مضمون کے اہم نکات
عبد الملک کے حکم سے حجاج بن یوسف کا مکہ پر دوسرا محاصرہ
یزید کے دور میں ہونے والے پہلے مکی محاصرے کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ میں اپنی خلافت پر قائم رہے۔ بعد ازاں عبد الملک بن مروان کے دور میں حجاج بن یوسف کو ان کے خلاف بھیجا گیا، جس نے مکہ کا دوسرا محاصرہ کیا، اور اسی محاصرے کے نتیجے میں سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے۔
صحیح مسلم میں: حجاج “مُبِير” یعنی ہلاک کرنے والا
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے حجاج سے کہا:
[أما إن رسول الله ﷺ حدثنا: أن في ثقيف كذابا ومبيرا، فأما الكذاب فرأيناه، وأما المبير فلا إخالك إلا إياه.]
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتایا تھا کہ ثقیف میں ایک بڑا جھوٹا اور ایک بڑا ہلاک کرنے والا ہوگا۔ جھوٹے کو تو ہم دیکھ چکے، اور ہلاک کرنے والا مجھے تمہارے سوا کوئی نہیں لگتا۔
[صحیح مسلم: 2545]
حافظ ذہبی رحمہ اللہ
[وكان ظلوما، جبارا، ناصبيا، خبيثا، سفاكا للدماء]
وہ بڑا ظالم، جابر، ناصبی، خبیث اور خون بہانے والا تھا۔
[سير أعلام النبلاء – ط الرسالة:4/343]
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ
[وأما المبير، فهو الحجاج بن يوسف الثقفي، الذي قتل عبد الله بن الزبير، وكان ناصبيا، جبارا عنيدا،]
اور رہا مُبیر، تو اس سے مراد حجاج بن یوسف ثقفی ہے، جس نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کیا۔ وہ ناصبی، جابر اور سخت سرکش آدمی تھا۔
[البداية والنهاية – ط دار ابن كثير:ج17 ص19]
امام نووی رحمہ اللہ
[وبالمبير الحجاج بن يوسف والله أعلم]
اور “مُبیر” سے مراد حجاج بن یوسف ہے، واللہ اعلم۔
[شرح النووي على مسلم:ج16 ص100]
حجاج بن یوسف
امام ذھبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[أهلكه الله: في رمضان، سنة خمس وتسعين، كهلا. وكان ظلوما، جبارا، ناصبيا، خبيثا، سفاكا للدماء، وكان ذا شجاعة، وإقدام، ومكر، ودهاء، وفصاحة، وبلاغة، وتعظيم للقرآن. قد سقت من سوء سيرته في (تاريخي الكبير) ، وحصاره لابن الزبير بالكعبة، ورميه إياها بالمنجنيق، وإذلاله لأهل الحرمين، ثم ولايته على العراق والمشرق كله عشرين سنة، وحروب ابن الأشعث له، وتأخيره للصلوات إلى أن استأصله الله، فنسبه ولا نحبه، بل نبغضه في الله، فإن ذلك من أوثق عرى الإيمان.وله حسنات مغمورة في بحر ذنوبه، وأمره إلى الله، وله توحيد في الجملة، ونظراء من ظلمة الجبابرة والأمراء.]
اللہ نے اسے رمضان 95ھ میں ادھیڑ عمر میں ہلاک کیا۔
وہ بڑا ظالم، جابر، ناصبی، خبیث اور خون بہانے والا تھا۔ اس کے ساتھ اس میں شجاعت، پیش قدمی، مکر، چالاکی، فصاحت، بلاغت اور قرآن کی تعظیم بھی پائی جاتی تھی۔
میں نے اپنی تاریخِ کبیر میں اس کی بدسیرتی، کعبہ کے پاس ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا محاصرہ، کعبہ پر منجنیق سے پتھر برسانا، اہلِ حرمین کو ذلیل کرنا، پھر عراق اور پورے مشرق پر بیس سال تک اس کی حکومت، ابن اشعث کی اس سے جنگیں، اور نمازوں کو مؤخر کرنے کا ذکر بیان کیا ہے، یہاں تک کہ اللہ نے اسے ختم کر دیا۔
پس ہم اسے گالی نہیں دیتے، اور نہ اس سے محبت کرتے ہیں، بلکہ اللہ کے لیے اس سے بغض رکھتے ہیں؛ کیونکہ یہ ایمان کے مضبوط ترین بندھنوں میں سے ہے۔
اس کی کچھ نیکیاں بھی ہیں، مگر وہ اس کے گناہوں کے سمندر میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ اجمالی طور پر اس کے پاس توحید تھی، اور اس جیسے ظالم جابروں اور حکمرانوں کی مثالیں بھی موجود ہیں۔
[سير أعلام النبلاء – ط الرسالة:4/343]
علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[وكان الحجاج قد أذل أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وأهل المدينة خاصة، واحتج بأنهم لم ينصروا عثمان، وقتل الخلق الكثير يحتج عليهم بأنهم خرجوا على عبد الملك.]
حجاج نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اور خاص طور پر اہلِ مدینہ کو ذلیل کیا۔ وہ یہ دلیل پیش کرتا تھا کہ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مدد نہیں کی تھی۔ اس نے بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو قتل کیا، اور ان کے خلاف یہ دلیل بناتا تھا کہ وہ عبد الملک کے خلاف نکلے تھے۔
[المنتظم في تاريخ الملوك والأمم (ابن الجوزي):6/336]
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ
[وقد كان الحجاج من الملوك الجبارين الذين طغوا في البلاد، وقتل الجم الغفير من صدر هذه الأمة، ومع هذا فأمره إلى الله، فإنه لم يترف بغير الظلم وسفك الدماء، ولا يلتفت إلى قول الرافضة فيه من تكفيره، وتكفير مستنيبيه، بل هم من ملوك الإسلام، لهم ما لهم، وعليهم ما عليهم.]
حجاج ان جابر بادشاہوں میں سے تھا جنہوں نے ملکوں میں سرکشی کی، اور اس امت کے ابتدائی دور کے بہت بڑے گروہ کو قتل کیا۔ اس کے باوجود اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے؛ کیونکہ وہ ظلم اور خون ریزی کے بغیر مشہور نہیں ہوا۔
اور اس کے بارے میں رافضیوں کے اس قول کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا کہ وہ اسے اور اس کی طرف سے مقرر کردہ حکمرانوں کو کافر کہتے ہیں، بلکہ وہ مسلمانوں کے بادشاہوں میں سے تھے؛ ان کے لیے جو اعمال ہیں وہ ان کے لیے ہیں، اور جو برائیاں ہیں وہ ان پر ہیں۔
[مسند الفاروق لابن كثير ت إمام (ابن كثير):3/84]
خلاصہ یہ کہ:
حجاج بن یوسف کے بارے میں ائمہ اہلِ علم کا موقف نہایت سخت ہے۔ امام ذہبی، ابن الجوزی اور ابن کثیر رحمہم اللہ نے اسے ظالم، جابر، ناصبی، سفاک، خون بہانے والا اور اہلِ حرمین و صحابہ کو اذیت دینے والا قرار دیا ہے۔ اس نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا کعبہ کے پاس محاصرہ کیا، منجنیق استعمال کی، بہت سے لوگوں کو قتل کیا اور نمازوں میں تاخیر جیسے سنگین امور کا مرتکب ہوا۔ تاہم اہلِ سنت کا منہج یہ ہے کہ اسے اس کے ظلم و فسق کے باوجود معین طور پر کافر نہیں کہا جاتا، بلکہ اس کا معاملہ اللہ کے سپرد کیا جاتا ہے؛ نہ اس سے محبت کی جاتی ہے، نہ اس کا دفاع، بلکہ اس کے ظلم سے براءت رکھی جاتی ہے۔
حجاج بن یوسف کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ گستاخیاں اور زیادتیاں
[1] سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رضي اللہ عنہ کی گستاخی
[فقال ابن عمر: أنت أصبتني. قال: وكيف؟ قال: حملت السلاح في يوم لم يكن يحمل فيه، وأدخلت السلاح الحرم، ولم يكن السلاح يدخل الحرم.]
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حجاج سے فرمایا: تو نے مجھے زخمی کیا۔ حجاج نے کہا: کیسے؟ فرمایا: تو نے ایسے دن اسلحہ اٹھوایا جس دن اسلحہ نہیں اٹھایا جاتا تھا، اور تو نے حرم میں اسلحہ داخل کیا، حالانکہ حرم میں اسلحہ داخل نہیں کیا جاتا تھا۔
[2] سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی گستاخی
[فقال: كيف رأيتني صنعت بعدو الله]
تم نے مجھے دیکھا کہ میں نے اللہ کے دشمن کے ساتھ کیا کیا؟
[صحیح المسلم:2545]
[3] سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو نشان لگانا
[أزهر بن عبد الله قال: كنت في الخيل الذين سبوا أنس بن مالك… فوسم في يده: عتيق الحجاج.]
ازہر بن عبد اللہ کہتے ہیں: میں ان سواروں میں تھا جنہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو گرفتار کیا، پھر ان کے ہاتھ پر یہ نشان لگایا گیا: “حجاج کا آزاد کردہ۔
[تاريخ دمشق لابن عساكر:9/372]،[ سير أعلام النبلاء – ط الرسالة:3/404]
[4] بنت ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ (سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما) کی گستاخی
[ثم أرسل إلى أمه أسماء بنت أبي بكر ، فأبت أن تأتيه فأعاد عليها الرسول لتأتيني أو لأبعثن إليك من يسحبك بقرونك]
پھر اس نے (ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ) سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس کارندہ بھیجا۔ انہوں نے اس کے پاس جانے سے انکار کر دیا۔ اس نے دوبارہ قاصد بھیجا کہ یا تو تم میرے پاس آؤ گی یا پھر میں تمہارے پاس ان لوگوں کو بھیجوں گا جو تمہیں تمہارے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے آئیں گے۔
[صحیح المسلم:2545]
[5] حجاج کے ہاتھوں سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے جسد کی بے حرمتی
[فبلغ الحجاج موقف عبد الله وقوله ، فأرسل إليه ، فأنزل عن جذعه ، فألقي في قبور اليهود]
حجاج کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے وہاں کھڑے ہونے کی خبر پہنچی تو اس نے کارندے بھیجے، ان (کے جسد خاکی) کو کھجور کے تنے سے اتارا گیا اور انہیں جاہلی دور کی یہود کی قبروں میں پھینک دیا گیا۔
[صحیح المسلم:2545]
تنبیہ:
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے جسدِ مبارک کو سولی سے اتار کر یہودیوں کے قبرستان میں پھینکنے کا حکم حجاج بن یوسف ہی کی طرف سے تھا، کیونکہ روایت کے الفاظ ہیں: “فبلغ الحجاج… فأرسل إليه” یعنی یہ بات حجاج تک پہنچی تو اس نے آدمی بھیج کر یہ کارروائی کروائی۔
[6] سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی گستاخی
ثقہ وصدوق تابعی خالد بن سمیر کہتے ہیں:
[خطب الحجاج الفاسق على المنبر فقال: إن ابن الزبير حرف كتاب الله. فقال له ابن عمر: كذبت كذبت كذبت. ما يستطيع ذلك ولا أنت معه. فقال له الحجاج: اسكت فإنك شيخ قد خرفت وذهب عقلك. يوشك شيخ أن يؤخذ «فتضرب عنقه فيجر قد انتفخت خصيتاه يطوف به صبيان أهل البقيع.]
حجاج فاسق نے منبر پر خطبہ دیا اور کہا: ابن زبیر نے اللہ کی کتاب میں تحریف کی ہے۔ اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تو جھوٹ بولتا ہے، تو جھوٹ بولتا ہے، تو جھوٹ بولتا ہے! ابن زبیر ایسا نہیں کر سکتے، اور نہ تو ان کے ساتھ مل کر ایسا کر سکتا ہے۔حجاج نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا:
چپ ہو جاؤ، تم بوڑھے ہو چکے ہو، تمہاری عقل جاتی رہی ہے۔ قریب ہے کہ ایک بوڑھے کو پکڑا جائے، اس کی گردن اڑا دی جائے، پھر اسے گھسیٹا جائے، اس کے خصیے پھولے ہوئے ہوں، اور اہلِ بقیع کے بچے اس کے گرد گھوم رہے ہوں۔
[الطبقات الكبرى – ط العلمية:4/139-140 وسنده حسن]
[7] سیدنا سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کی گستاخی
[عن سلمة بن الأكوع، أنه دخل على الحجاج، فقال: يا ابن الأكوع، ارتددت على عقبيك تعربت؟، قال: لا، ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، أذن لي في البدو، وعن يزيد بن أبي عبيد، قال: لما قتل عثمان بن عفان، خرج سلمة بن الأكوع إلى الربذة، وتزوج هناك امرأة، وولدت له أولادا، فلم يزل بها حتى قبل أن يموت بليال، فنزل المدينة]
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ:وہ حجاج کے یہاں گئے تو اس نے کہا کہ اے ابن الاکوع ! تم گاؤں میں رہنے لگے ہو کیا الٹے پاؤں پھر گئے ؟ کہا کہ نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے جنگل میں رہنے کی اجازت دی تھی ۔ اور یزید بن ابی عبید سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ جب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے تو سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ ربذہ چلے گئے اور وہاں ایک عورت سے شادی کر لی اور وہاں ان کے بچے بھی پیدا ہوئے ۔ وہ برابر وہیں پر رہے ، یہاں تک کہ وفات سے چند دن پہلے مدینہ آ گئے تھے ۔
[صحیح البخاری:7087]
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4191 کی شرح از حافظ محمد امین
اردو حاشہ: (1) باب کے ساتھ حدیث کی مناسبت اس طرح بنتی ہے کہ ہجرت کرنے کے بعد بادیہ نشینی نبی ﷺ کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے۔
(2) یہ حدیث مبارکہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ کے صبر اور ان کی جرأت پر بھی دلالت کرتی ہے کہ انھوں نے جحاج کی بے ادبی پر صبر کیا، اور پھر اسے جواب بھی دیا۔ جحاج بنوامیہ کے دور کا ایک ظالم اور گستاخ گورنر تھا۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی سے اس کا انداز تخاطب اس کے تکبر اور گستاخی کی واضح دلیل ہے۔ اسے اقتدار کے نشے نے چھوٹے بڑے کی تمیز بھلا دی تھی۔ نتیجہ یہ ہے کہ کوئی بھی اسے اچھے لفظوں سے یاد نہیں کرتا بلکہ لعنت تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ بے ادبی انسان کی خوبیوں کو چھپا دیتی ہے۔
(3) بادیہ مراد صحرائی علاقہ ہے، یعنی آبادیوں سے باہر کھلے اور آزاد علاقے۔ ان میں رہنے والے کو بدوی یا اعرابی کہتے ہیں۔
(4) حجاج کا اعتراض فضول تھا۔ کوئی شخص کسی بھی جگہ رہائش اختیار رکھ سکتا ہے۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ کوئی مہاجر نہیں تھے کہ مدینہ چھوڑ کر اپنے سابقہ گھر چلے گئے ہوں اور ان پر اعتراض ہوسکے۔ بہت سے مہاجر صحابہ بھی مدینہ چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں آباد ہوگئے تھے۔ خیر انھوں نے تو نبی ﷺ سے اجازت بھی لے رکھی تھی اور پھر وہ فوت بھی مدینہ منورہ ہی ہوئے۔ رضي اللہ عنه وأرضاہ
[8] سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی گستاخی
[حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا أبو بكر، عن عاصم، قال: سمعت الحجاج وهو على المنبر، يقول: اتقوا الله ما استطعتم ليس فيها مثنوية، واسمعوا وأطيعوا ليس فيها مثنوية لأمير المؤمنين عبد الملك، والله لو أمرت الناس أن يخرجوا من باب من أبواب المسجد فخرجوا من باب آخر لحلت لي دماؤهم وأموالهم، والله لو أخذت ربيعة بمضر لكان ذلك لي من الله حلالا، ويا عذيري من عبد هذيل يزعم أن قراءته من عند الله والله ما هي إلا رجز من رجز الأعراب ما أنزلها الله على نبيه عليه السلام، وعذيري من هذه الحمراء يزعم أحدهم أنه يرمي بالحجر، فيقول إلى أن يقع الحجر: قد حدث أمر، فوالله لأدعنهم كالأمس الدابر، قال: فذكرته للأعمش، فقال: أنا والله سمعته منه]
عاصم کہتے ہیں کہ:میں نے حجاج کو منبر پر کہتے سنا: جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرو، اس میں کوئی شرط یا استثناء نہیں ہے، امیر المؤمنین عبدالملک کی بات سنو اور مانو، اس میں بھی کوئی شرط اور استثناء نہیں ہے، اللہ کی قسم، اگر میں نے لوگوں کو مسجد کے ایک دروازے سے نکلنے کا حکم دیا پھر وہ لوگ کسی دوسرے دروازے سے نکلے تو ان کے خون اور ان کے مال میرے لیے حلال ہو جائیں گے، اللہ کی قسم! اگر مضر کے قصور پر میں ربیعہ کو پکڑ لوں، تو یہ میرے لیے اللہ کی جانب سے حلال ہے، اور کون مجھے عبدہذیل (عبداللہ بن مسعود ہذلی) کے سلسلہ میں معذور سمجھے گا جو کہتے ہیں کہ ان کی قرآت اللہ کی طرف سے ہے قسم اللہ کی، وہ سوائے اعرابیوں کے رجز کے کچھ نہیں، اللہ نے اس قرآت کو اپنے نبی علیہ السلام پر نہیں نازل فرمایا، اور کون ان عجمیوں کے سلسلہ میں مجھے معذور سمجھے گا جن میں سے کوئی کہتا ہے کہ وہ پتھر پھینک رہا ہے، پھر کہتا ہے، دیکھو پتھر کہاں گرتا ہے؟ (فساد کی بات کہہ کر دیکھتا ہے کہ دیکھوں اس کا کہاں اثر ہوتا ہے) اور کچھ نئی بات پیش آئی ہے، اللہ کی قسم، میں انہیں اسی طرح نیست و نابود کر دوں گا، جیسے گزشتہ کل ختم ہو گیا (جو اب کبھی نہیں آنے والا)۔ عاصم کہتے ہیں: میں نے اس کا تذکرہ اعمش سے کیا تو وہ بولے: اللہ کی قسم میں نے بھی اسے، اس سے سنا ہے۔ [سنن ابی داؤد:4643 صحیح الاسناد عند شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ]
اس روایت سے چند باتیں ثابت ہوتی ہیں:
[1] حجاج کا انتہائی جبر و ظلم
وہ کہتا ہے کہ اگر میں لوگوں کو مسجد کے ایک دروازے سے نکلنے کا حکم دوں اور وہ دوسرے دروازے سے نکلیں تو ان کے خون اور مال میرے لیے حلال ہو جائیں گے۔ یہ اس کے ظلم، استبداد اور ناحق خون ریزی کے مزاج کو ظاہر کرتا ہے۔
[2] اجتماعی سزا کا باطل تصور
وہ کہتا ہے کہ اگر میں ربیعہ کو مضر کے بدلے پکڑ لوں تو یہ بھی میرے لیے اللہ کی طرف سے حلال ہو گا۔ یہ بھی اس کے جبر اور ظلم کی واضح دلیل ہے۔
[3] سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت کے بارے میں گستاخی
اس کے الفاظ:[يا عذيري من عبد هذيل…]
یہاں عبد هذيل سے مراد سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، کیونکہ وہ قبیلہ ہذیل سے تعلق رکھتے تھے۔ حجاج نے ان کی قراءت کے بارے میں کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے نہیں بلکہ اعراب کے رجز میں سے ہے۔ یہ نہایت سخت اور گستاخانہ کلام ہے۔
[4] عبد الملک بن مروان کی اطاعت میں غلو
وہ آیت [اتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ اور وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا] کو عبد الملک کی اطاعت پر چسپاں کر رہا ہے، اور اطاعت کو اس حد تک لے جا رہا ہے کہ معمولی مخالفت پر خون و مال حلال سمجھتا ہے۔
[9] سعید بن جبیر رحمہ اللہ تابعی
امام ابن کثیر رحمہ اللہ طبری کے حوالے سے لکھتے ہیں:
[قال ابن جرير: وفي هذه السنة قتل الحجاج بن يوسف سعيد بن جبير…]
ابن جریر نے کہا: اسی سال حجاج بن یوسف نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ کو قتل کیا۔
[البداية والنهاية – ط دار ابن كثير:9/268]
خلاصہ یہ کہ:
حجاج بن یوسف کے بارے میں صحیح اور معتبر روایات و آثار سے ثابت ہے کہ اس نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہلِ فضل کے ساتھ سخت بدزبانی، توہین، دھمکی، جسمانی اذیت، لاش کی بے حرمتی، حرم میں اسلحہ داخل کرنے، ناحق خون ریزی، حکمران کی اطاعت میں غلو اور اجتماعی سزا جیسے سنگین مظالم کیے۔ اسی بنا پر اہلِ علم نے اسے ظالم، جابر، سفاک اور گستاخ قرار دیا ہے؛ تاہم اہلِ سنت کے منہج کے مطابق اس کی معین تکفیر نہیں کی جاتی، بلکہ اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔
نوٹ: اس حصے کے آخری تین اقوال مولانا ارشد کمال حفظہ اللہ کے مضمون (حجاج بن یوسف الثقفی)سے ماخوذ ہیں۔ (نور الحدیث:شمارہ نومبر تا دسمبر 2020 ص 27تا59)
ایک اہم سوال: بعض الناس کہتے ہیں کے حجاج بن یوسف نے توبہ کر لی تھی؟
جواب: آئیے ہم تحقیقی انداز میں اس بات کو سمجھتے ہیں:
سند کی اہمیت
امام ابن سیرین رحمہ اللہ
[إن هذا العلم دين، فانظروا عمن تأخذون دينكم.]
یہ علم دین ہے، لہٰذا دیکھو کہ تم اپنا دین کس سے لے رہے ہو۔
(مقدمة صحيح مسلم، باب بيان أن الإسناد من الدين)
امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ
[الإسناد من الدين، ولولا الإسناد لقال من شاء ما شاء.]
سند دین کا حصہ ہے، اگر سند نہ ہوتی تو جو چاہتا جو کچھ چاہتا کہہ دیتا۔
(مقدمة صحيح مسلم، باب أن الإسناد من الدين)
امام ابن سیرین رحمہ اللہ
[لم يكونوا يسألون عن الإسناد، فلما وقعت الفتنة قالوا: سموا لنا رجالكم، فينظر إلى أهل السنة فيؤخذ حديثهم، وينظر إلى أهل البدع فلا يؤخذ حديثهم.]
پہلے لوگ سند کے بارے میں سوال نہیں کرتے تھے، پھر جب فتنہ واقع ہوا تو کہنے لگے: اپنے راویوں کے نام بتاؤ؛ پھر اہلِ سنت کو دیکھا جاتا تو ان کی حدیث لی جاتی، اور اہلِ بدعت کو دیکھا جاتا تو ان کی حدیث نہیں لی جاتی۔
(مقدمة صحيح مسلم)
حجاج کے آخری کلمے: [اللهم اغفر لي فإنهم زعموا أنك لا تفعل] کی تحقیق
[1] ابن ابی الدنیا کا طریق
یہ کلمہ ابن ابی الدنیا نے اس سند سے نقل کیا ہے:
[علي بن الجعد، عن عبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون، عن محمد بن المنكدر] اس سند کے رجال ثقہ ہیں، اس لیے سند محمد بن المنکدر تک صحیح/قوی ہے، لیکن محمد بن المنکدر نے حجاج سے براہِ راست یہ کلمہ نہیں سنا، بلکہ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کا حال نقل کیا ہے کہ وہ حجاج سے بغض رکھتے تھے، مگر اس کے اس آخری کلمے پر رشک کرتے تھے۔
(حسن الظن بالله لابن أبي الدنيا: ص107، رقم: 115؛ البداية والنهاية – ط دار ابن كثير:9/323)
[2] محمد بن المنکدر اور عمر بن عبد العزیز کا تعلق
محمد بن المنکدر رحمہ اللہ اور عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ ہم عصر تھے، اس لیے زمانی اعتبار سے ان کا عمر بن عبد العزیز کا قول نقل کرنا ممکن ہے۔ البتہ اس اثر میں محمد بن المنکدر نے “سمعت عمر بن عبد العزيز” کی صراحت نہیں کی، اس لیے اسے صریح سماع کے درجے میں نہیں رکھا جائے گا۔
حکم:زمانی امکان موجود ہے، مگر سماع کی صراحت نہیں۔
[3] ابو نعیم / ابراہیم بن ہشام غسانی کا طریق
اس اثر کا دوسرا طریق:[ابراہیم بن ہشام غسانی عن أبیہ عن جدہ عن عمر بن عبد العزیز] کے طریق سے آتا ہے، جس میں الفاظ ہیں:[فإن الناس يزعمون أنك لا تفعل]۔ یہ سند سخت ضعیف ہے، کیونکہ ابراہیم بن ہشام غسانی پر محدثین نے شدید جرح کی ہے، بلکہ بعض نے اسے کذاب تک کہا ہے۔
(حلية الأولياء لأبي نعيم: 5/345)
حکم:یہ طریق قابلِ اعتماد نہیں۔
[4]حسن بصری رحمہ اللہ کا جواب
حسن بصری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جب انہیں حجاج کا یہ کلمہ بتایا گیا تو انہوں نے فرمایا: “عسى” یعنی امید ہے۔ لیکن یہ حصہ مبہم سند سے منقول ہے، کیونکہ راوی کا نام واضح نہیں، اس لیے اسے صحیح سند سے ثابت نہیں کہا جائے گا۔
حکم:حسن بصری رحمہ اللہ کا یہ جواب صحیح متصل سند سے ثابت نہیں۔
[5] مجموعی نتیجہ
حجاج کے آخری وقت کا کلمہ[اللهم اغفر لي فإنهم زعموا أنك لا تفعل] ابن ابی الدنیا کے طریق سے محمد بن المنکدر تک صحیح/قوی سند سے منقول ہے، مگر حجاج تک براہِ راست صحیح متصل سند سے ثابت نہیں۔ ابو نعیم والا طریق سخت ضعیف ہے، اور حسن بصری کا اضافہ بھی ثابت نہیں۔ لہٰذا اس کلمے سے حجاج کی مکمل شرعی توبہ ثابت نہیں ہوتی؛ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کے آخری وقت میں استغفار اور اللہ کی مغفرت کی امید پر مشتمل ایک کلمہ تاریخی طور پر منقول ہے۔ حجاج کے ظلم، خون ریزی اور صحابہ و اہلِ فضل پر زیادتیوں کی مذمت اپنی جگہ ثابت ہے، اور اس کا آخرت کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔
خلاصہ:
حجاج بن یوسف کی صریح، کامل اور شرعی توبہ صحیح متصل سند سے ثابت نہیں۔ آخری وقت کے بعض کلماتِ استغفار منقول ہیں، مگر ان سے حقوق العباد، خونِ ناحق، صحابہ و اہلِ فضل پر ظلم، اور حرم کی بے حرمتی جیسے جرائم سے توبہ ثابت نہیں ہوتی۔ اس لیے اہلِ سنت کا محتاط موقف یہی ہے کہ اس کے ظلم و فسق سے براءت رکھی جائے، اس کی معین تکفیر نہ کی جائے، اور اس کا آخرت کا معاملہ اللہ کے سپرد کیا جائے۔
حجاج بن یوسف کی موت پر طاؤس رحمہ اللہ کا اظہارِ شکر
طاؤس رحمہ اللہ کا اثر:
[وروى عبد الرزاق، عن معمر، عن ابن طاوس، عن أبيه، أنه أخبر بموت الحجاج مرارا، فلما تحقق وفاته قال: فقطع دابر القوم الذين ظلموا والحمد لله رب العالمين.]
عبد الرزاق نے معمر سے، انہوں نے ابن طاؤس سے، انہوں نے اپنے والد طاؤس رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ انہیں حجاج کی موت کی خبر کئی بار دی گئی، جب اس کی موت یقینی ہو گئی تو انہوں نے فرمایا:
پس ظالم قوم کی جڑ کاٹ دی گئی، اور تمام تعریف اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔
(البداية والنهاية – ت التركي:12/551)،( تاريخ دمشق لابن عساكر:12/195)
یزید کی مذمت میں سلف صالحین کے اقوال
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ
[عن عمر بن عبد العزيز بأن رجلا نال من معاوية بحضرته فضربه ثلاثة أسواط مع ضربه لمن سمى ابنه يزيد أمير المؤمنين عشرين سوطا]
عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے بارے میں منقول ہے کہ ان کی مجلس میں ایک شخص نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازیبا کلام کیا، تو انہوں نے اسے تین کوڑے لگائے، جبکہ اس شخص کو بیس کوڑے لگائے جس نے یزید کو “امیر المؤمنین” کہا۔
[الصواعق المحرقة على أهل الرفض والضلال والزندقة(ابن حجر الهيتمي):2/633؛ سير أعلام النبلاء – ط الرسالة:4/40]
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ
[قال صالح بن أحمد بن حنبل ” قلت لأبي: إن قوما يقولون: إنهم يحبون يزيد. قال: يا بني وهل يحب يزيد أحد يؤمن بالله واليوم الآخر؟ فقلت: يا أبت فلماذا لا تلعنه؟ قال: يا بني ومتى رأيت أباك يلعن أحدا؟ . وروي عنه قيل له: أتكتب الحديث عن يزيد بن معاوية؟ فقال: لا، ولا كرامة أوليس هو الذي فعل بأهل المدينة ما فعل؟ . فيزيد عند علماء أئمة المسلمين ملك من الملوك. لا يحبونه محبة الصالحين وأولياء الله؛ ولا يسبونه، فإنهم لا يحبون لعنة المسلم المعين؛]
صالح بن احمد بن حنبل کہتے ہیں: میں نے اپنے والد امام احمد سے کہا: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ یزید سے محبت کرتے ہیں۔ امام احمد نے فرمایا: بیٹے! کیا اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص یزید سے محبت کر سکتا ہے؟ میں نے کہا: ابا جان! پھر آپ اس پر لعنت کیوں نہیں کرتے؟ فرمایا: بیٹے! تم نے اپنے والد کو کب دیکھا ہے کہ وہ کسی پر لعنت کرتا ہو؟
اور امام احمد سے یہ بھی مروی ہے کہ ان سے کہا گیا: کیا یزید بن معاویہ سے حدیث لکھی جائے گی؟ فرمایا: نہیں، ہرگز نہیں! کیا وہی نہیں جس نے اہلِ مدینہ کے ساتھ وہ کیا جو کیا؟
پس یزید ائمہ مسلمین کے علماء کے نزدیک بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ ہے؛ وہ اس سے صالحین اور اولیاء اللہ جیسی محبت نہیں کرتے، اور نہ اسے گالی دیتے ہیں، کیونکہ وہ کسی معین مسلمان پر لعنت کو پسند نہیں کرتے۔
[مجموع الفتاوى:3/412]
[أخبرني محمد بن علي، قال: ثنا مهنى، قال: سألت أحمد عن يزيد بن معاوية بن أبي سفيان، قال: هو فعل بالمدينة ما فعل؟ قلت: وما فعل؟ قال: قتل بالمدينة من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وفعل، قلت: وما فعل؟ قال: نهبها، قلت: فيذكر عنه الحديث؟ قال: لا يذكر عنه الحديث، ولا ينبغي لأحد أن يكتب عنه حديثا، قلت لأحمد: ومن كان معه بالمدينة حين فعل ما فعل؟ قال: أهل الشام؟ قلت له: وأهل مصر، قال: لا، إنما كان أهل مصر معهم في أمر عثمان رحمه الله]
راوی کہتے ہیں: میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: کیا وہی نہیں جس نے مدینہ کے ساتھ وہ کچھ کیا جو کیا؟ میں نے کہا: اس نے کیا کیا؟ فرمایا: اس نے مدینہ میں نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے لوگوں کو قتل کیا، اور جو کچھ کیا سو کیا۔ میں نے کہا: اور کیا کیا؟ فرمایا: اس نے مدینہ کو لوٹا۔ میں نے کہا: کیا اس سے حدیث روایت کی جائے؟ فرمایا: اس سے حدیث روایت نہ کی جائے، اور کسی کے لیے مناسب نہیں کہ اس سے حدیث لکھے۔ میں نے امام احمد سے کہا: جب اس نے مدینہ میں وہ کچھ کیا جو کیا، اس وقت اس کے ساتھ کون لوگ تھے؟ فرمایا: اہلِ شام۔ میں نے کہا: اور اہلِ مصر؟ فرمایا: نہیں، اہلِ مصر تو سیدنا عثمان رحمہ اللہ کے معاملے میں ان کے ساتھ تھے۔
[السنة لأبي بكر بن الخلال:الرقم 845]،[اضواء المصابیح تحقیق مشکاة المصابیح: ص271 بتحقیق حافظ زبیر علی زئی رحمه الله وسنده صحيح]
ابن الجوزی رحمہ اللہ
[أجاز العلماء الورعون لعنه]
بعض پرہیزگار علماء نے یزید پر لعنت کو جائز قرار دیا ہے۔
[فيض القدير(عبد الرؤوف المناوي):رقم281؛ السيرة الحلبية = إنسان العيون في سيرة الأمين المأمون(نور الدين الحلبي):1/238]
حافظ شمس الدین الذھبی رحمہ اللہ
[كان قويا، شجاعا، ذا رأي، وحزم، وفطنة، وفصاحة، وله شعر جيد، وكان ناصبيا، فظا، غليظا، جلفا]
وہ طاقت ور، بہادر، صاحبِ رائے، پختہ تدبیر، ذہین اور فصیح اللسان تھا، اس کا شعر بھی اچھا تھا، مگر وہ ناصبی، سخت مزاج، درشت اور اجڈ طبیعت کا آدمی تھا۔
[سير أعلام النبلاء – ط الرسالة:4/37]
محمد بن علی الشوکانی رحمہ اللہ
[ولقد أفرط بعض أهل العلم كالكرامية ومن وافقهم في الجمود على أحاديث الباب حتى حكموا بأن الحسين السبط رضي الله عنه وأرضاه باغ على الخمير السكير الهاتك لحرم الشريعة المطهرة يزيد بن معاوية لعنهم الله، فيالله العجب من مقالات تقشعر منها الجلود ويتصدع من سماعها كل جلمود.]
بعض اہلِ علم، جیسے کرّامیہ اور ان کے ہم خیال جامد مزاج لوگوں نے اس باب کی احادیث پر جمود اختیار کرتے ہوئے حد سے تجاوز کیا، یہاں تک کہ انہوں نے یہ حکم لگا دیا کہ سیدنا حسین سبطِ رسول رضی اللہ عنہ وارضاہ، یزید بن معاویہ کے خلاف باغی تھے؛ حالانکہ یزید شرابی، نشہ باز، شریعتِ مطہرہ کی حرمتوں کو پامال کرنے والا تھا، اللہ ان پر لعنت کرے۔
پس اللہ کی پناہ! کتنی عجیب بات ہے ایسی باتوں پر، جن سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، اور جنہیں سن کر سخت پتھر بھی پھٹ جائے۔
خلاصہ:
مصنف اس قول پر سخت رد کر رہا ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو یزید کے خلاف “باغی” کہا جائے۔ اس کے نزدیک یہ بات انتہائی قبیح، باطل اور قابلِ نفرت ہے۔
[نيل الأوطار شرح منتقى الأخبار – ط الحديث:7/208]
علامہ محمود آلوسی رحمہ اللہ
[وعلى هذا القول لا توقف في لعن يزيد لكثرة أوصافه الخبيثة وارتكابه الكبائر في جميع أيام تكليفه ويكفي ما فعله أيام استيلائه بأهل المدينة ومكة]
اس قول کے مطابق یزید پر لعنت کرنے میں کوئی توقف نہیں، کیونکہ اس کے خبیث اوصاف بکثرت تھے اور اس نے اپنی مکلف زندگی کے تمام ایام میں کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا۔ اور اس کے لیے یہی کافی ہے جو اس نے اپنے اقتدار کے زمانے میں اہلِ مدینہ اور اہلِ مکہ کے ساتھ کیا۔
[تفسير الألوسي روح المعاني – ط العلمية:13/227]
علامہ محمود آلوسی مزید فرماتے ہیں:
[هو مسلم عاص بما صدر منه مع العترة الطاهرة لكن لا يجوز لعنه، ومنهم من يقول: هو كذلك ويجوز لعنه مع الكراهة أو بدونها ومنهم من يقول: هو كافر ملعون، ومنهم من يقول: إنه لم يعص بذلك ولا يجوز لعنه وقائل هذا ينبغي أن ينظم في سلسلة أنصار يزيد وأنا أقول: الذي يغلب على ظني أن الخبيث لم يكن مصدقا برسالة النبي صلى الله عليه وسلم وأن مجموع ما فعل مع أهل حرم الله تعالى وأهل حرم نبيه عليه الصلاة والسلام وعترته الطيبين الطاهرين في الحياة وبعد الممات وما صدر منه من المخازي ليس بأضعف دلالة على «عدم تصديقه من إلقاء ورقة من المصحف الشريف في قذر، ولا أظن أن أمره كان خافيا على أجلة المسلمين إذا ذاك ولكن كانوا مغلوبين مقهورين لم يسعهم إلا الصبر ليقضي الله أمرا كان مفعولا، ولو سلّم أن الخبيث كان مسلما فهو مسلم جمع من الكبائر ما لا يحيط به نطاق البيان، وأنا أذهب إلى جواز لعن مثله على التعيين ولو لم يتصور أن يكون له مثل من الفاسقين، والظاهر أنه لم يتب، واحتمال توبته أضعف من إيمانه، ويلحق به ابن زياد وابن سعد وجماعة فلعنة الله عز وجل عليهم أجمعين، وعلى أنصارهم وأعوانهم وشيعتهم ومن مال إليهم إلى يوم الدين ما دمعت عين على أبي عبد الله الحسين، ويعجبني قول شاعر العصر ذو الفضل الجلي عبد الباقي أفندي العمري الموصل وقد سئل عن لعن يزيد اللعين:
يزيد على لعني عريض جنابه … فأغدو به طول المدى ألعن اللعنا]
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یزید مسلمان تھا، مگر عترتِ طاہرہ کے ساتھ جو کچھ اس سے صادر ہوا، اس کی وجہ سے وہ گناہگار تھا، لیکن اس پر لعنت کرنا جائز نہیں۔
بعض کہتے ہیں کہ وہ ایسا ہی تھا، یعنی مسلمان گناہگار تھا، اور اس پر لعنت کرنا جائز ہے، خواہ کراہت کے ساتھ ہو یا بغیر کراہت کے۔
بعض کہتے ہیں کہ وہ کافر اور ملعون تھا۔
اور بعض کہتے ہیں کہ اس نے اس معاملے میں کوئی گناہ ہی نہیں کیا، اور اس پر لعنت کرنا جائز نہیں۔ ایسا کہنے والا مناسب ہے کہ یزید کے مددگاروں کی صف میں شامل کیا جائے۔
اور میں کہتا ہوں: میرے غالب گمان کے مطابق وہ خبیث نبی کریم ﷺ کی رسالت کا سچا اقرار کرنے والا نہ تھا۔ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے حرم، نبی ﷺ کے حرم، اور آپ ﷺ کی پاکیزہ و طاہر عترت کے ساتھ زندگی میں اور وفات کے بعد جو کچھ کیا، اور اس سے جو رسوائی کے کام صادر ہوئے، وہ اس کے عدمِ تصدیق پر دلالت میں اس بات سے کم نہیں کہ کوئی شخص قرآنِ کریم کا ورق نجاست میں پھینک دے۔
اور میرا گمان نہیں کہ اس کا معاملہ اس زمانے کے جلیل القدر مسلمانوں پر پوشیدہ تھا، لیکن وہ مغلوب اور مجبور تھے؛ ان کے لیے صبر کے سوا کوئی راستہ نہ تھا، تاکہ اللہ وہ فیصلہ نافذ کر دے جو ہو کر رہنا تھا۔
اور اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ وہ خبیث مسلمان تھا، تو وہ ایسا مسلمان تھا جس نے اتنے کبیرہ گناہ جمع کر لیے تھے کہ بیان کا دائرہ ان کا احاطہ نہیں کر سکتا۔
اور میرا موقف یہ ہے کہ ایسے شخص پر معین طور پر لعنت کرنا جائز ہے، اگرچہ فاسقوں میں اس جیسا کوئی اور شخص تصور بھی نہ کیا جائے۔ ظاہر یہی ہے کہ اس نے توبہ نہیں کی، اور اس کی توبہ کا احتمال اس کے ایمان کے احتمال سے بھی کمزور ہے۔
اسی کے ساتھ ابن زیاد، ابن سعد اور ان کی جماعت بھی ملحق ہے؛ پس اللہ عزوجل کی لعنت ہو ان سب پر، اور ان کے مددگاروں، معاونوں، پیروکاروں، اور جو قیامت تک ان کی طرف مائل ہوں، ان پر بھی، جب تک ابو عبد اللہ حسین رضی اللہ عنہ پر آنکھیں آنسو بہاتی رہیں۔
اور مجھے اپنے زمانے کے صاحبِ فضل شاعر عبد الباقی افندی عمری موصلی کا یہ شعر پسند ہے، جب ان سے یزید لعین پر لعنت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا:
یزید کا جرم میری لعنت سے بہت وسیع اور بڑا ہے،
اس لیے میں عمر بھر اس پر لعنت کرنے والوں سے بھی بڑھ کر لعنت کرتا رہوں گا۔
[تفسير الألوسي روح المعاني – ط العلمية:228/13-229]
ابن حجر رحمہ اللہ
[سئل شيخنا رحمه الله عن لعن يزيد بن معاوية وماذا يترتب على من يحبه ويرفع من شأنه فأجاب أما اللعن فنقل فيه الطبري المعروف بالكيا الهراسي الخلاف في المذاهب الأربعة في الجواز وعدمه فاختار الجواز ونقل الغزالي الخلاف واختار المنع وأما المحبة فيه والرفع من شأنه فلا تقع إلا من مبتدع فاسد الاعتقاد فإنه كان فيه من الصفات ما يقتضي سلب الإيمان عمن يحبه لأن الحب في الله والبغض في الله من الإيمان والله المستعان]
ہمارے شیخ رحمہ اللہ سے یزید بن معاویہ پر لعنت کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا، اور یہ بھی پوچھا گیا کہ جو شخص یزید سے محبت کرے اور اس کی شان بلند کرے، اس پر کیا حکم مرتب ہوتا ہے؟
انہوں نے جواب دیا:
رہی لعنت کی بات، تو طبری، جو کیا الہراسی کے نام سے معروف ہیں، نے اس بارے میں چاروں مذاہب میں جواز اور عدمِ جواز کا اختلاف نقل کیا ہے، پھر انہوں نے جواز کو اختیار کیا۔ اور غزالی نے بھی اس مسئلے میں اختلاف نقل کیا، مگر انہوں نے منع کو اختیار کیا۔
رہی یزید سے محبت اور اس کی شان بلند کرنا، تو یہ کام صرف بدعتی اور فاسد العقیدہ شخص ہی سے صادر ہو سکتا ہے؛ کیونکہ یزید میں ایسی صفات پائی جاتی تھیں جو اس سے محبت کرنے والے سے ایمان کی نفی کا تقاضا کرتی ہیں، اس لیے کہ اللہ کے لیے محبت اور اللہ کے لیے بغض ایمان کا حصہ ہے۔
اور اللہ ہی مدد فرمانے والا ہے۔
[الإمتاع بالأربعين المتباينة السماع(ابن حجر العسقلاني): ص96]
امام قرطبی رحمہ اللہ
[قال علماؤنا – رحمة الله عليهم -: هذا الحديث يدل على أن أبا هريرة كان عنده من علم الفتن العلم الكثير والتعيين على من يحدث عنه الشر الغزير، ألا تراه يقول: «لو شئت قلت لكم هم بنو فلان وبنو فلان» لكنه سكت عن تعيينهم مخافة ما يطرأ من ذلك من المفاسد، وكأنهم – والله أعلم – يزيد بن معاوية وعبيد الله بن زياد ومن تنزل منزلتهم من أحداث ملوك بني أمية، فقد صدر عنهم من قتل أهل بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وسبيهم وقتل خيار المهاجرين والأنصار بالمدينة وبمكة وغيرها، وغير خاف ما صدر عن الحجاج وسليمان بن عبد الملك وولده من سفك الدماء وإتلاف الأموال وإهلاك الناس بالحجاز والعراق وغير ذلك، وبالجملة فبنو أمية قابلوا وصية النبي صلى الله عليه وسلم في أهل بيته وأمته بالمخالفة والعقوق فسفكوا دماءهم وسبوا نساءهم وأسروا صغارهم وخربوا ديارهم، وجحدوا فضلهم وشرفهم، واستباحوا لعنهم وشتمهم، فخالفوا رسول الله صلى الله عليه وسلم في وصيته، وقابلوه بنقيض مقصوده وأمنيته، فوا خجلتهم إذا وقفوا بين يديه، ووا فضيحتهم يوم يعرضون عليه، والله أعلم.]
ہمارے علماء رحمہم اللہ نے فرمایا: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس فتنوں کے بارے میں بہت علم تھا، اور انہیں ان لوگوں کی تعیین کا بھی علم تھا جن سے بہت بڑا شر واقع ہونے والا تھا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ فرماتے ہیں:
“اگر میں چاہوں تو تمہیں بتا دوں کہ وہ بنو فلاں اور بنو فلاں ہیں۔”
لیکن انہوں نے ان کی تعیین سے خاموشی اختیار کی، اس خوف سے کہ اس کے نتیجے میں مفاسد پیدا ہوں گے۔
اور گویا وہ — واللہ اعلم — یزید بن معاویہ، عبید اللہ بن زیاد، اور بنو امیہ کے ان نو عمر/بعد کے بادشاہوں میں سے تھے جو ان جیسے تھے؛ کیونکہ ان سے رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیت کا قتل، انہیں قیدی بنانا، اور مدینہ و مکہ وغیرہ میں بہترین مہاجرین و انصار کا قتل صادر ہوا۔
اور حجاج، سلیمان بن عبد الملک اور اس کی اولاد سے جو خون ریزی، مالوں کی بربادی، اور حجاز و عراق وغیرہ میں لوگوں کی ہلاکت کے واقعات صادر ہوئے، وہ بھی پوشیدہ نہیں۔
خلاصہ یہ کہ بنو امیہ نے رسول اللہ ﷺ کی اہلِ بیت اور امت کے بارے میں وصیت کا جواب مخالفت اور نافرمانی سے دیا؛ انہوں نے ان کے خون بہائے، ان کی عورتوں کو قیدی بنایا، ان کے بچوں کو اسیر کیا، ان کے گھروں کو ویران کیا، ان کی فضیلت اور شرف کا انکار کیا، اور ان پر لعنت و طعن کو جائز سمجھا۔
پس انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی وصیت کی مخالفت کی، اور آپ ﷺ کے مقصود و آرزو کے بالکل برعکس معاملہ کیا۔ ہائے ان کی شرمندگی، جب وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے ہوں گے! اور ہائے ان کی رسوائی، جس دن وہ آپ ﷺ کے سامنے پیش کیے جائیں گے! واللہ اعلم۔
[التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة – ت آل زهوي(القرطبي):2/277]
ابن باز اللجنة الدائمة
[وأما يزيد بن معاوية فالناس فيه طرفان ووسط، وأعدل الأقوال الثلاثة فيه أنه كان ملكا من ملوك المسلمين له حسنات وسيئات ولم يولد إلا في خلافة عثمان رضي الله عنه، ولم يكن كافرا ولكن جرى بسببه ما جرى من مصرع الحسين وفعل ما فعل بأهل الحرة، ولم يكن صاحبا ولا من أولياء الله الصالحين.]
رہا یزید بن معاویہ، تو اس کے بارے میں لوگ دو انتہاؤں اور ایک درمیانی موقف میں تقسیم ہیں۔ ان تین اقوال میں سب سے زیادہ عادل قول یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا، اس کی نیکیاں بھی تھیں اور برائیاں بھی۔ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت ہی میں پیدا ہوا، کافر نہیں تھا، لیکن اس کے سبب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا سانحہ پیش آیا، اور اس نے اہلِ حرہ کے ساتھ جو کچھ کیا وہ کیا۔ وہ نہ صحابی تھا، نہ اللہ کے صالح اولیاء میں سے تھا۔
[فتاوى اللجنة الدائمة – المجموعة الأولى(اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء):3/396]
جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ
[فقتل وجيء برأسه في طست حتى وضع بين يدي ابن زياد، لعن الله قاتله وابن زياد معه ويزيد أيضا.]
پس آپ (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ)کو شہید کر دیا گیا، اور آپ کا سر ایک طشت میں لا کر ابن زیاد کے سامنے رکھا گیا۔
اللہ آپ (رضی اللہ عنہ)کے قاتل پر لعنت کرے، اور ابن زیاد پر بھی، اور یزید پر بھی۔
[تاريخ الخلفاء – ط المنهاج(الجلال السيوطي):ص 341]
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
[كان هو الواجب عليه فصار أهل الحق يلومونه على تركه للواجب مضافا إلى أمور أخرى.]
یہی کام اس پر واجب تھا، لہٰذا اہلِ حق اس واجب کو چھوڑنے پر اس کی ملامت کرتے ہیں، اس کے ساتھ دیگر امور بھی ہیں۔
[مجموع الفتاوى:3/411]
مزید فرماتے ہیں:
[فيما سألني: ما تقولون في يزيد؟ فقلت: لا نسبه ولا نحبه فإنه لم يكن رجلا صالحا فنحبه ونحن لا نسب أحدا من المسلمين بعينه.]
انہوں نے مجھ سے پوچھا: آپ یزید کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
میں نے کہا: ہم اسے گالی نہیں دیتے، اور نہ اس سے محبت کرتے ہیں؛ کیونکہ وہ کوئی نیک آدمی نہیں تھا کہ ہم اس سے محبت کریں، اور ہم مسلمانوں میں سے کسی معین شخص کو گالی نہیں دیتے۔
[مجموع الفتاوى:4/487]
ان تمام اقوال سے واضح ہوتا ہے کہ یزید بن معاویہ اہلِ علم کے نزدیک قابلِ مدح یا قابلِ محبت شخصیت نہیں، بلکہ اس کے دور میں اہلِ بیت، اہلِ مدینہ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور حرمین کے ساتھ جو مظالم پیش آئے، وہ اس کی سخت مذمت کے لیے کافی ہیں۔ بعض اہلِ علم نے اس پر معین لعنت کو جائز قرار دیا، جبکہ بعض ائمہ نے معین لعنت اور سبّ و شتم سے اجتناب کو اختیار کیا۔ ہمارا موقف یہی ہے کہ ہم یزید پر معین لعنت کو اپنا منہج نہیں بناتے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کے ظلم، فسق، اہلِ بیت سے زیادتی، واقعۂ حرہ، اہلِ مدینہ کے قتل و غارت، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی پردہ پوشی کی جائے۔ لہٰذا یزید سے محبت، اس کی تعظیم یا اس کا دفاع درست نہیں؛ بلکہ اس کے مظالم سے براءت، اہلِ بیت و صحابہ رضی اللہ عنہم سے محبت کرتے ہیں، اور یزید کا اخروی معاملہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا جامع فرمان: اہلِ بیت اور سنت کی بے حرمتی پر وعید
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[ستة لعنتهم ولعنهم الله وكل نبي كان: الزائد في كتاب الله، والمكذب بقدر الله، والمتسلط بالجبروت ليعز بذلك من أذل الله، ويذل من أعز الله، والمستحل لحرم الله، والمستحل من عترتي ما حرم الله، والتارك لسنتي]
چھ قسم کے لوگ ایسے ہیں جن پر میں نے ، اللہ تعالیٰ نے اور تمام انبیاء نے لعنت بھیجی ہے : اللہ کی کتاب میں اضافہ کرنے والا ، اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والا ، طاقت کے ذریعہ غلبہ حاصل کرنے والا تاکہ اس کے ذریعہ اسے عزت دے جسے اللہ نے ذلیل کیا ہے ، اور اسے ذلیل کرے جسے اللہ نے عزت بخشی ہے ، اللہ کی محرمات کو حلال سمجھنے والا ، میرے کنبہ میں سے اللہ کی محرمات کو حلال سمجھنے والا اور میری سنت ترک کرنے والا۔
[سنن ترمذی:2154]
موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 109 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
فقہ الحدیث:
① تشریح و تفسیر کے بغیر جان بوجھ کر کتاب اللہ کے الفاظ یا مفہوم میں سلف صالحین کے خلاف اضافہ کرنا حرام ہے۔
② تقدیر کا انکار حرام ہے۔
③ اہل بیت کی عزت و احترام واجت (فرض) ہے۔ اہل بیت کی توہین کرنا لعنتیوں کا کام ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ اہل بیت میں نبی ﷺ کی تمام بیویاں (امہات المؤمنین) بھی شامل ہیں۔
④ سنت ضروریہ کو ترک کرنا حرام ہے جیسا کہ بعض لوگ داڑھی منڈواتے ہیں۔ عام سنتوں کو بھی استخفاف کی نیت سے ترک کرنا حرام ہے۔
⑤ ہر مسلم پر لازم ہے کہ ہر حال میں ان تمام امور سے اپنے آپ کو بچائے جن پر اللہ اور رسول نے لعنت بھیجی ہے۔
⑥ مطلقاً تارک سنت یعنی تمام سنتوں کا تارک ملعون ہے۔