خود رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور سلف صالحین، جن کی پرہیز گاری بے مثال تھی، عمدہ لباس بھی پہنا کرتے تھے اور وسعت کے باوجود سادہ لباس بھی پہنتے تھے۔ بعض نے زرہ وغیرہ فوجی لباس مراد لیا ہے جو دشمن سے بچاؤ کا ذریعہ بنتا ہے۔ (قرطبی۔ روح المعانی) ہاں یہ ضرور ہے کہ جس لباس کی ممانعت آئی ہے وہ نہ پہنا جائے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اب وہی لباس پہنو جس میں پرہیز گاری ہو، یعنی مرد ریشمی (اور زعفرانی رنگ کا) لباس نہ پہنے، دامن لمبا نہ رکھے جو ٹخنوں کو ڈھانک لے اور جو منع ہوا ہے سو نہ کرے اور عورت بہت باریک (یا تنگ) لباس نہ پہنے کہ لوگوں کو بدن نظر آوے اور اپنی زینت نہ دکھائے۔
➍ {لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ:} تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور اﷲ تعالیٰ کی اس بڑی نعمت کی قدر کریں، یا نصیحت حاصل کریں اور برے کاموں سے بچیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے نیا کرتہ پہنتے ہوئے جبکہ گلے تک وہ پہن لیا فرمایا «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ مَا اُوَارِیْ بِہٖ عَوْرَتِیْ وَ اَتَجَمَّلُ بِہٖ فِیْ حَیَاتِیْ» پھر فرمانے لگے: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: { جو شخص نیا کپڑا پہنے اور اس کے گلے تک پہنچتے ہی یہ دعا پڑھے، پھر پرانا کپڑا راہ للہ دے دے تو وہ اللہ کے ذمہ میں، اللہ کی پناہ میں اور اللہ کی حفاظت میں آ جاتا ہے۔ زندگی میں بھی اور بعد از مرگ بھی۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3557، قال الشيخ الألباني:ضعیف] (ترمذی، ابن ماجہ وغیرہ)
مسند احمد میں ہے: { سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان سے ایک کرتہ تین درہم کا خریدا اور اسے پہنا -جب پہنچوں اور ٹخنوں تک پہنچا تو آپ نے یہ دعا پڑھی «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي» یہ دعا سن کر آپ سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ اسے کپڑا پہننے کے وقت پڑھتے تھے یا آپ از خود اسے پڑھ رہے ہیں؟ فرمایا: میں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:158/1:ضعیف]
ابن جریج کا قول ہے: ”لباس تقویٰ ایمان ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”عمل صالح ہے اور اسی سے ہنس مکھ ہوتا ہے۔“
عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”مراد اس سے مشیت ربانی ہے۔“ عبدالرحمٰن کہتے رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اللہ کے ڈر سے اپنی ستر پوشی کرنا لباس تقویٰ ہے۔“
یہ کل اقوال آپس میں ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ مراد یہ سب کچھ ہے اور یہ سب چیزیں ملی جلی اور آپس میں ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں۔
ایک ضعیف سند والی روایت میں حسن سے مرقوم ہے کہ { میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو منبر نبوی پر کھلی گھنڈیوں کا کرتا پہنے ہوئے کھڑا دیکھا۔ اس وقت آپ کتوں کے مار ڈالنے اور کبوتر بازی کی ممانعت کا حکم دے رہے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا: لوگو اللہ سے ڈرو! خصوصاً اپنی پوشیدگیوں میں اور چپکے چپکے کانا پھوسی کرنے میں۔ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ قسم کھا کر بیان فرماتے تھے کہ جو شخص جس کام کو پوشیدہ سے پوشیدہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اسی کی چادر اس پر اعلانیہ ڈال دے گا۔ اگر نیک ہے تو نیک اور اگر بد ہے تو بد۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14451:ضعیف] اور فرمایا اس سے مراد خوش خلقی ہے۔ }
ہاں صحیح حدیث میں صرف اتنا مروی ہے کہ { سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر کتوں کے قتل کرنے اور کبوتروں کے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ } ۱؎ [مسند احمد:72/1:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم امتنَّ عليهم بما يسَّر لهم من اللباس الضروري واللباس الذي المقصود منه الجمال، وهكذا سائر الأشياء كالطعام والشراب والمراكب والمناكح، ونحوها قد يسر الله للعباد ضروريَّها ومكمِّل ذلك، وبيَّن لهم أن هذا ليس مقصوداً بالذات، وإنَّما أنزله الله ليكون معونةً لهم على عبادته وطاعته، ولهذا قال: {ولباسُ التَّقوى ذلك خيرٌ}: من اللباس الحسيِّ؛ فإن لباس التقوى يستمرُّ مع العبد ولا يبلى ولا يبيد، وهو جمال القلب والروح، وأما اللباس الظاهريُّ؛ فغايتُه أن يستُر العورة الظاهرة في وقت من الأوقات، أو يكون جمالاً للإنسان، وليس وراء ذلك منه نفع. وأيضاً؛ فبتقدير عدم هذا اللباس تنكشف عورتُهُ الظاهرةُ التي لا يضرُّه كشفُها مع الضرورة، وأما بتقدير عدم لباس التقوى؛ فإنها تنكشف عورته الباطنة، وينال الخزيَ والفضيحة. وقوله: {ذلك من آيات الله لعلَّهم يذَّكَّرونَ}؛ أي: ذلك المذكور لكم من اللباس مما تذكرون به ما ينفعُكم، ويضرُّكم، وتستعينون باللباس الظاهر على الباطن.