تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
بعض اہل علم نے فرمایا کہ وہ قاتلِ عمد ابدی جہنمی ہے جو اس عمل کو جائز سمجھے، کیونکہ شریعت کے حرام کام کو حلال سمجھنا کفر ہے اور جنت کی نعمتیں کفار پر حرام ہیں، فرمایا: «{ اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِيْنَ}» [الأعراف: ۵۰] ”بے شک اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافرو ں پر حرام کر دی ہیں۔“ بے شک اللہ تعالیٰ نے (جنت کا پانی اور رزق) دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں مگر اس صورت میں اس کے ہمیشہ جہنم میں رہنے کا باعث قتل عمد نہیں بلکہ کفر ہو گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے خطبہ حجۃ الوداع) میں فرمایا ”اللہ نے تم پر ایک دوسرے کے خون، مال اور آبرو اسی طرح حرام کر دی ہیں جس طرح تمہارے اس دن (یوم النحر) کی تمہارے اس شہر (مکہ) کی اور تمہارے اس مہینہ (ذوالحجہ) کی حرمت ہے۔“ نیز فرمایا کہ ”میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کر کافر نہ بن جانا۔“
[بخاری، کتاب الحدود۔ باب ظہر المومن حمی الافی حد او فی حق]
2۔
[بخاری، کتاب الدیات۔ باب قول اللہ و من احیاھا]
3۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین آدمیوں پر اللہ (قیامت کے دن) سب سے زیادہ غضب ناک ہو گا۔ (1) حرم میں الحاد کرنے والا، (2) اسلام میں طریقہ جاہلیت کا متلاشی اور (3) ناحق کسی کا خون بہانے کا طالب۔“
[بخاری، کتاب الدیات۔ باب من طلب دم امری بغیر حق]
4۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن قاتل کی پیشانی کے بال اور سر مقتول کے ہاتھ میں ہو گا اور اس کے گلے کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا اور اللہ سے فریاد کرے گا کہ اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا تھا یہاں تک کہ عرش کے قریب لے جائے گا۔ راوی کہتا ہے کہ لوگوں نے ابن عباسؓ کے سامنے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہی آیت پڑھی اور کہا کہ یہ آیت نہ منسوخ ہے اور نہ بدلی گئی۔ پھر اس کی توبہ کیسے قبول ہو سکتی ہے؟“ [ترمذي، ابواب التفسير]
5۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ یہ آیت اخیر زمانہ میں نازل ہوئی (لہٰذا محکم ہے) اسے کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا۔ [بخاري، كتاب التفسير]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور آپ فرماتے ہیں کہ دوسری آیت «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:68] جس میں تو یہ ذکر ہے کہ وہ اہل شرک کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پس جبکہ کسی شخص نے اسلام کی حالت میں کسی مسلمان کو غیر شرعی وجہ سے قتل کیا اس کی سزا جہنم ہے اور اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی، مجاہد رحمہ اللہ سے جب یہ قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان ہوا تو فرمانے لگے مگر جو نادم ہو۔
سالم بن ابوالجعد فرماتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جب نابینا ہو گئے تھے ایک مرتبہ ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جو ایک شخص آیا اور آپ کو آواز دے کر پوچھا کہ اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر مار ڈالا آپ نے فرمایا اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اللہ کا اس پر غضب ہے اس پر اللہ کی لعنت ہے اور اس کے لیے عذاب عظیم تیار ہے۔
اس نے پھر پوچھا اگر وہ توبہ کرے نیک عمل کرے اور ہدایت پر جم جائے تو؟ فرمانے لگے اس کی ماں اسے روئے اسے توبہ اور ہدایت کہاں؟ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میرا نفس ہے میں نے تمہارے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اس کی ماں اسے روئے جس نے مومن کو جان بوجھ مار ڈالا ہے وہ قیامت کے دن اسے دائیں یا بائیں ہاتھ سے تھامے ہوئے رحمن کے عرش کے سامنے آئے گا اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا اور اللہ سے کہے گا کہ اے اللہ اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟ } اس اللہ عظیم کی قسم جس کے ہاتھ میں عبداللہ کی جان ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک اسے منسوخ کرنے والی کوئی آیت نہیں اتری۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10193:صحیح بالشواھد]
اور روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی وحی اترے گی۔ ۱؎ [سنن نسائی:4010،قال الشيخ الألباني:صحیح] سیدنا زید بن ثابت، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا عبداللہ بن عمر، رضی اللہ عنہم ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن، عبید بن عمیر، حسن، قتادہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کے خیال کے ساتھ ہیں۔
دوسرا مقتول بھی اپنے قاتل کو پکڑے ہوئے لائے گا اور یہی کہے گا، قاتل جواباً کہے گا اس لیے کہ فلاں کی عزت ہو اللہ فرمائے گا قاتل کا گناہ اس نے اپنے سر لے لیا پھر اسے آگ میں جھونک دیا جائے گا جس گڑھے میں ستر سال تک تو نیچے چلا جائے گا۔ } ۱؎ [سنن نسائی:3989،قال الشيخ الألباني:صحیح]
محفوظ وہ حدیث ہے جو بحوالہ مسند بیان ہوئی۔ ابن مردویہ میں اور حدیث ہے کہ ’ جان بوجھ کر ایماندار کو مار ڈالنے والا کافر ہے۔ ‘ ۱؎ [ابن عدی فی الکامل:1059/3:ضعیف] یہ حدیث منکر ہے اور اس کی اسناد میں بہت کلام ہے۔
حمید کہتے ہیں میرے پاس ابوالعالیہ آئے میرے دوست بھی اس وقت میرے پاس تھے ہم سے کہنے لگے تم دونوں مجھ سے کم عمر اور زیادہ یادداشت والے ہو آؤ میرے ساتھ بشر بن عاصم رحمہ اللہ کے پاس چلو جب وہاں پہنچے تو بشر رحمہ اللہ سے فرمایا انہیں بھی وہ حدیث سنا دو انہوں نے سنانی شروع کی کہ سیدنا عتبہ بن مالک لیثی رضی اللہ عنہ نے کہا { رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا تھا اس نے ایک قوم پر چھاپہ مارا وہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے ان کے ساتھ ایک شخص بھاگا جا رہا تھا اس کے پیچھے ایک لشکری بھاگا جب اس کے قریب ننگی تلوار لیے ہوئے پہنچ گیا تو اس نے کہا میں تو مسلمان ہوں۔ اس نے کچھ خیال نہ کیا تلوار چلا دی۔
اس واقعہ کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تو آپ بہت ناراض ہوئے اور سخت سست کہا یہ خبر اس شخص کو بھی پہنچی۔ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے کہ اس قاتل نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم اس نے تو یہ بات محض قتل سے بچنے کے لیے کہی تھی آپ نے اس کی طرف سے نگاہ پھیرلی اور خطبہ سناتے رہے۔ اس نے دوبارہ کہا آپ نے پھر منہ موڑ لیا، اس سے صبر نہ ہو سکا، تیسری باری کہا تو آپ نے اس کی طرف توجہ کی اور ناراضگی آپ کے چہرے سے ٹپک رہی تھی، فرمانے لگے ’ مومن کے قاتل کی کوئی بھی معذرت قبول کرنے سے اللہ تعالیٰ انکار کرتے ہیں تین بار یہی فرمایا . } یہ روایت نسائی میں بھی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:289/5:صحیح]
اللہ فرماتا ہے «اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا» ۱؎ [19-مريم:60] اور «إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا» ۱؎ [25-الفرقان:70] یہ خبر ہے اور خبر میں نسخ کا احتمال نہیں اور اس آیت کو مشرکوں کے بارے میں اور اس آیت کو مومنوں کے بارے میں خاص کرنا بظاہر خلاف قیاس ہے اور کسی صاف دلیل کا محتاج ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
فرماتا ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ» ۱؎ [4-النساء:48] ’ اللہ تعالیٰ شرک کو بخشتا نہیں اس کے سوا کے تمام گناہ جسے چاہے بخش دے۔ ‘ اللہ اس کی کریمی کے صدقے جائیے کہ اس نے اسی سورت میں اس آیت سے پہلے بھی جس کی تفسیر اب ہم کر رہے ہیں اپنی عام بخشش کی آیت بیان فرمائی اور پھر اس آیت کے بعد ہی اسے دوہرا دیا اسی طرح اپنی عام بخشش کا اعلان پھر کیا تاکہ بندوں کو اس کی کامل فطرت سے کامل امید بند جائے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ حدیث پوری پوری کئی مرتبہ بیان ہو چکی ہے جبکہ بنی اسرائیل میں یہ ہے تو اس امت مرحومہ کے لیے قاتل کی توبہ کے لیے دروازے بند کیوں ہوں؟ ہم پر تو پہلے بہت زیادہ پابندیاں تھیں جن سب سے اللہ نے ہمیں آزاد کر دیا اور رحمتہ اللعالمین جیسے سردار انبیاء کو بھیج کر وہ دین ہمیں دیا جو آسانیوں اور راحتوں والا سیدھا صاف اور واضح ہے، لیکن یہاں جو سزا قاتل کی بیان فرمائی ہے اس سے مرادیہ ہے کہ اس کی سزا یہ ہے کہ اسے سزا ضرور دی جائے۔
چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سلف کی ایک جماعت بھی یہی فرماتی ہے، بلکہ اس معنی کی ایک حدیث بھی ابن مردویہ میں ہے ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:5819/3:ضعیف] لیکن سنداً وہ صحیح نہیں اور اسی طرح ہر وعید کا مطلب یہی ہے کہ اگر کوئی عمل صالح وغیرہ اس کے مقابل میں نہیں تو اس بدی کا بدلہ وہ ہے جو وعید میں واضح بیان ہوا ہے اور یہی طریقہ وعید کے بارے میں ہمارے نزدیک نہایت درست اور احتیاط والا ہے۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصّوَابٗ»
اوپر جو ایک حدیث بیان ہوئی ہے کہ ممکن ہے اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بجز کفر اور قتل مومن کے معاف فرما دے۔ اس میں «عسی» ترجی کا مسئلہ ہے ان دونوں صورتوں میں ترجی یعنی اُمید گو اٹھ جائے پھر بھی وقوع پذیر ہونا یعنی ایسا ہونا ان دونوں میں سے ایک بھی ممکن نہیں اور وہ قتل ہے، کیونکہ شرک و کفر کا معاف نہ ہونا تو الفاظ قرآن سے ثابت ہو چکا اور جو حدیثیں گذریں جن میں قاتل کو مقتول لے کر آئے گا وہ بالکل ٹھیک ہیں
چونکہ اس میں انسانی حق ہے وہ توبہ سے ٹل نہیں جاتا۔ بلکہ انسانی حق تو توبہ ہونے کی صورت میں بھی حقدار کو پہنچانا ضروری ہے اس میں جس طرح قتل ہے اسی طرح چوری ہے غضب ہے تہمت ہے اور دوسرے حقوق انسانی ہیں جن کا توبہ سے معاف نہ ہونا اجماعاً ثابت ہے بلکہ توبہ کے لیے صحت کی شرط ہے کہ ان حقوق کو ادا کرے۔
اور جب ادائیگی محال ہے تو قیامت کے روز اس کا مطالبہ ضروری ہے۔ لیکن مطالبہ سے سزا کا واقع ہونا ضروری نہیں۔ ممکن ہے کہ قاتل کے اور سب اعمال صالحہ مقتول کو دے دئیے جائیں یا بعض دے دئیے جائیں اور اس کے پاس پھر بھی کچھ رہ جائیں اور یہ بخش دیا جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ قاتل کا مطالبہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اپنے پاس سے اور اپنی طرف سے حور و قصور اور بلند درجات جنت دے کر پورا کر دے اور اس کے عوض وہ اپنے قاتل سے درگذر کرنے پر خوش ہو جائے۔ اور قاتل کو اللہ تعالیٰ بخش دے وغیرہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ جان بوجھ کر مارا ڈالنے والے کے لیے کچھ تو دنیوی احکام ہیں اور کچھ اخروی۔ دنیا میں تو اللہ نے مقتول کے ولیوں کو اس پر غلبہ دیا ہے۔
اس میں ائمہ نے اختلاف کیا ہے کہ اس پر غلام کا آزاد کرنا یا دو ماہ کے پے در پے روزے رکھے یا کھانا کھلانا ہے یا نہیں؟ پس امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب اور علماء کی ایک جماعت تو اس کی قائل ہے کہ جب خطا میں یہ حکم ہے تو عمداً میں بطور ادنیٰ یہی حکم ہونا چاہیئے اور ان پر جواباً جھوٹی غیر شرعی قسم کے کفارے کو پیش کیا گیا ہے اور انہوں نے اس کا عذر عمداً چھوڑ دی ہوئی دی نماز کو قضاء قرار دیا ہے جیسے کہ اس پر اجماع ہے خطا میں۔
امام احمد رحمہ اللہ کے اصحاب اور دوسرے کہتے ہیں قتل عمداً ناقابل کفارہ ہے۔ اس لیے اس یعنی کفارہ نہیں اور اسی طرح جھوٹی قسم اور ان کے لیے ان دونوں صورتوں میں اور عمداً چھوٹی ہوئی نماز میں فرق کرنے کی کوئی راہ نہیں، اسلئے کہ یہ عمداً چھوٹی ہوئی نماز کی قضا کے وجوب کے قائل ہیں۔ سابقہ مکتبہ خیال کی ایک دلیل یہ حدیث بھی ہے جو مسند احمد میں مروی ہے کہ لوگ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کوئی ایسی حدیث سناؤ جس میں کمی زیادتی نہ ہو تو وہ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے کیا تم قرآن لے کر پڑھتے ہو تو اس میں کمی زیادتی بھی کرتے ہو؟
انہوں نے کہا ہمارا مطلب یہ ہے کہ خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے جو سنی ہو کہا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنوں میں سے ایک آدمی کی بابت حاضر ہوئے جس نے بوجہ قتل کے اپنے تئیں جہنمی بنا لیا تھا۔ { تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی طرف سے ایک غلام آزاد کرو اس کے ایک ایک عضو کے بدلہ اس کا ایک ایک عضو اللہ تعالیٰ جہنم سے آزاد کر دے گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:107/4:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
تقدَّم أن الله أخبر أنه لا يصدر قتل المؤمن من المؤمن، وأن القتل من الكفر العملي، وذكر هنا وعيد القاتل عمداً وعيداً ترجُفُ له القلوبُ وتنصدِع له الأفئدة وتنزعج منه أولو العقول، فلم يرد في أنواع الكبائر أعظمُ من هذا الوعيد، بل ولا مثلُه، ألا وهو الإخبارُ بأنَّ جزاءَه جهنَّم؛ أي: فهذا الذنب العظيم قد انتهض وحدَه أن يجازي صاحبَهُ بجهنَّم بما فيها من العذاب العظيم والخزي المهين وسخط الجبار وفوات الفوز والفلاح وحصول الخيبة والخسار؛ فعياذاً بالله من كلِّ سبب يبعد عن رحمته.
وهذا الوعيد له حكم أمثاله من نصوص الوعيد على بعض الكبائر والمعاصي بالخلود في النار أو حرمان الجنة. وقد اختلف الأئمة رحمهم الله في تأويلها، مع اتفاقهم على بطلان قول الخوارج والمعتزلة الذين يخلِّدونهم في النار ولو كانوا موحِّدين، والصواب في تأويلها ما قاله الإمام المحقِّق شمس الدين ابن القيم رحمه الله في «المدارج» ؛ فإنه قال بعد ما ذكر تأويلات الأئمة في ذلك وانتقدها، فقال:
وقالت فرقةٌ: إن هذه النصوص وأمثالها مما ذُكِرَ فيه المقتضي للعقوبة، ولا يلزم من وجود مقتضى الحكم وجودُه؛ فإن الحكم إنما يتمُّ بوجود مقتضيه وانتفاء موانعه، وغاية هذه النصوص الإعلام بأن كذا سببٌ للعقوبة ومقتضٍ لها، وقد قام الدليل على ذِكْرِ الموانع؛ فبعضُها بالإجماع وبعضُها بالنص؛ فالتوبة مانعٌ بالإجماع، والتوحيد مانعٌ بالنصوص المتواترة التي لا مدفع لها، والحسناتُ العظيمة الماحية مانعةٌ، والمصائب الكبارُ المكفِّرة مانعة، وإقامة الحدود في الدُّنيا مانع بالنصِّ، ولا سبيل إلى تعطيل هذه النصوص، فلا بدَّ من إعمال النصوص من الجانبين، ومن هنا قامت الموازنةُ بين الحسنات والسيئات اعتباراً لمقتضى العقاب ومانعه وإعمالاً لأرجحها. قالوا: وعلى هذا بناء مصالح الدارين ومفاسِدِهما، وعلى هذا بناء الأحكام الشرعية والأحكام القدريَّة، وهو مقتضى الحكمة السارية في الوجود، وبه ارتباط الأسباب ومسبَّباتها خَلْقاً وأمراً، وقد جعل الله سبحانه لكل ضدٍّ ضدًّا يدافِعُه ويقاومه ويكون الحكم للأغلب منهما؛ فالقوة مقتضيةٌ للصحة، والعافية وفساد الأخلاط وبغيها مانعٌ من عمل الطبيعة، وفعل القوة والحكم للغالب منهما، وكذلك قوى الأدوية والأمراض، والعبد يكون فيه مقتضٍ للصحَّة ومقتضٍ للعطب، وأحدُهما يمنع كمال تأثير الآخر ويقاوِمُه؛ فإذا ترجَّح عليه وقهره؛ كان التأثير له، ومن هنا يُعلم انقسام الخلق إلى من يدخل الجنة ولا يدخل النار وعكسه، ومن يدخل النار ثم يخرُجُ منها ويكون مكثه فيها بحسب ما فيه من مقتضى المكث في سرعة الخروج وبطئه، ومن له بصيرةٌ منورةٌ يرى بها كلَّ ما أخبر الله به في كتابه من أمر المعاد وتفاصيلِهِ، حتى كأنه يشاهدُهُ رأي العين، ويعلم أنَّ هذا مقتضى إلهيته سبحانه وربوبيَّته وعزَّته وحكمته، وأنه يستحيل عليه خلاف ذلك، ونسبة ذلك إليه نسبة ما لا يليق به إليه، فيكون نسبة ذلك إلى بصيرته كنسبة الشمس والنجوم إلى بصره، وهذا يقين الإيمان، وهو الذي يحرق السيِّئات كما تحرق النار الحطب، وصاحب هذا المقام من الإيمان يستحيل إصرارُهُ على السيِّئات وإن وقعت منه وكثرت؛ فإنَّ ما معه من نور الإيمان يأمره بتجديد التوبة كلَّ وقت بالرجوع إلى الله في عدد أنفاسه، وهذا من أحبِّ الخلق إلى الله. انتهى كلامه قدَّس الله رُوحه وجزاه عن الإسلام والمسلمين خيراً.