واقعہ کربلا اور واقعہ حرہ میں یزید کا کردار اور چند اہم حقائق

فونٹ سائز:
مرتب کردہ: ابو عبیدہ محمد ثاقب
مضمون کے اہم نکات

یزید بن معاویہ

یزید بن معاویہ کا معاملہ اسلامی تاریخ کے نہایت حساس، نازک اور اختلافی مباحث میں سے ہے۔ اس باب میں اہلِ سنت کا منہج یہ ہے کہ نہ تو غلو کیا جائے، نہ تعصب؛ نہ بے دلیل تکفیر کی جائے، نہ ظلم و زیادتی پر پردہ ڈالا جائے۔ شخصیتوں کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت شرعی اصول، تاریخی حقائق، ائمہ اہلِ علم کے اقوال، اور عدل و انصاف کو سامنے رکھا جائے گا۔

یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یزید بن معاویہ نہ صحابی تھا، نہ خلفائے راشدین میں سے، اور نہ ایسی شخصیت جس کی محبت کو دین کا حصہ بنایا جائے۔ دوسری طرف اس کے بارے میں قطعی تکفیر یا آخرت کے حتمی انجام کا فیصلہ کرنا بھی اہلِ سنت کا طریقہ نہیں، کیونکہ آخرت کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ البتہ دنیا میں اس کے دورِ حکومت میں پیش آنے والے بڑے سانحات، خصوصاً سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت، اہلِ مدینہ پر واقعۂ حرہ، اور مکہ مکرمہ کے محاصرے جیسے واقعات، اس کے عہدِ حکومت پر نہایت سنگین سوالات قائم کرتے ہیں۔

یزید کے بارے میں تحقیق کرتے ہوئے چند اصولی باتیں سامنے رکھنا ضروری ہیں۔ پہلی بات یہ کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا براہِ راست حکم یزید سے صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قاتلانِ حسین کو سزا دینا، ابن زیاد جیسے ظالم عامل کا محاسبہ کرنا، اور اہلِ بیت کے ساتھ ہونے والے ظلم کا عدل کے ساتھ ازالہ کرنا حکمران کی ذمہ داری تھی۔ یزید نے یہ ذمہ داری ادا نہیں کی، بلکہ ابن زیاد کو فوری طور پر معزول یا سزا دینے کے بجائے اس کے جرم پر مؤثر گرفت نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم نے یزید کو اس سانحے سے بری الذمہ قرار نہیں دیا۔

دوسری بات یہ ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کوئی معمولی سیاسی حادثہ نہیں تھا، بلکہ رسول اللہ ﷺ کے محبوب نواسے، اہلِ بیت کے معزز فرد، اور جنتی نوجوانوں کے سردار کی مظلومانہ شہادت تھی۔ اس واقعے پر خاموشی، قاتلوں سے نرمی، یا ان کے جرم کو معمولی بنا کر پیش کرنا اہلِ ایمان کے شایانِ شان نہیں۔ اہلِ سنت کا موقف یہ ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ مظلوم شہید ہیں، ان کے قاتل ظالم ہیں، اور جو شخص اس ظلم پر راضی ہو، اس کا دفاع کرے، یا اس کو ہلکا کر کے پیش کرے، وہ اہلِ بیت کے حق میں عدل نہیں کرتا۔

تیسری بات یہ ہے کہ یزید کے دور میں صرف کربلا ہی نہیں، بلکہ واقعۂ حرہ اور مکہ مکرمہ کا محاصرہ بھی پیش آیا۔ مدینہ منورہ کی حرمت، اہلِ مدینہ کا مقام، اور مکہ مکرمہ کی عظمت احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے۔ ایسے مقامات اور وہاں کے اہلِ ایمان کے ساتھ سختی، لشکر کشی اور خوف و ہراس کا معاملہ کسی معمولی حکومتی غلطی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ واقعات یزید کے عہدِ حکومت کو ایک سیاہ اور قابلِ گرفت دور بنا دیتے ہیں۔

لہٰذا یزید بن معاویہ کے بارے میں راجح اور محتاط اہلِ سنتی موقف یہ ہے کہ نہ اس سے محبت رکھی جائے، نہ اس کا دفاع کیا جائے، نہ اس کے جرائم اور عہدِ حکومت کے مظالم کو ہلکا کیا جائے، اور نہ ہی بغیر قطعی دلیل کے اس کی تکفیر کی جائے۔ اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، مگر دنیا میں اس کے دور میں ہونے والے ظلم سے براءت، اہلِ بیت سے محبت، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا احترام، اور قاتلانِ حسین سے بیزاری اہلِ ایمان کا واضح منہج ہے۔

اس بحث کا مقصد کسی فرقہ وارانہ جذبات کو ہوا دینا نہیں، بلکہ عدل کے ساتھ تاریخی حقیقت کو واضح کرنا ہے: نہ تکفیرِ یزید، نہ تطہیرِ یزید؛ بلکہ ظلم سے براءت، اہلِ بیت سے محبت، اور اہلِ سنت کا متوازن تحقیقی موقف۔

یزید نہ صحابی تھا نہ خلیفۂ راشد، اور نہ محض حکومت اس کی فضیلت ہے

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فلا يجوز أن يغلى لا في يزيد ولا غيره، بل لا يجوز أن يتكلم في أحد إلا بعلم وعدل. ومن قال: إنه إمام ابن إمام، فإن أراد بذلك أنه تولى الخلافة كما تولاها سائر خلفاء بني أمية والعباس فهذا صحيح، لكن ليس في ذلك ما يوجب مدحه وتعظيمه، والثناء عليه وتقديمه، فليس كل من تولى أنه كان من الخلفاء الراشدين والأئمة المهديين، فمجرد الولاية على الناس لا يمدح بها الإنسان ولا يستحق على ذلك الثواب، وإنما يمدح ويثاب على ما يفعله من العدل والصدق، والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، والجهاد وإقامة الحدود، كما يذم ويعاقب على ما يفعله من الظلم والكذب والأمر بالمنكر والنهي عن المعروف وتعطيل الحدود، وتضييع الحقوق، وتعطيل الجهاد.

پس یزید یا کسی اور کے بارے میں غلو کرنا جائز نہیں، بلکہ کسی بھی شخص کے بارے میں علم اور عدل کے بغیر گفتگو کرنا جائز نہیں۔

اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ یزید “امام ابنِ امام” تھا، اگر اس کی مراد یہ ہے کہ وہ بھی اسی طرح حکومت کا والی بنا جس طرح بنو امیہ اور بنو عباس کے دوسرے خلفاء والی بنے، تو یہ بات درست ہے۔ لیکن اس میں ایسی کوئی بات نہیں جو اس کی مدح، تعظیم، تعریف یا اسے دوسروں پر مقدم کرنے کو لازم کر دے۔

ہر وہ شخص جو لوگوں پر حاکم بن جائے، لازم نہیں کہ وہ خلفائے راشدین اور ہدایت یافتہ ائمہ میں سے ہو۔ محض لوگوں پر ولایت اور حکومت حاصل ہو جانا کسی انسان کی مدح کا سبب نہیں بنتا، نہ ہی وہ صرف اس بنا پر ثواب کا مستحق ہوتا ہے۔

انسان کی تعریف اور ثواب کا مدار اس کے عدل، سچائی، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، جہاد اور حدود کے قیام پر ہے۔ اسی طرح انسان کی مذمت اور سزا کا سبب اس کا ظلم، جھوٹ، برائی کا حکم دینا، نیکی سے روکنا، حدود کو معطل کرنا، حقوق ضائع کرنا، اور جہاد کو ترک کرنا ہے۔

[جامع المسائل – ابن تيمية – ط عطاءات العلم:5/149]

ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول: وہ صرف بادشاہ تھا

والقول الثالث: أنه كان ملكا من ملوك المسلمين له حسنات وسيئات ولم يولد إلا في خلافة عثمان ولم يكن كافرا؛ ولكن جرى بسببه ما جرى من مصرع ” الحسين ” وفعل ما فعل بأهل الحرة ولم يكن صاحبا ولا من أولياء الله الصالحين

تیسرا قول یہ ہے کہ یزید مسلمانوں کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا، اس کی نیکیاں بھی تھیں اور برائیاں بھی۔ وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت ہی میں پیدا ہوا، کافر نہیں تھا، لیکن اس کے سبب سے حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا، اور اس نے اہلِ حرہ کے ساتھ جو کچھ کیا وہ کیا۔ وہ نہ صحابی تھا اور نہ اللہ کے صالح اولیاء میں سے تھا۔ [مجموع الفتاوى:4/483]

یزید پر حافظ ذہبی رحمہ اللہ کی جرح

حافظ ذہبی نے یزید بن معاویہ کے ترجمہ میں لکھا: [كان قويا، شجاعا، ذا رأي، وحزم، وفطنة، وفصاحة، وله شعر جيد، وكان ناصبيا، فظا، غليظا، جلفا،]

وہ طاقت ور، بہادر، صاحبِ رائے، پختہ تدبیر والا، سمجھ دار اور فصیح اللسان تھا، اور اس کا شعر بھی اچھا تھا، لیکن وہ ناصبی، سخت مزاج، درشت خو اور اجڈ تھا۔

[سير أعلام النبلاء – ط الرسالة(شمس الدين الذهبي):4/37]

امام صنعانی رحمہ اللہ نے ذہبی رحمہ اللہ کا قول نقل کیا:

أما قول الإمام الذهبي في سيره عن يزيد بأنه ممن لا نسبه ولا نحبه وأنه كان ناصبيًّا فظًّا غليظًا جلفًا…

رہا امام ذہبی کا اپنی سیر میں یزید کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جنہیں ہم گالی نہیں دیتے اور نہ ان سے محبت کرتے ہیں، اور یہ کہ وہ ناصبی، سخت مزاج، درشت، اجڈ تھا۔ [التنوير شرح الجامع الصغير(الصنعاني):1/100]

یزید کے دورِ حکومت میں شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ اور حکومتی ذمہ داری

حافظ ذہبی رحمہ اللہ یزید کے دورِ حکومت کی سنگینی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

افتتح دولته بمقتل الشهيد الحسين، واختتمها بواقعة الحرة، فمقته الناس، ولم يبارك في عمره.

اس نے اپنی حکومت کا آغاز شہید حسین رضی اللہ عنہ کے قتل سے کیا، اور اس کا اختتام واقعۂ حرہ پر ہوا، اس لیے لوگ اس سے بغض رکھنے لگے، اور اس کی عمر میں برکت نہ دی گئی۔ [سير أعلام النبلاء – ط الرسالة(شمس الدين الذهبي):4/38]

نوٹ: اس قول سے واضح ہوتا ہے کہ یزید کا عہدِ حکومت اہلِ علم کے نزدیک قابلِ فخر یا قابلِ دفاع دور نہیں تھا، بلکہ اس کے آغاز ہی میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت جیسا عظیم سانحہ پیش آیا اور آخر میں واقعۂ حرہ جیسا دردناک واقعہ رونما ہوا۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

أن يزيد لم يظهر الرضا بقتل الحسين وأنه أظهر الألم لقتله. والله أعلم بسريرته. وقد علم أنه لم يأمر بقتله ابتداء لكنه مع ذلك ما انتقم من قاتليه ولا عاقبهم على ما فعلوا؛ إذ كانوا قتلوه لحفظ ملكه الذي كان يخاف عليه من الحسين وأهل البيت. رضي الله عنهم أجمعين.

یزید نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر رضا مندی ظاہر نہیں کی، بلکہ ان کے قتل پر رنج و الم کا اظہار کیا، اور اللہ تعالیٰ اس کے دل کے حال کو زیادہ جانتا ہے۔

یہ بات معلوم ہے کہ یزید نے ابتدا میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم نہیں دیا تھا، لیکن اس کے باوجود اس نے آپ کے قاتلوں سے انتقام نہیں لیا، نہ ہی انہیں ان کے کیے کی سزا دی؛ کیونکہ انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اس کی بادشاہت بچانے کے لیے قتل کیا تھا، جس کے بارے میں اسے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے خطرہ محسوس ہوتا تھا۔

[مجموع الفتاوى:27/480]

خلاصہ:

ان اقوال سے معلوم ہوا کہ اہلِ سنت کا معتدل موقف یہ ہے کہ یزید کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا مباشر قاتل یا قطعی آمرِ قتل کہنا ثابت نہیں، لیکن اسے اس سانحے سے بری الذمہ قرار دینا بھی درست نہیں؛ کیونکہ اس کے دورِ حکومت میں یہ عظیم سانحہ پیش آیا، قاتلانِ حسین اس کی حکومت بچانے کے لیے اس جرم کے مرتکب ہوئے، اور یزید نے نہ ان سے قصاص لیا، نہ انہیں سزا دی۔ لہٰذا یزید کا دفاع، اس کی تطہیر، یا اس کے دورِ حکومت کو قابلِ فخر بنا کر پیش کرنا اہلِ علم کے اقوال کے خلاف ہے۔

ابن زیاد سے قبل کوفہ کی گورنری:

امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

قال عبد الرحمن بن مبارك: عن خالد بن عبد الله، عن مغيرة، عن الشعبي، قال: كان معاوية بن أبي سفيان بعث النعمان بن بشير أميرا على الكوفة، فكان عليها سبعة أشهر.

امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا امیر بنا کر بھیجا، چنانچہ وہ سات ماہ تک کوفہ کے امیر رہے۔

[التاريخ الكبير للبخاري بحواشي محمود خليل:8/75 الرقم:2223]

اس اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ عبید اللہ بن زیاد سے پہلے کوفہ کی گورنری سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس تھی۔ بعد میں جب کوفہ میں مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی آمد اور اہلِ کوفہ کی بیعت کا معاملہ سامنے آیا تو نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو ہٹا کر عبید اللہ بن زیاد کو کوفہ کا والی بنایا گیا۔

یزید بن معاویہ قتلِ حسین رضی اللہ عنہ کے جرم سے مکمل طور پر بری الذمہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس نے مسلم بن عقیل کے معاملے میں نرم رویہ رکھنے والے صحابی سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو معزول کر کے عبید اللہ بن زیاد جیسے سخت گیر، جابر اور ظالم شخص کو کوفہ کا گورنر بنایا، پھر واقعۂ کربلا کے بعد بھی اس سے قصاص نہیں لیا۔

یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ/رحمہ اللہ کے کوفہ پہنچنے کے وقت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کوفہ کے امیر تھے، پھر یزید نے انہیں ہٹا کر عبید اللہ بن زیاد کو بصرہ کے ساتھ کوفہ کا بھی والی بنا دیا۔ ابن کثیر نے لکھا:[وبلغ ذلك النعمان بن بشير، وهو أمير الكوفة]یعنی یہ خبر نعمان بن بشیر کو پہنچی، اور وہ اس وقت کوفہ کے امیر تھے۔ پھر طبری کی روایت میں ہے کہ یزید نے عبید اللہ بن زیاد کو کوفہ کی ولایت بھی دے دی۔

سوال: مباشر قاتل کون تھے؟

جواب: مباشر قاتل وہ لوگ تھے جنہوں نے میدانِ کربلا میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو گھیر کر آپ کے قتل میں براہِ راست حصہ لیا؛ جیسے عمر بن سعد کے لشکر کے افراد، شمر بن ذی الجوشن، سنان بن انس، خولی بن یزید وغیرہ۔ ان پر براہِ راست قتل کا جرم ہے۔

البتہ عبید اللہ بن زیاد بھی قاتلانِ حسین میں شامل ہے، اگرچہ وہ میدانِ کربلا میں اپنے ہاتھ سے تلوار چلانے والا مباشر قاتل نہیں تھا؛ کیونکہ وہ اس قتل کا اصل حکومتی آمر، منصوبہ ساز، لشکر بھیجنے والا اور ذمہ دار تھا۔ اس نے عمر بن سعد کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف روانہ کیا، قتال کا انتظام کیا، اور قتل کے بعد قاتلوں کو سزا دینے کے بجائے اس ظلم کی سرپرستی کی۔ لہٰذا ابن زیاد کو قاتلانِ حسین میں آمر، منتظم اور اصل حکومتی ذمہ دار کی حیثیت سے شامل کیا جائے گا۔

 سوال: سیاسی/انتظامی ذمہ دار کون تھا؟

جواب: یہ ذمہ داری یزید پر آتی ہے، کیونکہ:

اس نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ جیسے صحابی کو ہٹا کر عبید اللہ بن زیاد کو مقرر کیا۔ عبید اللہ بن زیاد نے مسلم بن عقیل کو قتل کیا، کوفہ کو دبایا، اور پھر حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف لشکر بھیجا۔ یزید نے واقعہ کے بعد عبید اللہ بن زیاد کو نہ قتل کیا، نہ فوراً قصاص لیا، نہ اسے ایسی سزا دی جو اس جرم کے برابر ہوتی۔

بعد میں قاتلانِ حسین رضی اللہ عنہ سے بدلہ مختار ثقفی کے زمانے میں لیا گیا، یزید کے حکم سے نہیں۔ ابن کثیر نے عبیداللہ بن زیاد اور عمر بن سعد کے قتل کے واقعات مختار کے دور میں ذکر کیے ہیں۔

یزید مباشر قاتل نہیں، مگر قتلِ حسین کی ذمہ داری سے بری نہیں

اس اصول کی روشنی میں یزید بن معاویہ کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا مباشر قاتل تو نہیں کہا جائے گا، کیونکہ مباشر قتل ابن زیاد کے بھیجے ہوئے لشکر کے افراد نے کیا؛ اور اہلِ علم کے نزدیک یزید سے ابتدا میں صریح حکمِ قتل ثابت نہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قاتل یزید کی حکومت بچانے کے لیے اس جرم کے مرتکب ہوئے، اور یزید نے بعد میں نہ ان قاتلوں سے قصاص لیا، نہ ابن زیاد اور عمر بن سعد جیسے ذمہ داروں کو سزا دی، نہ مقتول کے خون کا شرعی حق ادا کیا۔

لہٰذا یزید اس عظیم ظلم کی سیاسی، حکومتی، انتظامی اور اخلاقی ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتا۔ اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ قتلِ حسین کے خون میں معنوی طور پر شریک اور ذمہ دار ہے؛ یعنی وہ مباشر قاتل نہیں، مگر قاتلانِ حسین کو سزا نہ دینے، ان کا محاسبہ نہ کرنے، اور اس خونِ ناحق کے شرعی تقاضے پورے نہ کرنے کی وجہ سے اس جرم کے وبال سے محفوظ نہیں رہتا۔

اگر کسی حاکم کے سامنے قتلِ ناحق ثابت ہو جائے، قاتل معلوم ہو، قصاص کی شرائط پوری ہوں، اور پھر بھی وہ جان بوجھ کر قصاص نہ لے یا قاتل کو بچائے، تو یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ اس پر کئی پہلوؤں سے گرفت آتی ہے:

[1] حکمِ الٰہی کو چھوڑنے کا گناہ

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَ لَکُمۡ فِی الۡقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ]

اور اے عقل والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔
[البقرة: 179]

(یعنی) قصاص محض انتقام نہیں، بلکہ معاشرے میں جانوں کی حفاظت کا شرعی نظام ہے۔ حاکم اگر قدرت کے باوجود اسے معطل کرے تو وہ اللہ کے قائم کردہ عدل کو ضائع کرتا ہے۔

[2] قاتل کی مدد اور ظلم کی پشت پناہی

اگر حاکم قاتل کو بچاتا ہے، عہدہ دیتا ہے، سزا نہیں دیتا، یا اس کے جرم پر پردہ ڈالتا ہے، تو یہ ظالم کی اعانت ہے۔ قرآن میں حکم ہے:

[وَ لَا تَرۡکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ]
اور ان لوگوں کی طرف مائل نہ ہونا جنھوں نے ظلم کیا، ورنہ تمھیں آگ آلپٹے گی۔
[هود: 113]

[3] مقتول کے خون کو ضائع کرنے کا گناہ

قتلِ ناحق بہت بڑا جرم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَ مَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِوَلِیِّہٖ سُلۡطٰنًا]

اور جو شخص مظلوم قتل کیا جائے، ہم نے اس کے ولی کو اختیار دیا ہے۔
[الإسراء: 33]

[4] عدل نہ کرنے کا گناہ

اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: [اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ]

بے شک اللہ عدل کا حکم دیتا ہے۔
[النحل: 90]

اور فرمایا: [اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُکُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا ۙ وَ اِذَا حَکَمۡتُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡکُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ]

بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں کو ادا کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو
[النساء: 58]

[5] رعایا کے بارے میں خیانت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

[ما من عبد يسترعيه الله رعية، يموت يوم يموت وهو غاش لرعيته، إلا حرم الله عليه الجنة]
جسے اللہ کسی رعایا کا نگران بنائے، پھر وہ اس حال میں مرے کہ اپنی رعایا سے خیانت کرنے والا ہو، تو اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔
[صحيح البخاري: 7150، صحيح مسلم: 142]

قتلِ ناحق کے مجرم کو سزا نہ دینا رعایا کے امن، خون اور حقوق کے ساتھ خیانت ہے۔

[6] حدود و قصاص میں سفارش یا رعایت کا گناہ

نبی ﷺ نے فرمایا:

[إنما أهلك الذين قبلكم أنهم كانوا إذا سرق فيهم الشريف تركوه، وإذا سرق فيهم الضعيف أقاموا عليه الحد] تم سے پہلے لوگوں کو اسی چیز نے ہلاک کیا کہ جب ان میں کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے، اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے۔
[صحيح البخاري: 3475، صحيح مسلم: 1688]

یہ حدیث اگرچہ چوری کی حد کے بارے میں ہے، لیکن اصول واضح ہے: قانون طاقتور کے لیے الگ اور کمزور کے لیے الگ نہیں ہو سکتا۔

نتیجہ

اگر حاکم کے پاس قدرت ہو، جرم ثابت ہو، قاتل معلوم ہو، اور قصاص کی شرعی رکاوٹ نہ ہو، پھر بھی وہ قاتل سے قصاص نہ لے، تو وہ:

ظالم ہے، خائن ہے، اللہ کے حکم کو ضائع کرنے والا ہے، مقتول کے خون کو پامال کرنے والا ہے، اور قاتل کی پشت پناہی کرنے والا ہے۔

یزید کے معاملے پر یہی اصول لگے گا کہ اگر اس کے سامنے قاتلانِ حسین رضی اللہ عنہ معلوم تھے، اور اس کے باوجود اس نے قصاص نہیں لیا، بلکہ اصل ذمہ داروں کو سزا نہ دی، تو وہ اس ظلم کی سیاسی، انتظامی اور اخلاقی ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتا۔ البتہ فقہی طور پر “مباشر قاتل” اور “حاکم کی ذمہ داری” دونوں الگ الگ درجے ہیں۔

ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[وقد علم أنه لم يأمر بقتله ابتداء لكنه مع ذلك ما انتقم من قاتليه ولا عاقبهم على ما فعلوا؛ إذ كانوا قتلوه لحفظ ملكه الذي كان يخاف عليه من الحسين وأهل البيت.]

یہ بات معلوم ہے کہ یزید نے ابتدا میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم نہیں دیا تھا، لیکن اس کے باوجود اس نے آپ کے قاتلوں سے انتقام نہیں لیا، نہ ہی انہیں ان کے کیے کی سزا دی؛ کیونکہ انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اس کی بادشاہت بچانے کے لیے قتل کیا تھا، جس کے بارے میں اسے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے خطرہ محسوس ہوتا تھا۔

[مجموع الفتاوى:27/480]

بعض صحابہ کی بیعت یزید کی فضیلت کی دلیل نہیں

بعض لوگ یزید کے دفاع میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی بیعت کی تھی، لہٰذا یزید قابلِ مدح یا قابلِ دفاع ہے۔ یہ استدلال درست نہیں، اس کے چند دلائل درج ذیل ہیں:

① بیعت سیاسی معاملہ ہے، فضیلت کی سند نہیں

کسی شخص کی حکومت کو وقتی طور پر تسلیم کر لینا اس بات کی دلیل نہیں ہوتا کہ وہ شخص نیک، عادل، محبوب یا قابلِ دفاع بھی ہے۔ تاریخ میں بہت سے حکمران ایسے گزرے جن کی حکومت کو لوگوں نے فتنہ و خون ریزی سے بچنے کے لیے برداشت کیا، مگر اس سے ان کے ظلم، فسق یا غلطیوں کی تائید لازم نہیں آتی۔

اطاعت صرف معروف میں ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [إنما الطاعة في المعروف]

اطاعت تو صرف نیکی کے کام میں ہے۔

[صحیح بخاری: 7257، صحیح مسلم: 1840]

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاکم کی اطاعت یا بیعت اس کے ہر کام کی تائید نہیں۔ اگر حاکم ظلم کرے تو اس ظلم کو ظلم ہی کہا جائے گا، اگرچہ سیاسی طور پر اس کی حکومت کو مانا گیا ہو۔

ظالم حکمران پر صبر کا مطلب اس کی مدح نہیں

اہلِ سنت کے ہاں فتنہ و خون ریزی سے بچنے کے لیے ظالم حکمران کے خلاف خروج نہ کرنا ایک الگ مسئلہ ہے، اور اس حکمران کو نیک، عادل یا محبوب کہنا بالکل الگ مسئلہ ہے۔ خروج نہ کرنا ظلم کی تائید نہیں، بلکہ بڑے فساد سے بچنے کی حکمت ہو سکتی ہے۔

④ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا طرزِ عمل

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یزید کی بیعت کو توڑنے سے منع کیا، مگر یہ ان کے نزدیک یزید کی فضیلت یا اس کے تمام افعال کی تائید نہیں تھی؛ بلکہ ان کا مقصد فتنہ، عہد شکنی اور اجتماعی انتشار سے بچنا تھا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ جب اہلِ مدینہ نے یزید کی بیعت توڑی تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے گھر والوں کو جمع کر کے بیعت توڑنے سے منع کیا۔
[صحیح بخاری: 7111]

اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ بیعت توڑ کر فتنہ کھڑا کرنے کو درست نہیں سمجھتے تھے، یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ یزید کے مظالم یا اس کے دور کے سانحات کو قابلِ دفاع سمجھتے تھے۔

⑤ بیعت کے باوجود ظلم ظلم ہی رہتا ہے

اگر بیعت کسی حاکم کی فضیلت کی دلیل ہوتی تو پھر ہر وہ حاکم جس کی بیعت ہوئی، لازماً قابلِ مدح ہو جاتا، حالانکہ یہ باطل ہے۔ حاکم کی قدر اس کے عدل، تقویٰ، امانت، حق کے قیام اور رعایا کے حقوق سے ہوتی ہے، محض اقتدار یا بیعت سے نہیں۔

یزید کے دور کے سانحات بیعت سے ختم نہیں ہوتے

یزید کے دور میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت، قاتلانِ حسین سے قصاص نہ لینا، واقعۂ حرہ، اور مکہ مکرمہ کا محاصرہ جیسے سنگین واقعات پیش آئے۔ چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیاسی بیعت کو بنیاد بنا کر ان سانحات کو نظر انداز کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔

نتیجہ:

لہٰذا بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بیعت کو یزید کی فضیلت، محبت، مدح یا دفاع کی دلیل بنانا درست نہیں۔ وہ بیعت سیاسی نظم، فتنہ سے بچاؤ، یا اجتماعی مصلحت کے تحت ہو سکتی تھی؛ مگر اس سے یزید کے ظلم، قاتلانِ حسین سے عدمِ قصاص، واقعۂ حرہ، یا مکہ مکرمہ کے محاصرے کی قباحت ختم نہیں ہوتی۔ اہلِ سنت کا منہج یہی ہے کہ نہ بے دلیل تکفیر کی جائے، نہ ظالم حکمران کی تطہیر؛ بلکہ حق کو حق، ظلم کو ظلم، اور قاتلانِ اہلِ بیت سے براءت کو لازم سمجھا جائے۔

جہادِ قسطنطنیہ کی بشارت اور یزید کی شمولیت؟

سوال:

قسطنطنیہ کے جہاد کے بارے میں کہ جو لوگ اس میں شامل ہوں گے اللہ کے نبی ﷺ نے انھیں جنت کی بشارت دی تھی۔ وہ حملہ کب کیا گیا؟ یزید بن امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس میں شامل تھے؟

الجواب:

صحیح بخاری :2924میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (أول جیش من أمتي يغزون مدينة قيصر مغفور لهم) میری امت میں سے (جو) پہلا لشکر، قیصر کے شہر (یعنی قسطنطنیہ) پر حملہ کرے گا، انھیں بخش دیا گیا ہے۔ اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ قسطنطنیہ پر کئی حملے ہوں گے اور پہلا حملہ اور لشکر اس پیش گوئی کا مصداق ہے۔ ہماری تحقیق میں قسطنطنیہ پر عہدِ صحابہ میں درج ذیل بڑے حملے

[1] سفیان بن عوف رضی اللہ عنہ کا حملہ۔ (الاصابہ ج 2ص 56) یہ حملہ 48ھ کے لگ بھگ ہوا۔

(محاضرات الامم الاسلامیہ ج 2ص 114)

[2] 32ھ میں معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا قسطنطنیہ پر حملہ۔ (البدایہ والنہایہ ج 7 ص 166)

[3] عبدالرحمن بن خالد بن الولید کا حملہ (سنن ابی داؤد: 2512 وسندہ صحیح)

عبدالرحمن بن خالد کی وفات 46ھ میں ہوئی۔ (البدایہ والنہایہ ج 8 ص 32)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں قسطنطنیہ پر صیفی (گرمیوں والے) اور شتائی (سردیوں والے) حملے شعبان 48ھ ربیع الثانی 52ھ تک تقریباً سولہ حملے ہوئے تھے۔ آخری حملے میں ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تھے۔ اس غزوے میں یزید بن معاویہ بن ابی سفیان موجود تھا۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یزید کا اول جیش میں موجود ہونا ثابت نہیں ہے لہذا وہ اس حدیث کے عموم میں شامل نہیں ہے۔

(مزید دیکھئے علمی مقالات (ج 1ص 305 تا 312)

یہ اقتباس شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب (فتاوی علمیہ المعروف توضيح الاحکام2/484) سے ماخوذ ہے۔

تبصرہ: 1

سنن ابی داؤد کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قسطنطنیہ کی طرف جانے والی ایک مہم یزید بن معاویہ کی معروف مہم سے پہلے بھی ہو چکی تھی۔ ابو عمران رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

[غزونا من المدينة نريد القسطنطينية، وعلى الجماعة عبد الرحمن بن خالد بن الوليد]

ہم مدینہ سے قسطنطنیہ کا ارادہ کر کے نکلے، اور اس جماعت کے امیر عبد الرحمن بن خالد بن ولید تھے۔ [سنن ابی داؤد: 2512]

اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ قسطنطنیہ کی طرف ایک لشکر عبد الرحمن بن خالد بن ولید کی امارت میں گیا تھا، جبکہ عبد الرحمن بن خالد بن ولید کی وفات یزید کی معروف قسطنطنیہ مہم سے پہلے ہو چکی تھی۔ لہٰذا یزید کو صحیح بخاری والی حدیث: [أول جيش من أمتي يغزون مدينة قيصر مغفور لهم] کا قطعی مصداق قرار دینا درست نہیں۔

زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یزید قسطنطنیہ کی ایک بعد والی مہم میں شریک تھا، لیکن یہ ثابت نہیں کہ وہ قیصر کے شہر پر حملہ کرنے والے سب سے پہلے لشکر میں شامل تھا۔ اس لیے حدیثِ قسطنطنیہ کو یزید کی قطعی فضیلت، مکمل مغفرت، یا اس کے بعد کے اعمال کی تطہیر کے لیے دلیل بنانا محلِ نظر ہے۔

تبصرہ:2

یزید بن معاویہ کو حدیثِ قسطنطنیہ کا قطعی مصداق بنا کر اس کی مغفرت یا فضیلت ثابت کرنا درست نہیں؛ البتہ بعض اہلِ علم نے تاریخی طور پر اسے اس پہلے لشکر کا امیر مان کر حدیث کے عموم میں داخل کہا ہے۔ مگر محققین نے واضح کیا ہے کہ حدیث کا عموم مشروط ہے، ہر فرد کے لیے قطعی مغفرت کی سند نہیں۔

اصل حدیث

صحیح بخاری میں ام حرام رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: [أول جيش من أمتي يغزون مدينة قيصر مغفور لهم]

میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر پر حملہ کرے گا، ان کی مغفرت کی جائے گی۔

سوال: کیا “مدینۃ قیصر” سے قسطنطنیہ مراد ہے؟

جواب: شارحین نے عام طور پر مدينة قيصر سے قسطنطنیہ مراد لیا ہے۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں لکھا:

[يعني القسطنطينية] (یعنی)اس سے مراد قسطنطنیہ ہے۔

اسی مقام پر مہلب کا قول نقل کیا:

[في هذا الحديث منقبة لمعاوية لأنه أول من غزا البحر، ومنقبة لولده يزيد لأنه أول من غزا مدينة قيصر]

اس حدیث میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے منقبت ہے کیونکہ وہ پہلے بحری غزوہ کے قائد تھے، اور ان کے بیٹے یزید کے لیے منقبت ہے کیونکہ اس نے سب سے پہلے مدینۃ قیصر پر غزوہ کیا۔

یہ وہ قول ہے جس سے یزید کے حق میں استدلال کیا جاتا ہے۔

ابن التین اور ابن المنیر نے اس پر تعاقب کیا، جس کا خلاصہ یہ ہے:

[أنه لا يلزم من دخوله في ذلك العموم أن لا يخرج بدليل خاص إذ لا يختلف أهل العلم أن قوله صلى الله عليه وسلم: مغفور لهم مشروط بأن يكونوا من أهل المغفرة حتى لو ارتد واحد ممن غزاها بعد ذلك لم يدخل في ذلك العموم اتفاقا فدل على أن المراد مغفور لمن وجد شرط المغفرة فيه منهم.]

اس کے اس عموم میں داخل ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ کسی خاص دلیل کی بنا پر وہ اس عموم سے خارج نہ ہو سکتا ہو۔ کیونکہ اہلِ علم کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ان کی مغفرت کر دی گئی ہے اس شرط کے ساتھ ہے کہ وہ مغفرت کے اہل ہوں۔

یہاں تک کہ اگر اس لشکر میں شریک ہونے والوں میں سے کوئی شخص بعد میں مرتد ہو جائے تو بالاتفاق وہ اس عموم میں داخل نہیں رہے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مراد یہ ہے کہ ان میں سے جس شخص میں مغفرت کی شرط پائی جائے، اسی کی مغفرت ہے۔

[فتح الباري بشرح البخاري – ط السلفية:6/102 الرقم:2923]

یزید کے بارے میں تین باتیں الگ الگ رکھنی چاہییں:

[1] حدیث صحیح ہے

یہ حدیث صحیح بخاری کی ہے، اس لیے حدیث کے ثبوت میں کلام نہیں۔

[2] یزید کا اس لشکر میں ہونا تاریخی طور پر مشہور ہے

بہت سے اہلِ علم نے لکھا کہ قسطنطنیہ پر پہلے لشکر کا امیر یزید تھا۔ اسی بنا پر بعض نے اسے حدیث کے عموم میں داخل مانا۔

[3] مگر اس سے یزید کی قطعی مغفرت یا عدالت ثابت نہیں ہوتی

کیونکہ مغفرت کا وعدہ شرائط کے ساتھ ہے۔ بعد کے کبیرہ جرائم، ظلم، قتلِ حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص نہ لینا، واقعۂ حرہ، اور مدینہ کی بے حرمتی جیسے امور کو نظر انداز کر کے یہ کہنا کہ “یزید ہر حال میں مغفور ہے” درست نہیں۔

ابن تیمیہ کا موقف بھی یہی توازن رکھتا ہے

ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے یزید کو نہ صحابی مانا، نہ اولیائے صالحین میں سے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ یزید نے قتلِ حسین رضی اللہ عنہ کا ابتدا میں حکم نہیں دیا، لیکن قاتلوں سے انتقام بھی نہیں لیا، کیونکہ انہوں نے حسین رضی اللہ عنہ کو اس کی حکومت بچانے کے لیے قتل کیا تھا۔ اس لیے ابن تیمیہ کے نزدیک بھی یزید کو بالکل پاک صاف ثابت کرنا درست نہیں۔

[مجموع الفتاوى:27/480]

تبصرہ:3

اگر بالفرض یزید بن معاویہ کو قسطنطنیہ والے پہلے لشکر میں شامل مان لیا جائے تو بھی اس سے اس کی قطعی مغفرت، عدالت یا بعد کے مظالم سے براءت ثابت نہیں ہوتی؛ کیونکہ یہ غزوہ واقعۂ کربلا سے پہلے تھا، جبکہ شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ 61ھ میں پیش آئی۔ سابقہ فضیلت بعد کے کبیرہ گناہوں، ظلم، قتلِ ناحق، قاتلوں کی پشت پناہی اور قصاص ترک کرنے کے لیے اجازت نامہ نہیں بن سکتی۔ جیسے حج، جہاد یا دیگر فضائل کے بعد اگر کوئی شخص ارتداد، قتل یا ظلم کا مرتکب ہو تو سابقہ فضیلت اسے ہر حال میں مغفور ثابت نہیں کرتی، اسی طرح حدیثِ قسطنطنیہ کو یزید کے لیے قطعی نجات یا تطہیر کی دلیل بنانا درست نہیں۔

کیونکہ:

[1] حج مبرور کی فضیلت

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: [العمرة إلى العمرة كفارة لما بينهما، والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة.]

ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزا جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ [صحیح البخاری:1773]

تنبیہ:

جیسے حج مبرور کی بشارت کسی شخص کو بعد کے ظلم اور گناہوں سے بری نہیں کر دیتی، اسی طرح حدیثِ قسطنطنیہ کی عمومی بشارت بھی یزید کے بعد کے مظالم کی تطہیر نہیں بن سکتی۔ اسی طرح رمضان، جہاد، نماز، صدقہ، عمرہ، حج، حتیٰ کہ بڑی بڑی فضیلت والے اعمال بھی گناہوں کی کھلی چھٹی نہیں دیتے۔

قرآن کا اصول واضح ہے:

[لَئِنۡ اَشۡرَکۡتَ لَیَحۡبَطَنَّ عَمَلُکَ وَ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ] بلاشبہ اگر تو نے شریک ٹھہرایا تو یقینا تیرا عمل ضرور ضائع ہو جائے گا اور تو ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سے ہو جائے گا۔ [الزمر: 65]

یہ آیت بتاتی ہے کہ سابقہ نیک اعمال بعد کے مانع اعمال سے ضائع یا بے اثر ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح قتلِ ناحق کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بہت سخت وعید فرمائی:

[وَ مَنۡ یَّقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیۡہَا]
اور جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے، جس میں ہمیشہ رہنے والا ہو۔ [النساء: 93]

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: [كل ذنب عسى الله أن يغفره، إلا الرجل يقتل المؤمن متعمدا، أو الرجل يموت كافرا.]

ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر گناہ معاف کر دے سوائے اس ( گناہ ) کے کہ آدمی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے ، یا وہ شخص جو کافر ہو کر مرے ۔

[سنن النسائی:3989]،[سنن ابی دا‎ؤد:4270]

خلاصہ یہ ہے:

کہ حدیثِ قسطنطنیہ کو کسی شخص کی مطلق مغفرت، مکمل تطہیر، یا بعد کے مظالم کے دفاع کے لیے پیش کرنا درست نہیں۔ قسطنطنیہ کی مہم کے ضمن ہی میں قتلِ ناحق کی سخت وعید وارد ہوئی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد، لشکر، غزوہ یا کسی عمومی فضیلت کا ذکر قتلِ ناحق جیسے عظیم جرم کو معمولی نہیں بناتا۔ سابقہ فضیلت اپنی جگہ ہے، اور خونِ ناحق کا جرم اپنی جگہ مستقل طور پر قابلِ گرفت ہے۔

اگر کوئی شخص کسی فضیلت والی مہم میں شریک بھی ہو، لیکن بعد میں کسی مومن کے ناحق قتل، اس قتل پر خوشی، قاتلوں کی حمایت، یا خونِ ناحق کے ضائع کرنے میں مبتلا ہو جائے، تو اس کے لیے قتلِ ناحق کی وعید باقی رہتی ہے۔ اسی لیے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں یہ اصولی بات نقل کی کہ حدیث کے عموم میں داخل ہونے سے ہر فرد کی قطعی اور غیر مشروط مغفرت لازم نہیں آتی؛ مغفرت اسی کے لیے ہے جو اہلِ مغفرت ہو۔ یعنی اگر کوئی شخص بعد میں ایسے اعمال کرے جو مغفرت کے مانع ہوں، تو وہ اس عمومی فضیلت کو اپنے لیے قطعی سند نہیں بنا سکتا۔

اب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تو عام مؤمن بھی نہیں، بلکہ صحابی، اہلِ بیت میں سے، جنتی نوجوانوں کے سردار، اور رسول اللہ ﷺ کے محبوب نواسے ہیں۔ لہٰذا آپ رضی اللہ عنہ کے قتل، قاتلوں کی پشت پناہی، قاتلوں سے قصاص نہ لینے، اور اس خونِ ناحق کے شرعی تقاضوں کو ضائع کرنے کو حدیثِ قسطنطنیہ کے عموم سے ڈھانپنا علمی طور پر کمزور اور غیر منصفانہ استدلال ہے۔

ایک اہم سوال: یہ کیا جاتا ہے کہ ممکن ہے یزید نے توبہ کر لی ہو؟

جواب یہ ہے کہ: محض “ممکن ہے” سے کسی تاریخی مجرم کی تطہیر نہیں کی جا سکتی۔ توبہ ایک عظیم عمل ہے، لیکن کسی معین شخص کے بارے میں یہ کہنا کہ اس نے فلاں ظلم سے توبہ کر لی تھی، اس کے لیے صریح اور ثابت دلیل چاہیے۔ اگر ہر ظالم کے لیے صرف “ہو سکتا ہے اس نے توبہ کر لی ہو” کہہ کر اسے بری کیا جانے لگے تو پھر تاریخ کے بڑے بڑے ظالموں، قاتلوں اور فاسقوں کے بارے میں بھی یہی احتمال قائم کیا جا سکتا ہے، اور اس طرح ظلم و جرم کی مذمت کا دروازہ بند ہو جائے گا۔

اور دوسری بات: قرآن و سنت کی روشنی میں سچی توبہ کے بنیادی تقاضے یہ ہیں: گناہ چھوڑ دینا، دل سے نادم ہونا، دوبارہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرنا، اور اگر گناہ کا تعلق بندوں کے حقوق یا اجتماعی ظلم سے ہو تو اس کی اصلاح اور تلافی کرنا۔

گناہ چھوڑ دینا

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: [وَ لَمۡ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ]

اور انھوں نے جو کیا اس پر اصرار نہیں کرتے، جب کہ وہ جانتے ہوں۔

(یعنی)  اصرار کے معنی ہیں اڑ جانا اور بے پروائی سے گناہ کرتے جانا۔ نہ ان پر ندامت کا اظہار کرنا اور نہ توبہ کرنا۔ ورنہ اگر کسی شخص سے سچے دل سے توبہ کرنے کے بعد گناہ سرزد بھی ہو جاتا ہے تو اسے اصرار نہیں کہتے، جیسا کہ پچھلے فائدے میں گزرا ہے۔ [وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ] یعنی کسی کام کے گناہ ہونے کا علم ہونے پر اس پر اصرار نہیں کرتے۔[تفسیر:عبدالسلام بن محمد بھٹوی رحمہ اللہ]،[آل عمران:135]

استغفار/رجوع کرنا

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: [ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسۡتَغۡفَرُوۡا لِذُنُوۡبِہِمۡ]

تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں۔ [آل عمران:135]

دل سے نادم ہونا

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: [الندم توبة]

ندامت (شرمندگی) توبہ ہے۔ [سنن ابن ماجۃ:4252]

دوبارہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: [یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ تَوۡبَۃً نَّصُوۡحًا]

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی طرف توبہ کرو، خالص توبہ۔ [التحریم:8]

اگر گناہ کا تعلق بندوں کے حقوق یا اجتماعی ظلم سے ہو تو اس کی اصلاح اور تلافی بھی کی جائے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [فَمَنۡ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِ ظُلۡمِہٖ وَ اَصۡلَحَ فَاِنَّ اللّٰہَ یَتُوۡبُ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ]

پھر جو اپنے ظلم کے بعد توبہ کر لے اور اصلاح کرے تو یقینا اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا، بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ [المائدۃ:39]

لہٰذا اگر کسی حاکم کے دور میں خونِ ناحق بہایا گیا ہو، قاتل معلوم ہوں، اور اس کے باوجود قاتلوں سے قصاص نہ لیا جائے، مظلوم کے حق کو ضائع کیا جائے، اور ظلم کی اصلاح نہ کی جائے، تو محض یہ کہنا کافی نہیں کہ “ہو سکتا ہے اس نے توبہ کر لی ہو۔” یزید کا آخرت کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، لیکن دنیا میں اس کی توبہ کا دعویٰ صریح ثابت دلیل کے بغیر نہیں کیا جا سکتا، اور اس احتمال کو اس کے مظالم کی تطہیر، قاتلانِ حسین سے عدمِ قصاص کے دفاع، یا اس کے کردار کو پاک صاف ثابت کرنے کے لیے استعمال کرنا درست نہیں۔

واقعۂ حرہ

واقعۂ حرہ اور مکہ کے محاصرے کی بعض جزوی تفصیلات اسانید کے اعتبار سے مختلف درجے رکھتی ہیں، اس لیے یہاں صرف وہ اصل قدر ذکر کی جا رہی ہے جو معتبر تاریخی مصادر میں معروف ہے: یزید کے دور میں مدینہ پر لشکر کشی ہوئی، اہلِ مدینہ قتل ہوئے، شہرِ نبوی خوف میں مبتلا ہوا، پھر مکہ کا محاصرہ ہوا اور بیت اللہ کو نقصان پہنچا۔ ان واقعات کی سنگینی کے لیے یہی ثابت شدہ قدر کافی ہے، کیونکہ مکہ و مدینہ کی حرمت صحیح احادیث سے ثابت ہے۔

یزید بن معاویہ کے دورِ حکومت میں 63ھ میں اہلِ مدینہ اور یزیدی لشکر کے درمیان واقعۂ حرہ پیش آیا۔ صحیح بخاری کی متصل سند سے ثابت ہے کہ اہلِ مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت توڑ دی تھی۔

نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

[لما خلع أهل المدينة يزيد بن معاوية، جمع ابن عمر حشمه وولده]

جب اہلِ مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت توڑ دی تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے خادموں اور اولاد کو جمع کیا۔ [صحیح البخاری: 7111]

امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[وأما ابن عمر فقال: إذا اجتمع الناس بايعتُ، ثم بايع، وأما الحسين فسار إلى مكة، فوافَتْه بيعة أهل الكوفة، فسار إليهم بعد أن أرسل ابن عمه مسلم بن عَقِيل لأخذ البيعة، فظفر به عبيد الله بن زياد أميرها فقتله، وجهز الجيش إلى الحسين، فقُتِل في يوم عاشوراء سنة إحدى وستين. ثم إن أهل المدينة خَلَعوا يزيد في سنة ثلاث وستين، فجهَّز إليهم مسلم بن عقبة المُرِّي في جيش حافل، فقاتلهم فهزمهم، وقُتِل منهم خلق كثير من الصحابة وأبنائهم، ومِنْ أكابر التابعين وفضلاءهم، واستباحها ثلاثة أيام نَهْبًا وقتلًا، ثم بايع من بقي على أنهم عبيد ليزيد، ومن امتنع قتله.]

رہے ابن عمر رضی اللہ عنہما، تو انہوں نے کہا: جب لوگ متفق ہو جائیں گے تو میں بیعت کر لوں گا، پھر انہوں نے بیعت کر لی۔ اور رہے حسین رضی اللہ عنہ، تو وہ مکہ کی طرف چلے گئے۔ پھر اہلِ کوفہ کی بیعت آپ تک پہنچی، تو آپ ان کی طرف روانہ ہوئے، اس سے پہلے کہ آپ نے اپنے چچا زاد مسلم بن عقیل کو بیعت لینے کے لیے بھیجا تھا۔ پھر کوفہ کے امیر عبید اللہ بن زیاد نے مسلم بن عقیل پر قابو پا کر انہیں قتل کر دیا، اور حسین رضی اللہ عنہ کے مقابلے کے لیے لشکر تیار کیا، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ 61ھ میں عاشوراء کے دن شہید کر دیے گئے۔

پھر اہلِ مدینہ نے 63ھ میں یزید کو معزول کر دیا/اس کی بیعت توڑ دی، تو یزید نے مسلم بن عقبہ مُرّی کو ایک بڑے لشکر کے ساتھ ان کی طرف روانہ کیا۔ اس نے اہلِ مدینہ سے قتال کیا، انہیں شکست دی، اور ان میں سے بہت سے صحابہ، ان کی اولاد، اور اکابر و فضلاء تابعین قتل کیے گئے۔ پھر تین دن تک مدینہ کو لوٹ مار اور قتل کے لیے مباح کر دیا گیا۔ اس کے بعد جو لوگ باقی بچے ان سے اس شرط پر بیعت لی کہ وہ یزید کے غلام ہیں، اور جس نے انکار کیا اسے قتل کر دیا گیا۔

[لسان الميزان – ت أبي غدة (ابن حجر العسقلاني):8/506 الرقم:8594]

نوٹ: مدینہ کی لوٹ مار امام احمد رحمہ اللہ کے قول سے ثابت ہے، البتہ ‘تین دن اباحت’ والی تفصیل طبرانی وغیرہ میں تاریخی روایت کے طور پر منقول ہے، مگر اس کی سند صحیح متصل نہیں؛ اس لیے اسے قطعی صحیح سند کے طور پر پیش نہیں کیا جائے گا۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے یزید کے متعلق پوچھا گیا:

[أخبرني محمد بن علي، قال: ثنا مهنى، قال: سألت أحمد عن يزيد بن معاوية بن أبي سفيان، قال: هو فعل بالمدينة ما فعل؟ قلت: وما فعل؟ قال: قتل بالمدينة من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وفعل، قلت: وما فعل؟ قال: نهبها، قلت: فيذكر عنه الحديث؟ قال: لا يذكر عنه الحديث، ولا ينبغي لأحد أن يكتب عنه حديثا، قلت لأحمد: ومن كان معه بالمدينة حين فعل ما فعل؟ قال: أهل الشام؟ قلت له: وأهل مصر، قال: لا، إنما كان أهل مصر معهم في أمر عثمان رحمه الله]

راوی کہتے ہیں: میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: کیا وہی نہیں جس نے مدینہ کے ساتھ وہ کچھ کیا جو کیا؟ میں نے کہا: اس نے کیا کیا؟ فرمایا: اس نے مدینہ میں نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے لوگوں کو قتل کیا، اور جو کچھ کیا سو کیا۔ میں نے کہا: اور کیا کیا؟ فرمایا: اس نے مدینہ کو لوٹا۔ میں نے کہا: کیا اس سے حدیث روایت کی جائے؟ فرمایا: اس سے حدیث روایت نہ کی جائے، اور کسی کے لیے مناسب نہیں کہ اس سے حدیث لکھے۔ میں نے امام احمد سے کہا: جب اس نے مدینہ میں وہ کچھ کیا جو کیا، اس وقت اس کے ساتھ کون لوگ تھے؟ فرمایا: اہلِ شام۔ میں نے کہا: اور اہلِ مصر؟ فرمایا: نہیں، اہلِ مصر تو سیدنا عثمان رحمہ اللہ کے معاملے میں ان کے ساتھ تھے۔

[السنة لأبي بكر بن الخلال:الرقم 845]،[اضواء المصابیح تحقیق مشکاة المصابیح: ص271 بتحقیق حافظ زبیر علی زئی رحمه الله وسنده صحيح]

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[وأما الأمر الثاني: فإن أهل المدينة النبوية نقضوا بيعته وأخرجوا نوابه وأهله فبعث إليهم جيشا؛ وأمره إذا لم يطيعوه بعد ثلاث أن يدخلها بالسيف ويبيحها ثلاثا فصار عسكره في المدينة النبوية ثلاثا يقتلون وينهبون ويفتضون الفروج المحرمة.]

رہا دوسرا معاملہ، تو وہ یہ ہے کہ اہلِ مدینہ نبویہ نے یزید کی بیعت توڑ دی، اس کے نائبوں اور اہلِ خاندان کو مدینہ سے نکال دیا۔ اس پر یزید نے ان کی طرف لشکر بھیجا، اور اسے حکم دیا کہ اگر وہ تین دن کے بعد بھی اطاعت نہ کریں تو تلوار کے ذریعے مدینہ میں داخل ہو جائے اور اسے تین دن کے لیے مباح کر دے۔ چنانچہ اس کا لشکر مدینہ نبویہ میں تین دن رہا؛ وہ قتل کرتے، لوٹ مار کرتے اور حرام عصمتوں کو پامال کرتے رہے۔ [مجموع الفتاوى:3/412]

خلاصہ یہ ہے کہ:

واقعۂ حرہ یزید بن معاویہ کے دورِ حکومت کا ایک نہایت سنگین سانحہ تھا۔ صحیح بخاری سے اہلِ مدینہ کا یزید کی بیعت توڑنا ثابت ہے، امام ابن حجر رحمہ اللہ نے اس واقعے کی تفصیل میں اہلِ مدینہ پر لشکر کشی، قتل و غارت اور اکابر تابعین و فضلاء کے قتل کا ذکر کیا، اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے صراحتاً یزید کو مدینہ میں صحابہ کے قتل اور لوٹ مار سے متعلق قرار دیتے ہوئے اس سے حدیث روایت کرنے کو ناپسند کیا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یزید کا دور محض ایک معمولی سیاسی اختلاف کا دور نہیں تھا، بلکہ اس میں اہلِ بیت، اہلِ مدینہ اور حرمین کے حوالے سے ایسے بڑے سانحات پیش آئے جن کی وجہ سے اہلِ علم نے یزید کی مدح، محبت اور تطہیر کو درست نہیں سمجھا۔ لہٰذا واقعۂ حرہ یزید کے دفاع کو کمزور کرنے والی نہایت اہم تاریخی و علمی دلیل ہے۔

البتہ اہلِ سنت کا منہج یہ ہے کہ نہ اس کی معین تکفیر کی جائے، نہ اسے صالح، محبوب یا قابلِ دفاع شخصیت بنا کر پیش کیا جائے۔ اس کا آخرت کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، مگر دنیا میں اس کے دور کے ظلم کو ظلم کہنا، اہلِ مدینہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی سے براءت کرنا، اور اس واقعے کو معمولی بنا کر پیش نہ کرنا علمی دیانت کا تقاضا ہے۔

شہداءِ واقعۂ حرہ

واقعی حرہ کی سنگینی

سعید ابن المسیّب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[وقعت الفتنة الأولى يعني مقتل عثمان فلم تبق من أصحاب بدر أحدا ثم وقعت الفتنة الثانية يعني الحرة فلم تبق من أصحاب الحديبية أحدا ثم وقعت الثالثة فلم ترتفع وللناس طباخ]

پہلا فساد جب برپا ہوا یعنی عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا تو اس نے اصحاب بدر میں سے کسی کو باقی نہیں چھوڑا ۔ پھر جب دوسرا فساد برپا ہوا یعنی حرہ کا ، تو اس نے اصحاب حدیبیہ میں سے کسی کو باقی نہیں چھوڑا ۔ پھر تیسرا فساد برپا ہوا تو وہ اس وقت تک نہیں گیا جب تک لوگوں میں کچھ بھی خوبی یا عقل باقی تھی ۔ [صحیح البخاری:4024]

امام مالک رحمہ اللہ کا اثر:

ابن کثیر نے عبد اللہ بن وہب کے واسطے سے امام مالک رحمہ اللہ کا قول بھی نقل کیا: [وقال عبدُ الله بن وَهْبٍ، عن الإمام مالك: قُتِلَ يومَ الحَرَّة سبعمئة رجلٍ من حَمَلةِ القُرآن، حسبت أنه قال: وكان فيهم ثلاثة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، وذلك في خلافة يزيد]

عبد اللہ بن وہب نے امام مالک سے نقل کیا کہ واقعۂ حرہ کے دن قرآن کے حاملین میں سے سات سو آدمی قتل کیے گئے؛ میرا خیال ہے انہوں نے کہا: ان میں رسول اللہ ﷺ کے تین صحابہ بھی تھے، اور یہ یزید کی خلافت میں ہوا۔ [البداية والنهاية-ط دار ابن كثير:6/348]،[ دلائل النبوة – البيهقي:6/474]

حسن بصری رحمہ اللہ کا اثر:

[أخبرنا أبو الحسين أخبرنا عبد الله أخبرنا يعقوب حدثنا ابن عثمان أخبرنا عبد الله: هو ابن المبارك، أخبرنا جرير بن حازم قال: سمعت الحسن يقول: لما كان يوم الحرة قتل أهل المدينة حتى كاد لا ينفلت أحد. وكان فيمن قتل ابنا زينب ربيبة رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال جرير: وهما ابنا عبد الله بن زمعة بن الأسود]

حسن بصری رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا:جب واقعۂ حرہ کا دن پیش آیا تو اہلِ مدینہ کو قتل کیا گیا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ کوئی بھی بچ نہ سکے۔ اور جن لوگوں کو قتل کیا گیا، ان میں زینب، جو رسول اللہ ﷺ کی ربیبہ تھیں، کے دو بیٹے بھی شامل تھے۔

جریر کہتے ہیں: وہ دونوں عبد اللہ بن زمعہ بن اسود کے بیٹے تھے۔ [دلائل النبوة – البيهقي:6/474-475]

نوٹ: سند حسن بصری تک صحیح/قوی ہے۔

سیدنا عبداللہ بن زید رضي اللہ عنہ سے مروی ہے:

قال: لما كان زمن الحرة أتاه آت ، فقال له: إن ابن حنظلة يبايع الناس على الموت، فقال: لا أبايع على هذا أحدا بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم.

حرہ کی لڑائی کے زمانہ میں ایک صاحب ان کے پاس آئے اور کہا کہ عبداللہ بن حنظلہ لوگوں سے ( یزید کے خلاف ) موت پر بیعت لے رہے ہیں ۔ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد اب میں موت پر کسی سے بیعت نہیں کروں گا ۔ [صحیح البخاری:2959]

[تشریح و فوائد: مولانا داؤد راز رحمہ اللہ]

حدیث حاشیہ: حرہ کی لڑائی کی تفصیل یہ کہ ۶۳ھ میں حضرت عبداللہ بن حنظلہ اور کئی مدینہ والے یزید کو دیکھنے گئے۔
جبکہ وہ لوگوں سے اپنی خلافت کی بیعت لے رہا تھا۔
مدینہ کے اس وفد نے جائزہ لیا تو یزید کو خلافت کا نا اہل پایا۔
اور اس کی حرکات ناشائستہ سے بیزار ہو کر واپس مدینہ لوٹے اور حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کے ہاتھ پر بیعت خلافت کرلی۔
یزید کو جب خبر ہوئی تو اس نے مسلم بن عقبہ کو سردار بنا کر ایک بڑا لشکر مدینہ روانہ کردیا۔
جس نے اہل مدینہ پر بہت سے ظلم ڈھائے‘ سینکڑوں ہزاروں صحابہ وتابعین اور عوام و خواص‘ مردوں و عورتوں اور بچوں تک کو قتل کیا۔
یہ حادثہ حرہ نامی ایک میدان متصل مدینہ میں ہوا۔
اسی لئے اس کی طرف منسوب ہوا۔
عبداللہ بن زید کا مطلب یہ تھا کہ ہم تو خود رسول کریمﷺ کے دست حق پرست پر موت کی بیعت کرچکے ہیں۔
اب دوبارہ کسی اور کے ہاتھ پر اس کی تجدید کی ضرورت نہیں ہے۔
معلوم ہوا کہ موت پر بھی بیعت کی جاسکتی ہے۔
جس سے استقامت اور صبر مراد ہے۔

ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[ثم ولي ابنه أبو خالد يزيد بن معاوية ثلاث سنين وثلاثة أشهر. واضطربت الأمور، ونهض الحسين بن علي، رضي الله عنهما، إلى الكوفة، وقتل هنالك.وخالفه أهل المدينة، وكانت وقعة الحرة التي قتل فيها خيار الناس.]

پھر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے ابو خالد یزید بن معاویہ تین سال تین ماہ تک حکمران رہے۔ ان کے دور میں حالات بگڑ گئے؛ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کوفہ کی طرف روانہ ہوئے اور وہیں شہید کر دیے گئے۔ پھر اہلِ مدینہ نے یزید کی مخالفت کی، جس کے نتیجے میں واقعۂ حرہ پیش آیا، جس میں امت کے بہترین لوگ قتل ہوئے۔

[رسائل ابن حزم:162/2-163]

اسمائے شہدائے واقعۂ حرّہ

واقعۂ حرّہ میں اہلِ مدینہ کے متعدد صحابہ، تابعین اور اہلِ فضل شہید ہوئے۔ طوالت سے بچتے ہوئے یہاں صرف دس مشہور ناموں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

[1] محمد بن ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري:(صحابی)

[ولد في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، وبزق رسول الله صلى الله عليه وسلم في فيه، سكن المدينة، وقتل يوم الحرة سنة ثلاث وستين]

محمد بن ثابت بن قیس بن شماس انصاری رسول اللہ ﷺ کے عہد میں پیدا ہوئے، رسول اللہ ﷺ نے ان کے منہ میں لعابِ مبارک ڈالا، وہ مدینہ میں رہتے تھے، اور 63ھ میں واقعۂ حرہ کے دن قتل کیے گئے۔

[معرفة الصحابة لأبي نعيم:1/182]

[2] محمد بن عمرو بن حزم الأنصاري (تابعی)

[اختلف في كنيته، فقيل: أبو القاسم، وقيل: أبو سليمان، وقيل: أبو عبد الملك، ذكر فيمن أدرك النبي صلى الله عليه وسلم، ذكره البخاري، ويقال: إنه ولد في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم سنة عشر من الهجرة، وقتل يوم الحرة سنة ثلاث وستين]

محمد بن عمرو بن حزم انصاری کی کنیت میں اختلاف ہے؛ کہا گیا: ابو القاسم، اور کہا گیا: ابو سلیمان، اور کہا گیا: ابو عبد الملک۔ ان کا ذکر ان لوگوں میں کیا گیا ہے جنہوں نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا۔ امام بخاری نے بھی ان کا ذکر کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں 10ھ میں پیدا ہوئے، اور 63ھ میں واقعۂ حرہ کے دن قتل کیے گئے۔

[معرفة الصحابة لأبي نعيم:1/183]

[3] عبد الله بن زيد بن عاصم المازني الأنصاري الخزرجي:(صحابی)

[من بني النجار، شهد بدرا، وقتل يوم الحرة سنة ثلاث وستين يكنى أبا محمد]

عبد اللہ بن زید بن عاصم مازنی انصاری خزرجی، بنو نجار میں سے تھے۔ وہ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے، اور 63ھ میں واقعۂ حرہ کے دن شہید کیے گئے۔ ان کی کنیت ابو محمد تھی۔

[معرفة الصحابة لأبي نعيم:3/1655]

[4] معقل بن سنان الأشجعي:(صحابی)

[أبو سنان وقيل: أبو محمد، سكن الكوفة، وقتل يوم الحرة في ذي الحجة سنة ثلاث وستين وهو معقل بن سنان بن مطهر بن قينان بن سبيع بن بكر بن أشجع، شهد فتح مكة، روى عنه علقمة، ومسروق ، ونافع بن جبير، والحسن بن أبي الحسن، قتله مسلم بن عقبة صبرا]

معقل بن سنان اشجعی، ان کی کنیت ابو سنان تھی، اور کہا گیا ابو محمد۔ وہ کوفہ میں رہائش پذیر ہوئے، اور ذوالحجہ 63ھ میں واقعۂ حرہ کے دن قتل کیے گئے۔ ان کا نسب معقل بن سنان بن مطہر بن قینان بن سُبیع بن بکر بن اشجع ہے۔ انہوں نے فتح مکہ میں شرکت کی۔ ان سے علقمہ، مسروق، نافع بن جبیر، اور حسن بصری رحمہم اللہ نے روایت کی۔ انہیں مسلم بن عقبہ نے قید کی حالت میں قتل کیا۔

[معرفة الصحابة لأبي نعيم:5/2510]

[5] عبد الله بن حنظلة:(تابعی)

[وقتل عبد الله بن حنظلة يوم الحرة سنة ثلاث وستين، وكانت الأنصار قد بايعته يومئذ، وبايعت قريش عبد الله بن مطيع، وكان عثمان بن محمد ابن أبى سفيان قد أوفده إلى يزيد بن معاوية، فلما قدم على يزيد حباه وأعطاه، وكان عبد الله فاضلا في نفسه، فرأى منه ما لا يصلح. فلم ينتفع بما وهب له، فلما انصرف خلعه في جماعة أهل المدينة، فبعث إليه مسلم بن عقبة، فكانت الحرة.]

عبد اللہ بن حنظلہ 63ھ میں واقعۂ حرہ کے دن قتل کیے گئے۔ اس دن انصار نے ان کی بیعت کی تھی، جبکہ قریش نے عبد اللہ بن مطیع کی بیعت کی تھی۔

عثمان بن محمد بن ابی سفیان نے عبد اللہ بن حنظلہ کو یزید بن معاویہ کے پاس وفد کے طور پر بھیجا تھا۔ جب وہ یزید کے پاس پہنچے تو یزید نے انہیں عطیات اور تحائف دیے۔ عبد اللہ بن حنظلہ اپنی ذات میں نیک اور فاضل شخص تھے، انہوں نے یزید کے ہاں ایسی باتیں دیکھیں جو درست نہ تھیں؛ چنانچہ انہوں نے یزید کے دیے ہوئے مال سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔ جب وہ واپس آئے تو اہلِ مدینہ کی ایک جماعت کے ساتھ یزید کی بیعت توڑ دی۔ پھر یزید نے مسلم بن عقبہ کو ان کی طرف بھیجا، چنانچہ واقعۂ حرہ پیش آیا۔

[الاستيعاب في معرفة الأصحاب – ت البجاوي:3/893-894 الرقم:1517]

تعارف:
عبد اللہ بن حنظلہ تابعی ہیں، صحابیِ رسول سیدنا حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔ واقعۂ حرہ میں اہلِ مدینہ کے نمایاں قائد تھے اور اسی واقعہ میں شہید ہوئے۔

[6] عبد الله بن زيد بن عاصم بن كعب:(صحابی)

بنو مازن بن نجار سے تھے، ابنِ ام عمارہ کے نام سے معروف تھے۔ بدر میں شریک نہیں ہوئے۔ مسیلمہ کذاب کے قتل میں وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہوئے؛ وحشی نے نیزہ مارا اور عبد اللہ بن زید نے تلوار سے ضرب لگائی۔ یہی وضو والی مشہور حدیث کے راوی ہیں۔ واقعۂ حرہ 63ھ میں شہید ہوئے۔

حوالہ حدیثِ وضو: صحیح البخاری: 185، صحیح مسلم: 235.

[الاستيعاب في معرفة الأصحاب – ت البجاوي:3/913 الرقم:1540]

 [7] محمد بن أبي جهم بن حذيفة بن غنم العدوي:(تابعی)

[ولد على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم. وقتل يوم الحرة، وذلك سنة ثلاث وستين.]

محمد بن ابی جہم بن حذیفہ بن غنم عدوی، رسول اللہ ﷺ کے عہد میں پیدا ہوئے، اور واقعۂ حرہ 63ھ میں قتل کیے گئے۔

[الاستيعاب في معرفة الأصحاب – ت البجاوي:3/1368 الرقم2323]

تعارف:
یہ تابعی / مدرکِ عہدِ نبوی ہیں، کیونکہ عہدِ نبوی میں پیدا ہوئے مگر نبی ﷺ سے سماع یا روایت ثابت نہیں۔ واقعۂ حرہ میں قتل ہوئے۔

[8] محمد بن عمرو بن حزم الأنصاري:(تابعی)

[ولد في سنة عشر من الهجرة بنجران، وأبوه عامل لرسول الله صلى الله عليه وسلم.

وقيل: ولد قبل وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، بسنتين، سماه أبوه محمدا، وكناه أبا سليمان، وكتب بذلك إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكتب إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم: سمه محمدا، وكنه أبا عبد الملك. ففعل، فلا تكاد تجد في آل عمرو بن حزم مولودا يسمى محمدا إلا وكنيته أبو عبد الملك.

وكان محمد بن عمرو بن حزم فقيها، روى عنه جماعة من أهل المدينة، ويروى عن أبيه وغيره من الصحابة.

وروى عنه أيضا أنه قال: كنت أتكنى أبا القاسم عند أخوالى بنى ساعدة، فنهونى فحولت كنيتي إلى أبى عبد الملك.

قتل يوم الحرة، وهو ابن ثلاث وخمسين سنة، وكانت الحرة سنة ثلاث وستين. ويقال: إنه قتل يوم الحرة مع محمد بن عمرو بن حزم ثلاثة عشر رجلا من أهل بيته، يقال: إنه كان أشد الناس على عثمان المحمدون:

محمد بن أبى بكر، محمد بن أبي حذيفة، ومحمد بن عمرو بن حزم.]

محمد بن عمرو بن حزم انصاری 10ھ میں نجران میں پیدا ہوئے، اس وقت ان کے والد رسول اللہ ﷺ کے عامل تھے۔ ایک قول ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی وفات سے دو سال پہلے پیدا ہوئے۔ ان کے والد نے ان کا نام محمد اور کنیت ابو سلیمان رکھی، پھر رسول اللہ ﷺ کو لکھا، تو آپ ﷺ نے جواب دیا: اس کا نام محمد رکھو اور کنیت ابو عبد الملک رکھو؛ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔

محمد بن عمرو بن حزم فقیہ تھے، اہلِ مدینہ کی ایک جماعت نے ان سے روایت کی، اور وہ اپنے والد اور دیگر صحابہ سے روایت کرتے تھے۔ وہ واقعۂ حرہ 63ھ میں قتل ہوئے، اس وقت ان کی عمر 53 سال تھی۔ کہا جاتا ہے کہ واقعۂ حرہ میں ان کے ساتھ ان کے اہلِ بیت کے تیرہ آدمی بھی قتل ہوئے۔

[الاستيعاب في معرفة الأصحاب – ت البجاوي:3/1375 الرقم:2339]

یہ تابعی / مدرکِ عہدِ نبوی ہیں۔ عہدِ نبوی میں پیدا ہوئے، مگر نبی ﷺ سے سماع ثابت نہیں۔ فقیہِ مدینہ تھے، صحابہ سے روایت کرتے تھے، اور واقعۂ حرہ میں شہید ہوئے۔

[9] الحارث بن عبد الله بن كعب:(صحابی)

[ابن مالك بن عمرو بن عوف بن مبذول الأنصاري. شهد الحديبية وما بعدها، وقتل يوم الحرة، وقد ذكر أبو عمر أباه.]

حارث بن عبد اللہ بن کعب بن مالک بن عمرو بن عوف بن مبذول انصاری۔ انہوں نے حدیبیہ اور اس کے بعد کے غزوات/واقعات میں شرکت کی، اور واقعۂ حرہ کے دن قتل ہوئے۔ ابو عمر نے ان کے والد کا بھی ذکر کیا ہے۔

تعارف:
یہ صحابی ہیں، بیعتِ حدیبیہ میں شریک تھے۔ واقعۂ حرہ میں شہید ہوئے۔

[أسد الغابة في معرفة الصحابة – ت الرفاعي:1/492 الرقم:916]

[10] مُعَاذ بن الصِّمَّة:(صحابی)

[مُعَاذ بن الصِّمَّة بن عَمْرو بن الجَمُوح. شهد أُحداً وما بعدها، وقتل يوم الحَرَّة. وهو ابن أخي معاذ بن عمرو بن الجَمُوح الذي يأتي ذكره، إن شاء الله تعالى.]

معاذ بن الصمّہ بن عمرو بن جموح۔ انہوں نے غزوۂ احد اور اس کے بعد کے غزوات/واقعات میں شرکت کی، اور واقعۂ حرہ کے دن قتل ہوئے۔ یہ معاذ بن عمرو بن جموح کے بھتیجے ہیں، جن کا ذکر آگے آئے گا، ان شاء اللہ۔

تعارف:
یہ صحابی ہیں۔ غزوۂ احد میں شریک ہوئے اور واقعۂ حرہ میں شہید ہوئے۔

[أسد الغابة في معرفة الصحابة – ت الرفاعي:5/212 الرقم:4960]

خلاصہ یہ کہ:

واقعۂ حرّہ 63ھ اسلامی تاریخ کا ایک نہایت دردناک سانحہ تھا، جس میں اہلِ مدینہ کے متعدد صحابہ، تابعین، مدرکینِ عہدِ نبوی، فقہاء اور اہلِ فضل قتل ہوئے۔ یہ واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس سانحے کا نقصان صرف عام لوگوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ امت کے دینی، علمی اور معزز طبقات بھی اس کی زد میں آئے۔

مزيد تفصیل کے لئے مندرجہ ذیل کتب کا مطالعہ کریں:

[الإصابة في تمييز الصحابة (ابن حجر العسقلاني)]،[أسد الغابة في معرفة الصحابة – ت الرفاعي]،[الاستيعاب في معرفة الأصحاب – ت البجاوي]، [معرفة الصحابة لأبي نعيم]

عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف یزید کے دور کا پہلا مکی محاصرہ

واقعۂ حرّہ کے بعد یزیدی لشکر مدینہ سے مکہ کی طرف بڑھا، جہاں سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف کارروائی کی گئی اور مکہ کا محاصرہ ہوا۔ یہ محاصرہ یزید بن معاویہ کے دور میں پیش آیا، جبکہ بعد میں عبد الملک بن مروان کے زمانے میں حجاج بن یوسف کے ہاتھوں دوسرا محاصرہ ہوا جس میں سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[ثم أرسل جيشا إلى مكة المشرفة فحاصروا مكة وتوفي يزيد وهم محاصرون مكة وهذا من العدوان والظلم الذي فعل بأمره.]

پھر یزید نے مکہ مکرمہ کی طرف ایک لشکر بھیجا، چنانچہ انہوں نے مکہ کا محاصرہ کر لیا۔ یزید کی وفات اس حال میں ہوئی کہ وہ لوگ مکہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ یہ ان زیادتیوں اور ظلم میں سے ہے جو اس کے حکم سے کیا گیا۔

[مجموع الفتاوى:3/412]

ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[وحاصر ابن الزبير-رضى الله عنه- فى المسجد الحرام، واستخفّ بحرمة الكعبة والإسلام؛ فأماته الله في تلك الأيّام؛]

اور اس نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا مسجدِ حرام میں محاصرہ کیا، اور کعبہ اور اسلام کی حرمت کو ہلکا سمجھا؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہی دنوں اسے موت دے دی۔

[جمهرة أنساب العرب – ابن حزم: ص112]

حافظ ذہبی رحمہ اللہ

[افتتح دولته بمقتل الشهيد الحسين، واختتمها بواقعة الحرة، فمقته الناس، ولم يبارك في عمره.]

اس نے اپنی حکومت کا آغاز شہید حسین رضی اللہ عنہ کے قتل سے کیا، اور اس کا اختتام واقعۂ حرہ پر ہوا، اس لیے لوگ اس سے بغض رکھنے لگے، اور اس کی عمر میں برکت نہ دی گئی۔

[سير أعلام النبلاء – ط الرسالة(شمس الدين الذهبي):4/38]

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[ثم توجه إلى مكة لحرب ابن الزبير، فمات في الطريق، وعهد إلى الحُصَين بن نمير، فسار بالجيش إلى مكة، فحاصَرَ ابن الزبير، ونصبوا المَنْجَنيق على الكعبة فهوت أركانُها ثم احترقت،]

پھر مسلم بن عقبہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے جنگ کے لیے مکہ کی طرف متوجہ ہوا، مگر راستے میں مر گیا، اور اس نے حصین بن نمیر کو جانشین مقرر کیا۔ پھر حصین لشکر لے کر مکہ گیا، ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا، اور انہوں نے کعبہ پر منجنیق نصب کی، جس سے اس کے ارکان کمزور ہوئے، پھر وہ جل گیا۔

[لسان الميزان-ت أبي غدة(ابن حجر العسقلاني):8/506]