ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 93

وَ مَنۡ یَّقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیۡہَا وَ غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَ لَعَنَہٗ وَ اَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیۡمًا ﴿۹۳﴾
اور جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے، جس میں ہمیشہ رہنے والا ہو اور اللہ اس پر غصے ہوگیا اور اس نے اس پر لعنت کی اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کیا ہے۔ En
اور جو شخص مسلمان کو قصداً مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا اور خدا اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لئے اس نے بڑا (سخت) عذاب تیار کر رکھا ہے
En
اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وه ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار رکھا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 93){ وَ مَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا …:} قتلِ خطا کا حکم بیان کرنے کے بعد اب اس آیت میں قتلِ عمد (قصداً قتل کرنے) کا حکم بیان فرمایا ہے، اس کا ایک حکم تو بیان ہو چکا ہے، یعنی اس صورت میں قصاص یا دیت واجب ہے، یا مقتول کے وارث کچھ معاف کر دیں۔ (دیکھیے بقرہ: ۱۷۸) یہاں صرف اس کے گناہ اور وعید کا ذکر ہے۔ متعدد آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس جرم کو اشراک باللہ کے ساتھ ذکر کیا ہے، یہاں فرمایا کہ اس کی جزا جہنم ہے جس میں ہمیشہ رہے اور اللہ تعالیٰ اس پر غصے ہو گیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لیے عذاب عظیم تیار کیا ہے۔ اتنی سخت سزائیں یکجا ذکر کرنے سے اس گناہ کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے اور بظاہر یہی سمجھ میں آتا ہے کہ مومن کو قصداً قتل کرنے والا ابدی جہنمی ہے اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں۔ مگر سورۂ فرقان (۶۸) میں قتل عمد کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے۔ اب بعض مفسرین کا کہنا تو یہ ہے کہ جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کرنے کی توبہ اس وقت قبول ہے جب اس نے حالت کفر میں یہ قتل کیا ہو، مسلمان ہونے کے بعد کسی مسلم کو قتل کرے تو اس کی توبہ قبول نہیں، بلکہ {خٰلِدًا فِيْهَا} کے الفاظ سے اس کا ابدی جہنمی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔ [بخاری، التفسیر، باب قولہ: «والذین لایدعون…» : ۴۷۶۲] مگر اکثر سلف اس کی توبہ قبول ہونے کے قائل ہیں، کیونکہ (1) شرک باللہ سے بڑا کوئی گناہ نہیں، وہ توبہ سے معاف ہو سکتا ہے تو یہ بھی معاف ہو سکتا ہے۔ (2) اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ وہ آگ میں ہمیشہ رہے گا، بلکہ فرمایا یہ ہے (کہ یہ جرم اتنا بڑا ہے) کہ اس کی جزا جہنم میں ہمیشہ رہنا ہے، باقی اللہ معاف کرنا چاہے تو توبہ کے بعد یا توبہ کے بغیر بھی معاف کر سکتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ [النساء: ۴۸] بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا۔ لہٰذا یہ اللہ کی مشیت پر ہے چاہے تو سزا دے کر معاف کر دے، چاہے تو ویسے ہی معاف کر دے۔ خصوصاً توبہ کے بعد تو واضح بشارت موجود ہے: «{ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا [الزمر: ۵۳] اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بے شک اللہ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے۔ (3) بنی اسرائیل کا وہ مسلمان جس نے سو آدمی قتل کیے تھے، اس کا واقعہ بھی قتل عمد کی توبہ کے قبول ہو سکنے کی دلیل ہے۔ [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب: ۳۴۷۰]
بعض اہل علم نے فرمایا کہ وہ قاتلِ عمد ابدی جہنمی ہے جو اس عمل کو جائز سمجھے، کیونکہ شریعت کے حرام کام کو حلال سمجھنا کفر ہے اور جنت کی نعمتیں کفار پر حرام ہیں، فرمایا: «{ اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِيْنَ [الأعراف: ۵۰] بے شک اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافرو ں پر حرام کر دی ہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے (جنت کا پانی اور رزق) دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں مگر اس صورت میں اس کے ہمیشہ جہنم میں رہنے کا باعث قتل عمد نہیں بلکہ کفر ہو گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

93۔ 1 یہ قتل عمد کی سزا ہے۔ قتل کی تین قسمیں ہیں۔ (1) قتل خطا (جس کا ذکر ماقبل کی آیت میں ہے) (2) قتل شبہ عمد جو حدیث سے ثابت ہے۔ (3) قتل عمد جس کا مطلب ہے ارادہ اور نیت سے کسی کو قتل کرنا اور اس کے لیے وہ آلہ استعمال کرنا جس سے فی الواقع عادتاً قتل کیا جا رہا ہے جیسے تلوار، خنجر وغیرہ۔ آیت میں مومن کے قتل پر نہایت سخت وعید بیان کی گئی ہے مثلا اس کی سزا جہنم ہے جس میں ہمیشہ رہنا ہوگا نیز اللہ کا غضب اور اس کی لعنت اور عذاب عظیم بھی ہوگا۔ اتنی سخت سزائیں بیک وقت کسی بھی گناہ کی بیان نہیں کی گئیں۔ جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ایک مومن کو قتل کرنا اللہ کے ہاں کتنا بڑا جرم ہے احادیث میں بھی اس کی سخت مذمت اور اس پر سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔ (3) مومن کے قاتل کی توبہ قبول ہے یا نہیں؟ بعض علما مزکورہ سخت وعیدوں کے پیش نظر قبول توبہ کے قائل نہیں۔ لیکن قرآن و حدیث کی نصوص سے واضح ہے کہ خالص توبہ سے ہر گناہ معاف ہوسکتا ہے (الا من تاب واٰمن وعمل عملا صالحا) (الفرقان۔ 70) اور دیگر آیات توبہ عام ہیں۔ ہر گناہ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا یا بہت بڑا توبۃ النصوح سے اس کی معافی ممکن ہے یہاں اس کی سزا جہنم جو بیان کی گئی ہے اس کا مطلب ہے کہ اگر اس نے توبہ نہیں کی تو اس کی یہ سزا ہے جو اللہ تعالیٰ اس جرم پر اسے دے سکتا ہے اسی طرح توبہ نہ کرنے کی صورت میں خلود (ہمیشہ جہنم میں رہنے) کا مطلب بھی مکث طویل (لمبی مدت) ہے۔ کیونکہ جہنم میں خلود کافروں اور مشرکوں کے لیے ہی ہے علاوہ ازیں قتل کا تعلق اگرچہ حقوق العباد سے ہے جو توبہ سے بھی ساقط نہیں ہوتے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے بھی اس کی تلافی اور ازالہ فرما سکتا ہے اس طرح مقتول کو بھی بدلہ مل جائے گا اور قاتل کی بھی معافی ہوجائے گی۔ (فتح القدیر و ابن کثیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

93۔ اور جو شخص کسی مومن کو دیدہ دانستہ قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب [128] اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے
[128] قتل خطا کے کفارے کی مختلف صورتیں اور توبہ کا طریقہ تو بیان کر دیا گیا مگر کسی مومن کا قتل عمدً انتہائی شدید جرم ہے جس کا اس دنیا میں کفارہ ممکن ہی نہیں۔ قتل ناحق کسی غیر مسلم کا ہو تو وہ بھی شدید جرم ہے پھر اگر مومن کا ہو تو مزید شدید جرم بن جاتا ہے۔ نیز جرم بیان کرنے کے بعد اللہ کا غضب اور اس کی لعنت کے الفاظ سے اس جرم کی شدت واضح ہو جاتی ہے۔ رہا یہ سوال کہ ایسے مجرم کی توبہ بھی قبول ہے یا نہیں؟ تو اگرچہ اس میں علماء کا اختلاف موجود ہے تاہم سیدنا ابن عباسؓ اسی بات کے قائل ہیں کہ ایسے مجرم کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے جہاں یہ بات واضح ہوتی ہے وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتنا بڑا جرم ہے۔
1۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے خطبہ حجۃ الوداع) میں فرمایا ”اللہ نے تم پر ایک دوسرے کے خون، مال اور آبرو اسی طرح حرام کر دی ہیں جس طرح تمہارے اس دن (یوم النحر) کی تمہارے اس شہر (مکہ) کی اور تمہارے اس مہینہ (ذوالحجہ) کی حرمت ہے۔“ نیز فرمایا کہ ”میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کر کافر نہ بن جانا۔“
[بخاری، کتاب الحدود۔ باب ظہر المومن حمی الافی حد او فی حق]
قتل ناحق اور قتل عمد:۔
سیدنا ابو بکرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم لڑیں تو قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں۔“ میں نے کہا ”اے اللہ کے رسول! یہ تو قاتل تھا، مقتول کا کیا قصور“ فرمایا ”اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل کے درپے تھا۔“
[بخاری، کتاب الدیات۔ باب قول اللہ و من احیاھا]
3۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین آدمیوں پر اللہ (قیامت کے دن) سب سے زیادہ غضب ناک ہو گا۔ (1) حرم میں الحاد کرنے والا، (2) اسلام میں طریقہ جاہلیت کا متلاشی اور (3) ناحق کسی کا خون بہانے کا طالب۔“
[بخاری، کتاب الدیات۔ باب من طلب دم امری بغیر حق]
4۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن قاتل کی پیشانی کے بال اور سر مقتول کے ہاتھ میں ہو گا اور اس کے گلے کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا اور اللہ سے فریاد کرے گا کہ اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا تھا یہاں تک کہ عرش کے قریب لے جائے گا۔ راوی کہتا ہے کہ لوگوں نے ابن عباسؓ کے سامنے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہی آیت پڑھی اور کہا کہ یہ آیت نہ منسوخ ہے اور نہ بدلی گئی۔ پھر اس کی توبہ کیسے قبول ہو سکتی ہے؟“ [ترمذي، ابواب التفسير]
5۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ یہ آیت اخیر زمانہ میں نازل ہوئی (لہٰذا محکم ہے) اسے کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا۔ [بخاري، كتاب التفسير]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا تو قول ہے کہ جس نے مومن کو قصداً قتل کیا اس کی توبہ قبول ہی نہیں، اہل کوفہ جب اس مسئلہ میں اختلاف کرتے ہیں تو ابن جیبر رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر دریافت کرتے ہیں آپ فرماتے ہیں یہ آخری آیت ہے جسے کسی آیت نے منسوخ نہیں کیا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4590]‏‏‏‏
اور آپ فرماتے ہیں کہ دوسری آیت «‏‏‏‏وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:68]‏‏‏‏ جس میں تو یہ ذکر ہے کہ وہ اہل شرک کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پس جبکہ کسی شخص نے اسلام کی حالت میں کسی مسلمان کو غیر شرعی وجہ سے قتل کیا اس کی سزا جہنم ہے اور اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی، مجاہد رحمہ اللہ سے جب یہ قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان ہوا تو فرمانے لگے مگر جو نادم ہو۔
سالم بن ابوالجعد فرماتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جب نابینا ہو گئے تھے ایک مرتبہ ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جو ایک شخص آیا اور آپ کو آواز دے کر پوچھا کہ اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر مار ڈالا آپ نے فرمایا اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اللہ کا اس پر غضب ہے اس پر اللہ کی لعنت ہے اور اس کے لیے عذاب عظیم تیار ہے۔
اس نے پھر پوچھا اگر وہ توبہ کرے نیک عمل کرے اور ہدایت پر جم جائے تو؟ فرمانے لگے اس کی ماں اسے روئے اسے توبہ اور ہدایت کہاں؟ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میرا نفس ہے میں نے تمہارے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اس کی ماں اسے روئے جس نے مومن کو جان بوجھ مار ڈالا ہے وہ قیامت کے دن اسے دائیں یا بائیں ہاتھ سے تھامے ہوئے رحمن کے عرش کے سامنے آئے گا اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا اور اللہ سے کہے گا کہ اے اللہ اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟ } اس اللہ عظیم کی قسم جس کے ہاتھ میں عبداللہ کی جان ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک اسے منسوخ کرنے والی کوئی آیت نہیں اتری۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10193:صحیح بالشواھد]‏‏‏‏
اور روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی وحی اترے گی۔ ۱؎ [سنن نسائی:4010،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ سیدنا زید بن ثابت، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا عبداللہ بن عمر، رضی اللہ عنہم ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن، عبید بن عمیر، حسن، قتادہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کے خیال کے ساتھ ہیں۔
ابن مردویہ میں ہے کہ { مقتول اپنے قاتل کو پکڑ کر قیامت کے دن اللہ کے سامنے لائے گا دوسرے ہاتھ سے اپنا سر اٹھائے ہوئے ہو گا اور کہے گا میرے رب اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟ قاتل کہے گا پروردگار اس لیے کہ تیری عزت ہو اللہ فرمائے گا پس یہ میری راہ میں ہے۔
دوسرا مقتول بھی اپنے قاتل کو پکڑے ہوئے لائے گا اور یہی کہے گا، قاتل جواباً کہے گا اس لیے کہ فلاں کی عزت ہو اللہ فرمائے گا قاتل کا گناہ اس نے اپنے سر لے لیا پھر اسے آگ میں جھونک دیا جائے گا جس گڑھے میں ستر سال تک تو نیچے چلا جائے گا۔ } ۱؎ [سنن نسائی:3989،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے ’ ممکن ہے اللہ تعالیٰ تمام گناہ بخش دے، لیکن ایک تو وہ شخص جو کفر کی حالت میں مرا دوسرا وہ جو کسی مومن کا قصداً قاتل بنا۔ ‘ ۱؎ [مسند احمد:99/4:صحیح]‏‏‏‏ ابن مردویہ میں بھی ایسی ہی حدیث ہے اور وہ بالکل غریب ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4270:صحیح]‏‏‏‏
محفوظ وہ حدیث ہے جو بحوالہ مسند بیان ہوئی۔ ابن مردویہ میں اور حدیث ہے کہ ’ جان بوجھ کر ایماندار کو مار ڈالنے والا کافر ہے۔ ‘ ۱؎ [ابن عدی فی الکامل:1059/3:ضعیف]‏‏‏‏ یہ حدیث منکر ہے اور اس کی اسناد میں بہت کلام ہے۔
حمید کہتے ہیں میرے پاس ابوالعالیہ آئے میرے دوست بھی اس وقت میرے پاس تھے ہم سے کہنے لگے تم دونوں مجھ سے کم عمر اور زیادہ یادداشت والے ہو آؤ میرے ساتھ بشر بن عاصم رحمہ اللہ کے پاس چلو جب وہاں پہنچے تو بشر رحمہ اللہ سے فرمایا انہیں بھی وہ حدیث سنا دو انہوں نے سنانی شروع کی کہ سیدنا عتبہ بن مالک لیثی رضی اللہ عنہ نے کہا { رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا تھا اس نے ایک قوم پر چھاپہ مارا وہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے ان کے ساتھ ایک شخص بھاگا جا رہا تھا اس کے پیچھے ایک لشکری بھاگا جب اس کے قریب ننگی تلوار لیے ہوئے پہنچ گیا تو اس نے کہا میں تو مسلمان ہوں۔ اس نے کچھ خیال نہ کیا تلوار چلا دی۔
اس واقعہ کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تو آپ بہت ناراض ہوئے اور سخت سست کہا یہ خبر اس شخص کو بھی پہنچی۔ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے کہ اس قاتل نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم اس نے تو یہ بات محض قتل سے بچنے کے لیے کہی تھی آپ نے اس کی طرف سے نگاہ پھیرلی اور خطبہ سناتے رہے۔ اس نے دوبارہ کہا آپ نے پھر منہ موڑ لیا، اس سے صبر نہ ہو سکا، تیسری باری کہا تو آپ نے اس کی طرف توجہ کی اور ناراضگی آپ کے چہرے سے ٹپک رہی تھی، فرمانے لگے ’ مومن کے قاتل کی کوئی بھی معذرت قبول کرنے سے اللہ تعالیٰ انکار کرتے ہیں تین بار یہی فرمایا . } یہ روایت نسائی میں بھی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:289/5:صحیح]‏‏‏‏
پس ایک مذہب تو یہ ہوا کہ قاتل مومن کی توبہ نہیں دوسرا مذہب یہ کے کہ توبہ اس کے اور اللہ کے درمیان ہے جمہور سلف وخلف کا یہی مذہب ہے کہ اگر اس نے توبہ کی اللہ کی طرف رجوع کیا خشوع خضوع میں لگا رہا نیک اعمال کرنے لگ گیا تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لے گا اور مقتول کو اپنے پاس سے عوض دے کر اسے راضی کر لے گا۔
اللہ فرماتا ہے «اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا» ۱؎ [19-مريم:60]‏‏‏‏ اور «إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [25-الفرقان:70]‏‏‏‏ یہ خبر ہے اور خبر میں نسخ کا احتمال نہیں اور اس آیت کو مشرکوں کے بارے میں اور اس آیت کو مومنوں کے بارے میں خاص کرنا بظاہر خلاف قیاس ہے اور کسی صاف دلیل کا محتاج ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «‏‏‏‏قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53]‏‏‏‏ ’ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم میری رحمت سے مایوس نہ ہو۔ ‘ یہ آیت اپنے عموم کے اعتبار سے ہر گناہ پر محیط ہے خواہ کفر و شرک ہو خواہ شک و نفاق ہو خواہ قتل وفسق ہو خواہ کچھ ہی ہو، جو اللہ کی طرف رجوع کرے اللہ اس کی طرف مائل ہو گا جو توبہ کرے اللہ اسے معاف فرمائے گا۔
فرماتا ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:48]‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ شرک کو بخشتا نہیں اس کے سوا کے تمام گناہ جسے چاہے بخش دے۔ ‘ اللہ اس کی کریمی کے صدقے جائیے کہ اس نے اسی سورت میں اس آیت سے پہلے بھی جس کی تفسیر اب ہم کر رہے ہیں اپنی عام بخشش کی آیت بیان فرمائی اور پھر اس آیت کے بعد ہی اسے دوہرا دیا اسی طرح اپنی عام بخشش کا اعلان پھر کیا تاکہ بندوں کو اس کی کامل فطرت سے کامل امید بند جائے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بخاری مسلم کی وہ حدیث بھی اس موقعہ پر یاد رکھنے کے قابل ہے جس میں ہے کہ ’ ایک بنی اسرائیلی نے ایک سو قتل کئے تھے۔ پھر ایک عالم سے پوچھتا ہے کہ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے وہ جواب دیتا ہے کہ تجھ میں اور تیری توبہ میں کون ہے جو حائل ہے؟ جاؤ اس بدبستی کو چھوڑ کر نیکوں کے شہر میں بسو چنانچہ اس نے ہجرت کی مگر راستے میں ہی فوت ہو گیا اور رحمت کے فرشتے اسے لے گئے۔ ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:3470]‏‏‏‏
یہ حدیث پوری پوری کئی مرتبہ بیان ہو چکی ہے جبکہ بنی اسرائیل میں یہ ہے تو اس امت مرحومہ کے لیے قاتل کی توبہ کے لیے دروازے بند کیوں ہوں؟ ہم پر تو پہلے بہت زیادہ پابندیاں تھیں جن سب سے اللہ نے ہمیں آزاد کر دیا اور رحمتہ اللعالمین جیسے سردار انبیاء کو بھیج کر وہ دین ہمیں دیا جو آسانیوں اور راحتوں والا سیدھا صاف اور واضح ہے، لیکن یہاں جو سزا قاتل کی بیان فرمائی ہے اس سے مرادیہ ہے کہ اس کی سزا یہ ہے کہ اسے سزا ضرور دی جائے۔
چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سلف کی ایک جماعت بھی یہی فرماتی ہے، بلکہ اس معنی کی ایک حدیث بھی ابن مردویہ میں ہے ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:5819/3:ضعیف]‏‏‏‏ لیکن سنداً وہ صحیح نہیں اور اسی طرح ہر وعید کا مطلب یہی ہے کہ اگر کوئی عمل صالح وغیرہ اس کے مقابل میں نہیں تو اس بدی کا بدلہ وہ ہے جو وعید میں واضح بیان ہوا ہے اور یہی طریقہ وعید کے بارے میں ہمارے نزدیک نہایت درست اور احتیاط والا ہے۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصّوَابٗ»
اور قاتل کا مقدر جہنم بن گیا۔ چاہے اس کی وجہ توبہ کی عدم قبولیت کہا جائے یا اس کے متبادل کسی نیک عمل کا مفقود ہونا خواہ بقول جمہور دوسرا نیک عمل نجات دہندہ نہ ہونے کی وجہ سے ہو۔ وہ ہمیشہ جہنم میں نہ رہے گا بلکہ یہاں خلود سے مراد بہت دیر تک رہنا ہے جیسا کہ متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ ’ جہنم میں سے وہ بھی نکل آئیں گے جن کے دل میں رائی کے چھوٹے سے چھوٹے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا۔ ‘
اوپر جو ایک حدیث بیان ہوئی ہے کہ ممکن ہے اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بجز کفر اور قتل مومن کے معاف فرما دے۔ اس میں «عسی» ترجی کا مسئلہ ہے ان دونوں صورتوں میں ترجی یعنی اُمید گو اٹھ جائے پھر بھی وقوع پذیر ہونا یعنی ایسا ہونا ان دونوں میں سے ایک بھی ممکن نہیں اور وہ قتل ہے، کیونکہ شرک و کفر کا معاف نہ ہونا تو الفاظ قرآن سے ثابت ہو چکا اور جو حدیثیں گذریں جن میں قاتل کو مقتول لے کر آئے گا وہ بالکل ٹھیک ہیں
چونکہ اس میں انسانی حق ہے وہ توبہ سے ٹل نہیں جاتا۔ بلکہ انسانی حق تو توبہ ہونے کی صورت میں بھی حقدار کو پہنچانا ضروری ہے اس میں جس طرح قتل ہے اسی طرح چوری ہے غضب ہے تہمت ہے اور دوسرے حقوق انسانی ہیں جن کا توبہ سے معاف نہ ہونا اجماعاً ثابت ہے بلکہ توبہ کے لیے صحت کی شرط ہے کہ ان حقوق کو ادا کرے۔
اور جب ادائیگی محال ہے تو قیامت کے روز اس کا مطالبہ ضروری ہے۔ لیکن مطالبہ سے سزا کا واقع ہونا ضروری نہیں۔ ممکن ہے کہ قاتل کے اور سب اعمال صالحہ مقتول کو دے دئیے جائیں یا بعض دے دئیے جائیں اور اس کے پاس پھر بھی کچھ رہ جائیں اور یہ بخش دیا جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ قاتل کا مطالبہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اپنے پاس سے اور اپنی طرف سے حور و قصور اور بلند درجات جنت دے کر پورا کر دے اور اس کے عوض وہ اپنے قاتل سے درگذر کرنے پر خوش ہو جائے۔ اور قاتل کو اللہ تعالیٰ بخش دے وغیرہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ جان بوجھ کر مارا ڈالنے والے کے لیے کچھ تو دنیوی احکام ہیں اور کچھ اخروی۔ دنیا میں تو اللہ نے مقتول کے ولیوں کو اس پر غلبہ دیا ہے۔
فرماتا ہے «وَمَن قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِف فِّي الْقَتْلِ» ۱؎ [17-الإسراء:33]‏‏‏‏ ’ جو ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے پیچھے والوں کو غلبہ دیا ہے کہ انہیں اختیار ہے کہ یا تو وہ بدلہ لیں یعنی قاتل کو بھی قتل کرائیں یا معاف کر دیں یا دیت یعنی خون بہا یعنی جرمانہ وصول کر لیں ‘ اور اس کے جرمانہ میں سختی ہے جو تین قسموں پر مشتمل ہے۔ تیس تو چوتھے سال کی عمر میں لگے ہوئے اونٹ، تیس پانچویں سال میں لگے ہوئے، چالیس حاملہ اونٹنیاں جیسے کہ کتب احکام میں ثابت ہیں۔
اس میں ائمہ نے اختلاف کیا ہے کہ اس پر غلام کا آزاد کرنا یا دو ماہ کے پے در پے روزے رکھے یا کھانا کھلانا ہے یا نہیں؟ پس امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب اور علماء کی ایک جماعت تو اس کی قائل ہے کہ جب خطا میں یہ حکم ہے تو عمداً میں بطور ادنیٰ یہی حکم ہونا چاہیئے اور ان پر جواباً جھوٹی غیر شرعی قسم کے کفارے کو پیش کیا گیا ہے اور انہوں نے اس کا عذر عمداً چھوڑ دی ہوئی دی نماز کو قضاء قرار دیا ہے جیسے کہ اس پر اجماع ہے خطا میں۔
امام احمد رحمہ اللہ کے اصحاب اور دوسرے کہتے ہیں قتل عمداً ناقابل کفارہ ہے۔ اس لیے اس یعنی کفارہ نہیں اور اسی طرح جھوٹی قسم اور ان کے لیے ان دونوں صورتوں میں اور عمداً چھوٹی ہوئی نماز میں فرق کرنے کی کوئی راہ نہیں، اسلئے کہ یہ عمداً چھوٹی ہوئی نماز کی قضا کے وجوب کے قائل ہیں۔ سابقہ مکتبہ خیال کی ایک دلیل یہ حدیث بھی ہے جو مسند احمد میں مروی ہے کہ لوگ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کوئی ایسی حدیث سناؤ جس میں کمی زیادتی نہ ہو تو وہ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے کیا تم قرآن لے کر پڑھتے ہو تو اس میں کمی زیادتی بھی کرتے ہو؟
انہوں نے کہا ہمارا مطلب یہ ہے کہ خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے جو سنی ہو کہا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنوں میں سے ایک آدمی کی بابت حاضر ہوئے جس نے بوجہ قتل کے اپنے تئیں جہنمی بنا لیا تھا۔ { تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی طرف سے ایک غلام آزاد کرو اس کے ایک ایک عضو کے بدلہ اس کا ایک ایک عضو اللہ تعالیٰ جہنم سے آزاد کر دے گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:107/4:ضعیف]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ مومن سے مومن کا قتل صادر نہیں ہو سکتا نیز یہ کہ قتل کفر عملی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے جان بوجھ کر قتل کرنے والے کے لیے وعید کا ذکر فرمایا ہے جس سے دل کانپ جاتے ہیں، کلیجے پھٹ جاتے ہیں اور عقلمند لوگ گھبرا جاتے ہیں۔ کبیرہ گناہوں میں سے کسی اور گناہ کے لیے اس سے بڑی بلکہ اس جیسی وعید بھی وارد نہیں ہوئی۔ آگاہ رہو کہ یہ اس امر کی خبر دینا ہے کہ مومن کے قتل کے مرتکب کے لیے جہنم ہے۔ یعنی یہ گناہ عظیم اکیلا ہی کافی ہے کہ اپنے مرتکب کو جہنم، عذاب عظیم، رسوائی، اللہ جبار کی ناراضی، فوز و فلاح سے محرومی و ناکامی اور خسارے جیسی سزا کا مستحق بنائے۔ ہم ہر اس سبب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کرے۔ اس وعید کا حکم، کبیرہ گناہوں کے بارے میں وارد اس جیسی دیگر نصوص وعید کی مانند ہے جن میں جہنم میں خلود اور جنت سے محرومی کا ذکر کیا گیا ہے۔ ائمہ کرام، خوارج اور معتزلہ کے اس قول کے بطلان پر متفق ہونے کے باوجود، کہ موحد گناہ گار ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اس آیت کریمہ کی تاویل میں اختلاف رکھتے ہیں۔ اس آیت کریمہ کی تاویل و تفسیر میں حق و صواب وہ ہے جو امام محقق شمس الدین ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب مدارج السالکین میں ذکر فرمایا ہے۔ انھوں نے ائمہ کی تاویلات ذکر کرنے کے بعد نقد کرتے ہوئے فرمایا:
کچھ دیگر لوگوں کی رائے ہے کہ یہ نصوص اور اس قسم کی دیگر نصوص، جن میں سزا کی اقتضا کا ذکر آتا ہے مقتضائے حکم کے وجود سے اس کا وجود لازم نہیں آتا کیونکہ حکم اپنے مقتضی کے وجود اور انتفائے مانع سے پورا ہوتا ہے اور ان نصوص کی غرض و غایت محض اس امر کی اطلاع دینا ہے کہ اس قسم کے جرائم عقوبت کا سبب ہیں اور اس کا تقاضا کرتے ہیں اور موانع کے ذکر پر دلیل قائم ہو چکی ہے کچھ تو اجماع کی بنا پر اور کچھ نصوص کی بنا پر چنانچہ توبہ بالاجماع عقوبت اور سزا کومانع ہے اور نصوص متواترہ دلالت کرتی ہیں کہ توحید بھی مانع عقوبت ہے اسی طرح برائیوں کو مٹانے والی نیکیاں بھی مانع عقاب ہیں۔ بڑے بڑے مصائب جو گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں مانع عقاب ہیں۔ دنیا میں ان جرائم پر حد قائم ہونا بھی مانع عقوبت ہے ان امور پر نصوص دلالت کرتی ہیں اور ان نصوص کو معطل کرنے کی کوئی وجہ نہیں لہٰذا جانبین کی طرف سے نصوص کے عمل کو تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ یہ ہے وہ مقام جہاں اقتضائے عقاب اور اس کے مانع کے لیے، نیکیوں اور برائیوں کے درمیان موازنہ کیا جاتا ہے تاکہ دونوں میں سے جو راجح ہو، اس کے مطابق عمل کیا جائے (اقتضائے عذاب راجح ہو تو عذاب کا اور مانع راجح ہو تو عدم عذاب کا فیصلہ ہو گا)
وہ کہتے ہیں کہ اسی اصول پر دنیا و آخرت کے مصالح اور مفاسد کی بنا ہے اور یہی اصول احکام شرعیہ اور احکام قدریہ کی بنیاد ہیں اور یہی اس حکمت کا تقاضا ہے جو وجود کائنات میں جاری و ساری ہے۔ خلق و امر کے لحاظ سے اسی اصول کے ذریعے سے اسباب اور مسببات ایک دوسرے سے مرتب ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر شے کی ضد پیدا کی ہے تاکہ یہ ضد اس شے کو دفع کرے اور ضدین میں سے اغلب کے مطابق حکم لگایا جائے گا۔ قوت صحت و عافیت کا تقاضا کرتی ہے اور اخلاط فاسدہ کا غلبہ، عمل طبعی اور فعل قوت کو مانع ہے، ان دونوں میں سے اغلب کے مطابق حکم لگایا جائے گا۔ یہی اصول ادویہ اور امراض کے قویٰ میں عمل کرتا ہے انسان کے اندر ایسی چیزیں بھی ہیں جو اس کی صحت کی متقاضی ہیں اور کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جو اس کی ہلاکت کا تقاضا کرتی ہیں۔ (ان کے درمیان کشمکش رہتی ہے) اور ایک چیز دوسری چیز کے کمال تاثیر کو روکتی اور اس کا مقابلہ کرتی ہے پس اگر وہ اس پر غالب آ جاتی ہے تو اس کی تاثیر اس میں کارفرما ہوتی ہے۔
یہاں پہنچ کر انسانوں کی تقسیم کا علم ہوتا ہے۔ کوئی سیدھا جنت میں جائے گا کسی کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ کچھ لوگوں کو جہنم میں داخل کر کے پھر نکال لیا جائے گا اور وہ لوگ جہنم میں بس اسی قدر ٹھہریں گے جس قدر ان کے اعمال ان کے ٹھہرنے کا تقاضا کریں گے۔ جس شخص کی چشم بصیرت روشن ہے اس اصول کے مطابق اسے معاد کے متعلق وہ تمام امور جن کی قرآن خبر دیتا ہے یوں نظر آتے ہیں گویا کہ وہ انھیں اپنی ظاہری آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت، ربوبیت اور عزت و حکمت کا تقاضا ہے اور اس کی خلاف ورزی اللہ تعالیٰ سے محال ہے۔ اس کی خلاف ورزی کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا ایک ایسے امر کی نسبت ہے جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں۔ ان امور کو وہ اپنی چشم بصیرت سے یوں دیکھتا ہے جیسے وہ اپنی آنکھ سے سورج اور ستاروں کو دیکھتا ہے اور یہ ایمان کا یقین ہے اور یہ وہ یقین ہے جو برائیوں کو اس طرح جلا دیتا ہے جیسے خشک ایندھن کو آگ جلا دیتی ہے۔ وہ شخص جو ایمان کے اس مقام پر فائز ہو جاتا ہے اس کے لیے برائیوں پر مصر رہنا محال ہے۔ برائیاں اگرچہ اس سے بکثرت واقع ہو جاتی ہیں مگر اس کا نور ایمان اسے ہر وقت تجدید توبہ کا حکم دیتا رہتا ہے اور ہر سانس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے ایسا شخص اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔۔۔۔ ابن القیم قدس اللہ روحہ کا کلام ختم ہوا، اللہ تعالیٰ انھیں اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیر عطا کرے۔ (اس موضوع پر مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے مدارج السالکین 1؍396۔ مترجم)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

تقدَّم أن الله أخبر أنه لا يصدر قتل المؤمن من المؤمن، وأن القتل من الكفر العملي، وذكر هنا وعيد القاتل عمداً وعيداً ترجُفُ له القلوبُ وتنصدِع له الأفئدة وتنزعج منه أولو العقول، فلم يرد في أنواع الكبائر أعظمُ من هذا الوعيد، بل ولا مثلُه، ألا وهو الإخبارُ بأنَّ جزاءَه جهنَّم؛ أي: فهذا الذنب العظيم قد انتهض وحدَه أن يجازي صاحبَهُ بجهنَّم بما فيها من العذاب العظيم والخزي المهين وسخط الجبار وفوات الفوز والفلاح وحصول الخيبة والخسار؛ فعياذاً بالله من كلِّ سبب يبعد عن رحمته.

وهذا الوعيد له حكم أمثاله من نصوص الوعيد على بعض الكبائر والمعاصي بالخلود في النار أو حرمان الجنة. وقد اختلف الأئمة رحمهم الله في تأويلها، مع اتفاقهم على بطلان قول الخوارج والمعتزلة الذين يخلِّدونهم في النار ولو كانوا موحِّدين، والصواب في تأويلها ما قاله الإمام المحقِّق شمس الدين ابن القيم رحمه الله في «المدارج» ؛ فإنه قال بعد ما ذكر تأويلات الأئمة في ذلك وانتقدها، فقال:

وقالت فرقةٌ: إن هذه النصوص وأمثالها مما ذُكِرَ فيه المقتضي للعقوبة، ولا يلزم من وجود مقتضى الحكم وجودُه؛ فإن الحكم إنما يتمُّ بوجود مقتضيه وانتفاء موانعه، وغاية هذه النصوص الإعلام بأن كذا سببٌ للعقوبة ومقتضٍ لها، وقد قام الدليل على ذِكْرِ الموانع؛ فبعضُها بالإجماع وبعضُها بالنص؛ فالتوبة مانعٌ بالإجماع، والتوحيد مانعٌ بالنصوص المتواترة التي لا مدفع لها، والحسناتُ العظيمة الماحية مانعةٌ، والمصائب الكبارُ المكفِّرة مانعة، وإقامة الحدود في الدُّنيا مانع بالنصِّ، ولا سبيل إلى تعطيل هذه النصوص، فلا بدَّ من إعمال النصوص من الجانبين، ومن هنا قامت الموازنةُ بين الحسنات والسيئات اعتباراً لمقتضى العقاب ومانعه وإعمالاً لأرجحها. قالوا: وعلى هذا بناء مصالح الدارين ومفاسِدِهما، وعلى هذا بناء الأحكام الشرعية والأحكام القدريَّة، وهو مقتضى الحكمة السارية في الوجود، وبه ارتباط الأسباب ومسبَّباتها خَلْقاً وأمراً، وقد جعل الله سبحانه لكل ضدٍّ ضدًّا يدافِعُه ويقاومه ويكون الحكم للأغلب منهما؛ فالقوة مقتضيةٌ للصحة، والعافية وفساد الأخلاط وبغيها مانعٌ من عمل الطبيعة، وفعل القوة والحكم للغالب منهما، وكذلك قوى الأدوية والأمراض، والعبد يكون فيه مقتضٍ للصحَّة ومقتضٍ للعطب، وأحدُهما يمنع كمال تأثير الآخر ويقاوِمُه؛ فإذا ترجَّح عليه وقهره؛ كان التأثير له، ومن هنا يُعلم انقسام الخلق إلى من يدخل الجنة ولا يدخل النار وعكسه، ومن يدخل النار ثم يخرُجُ منها ويكون مكثه فيها بحسب ما فيه من مقتضى المكث في سرعة الخروج وبطئه، ومن له بصيرةٌ منورةٌ يرى بها كلَّ ما أخبر الله به في كتابه من أمر المعاد وتفاصيلِهِ، حتى كأنه يشاهدُهُ رأي العين، ويعلم أنَّ هذا مقتضى إلهيته سبحانه وربوبيَّته وعزَّته وحكمته، وأنه يستحيل عليه خلاف ذلك، ونسبة ذلك إليه نسبة ما لا يليق به إليه، فيكون نسبة ذلك إلى بصيرته كنسبة الشمس والنجوم إلى بصره، وهذا يقين الإيمان، وهو الذي يحرق السيِّئات كما تحرق النار الحطب، وصاحب هذا المقام من الإيمان يستحيل إصرارُهُ على السيِّئات وإن وقعت منه وكثرت؛ فإنَّ ما معه من نور الإيمان يأمره بتجديد التوبة كلَّ وقت بالرجوع إلى الله في عدد أنفاسه، وهذا من أحبِّ الخلق إلى الله. انتهى كلامه قدَّس الله رُوحه وجزاه عن الإسلام والمسلمين خيراً.