تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} کے ساتھ براہ راست مخاطب فرمایا ہے، جیسا کہ {” لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ “} اور {” لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ “} سے پہلے ہے، یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا: ”مومن مردوں سے کہہ دے“ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ نظر کا معاملہ نہایت خطرناک ہے اور اسے روکنا نہایت مشکل کام ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے شہنشاہانہ جلال کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ مومن مردوں سے کہہ دے اور مومن عورتوں سے کہہ دے۔ (البقاعی) (واللہ اعلم)
➌ {” قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ “} میں{” مِنْ “} تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”مومن مردوں سے کہہ دے اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں۔“ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ نہیں کہ کسی چیز کو بھی نظر بھر کر نہ دیکھو، راستہ چلتے ہوئے بھی نگاہ مت اٹھاؤ، بلکہ حکم کچھ نگاہیں نیچی رکھنے کا ہے اور مراد ان چیزوں سے نگاہ نیچی رکھنا ہے جن کی طرف نگاہ بھر کر دیکھنا اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے، مثلاً اپنی بیوی اور محرم رشتوں کے سوا عورتوں کو دیکھنا، کسی ڈاڑھی کے بغیر لڑکے کو شہوت کی نظر سے دیکھنا، یا کسی کا خط یا وہ چیز دیکھنا جسے وہ چھپانا چاہتا ہے وغیرہ۔
➍ { يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ:} بلا ارادہ پڑنے والی پہلی نظر معاف ہے، گناہ اس نظر پر ہے جو جان بوجھ کر ڈالی جائے۔ نظر کا ذکر خصوصاً فرمایا، کیونکہ عموماً زنا کی ابتدا اس سے ہوتی ہے، ورنہ زنا سارے حواس ہی سے ہوتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهُ كَتَبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذٰلِكَ لَا مَحَالَةَ فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ وَ زِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَتَمَنّٰی وَ تَشْتَهِيْ وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذٰلِكَ كُلَّهُ وَ يُكَذِّبُهُ] [بخاري، الاستئذان، باب زنا الجوارح دون الفرج: ۶۲۴۳] ”اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے، جسے وہ لامحالہ حاصل کرے گا، چنانچہ آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس تمنا اور خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب کر دیتی ہے۔“
جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نظر کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نظر ہٹا لوں۔“ [مسلم، الآداب، باب نظر الفجائۃ: ۲۱۵۹] البتہ ضرورت کے لیے غیر محرم عورت کو دیکھ سکتا ہے، مثلاً اس سے نکاح کا ارادہ ہو، یا طبی ضرورت ہو، یا کسی حادثہ کی وجہ سے ضرورت پڑ جائے۔ اللہ نے فرمایا: «{ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَيْهِ }» [الأنعام: ۱۱۹] ”حالانکہ بلاشبہ اس نے تمھارے لیے وہ چیزیں کھول کر بیان کر دی ہیں جو اس نے تم پر حرام کی ہیں، مگر جس کی طرف تم مجبور کر دیے جاؤ۔“
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلٰی عَوْرَةِ الرَّجُلِ وَلَا الْمَرْأَةُ إِلٰی عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ وَ لَا يُفْضِی الرَّجُلُ إِلَی الرَّجُلِ فِيْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَلَا تُفْضِی الْمَرْأَةُ إِلَی الْمَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ] [مسلم، الحیض، باب تحریم النظر إلی العورات: ۳۳۸] ”کوئی مرد دوسرے مرد کی شرم گاہ نہ دیکھے، نہ ہی کوئی عورت کسی عورت کی شرم گاہ دیکھے۔ نہ کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے۔“
➎ مرد کے لیے اپنی بیوی یا لونڈی کے جسم کا ہر حصہ دیکھنا جائز ہے، اسی طرح بیوی کے لیے اپنے خاوند کے جسم کا اور لونڈی کے لیے اپنے مالک کے جسم کا ہر حصہ دیکھنا جائز ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ }» [البقرۃ: ۱۸۷] ”وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔“ ظاہر ہے کہ لباس سے جسم کا کوئی حصہ پوشیدہ نہیں رہتا۔ ابن ماجہ (۶۶۲) میں عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی حدیث کہ میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرم گاہ نہیں دیکھی، سند کے لحاظ سے ثابت نہیں، کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت کرنے والا راوی مجہول ہے۔ اس کے برعکس عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: ”میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، ہمارے ہاتھ اس میں باری باری آتے جاتے تھے۔“ ایک روایت میں ہے: ”ہم جنبی ہوتے تھے۔“ [بخاري، الغسل، باب ھل یدخل الجنب یدہ…: ۲۶۱، ۲۶۳]
➏ { وَ يَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ:}يہاں {”مِنْ“} استعمال نہیں فرمایا کہ اپنی کچھ شرم گاہوں کی حفاظت کریں، بلکہ فرمایا، اپنی شرم گاہوں کی مکمل حفاظت کریں، کیونکہ نظر سے مکمل بچاؤ ممکن نہ تھا۔
➐ { اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ:} وہ اس حکم پر عمل کرنے والوں کو جزا دے گا اور عمل نہ کرنے والوں کو سزا دے گا، خواہ ان کی نیکی یا بدی سے کوئی آگاہ ہو یا آگاہ نہ ہو، جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح واقف ہے۔ فرمایا: «{ يَعْلَمُ خَآىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَ مَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ }» [المؤمن: ۱۹] ”وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
یعنی اتفاقاً نظر پڑ جانے کے بعد پھر دیکھتے نہیں رہنا چاہئے بلکہ فوراً نظر ہٹا لینی چاہئے اور ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ ”نظر بازی آنکھوں کا زنا ہے یا آنکھوں کا زنا نظر بازی ہے۔“ [بخاری۔ کتاب الاستیذان۔ باب زنا الجوارح دون الفرج]
2۔ نیز سہل بن سعدؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دروازہ کے سوراخ میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں جھانکا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک خارپشت یعنی ایک لوہے کی سلائی یا تیر کی انی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر کھجلا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اگر مجھے معلوم ہو جاتا کہ تو جھانک رہا ہے تو میں تیری آنکھ پر مار کر اسے پھوڑ دیتا۔ استیعذان کا حق کو تو نظر بازی کے فتنہ کے وجہ سے ہی ہوا ہے۔“ [بخاري۔ كتاب الاستيذان]
3۔ اور طبرانی میں ایک روایت یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: نظر بازی، ابلیس کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔ [بحواله تفهيم القرآن ج 3 ص 380]
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا جو کسی انصاری عورت سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”کیا تو نے اس مخوطبہ کی طرف دیکھ لیا“؟ اس نے کہا ”نہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا اور اس کے طرف دیکھ لے کیونکہ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ عیب ہوتا ہے“ [مسلم۔ کتاب النکاح۔ باب ندب من اراد النکاح امرأۃ الی ان ینظر الیٰ وجھھا]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صحیح مسلم میں ہے { سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نگاہ پڑ جانے کی بابت پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اپنی نگاہ فوراً ہٹا لو } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2159]
نیچی نگاہ کرنا یا ادھر ادھر دیکھنے لگ جانا اللہ کی حرام کردہ چیز کو نہ دیکھنا آیت کا مقصود ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { علی رضی اللہ عنہ نظر پر نظر نہ جماؤ، اچانک جو پڑگئی وہ تو معاف ہے قصداً معاف نہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2149،قال الشيخ الألباني:حسن]
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا { راستوں پر بیٹھنے سے بچو }۔ لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کام کاج کے لیے وہ تو ضروری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اچھا تو راستوں کا حق ادا کرتے رہو }۔ انہوں نے کہا وہ کیا؟ فرمایا: { نیچی نگاہ رکھنا، کسی کو ایذاء نہ دینا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کی تعلیم کرنا، بری باتوں سے روکنا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6229]
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { چھ چیزوں کے تم ضامن ہو جاؤ میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوتا ہوں، بات کرتے ہوئے جھوٹ نہ بولو، امانت میں خیانت نہ کرو، وعدہ خلافی نہ کرو، نظر نیچی رکھو، ہاتھوں کو ظلم سے بچائے رکھو، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:8018:ضعیف]
عبیدہ کا قول ہے کہ جس چیز کا نتیجہ نافرمانی رب ہو، وہ کبیرہ گناہ ہے چونکہ نگاہ پڑنے کے بعد دل میں فساد کھڑا ہوتا ہے، اس لیے شرمگاہ کو بچانے کے لیے نظریں نیچی رکھنے کا فرمان ہوا۔ نظر بھی ابلیس کے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔ پس زنا سے بچنا بھی ضروری ہے اور نگاہ نیچی رکھنا بھی ضروری ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو مگر اپنی بیویوں اور لونڈیوں سے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4017،قال الشيخ الألباني:صحیح]
محرمات کو نہ دیکھنے سے دل پاک ہوتا ہے اور دین صاف ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنی نگاہ حرام چیزوں پر نہیں ڈالتے۔ اللہ ان کی آنکھوں میں نور بھر دیتا ہے، اور ان کے دل بھی نورانی کر دیتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جس کی نظر کسی عورت کے حسن و جمال پر پڑ جائے پھر وہ اپنی نگاہ ہٹالے۔ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایک ایسی عبادت اسے عطا فرماتا ہے جس کی لذت وہ اپنے دل میں پاتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:264/5:ضعیف] اس حدیث کی سندیں تو ضعیف ہیں مگر یہ رغبت دلانے کے بارے میں ہے، اور ایسی احادیث میں سند کی اتنی زیادہ دیکھ بھال نہیں ہوتی۔
طبرانی میں ہے کہ { یا تو تم اپنی نگاہیں نیچی رکھو گے اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو گے اور اپنے منہ سیدھے رکھو گے یا اللہ تعالیٰ تمہاری صورتیں بدل دے گا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:7840:ضعیف] «اَعَاذَنَا اللهُ مِنْ کُلِ ّ عَذَابِهِ»
فرماتے ہیں، { نظر ابلیسی تیروں میں سے ایک تیر ہے جو شخص اللہ کے خوف سے اپنی نگاہ روک رکھے، اللہ اس کے دل میں ایسا نور ایمان پیدا کردیتا ہے کہ اسے مزہ آنے لگتا ہے }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:10363:ضعیف] لوگوں کا کوئی عمل اللہ سے پوشیدہ نہیں ہے وہ آنکھوں کی خیانت دل کے بھیدوں کو جانتا ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ابن آدم کے ذمے اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا گیا ہے جسے وہ لامحالہ پالے گا، آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے، کانوں کا زنا سننا ہے۔، ہاتھوں کا زنا تھامنا ہے، پیروں کا زنا چلنا ہے، دل خواہش تمنا اور آرزو کرتا ہے، پھر شرمگاہ تو سب کو سچا کر دیتی ہے یا سب کو جھوٹا بنا دیتی ہے }۔ [صحیح بخاری:6243]
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر آنکھ قیامت کے دن روئے گی مگر وہ آنکھ جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کے دیکھنے سے بند رہے اور وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں جاگتی رہے اور وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے رودے، گو اس میں سے آنسو صرف مکھی کے سر کے برابر ہی نکلا ہو }۔ ۱؎ [ابو نعیم فی الحلية:163/3:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: أرشدِ المؤمنين وقُلْ لهم: الذين معهم إيمانٌ يمنعُهم من وقوع ما يُخِلُّ بالإيمان {يغضُّوا من أبصارِهم}: عن النظر إلى العورات وإلى النساء الأجنبيَّات وإلى المُرْدانِ، الذين يُخاف بالنظرِ إليهم الفتنة وإلى زينة الدُّنيا التي تفتنُ وتوقِعُ في المحذور. {ويحفَظُوا فروجَهم}: عن الوطء الحرام في قُبُل أو دُبُر أو ما دونَ ذلك وعن التمكين من مسِّها والنظر إليها. {ذلك}: الحفظُ للأبصار والفروج {أزكى لهم}: أطهرُ وأطيبُ وأنمى لأعمالهم؛ فإنَّ من حَفِظَ فرجَه وبصرَه؛ طَهُرَ من الخَبَثِ الذي يتدنَّس به أهلُ الفواحش، وزَكَتْ أعمالُه بسبب تركِ المحرَّم الذي تطمعُ إليه النفس وتدعو إليه؛ فمن تَرَكَ شيئاً لله؛ عوَّضَه الله خيراً منه، ومن غضَّ بصره عن المحرم أنار الله بصيرتَه، ولأنَّ العبد إذا حَفِظَ فرجَه وبصرَه عن الحرام ومقدّماته مع دواعي الشهوة؛ كان حفظُه لغيرِهِ أبلغَ، ولهذا سمَّاه الله حفظاً؛ فالشيء المحفوظُ إن لم يجتهدْ حافظُهُ في مراقبتِهِ وحفظِهِ وعمل الأسباب الموجبة لحفظِهِ؛ لم يَنْحَفِظْ، كذلك البصر والفرج إن لم يجتهدِ العبدُ في حفظِهِما؛ أوقعاه في بلايا ومحنٍ.
وتأمَّل كيف أمر بحفظِ الفرج مطلقاً لأنَّه لا يُباح في حالةٍ من الأحوال، وأما البصرُ؛ فقال: {يَغُضُّوا مِنْ أبصارِهم}: أتى بأداة مِنْ الدالَّة على التبعيض؛ فإنَّه يجوز النظر في بعض الأحوال لحاجةٍ؛ كنظر الشاهدِ والمعامل والخاطبِ ونحو ذلك. ثم ذكَّرهم بعلمِهِ بأعمالهم ليجتهِدوا في حفظ أنفسِهِم من المحرَّمات.