تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
2۔ مقتول کے وارثوں میں سے اگر کوئی ایک بھی قصاص معاف کر دے تو قصاص کا معاملہ ختم اور پھر باقی صورتوں میں ممکن صورت پر عمل ہو گا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کو قصاص لینے کے بجائے معاف کر دینا یا دیت لے لینا زیادہ پسند ہے۔
3۔ کافر کے بدلے مسلم کو قتل نہ کیا جائے [بخاري، كتاب الديات، باب لا يقتل المسلم بالكافر] یہ اس صورت میں ہے جبکہ کافر حربی ہو اور اگر ذمی ہو تو اس کا قصاص یا دیت یا عفو ضروری ہے۔
4۔ اگر باپ بیٹے کو قتل کر دے تو اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ [احمد بيهقي بسند صحيح، بلوغ الاماني جلد 16 ص 320]
5۔ آج کل جاہلی دستور نہیں رہا۔ غلامی کا دور بھی ختم ہو گیا۔ اب یہ صورت باقی ہے کہ اگر عورت مرد کو یا مرد عورت کو قتل کر دے تو پھر کیا ہونا چاہیے۔ شریعت اس بارے میں خاموش ہے اور یہ قاضی کی صوابدید پر ہو گا۔
6۔ جان کی دیت سو اونٹ ہے [نسائي، كتاب العقود والديات، عن عمرو بن جزم] یا ان کی قیمت کے برابر، یا جو کچھ اس وقت کی حکومت اس کے لگ بھگ مقرر کر دے۔
7۔ دیت عصبات (ددھیال) کے ذمہ ہے [بخاري، كتاب الديات باب جنين المراة، نيز مسلم، كتاب القسامة باب ديت الجنين] تفصیلی مسائل کے لیے کتب احادیث کی طرف رجوع کیا جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ لوگ مرد کو عورت کے بدلے قتل نہیں کرتے تھے جس پر «اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ» [5۔ المائدہ: 45] نازل ہوئی پس آزاد لوگ سب برابر ہیں جسن کے بدلے جان لی جائے گی خواہ قاتل مرد ہو خواہ عورت ہو اسی طرح مقتول خواہ مرد ہو خواہ عورت ہو جب کہ ایک آزاد انسان نے ایک آزاد انسان کو مار ڈالا ہے تو اسے بھی مار ڈالا جائے گا اسی طرح یہی حکم غلاموں اور لونڈیوں میں بھی جاری ہو گا اور جو کوئی جان لینے کے قصد سے دوسرے کو قتل کرے گا وہ قصاص میں قتل کیا جائے گا اور یہی حکم قتل کے علاوہ اور زخموں کا اور دوسرے اعضاء کی بربادی کا بھی ہے، امام مالک رحمتہ اللہ علیہ بھی اس آیت کو آیت [النفس بالنفس] سے منسوخ بتلاتے ہیں۔
لیکن جمہور کا مذہب ان بزرگوں کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں آزاد غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ غلام مال ہے اگر وہ خطا سے قتل ہو جائے تو دیت یعنی جرمانہ نہیں دینا پڑتا صرف اس کے مالک کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اور اسی طرح اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ کے نقصان پر بھی بدلے کا حکم نہیں۔ آیا مسلمان کافر کے بدلے قتل کیا جائے گا یا نہیں؟ اس بارے میں جمہور علماء امت کا مذہب تو یہ ہے کہ قتل نہ کیا جائے گا اور دلیل صحیح بخاری شریف کی یہ حدیث ہے کہ حدیث «لا یقتل مسلم بکافر» مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ [صحیح بخاری:111]
اس حدیث کے خلاف نہ تو کوئی صحیح حدیث ہے کہ کوئی ایسی تاویل ہو سکتی ہے جو اس کے خلاف ہو، لیکن تاہم صرف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ مسلمان کافر کے بدلے قتل کر دیا جائے۔
لیکن امام احمد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں ایک کے بدلے ایک ہی قتل کیا جائے زیادہ قتل نہ کیے جائیں۔ سیدنا معاذ ابن زبیر رضی اللہ عنہ عبدالملک بن مروان زہری ابن سیرین حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ سے بھی یہ قول مروی ہے، ابن المندر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی زیادہ صحیح ہے اور ایک جماعت کو ایک مقتول کے بدلے قتل کرنے کی کوئی دلیل نہیں اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے یہ ثابت ہے کہ وہ اس مسئلہ کو نہیں مانتے تھے پس جب صحابہ رضی اللہ عنہم میں اختلاف ہوا تو اب مسئلہ غور طلب ہو گیا۔
پھر فرماتا ہے کہ یہ اور بات ہے کہ کسی قاتل کو مقتول کا کوئی وارث کچھ حصہ معاف کر دے یعنی قتل کے بدلے وہ دیت قبول کر لے یا دیت بھی اپنے حصہ کی چھوڑ دے اور صاف معاف کر دے، اگر وہ دیت پر راضی ہو گیا ہے تو قاتل کو مشکل نہ ڈالے بلکہ اچھائی سے دیت وصول کرے اور قاتل کو بھی چاہیئے کہ بھلائی کے ساتھ اسے دیت ادا کر دے، حیل وحجت نہ کرے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس شخص کا کوئی مقتول یا مجروح ہو تو اسے تین باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے یا قصاص یعنی بدلہ لے لے یا درگزر کرے۔ معاف کر دے یا دیت یعنی جرمانہ لے لے اور اگر کچھ اور کرنا چاہے تو اسے روک دو ان میں سے ایک کر چکنے کے بعد بھی جو زیادتی کرے وہ ہمیشہ کے لیے جہنمی ہو جائے گا [سنن ابوداود:4496، قال الشيخ الألباني:ضعیف] دوسری حدیث میں ہے کہ جس نے دیت وصول کر لی پھر قاتل کو قتل کیا تو اب میں اس سے دیت بھی نہ لوں گا بلکہ اسے قتل کروں گا۔ [سنن ابوداود:4507، قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے عقلمندو قصاص میں نسل انسان کی بقاء ہے اس میں حکمت عظیمہ ہے گو بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک کے بدلے ایک قتل ہوا تو دو مرے لیکن دراصل اگر سوچو تو پتہ چلے گا کہ یہ سبب زندگی ہے، قاتل کو خود خیال ہو گا کہ میں اسے قتل نہ کروں ورنہ خود بھی قتل کر دیا جاؤں گا تو وہ اس فعل بد سے رک جائے گا تو دو آدمی قتل و خون سے بچ گئے۔
اگلی کتابوں میں بھی یہ بات تو بیان فرمائی تھی کہ آیت «القتل انفی للقتل» قتل قتل کو روک دیتا ہے لیکن قرآن پاک میں بہت ہی فصاحت و بلاغت کے ساتھ اس مضمون کو بیان کیا گیا۔ پھر فرمایا یہ تمہارے بچاؤ کا سبب ہے کہ ایک تو اللہ کی نافرمانی سے محفوظ رہو گے دوسرے نہ کوئی کسی کو قتل کرے گا نہ کہ وہ قتل کیا جائے گا زمین پر امن و امان سکون و سلام رہے گا، تقویٰ نیکیوں کے کرنے اور کل برائیوں کے چھوڑنے کا نام ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولكم في القصاص حياة}؛ أي: تنحقن بذلك الدماء وتنقمع به الأشقياء، لأن من عرف أنه مقتول إذا قتل لا يكاد يصدر منه القتل، وإذا رُئيَ القاتل مقتولاً انذعر بذلك غيره وانزجر، فلو كانت عقوبة القاتل غير القتل لم يحصل انكفاف الشر الذي يحصل بالقتل، وهكذا سائر الحدود الشرعية فيها من النكاية والانزجار ما يدل على حكمة الحكيم الغفار. ونكر الحياة لإفادة التعظيم والتكثير، ولما كان هذا الحكم لا يعرف حقيقته إلا أهل العقول الكاملة والألباب الثقيلة خصهم بالخطاب دون غيرهم، وهذا يدل على أن الله تعالى يحب من عباده أن يعملوا أفكارهم وعقولهم في تدبر ما في أحكامه من الحكم والمصالح الدالة على كماله وكمال حكمته وحمده وعدله ورحمته الواسعة، وأن من كان بهذه المثابة فقد استحقَّ المدح بأنه من ذوي الألباب الذين وجه إليهم الخطاب وناداهم رب الأرباب، وكفى بذلك فضلاً وشرفاً لقوم يعقلون.
وقوله: {لعلكم تتقون}؛ وذلك أن من عرف ربه، وعرف ما في دينه وشرعه من الأسرار العظيمة والحكم البديعة والآيات الرفيعة أوجب له ذلك أن ينقاد لأمر الله، ويعظم معاصيه فيتركها؛ فيستحق بذلك أن يكون من المتقين.