شوہر کی فرمانبرداری کی فضیلت صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

شوہر کی فرمانبرداری کی فضیلت

عن الحصين بن محصن أن عمة له أتت النبى صلى الله عليه وسلم فى حاجة، ففرغت من حاجتها، فقال لها النبى صلى الله عليه وسلم أذات زوج أنت؟ قالت: نعم. قال: كيف أنت له؟ قالت: ما آلوه إلا ما عجزت عنه. قال: فانظري أين أنت منه، فإنما هو جنتك ونارك .
”سیدنا حصین بن محصن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی پھوپھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: کیا تو شادی شدہ ہے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم اپنے شوہر سے کیسا رویہ برتتی ہو؟“ اس نے کہا: میں نے کبھی اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں کمی نہیں کی الا کہ جو میری طاقت سے باہر ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم خود غور کرو کہ تمہارا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ (خبردار!) وہ تمہاری جنت اور جہنم ہے۔“ یعنی اس کی اطاعت کے بدلے میں جنت اور اس کی نافرمانی کے بدلے میں جہنم ہے۔
مسند أحمد: 341/4۔ مستدرک حاکم: 189/2۔ حاکم نے اسے ”صحیح“ کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا صلت المرأة خمسها، وصامت شهرها، وحصنت فرجها، وأطاعت بعلها، دخلت من أى أبواب الجنة شاءت .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت پانچ نمازیں ادا کرے، ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے دروازوں میں سے جس سے چاہے داخل ہو جائے۔“
صحیح ابن حبان، رقم: 4151۔ صحیح الجامع الصغير، رقم: 660۔
نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
لو أمرت أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها من عظم حقه عليها، ولا تجد امرأة حلاوة الإيمان حتى تؤدي حق زوجها ولو سألها نفسها، وهى على ظهر قتب .
”اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ کسی انسان کو سجدہ کرے تو یقیناً میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، کیونکہ اس کے اپنی بیوی پر بہت زیادہ حقوق ہیں۔ اور کوئی عورت اس وقت تک ایمان کی حلاوت حاصل نہیں کر سکتی، جب تک وہ اپنے خاوند کے حقوق ادا نہ کرے۔ اور اگر خاوند اس سے ہم بستری کی خواہش کرے تو اس پر اس کی خواہش کا احترام ضروری ہے، خواہ وہ کجاوہ باندھے اونٹ پر سوار ہو۔“
صحیح الترغيب والترهيب، رقم: 2896۔