فتوی کفر میں احتیاط کیجیے :
اس مسئلہ میں سیدنا امام مالک ہی وغیرہ کا اعتماد ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل بہرکیف کسی مسئلہ میں نصف مسلمان بھی ایک رائے رکھتے ہوں تو اس کی حیثیت دیگر نزاعی مسائل کی طرح ہوگی۔ کسی کی ذاتی رائے کو دین قرار دیا جائے اور اس کے مخالفین کو سزا سمجھا جائے۔ اور ان کی تکفیر کی جائے تو یہ بات مسلمانوں کے اجماع کے خلاف ہے۔
اب اس مسئلہ مذکورہ میں رسول اللہ کی مخالفت کرنے والا اگر (دوسروں پر) کفر کا فتویٰ لگائے تو حق تو یہ ہے کہ رسول اللہ کی سنت اجماع صحابہ اور علماء امت کا مخالف دراصل کافر ہے۔ ہم اس میں یا دیگر مسائل میں غلطی کی وجہ سے کسی مسلمان کو کافر قرار نہیں دیتے، لیکن اگر بالفرض خطاء کار کی تکفیر کی بھی جائے تو کتاب و سنت اور اجماع صحابہ و اجماع علماء امت کا مخالف کتاب و سنت و صحابہ کرام امت کے سلف صالحین ائمہ عظام کی پیروی کرنے والے کی نسبت کفر کا زیادہ حقدار ہے۔ ائمہ کرام ہی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر نظر و دیگر مسائل میں امر و نواہی کا فرق بیان کیا ہے۔