تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ:} قرآن مجید میں کئی مقامات پر عدل کی تاکید فرمائی، خواہ وہ اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو، دیکھیے سورۂ نساء (۱۳۵) اور کسی دشمنی کی بنا پر عدل نہ کرنے سے بھی منع فرمایا۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۸)، سورۂ نحل (۹۰) اور سورۂ حجرات(۹) وہ سات خوش قسمت لوگ جنھیں روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کا سایہ ملے گا، ان میں پہلا شخص عادل حکمران ہو گا۔ [بخاری، الأذان، باب من جلس فی المسجد…: ۶۶۰]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک انصاف کرنے والے جو اپنے فیصلے میں، اپنے اہل و عیال میں اور رعایا میں انصاف کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے پاس نور کے منبروں پر ہوں گے، رحمان عزوجل کے دائیں طرف ہوں گے اور رحمان کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں۔“ [مسلم، الإمارۃ، باب فضیلۃ الأمیر العادل…: ۱۸۲۷، عن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقینا اللہ تعالیٰ قاضی اور حاکم کے ساتھ ہوتا ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے اور جب وہ ظلم کرے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے۔“ [ابن ماجہ، الأحکام، باب التغلیظ فی الحیف والرشوۃ: ۲۳۱۲،عن عبد اللہ بن أوفٰی رضی اللہ عنہ وصححہ الألبانی]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انصاف کرنے والے اللہ کے نزدیک ہوں گے، رحمٰن عز و جل کے دائیں نور کے منبروں میں ہوں گے اور رحمن کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ جو اپنے فیصلہ کے وقت اپنے اہل میں اور اپنی رعایا میں انصاف سے فیصلہ کرتے ہیں۔“ [مسلم، كتاب الامارة، باب فضيلة الامير العادل]
2۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سات قسم کے آدمیوں کو اپنے سایہ میں رکھے گا اور یہ ایسا دن ہو گا جب اور کسی جگہ کوئی سایہ نہ ہو گا۔ اس میں سر فہرست آپ نے امام عادل یعنی انصاف کرنے والے حاکم کا ذکر فرمایا۔ دوسرے وہ نوجوان جس نے جوانی میں خوشدلی سے اللہ کی عبادت کی۔ تیسرے وہ شخص جس کا دل مسجد میں ہی اٹکا رہتا ہے۔ چوتھے وہ دو شخص جنہوں نے اللہ کی خاطر دوستی کی، اسی کی خاطر اکٹھے رہے اور آخر موت نے جدا کیا۔ پانچویں وہ شخص جسے کسی مالدار اور حسن و جمال والی عورت نے بد کاری کے لیے بلایا تو اس نے کہہ دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ چھٹے وہ شخص جس نے اللہ کی راہ میں یوں چھپا کر صدقہ دیا کہ داہنے ہاتھ نے جو کچھ دیا، بائیں کو اس کی خبر تک نہ ہوئی۔ ساتویں وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھیں بہ نکلیں۔
[بخاری، کتاب الاذان، باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلوۃ]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صحیح حدیث میں ہے ’ قیامت کےدن ہر حقدار کا حق اسے دلوایا جائے گا یہاں تک کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگوں والی بکری نے مارا ہے تو اس کا بدلہ بھی اسے دلوایا جائے گا۔ ‘ ۱؎ [صحیح مسلم:2582]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شہادت کی وجہ سے تمام گناہ مٹ جاتے ہیں مگر امانت نہیں مٹنے لگی کوئی شخص اللہ کی راہ میں شہید بھی ہوا تو اسے بھی قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اپنی امانت ادا کر وہ جواب دے گا کہ دنیا تو اب ہے نہیں میں کہاں سے اسے ادا کروں؟ فرماتے ہیں پھر وہ چیز اسے جہنم کی تہہ میں نظر آئے گی اور کہا جائے گا کہ جا اسے لے آ وہ اسے اپنے کندھے پر لاد کر لے چلے گا لیکن وہ گر پڑے گی وہ پھر اسے لینے جائے گا بس اسی عذاب میں وہ مبتلا رہے گا زاذان اس روایت کو سن کر سیدنا براء رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میرے بھائی نے سچ کہا پھر قرآن کی اس آیت کو پڑھتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ہر نیک و بد پر یہی حکم ہے،
ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس چیز کا حکم دیا گیا اور جس چیز سے منع کیا گیا وہ سب امانت ہے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عورت اپنی شرمگاہ کی امانت دار ہے، سیدنا ربیع بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو جو معاملات تیرے اور دوسرے لوگوں کے درمیان ہوں وہ سب اسی میں شامل ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس میں یہ بھی داخل ہے کہ سلطان عید والے دن عورتوں کو خطبہ سنائے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’ اللہ ان مشرکین کو غارت کرے بھلا خلیل اللہ کو ان تیروں سے کیا سروکار؟ ‘ پھر ان تمام چیزوں کو برباد کر کے ان کی جگہ پانی ڈال کر ان کے نام و نشان مٹا کر آپ باہر آئے کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ نے کہا ’ کوئی معبود نہیں بجز اللہ کے وہ اکیلا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اس نے اپنے وعدے کو سچا کیا اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں کو اسی اکیلے نے شکست دی۔ ‘
مقام ابراہیم کو کعبہ کے اندر سے نکال کر آپ نے کعبہ کی دیوار سے ملا کر رکھ دیا اور لوگوں سے کہہ دیا کہ تمہارا قبلہ یہی ہے پھر آپ طواف میں مشغول ہو گئے ابھی وہ چند پھیرے ہی پھرے تھے جو جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور آپ نے اپنی زبان مبارک سے اس آیت کی تلاوت شروع کی، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے ماں باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں میں نے تو اس سے پہلے آپ کو اس آیت کی تلاوت کرتے نہیں سنا اب آپ نے سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہما کو بلایا اور انہیں کنجی سونپ دی اور فرمایا ’ آج کا دن وفا کا نیکی اور سلوک کا دن ہے۔ ‘ ۱؎ [سیرہ ابن ھشام:42/4:حسن]
یہ وہی سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہما ہیں جن کی نسل میں آج تک کعبۃ اللہ کی کنجی چلی آرہی ہے۔ یہ صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیان اسلام لائے جب ہی سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بھی مسلمان ہوئے تھے ان کا چچا عثمان بن طلحہ احمد کی لڑائی میں مشرکوں کے ساتھ تھا بلکہ ان کا جھنڈا بردار تھا اور وہیں بحالت کفر مارا گیا تھا۔
راوی حدیث ابو زکریا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہمارے استاد مقری رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح پڑھ کر اشارہ کر کے ہمیں بتایا اپنے داہنے ہاتھ کا انگوٹھا اپنی دائیں آنکھ پر رکھا اور اس کے پاس کی انگلی اپنے داہنے کان پر رکھی [ابن ابی حاتم] یہ حدیث اسی طرح امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی روایت کی ہے ۱؎ [سنن ابوداود:4728،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور امام ابن حبان نے بھی اپنی صحیح میں اسے نقل کیا ہے۔ اور حاکم نے مستدرک میں اور ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں بھی اسے وارد کیا ہے، اس کی سند میں جو ابو یونس ہیں جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مولی ہیں اور ان کا نام سلیم بن جیر رحمہ اللہ ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
الأمانات كلُّ ما اؤتُمِنَ عليه الإنسان وأُمِرَ بالقيام به، فأمر اللهُ عباده بأدائِها؛ أي: كاملة موفَّرة لا منقوصة ولا مبخوسةً ولا ممطولاً بها، ويدخُلُ في ذلك أماناتُ الولايات والأموال والأسرار والمأمورات التي لا يطَّلع عليها إلا الله. وقد ذكر الفقهاء على أنَّ مَن اؤتُمِنَ أمانة؛ وَجَبَ عليه حفظُها في حِرْز مثلها؛ قالوا: لأنه لا يمكنُ أداؤها إلاَّ بحفظها، فوجب ذلك. وفي قوله: {إلى أهلها}: دلالة على أنها لا تُدْفَعُ وتؤدَّى لغير المؤتَمِن، ووكيلُهُ بمنزلتِهِ؛ فلو دفعها لغير ربِّها؛ لم يكن مؤدِّياً لها.
{وإذا حكمتُم بين الناس أن تحكُموا بالعدل}: وهذا يشمل الحكم بينهم في الدِّماء والأموال والأعراض؛ القليل من ذلك والكثير، على القريب والبعيد والبَرِّ والفاجر والوليِّ والعدوِّ. والمراد بالعدل الذي أمر الله بالحكم به هو ما شَرَعَهُ الله على لسان رسولِهِ من الحدود والأحكام، وهذا يستلزم معرفة العدل ليحكُمَ به، ولما كانت هذه أوامر حسنةً عادلةً؛ قال: {إنَّ الله نِعمَّا يَعِظُكُم به، إنَّ اللهَ كان سميعاً بصيراً}: وهذا مدحٌ من الله لأوامره ونواهيه؛ لاشتمالها على مصالح الدارين ودفع مضارِّهما؛ لأنَّ شارعها السميع البصير الذي لا تَخْفى عليه خافيةٌ ويعلم من مصالح العباد ما لا يعلمون.