تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اللہ تعالیٰ کے ساری مخلوق کو پیدا کرنے اور ہر نعمت عطا فرمانے کا تقاضا یہ ہے کہ نہ تو اس کے حق میں تفریط (کمی) کی جائے نہ افراط (زیادتی)۔ کمی یہ ہے کہ اس کی ذات کا انکار کیا جائے، یا اس کی صفات (جس طرح اس نے بیان فرمائی ہیں) میں سے کسی صفت کا انکار کیا جائے، اسے تعطیل کہتے ہیں، یا اسے مخلوق کے مشابہ کہا جائے، اسے تشبیہ کہتے ہیں۔ یا اس کا مطلب ایسا نکالا جائے جس سے اس صفت کا انکار لازم آتا ہو، اسے باطل تاویل یا تحریف کہتے ہیں۔ یا کہا جائے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ اللہ کی صفات مثلاً سمیع یا بصیر وغیرہ کا مطلب کیا ہے، یہ اللہ ہی جانتا ہے، یہ بھی انکار ہی کی ایک صورت ہے، اسے تفویض کہتے ہیں۔ یہ سب اس رحمن کے حق میں تفریط (کمی) ہے اور عدل و قسط کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں افراط (زیادتی) یہ ہے کہ کسی مخلوق کو اس کی ذات یا کسی صفت میں اس کا شریک مانا جائے، یہ اس اکیلے خالق و مالک کے ساتھ سخت ناانصافی اور ظلم عظیم ہے۔ اس لیے ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اس آیت میں مذکور عدل کا معنی ”لا الٰہ الا اللہ“ کی شہادت قرار دیا ہے۔ (طبری بسند حسن: ۲۱۹۹۵)
مخلوق کے بارے میں عدل یہ ہے کہ کسی کو اس کے حق سے نہ کم دیا جائے نہ زیادہ، بلکہ ہر ایک کو اس کا حق پورا پورا دیا جائے، خواہ اپنی ذات پر بوجھ آتا ہو، یا جن کے درمیان آپ فیصلہ کر رہے ہیں ان میں سے کسی ایک سے آپ کی دشمنی یا دوستی ہو، تو کسی کا حق پورا دینے میں وہ دشمنی یا دوستی حائل نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی بہت تاکید فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا: «{ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ }» [النساء: ۵۸] ”اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو۔“ اور فرمایا: «{ وَ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى }» [المائدۃ: ۸] ”اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں ہر گز اس بات کا مجرم نہ بنا دے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔“ اور فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَ الْاَقْرَبِيْنَ اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا }» [النساء: ۱۳۵] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر پوری طرح قائم رہنے والے، اللہ کے لیے شہادت دینے والے بن جاؤ، خواہ تمھاری ذاتوں یا والدین اور زیادہ قرابت والوں کے خلاف ہو، اگر کوئی غنی ہے یا فقیر تو اللہ ان دونوں پر زیادہ حق رکھنے والا ہے۔“
➋ {” الْاِحْسَانِ “} کا مطلب اگر کام کو اچھی طرح کرنا ہو تو اس کی وضاحت حدیث جبریل علیہ السلام میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کے سوال کہ احسان کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں فرمایا: [أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ] [بخاری، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي صلی اللہ علیہ وسلم عن الإیمان و الإسلام…: ۵۰۔ مسلم: ۸] ”احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو جیسے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، سو اگر تم اسے نہ دیکھتے ہو تو وہ تمھیں دیکھتا ہے۔“ ظاہر ہے نگرانی کے احساس کے ساتھ ہر کام کرنے والا کام کو اچھے سے اچھا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر ہر کام نماز، روزہ، صدقہ، حج، تجارت، صنعت، زراعت اور مزدوری کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی نگرانی دل میں حاضر ہو کہ پروردگار عالم مجھے دیکھ رہا ہے، تو یقینا انسان ہر عمل بہترین طریقے سے کرے گا اور ہر گناہ سے بچے گا۔
اور اگر {”إِلٰي“ } کی وجہ سے کسی دوسرے پر احسان مراد ہو تو اس کی بہترین مثال بنی اسرائیل کا قارون سے یہ کہنا ہے: «{ وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ }» [القصص: ۷۷] ”اور احسان کر جیسے اللہ نے تجھ پر احسان کیا ہے۔“ اللہ نے انسان کو جو کچھ دیا ہے کسی بدلے کی خاطر نہیں دیا، بلکہ یہ اس کا احسان اور بے حد لطف و کرم ہے کہ اس نے مخلوق کے کسی حق کے بغیر جو اللہ کے ذمے ہو، ہر نعمت انھیں مفت دی۔ مقصد یہ کہ انسان مخلوق کے ساتھ اس سے کسی معاوضے کی امید کے بغیر اچھا سلوک کرے، اسے اس کے حق سے زیادہ دے دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے ساتھ بھی احسان کا حکم دیا اور بتایا کہ کس طرح ایک فاحشہ عورت کتے کو پانی پلانے کے عوض جنت میں گئی اور ایک عورت بلی کو باندھ کر بھوکا مارنے کی پاداش میں جہنم میں گئی۔ (دیکھیے بخاری، ۳۳۲۱، ۲۳۶۵) حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوْا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، فَلْيُرِحْ ذَبِيْحَتَهُ] [مسلم، الصید والذبائح، باب الأمر بإحسان الذبح والقتل…: ۱۹۵۵، عن شداد بن أوس رضی اللہ عنہ] ”اللہ نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض کیا ہے، تو جب قتل کرو تو اس کا اچھا طریقہ اختیار کرو (یعنی ایذا دے دے کر نہ مارو اور نہ مثلہ کرو) اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے کرو، اپنی چھری کو تیز کر لو اور اپنے ذبیحے کو آرام پہنچاؤ۔“ قرآن مجید میں کئی جگہ احسان کا حکم اور اس کی فضیلت مذکور ہے، فرمایا: «{ وَ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا }» [البقرۃ: ۸۳۔ بنی إسرائیل: ۲۳] ”اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔“ اور فرمایا: «{ وَ اَحْسِنُوْا اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ }» [البقرۃ: ۱۹۵] ”اور نیکی کرو، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔“ اور فرمایا: «{ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ }» [الأعراف: ۵۶] ”بے شک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔“ اور فرمایا: «{ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ }» [العنکبوت: ۶۹] ”اور بلاشبہ اللہ یقینا نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔“
➌ {وَ اِيْتَآئِ ذِي الْقُرْبٰى:} اگرچہ یہ بھی احسان میں شامل تھا، مگر اس کی خاص تاکید کے لیے اسے الگ بھی بیان فرمایا، کیونکہ قرابت والوں کا حق زیادہ ہے اور انھیں دینا ویسے بھی مشکل ہوتا ہے، کیونکہ وہ کم ہی احسان مند ہوتے ہیں اور باہمی رنجشیں بھی دینے لینے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ {” ذِي الْقُرْبٰى “} کو دینے کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ روم (۳۸)، بنی اسرائیل (۲۶)، بقرہ (۱۷۷) اور سورۂ بلد (۱۴، ۱۵) وغیرہ۔
➍ {وَ يَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْيِ: ” الْفَحْشَآءِ “} وہ گناہ جو برائی میں حد سے بڑھے ہوئے ہوں، مثلاً زنا اور قوم لوط کا عمل، سورۂ بقرہ میں شدید بخل کو بھی {” الْفَحْشَآءِ “} فرمایا۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۶۸) {” الْمُنْكَرِ “} ایسی برائیاں جن کا عقل انکار کرتی ہو اور فطرت انسانی بھی انھیں برا سمجھتی ہو۔ {” الْبَغْيِ “} کسی پر ظلم، زیادتی، زبان درازی یا دست درازی کرنا، سرکشی کرنا۔
➎ اس آیت میں تین بھلائیوں (عدل، احسان، ایتاء ذی القربیٰ) کا حکم دیا گیا ہے، جن میں تمام بنیادی نیکیاں آ جاتی ہیں اور تین برائیوں (فحشاء، منکر، بغی) سے منع کیا گیا ہے جو مسلمانوں کے تمام انفرادی اور اجتماعی معاملات کو بگاڑ کر رکھ دینے والی ہیں، اس لیے یہ قرآن مجید کی جامع ترین آیات میں سے ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔
اور اس روایت بالعدل قامت السمٰوت والارض (یعنی زمین و آسمان عدل کے سہارے قائم ہیں) کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کے سیاروں میں اس قدر توازن و تناسب اور ہم آہنگی ہے کہ اگر ان کی کشش اور حرکت میں ذرا بھی کمی بیشی ہو جائے تو زمین اور آسمان ایک دوسرے سے ٹکرا کر کائنات کو فنا کر دیں۔ اور عدل کا اطلاق ظاہری اور باطنی سب امور پر یکساں ہوتا ہے۔ (فقہ اللغۃ 194 از ثعالبی) قرآن کریم کی درج ذیل آیت پہلے معنی میں استعمال ہوئی ہے۔﴿ الَّذِيْ خَلَقَكَ فَسَوّيٰكَ فَعَدَلَكَ﴾ [7: 82] جس نے تجھے پیدا کیا اور (تیرے اعضاء) کو ٹھیک کیا اور (تیرے قدو قامت اور مزاج) کو معتدل رکھا۔ پھر اسی پہلے معنی کے لحاظ سے دو مزید معنی بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔
(1) برابری کے معنوں میں جیسے ارشاد باری ہے: ﴿أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَٰلِكَ صِيَامًا﴾ [95: 5] یا کفارہ دے جو مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے یا اس کے برابر روزے رکھے۔
(2) عوض، بدلہ یا معاوضہ کے معنی ہیں جیسے ارشاد باری ہے: ﴿وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ﴾ [48: 2] نہ اس سے سفارش قبول کی جائے گی اور نہ ہی اس سے کسی طرح کا بدلہ قبول کیا جائے گا۔ اور عدل کا دوسرا بنیادی معنی کسی کو اس کا جائز حق دینا ہے اور یہ کام کسی ملک کی عدلیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں جو عدل کا معنی انصاف کیا جاتا ہے۔ یہ عدل کا مفہوم ادا نہیں کرتا۔ انصاف کا مفہوم یہ ہے کہ اگر ایک چیز کی ملکیت کے دو دعویدار ہیں تو اس چیز کو ان میں آدھا آدھا بانٹ دیا جائے جبکہ عدل کا مفہوم یہ ہے کہ فریقین کے بیان سن کر عدالت تحقیق کرے کہ اس میں فلاں فریق کا کچھ حق ہے بھی یا نہیں اور اگر ہے تو کتنا ہے؟ اگر ایک فریق کا حق صرف پانچواں حصہ ہے تو اسے اتنا ہی دلائے۔ اور اگر ایک فریق کا کچھ بھی حق نہیں بنتا تو اسے کچھ بھی نہ دلائے۔ درج ذیل آیت اسی معنی میں ہے: ﴿اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ للتَّقْويٰ﴾ [8: 5] عدل کیا کرو، یہی بات تقویٰ سے قریب تر ہے۔
2۔
3۔
1۔
2۔
3۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور آیت میں فرمایا «وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّـهِ» ۱؎ [42-اشوریٰ:40] ’ اس کا اجر خدا کے ہاں ملے گا ‘۔
ایک اور آیت میں ہے «وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ» ۱؎ [5-المائدہ:45] ’ زخموں کا قصاص ہے لیکن جو درگزر کر جائے اس کے گناہوں کی معافی ہے ‘۔
پس عدل تو فرض، احسان نفل اور کلمہ تو حید کی شہادت بھی عدل ہے۔ ظاہر باطن کی پاکیزگی بھی عدل ہے اور احسان یہ ہے کہ پاکی صفائی ظاہر سے بھی زیادہ ہو۔ اور فحشاء اور منکر یہ ہے کہ باطن میں کھوٹ ہو اور ظاہر میں بناوٹ ہو۔ وہ صلہ رحمی کا بھی حکم دیتا ہے۔
جیسے صاف لفظوں میں ارشاد آیت «وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:26]، ’ رشتے داروں، مسکینوں، مسافروں کو ان کا حق دو اور بے جا خرچ نہ کرو ‘۔ محرمات سے وہ تمہیں روکتا ہے، برائیوں سے منع کرتا ہے ظاہری باطنی تمام برائیاں حرام ہیں، لوگوں پر ظلم و زیادتی حرام ہے۔
حدیث میں ہے کہ { کوئی گناہ ظلم و زیادتی اور قطع رحمی سے بڑھ کر ایسا نہیں کہ دنیا میں بھی جلدی ہی اس کا بدلہ ملے اور اخرت میں بھی سخت پکڑ ہو }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4902، قال الشيخ الألباني:صحیح]
اللہ کے یہ احکام اور یہ نواہی تمہاری نصیحت کے لیے ہیں جو اچھی عادتیں ہیں، ان کا حکم قرآن نے دیا ہے «قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ» ۱؎ [7-الأعراف:33] اور جو بری خصلتیں لوگوں میں ہیں ان سے اللہ تعالیٰ نے روک دیا ہے، بد خلقی اور برائی سے اس نے ممانعت کر دی ہے۔
حدیث شریف میں ہے { بہترین اخلاق اللہ کو پسند ہیں اور بد خلقی کو وہ مکروہ رکھتا ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1378]
دو شخص اس خدمت کی انجام دہی کے لیے تیار ہوئے یہاں آکر انہوں نے کہا کہ ہم اکثم بن صیفی کے قاصد ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں اور کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ میں محمد بن عبداللہ ہوں صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت انہیں پڑھ کر سنائی انہوں نے کہا دوبارہ پڑھئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پڑھی، یہاں تک کہ انہوں نے یاد کرلی۔
پھر واپس جا کر اکثم کو خبر دی اور کہا اپنے نسب پر اس نے کوئی فخر نہیں کیا۔ صرف اپنا اور اپنے والد کا نام بتا دیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہیں وہ بڑے نسب والے، مضر میں اعلی خاندان کے ہیں اور پھر یہ کلمات ہمیں تعلیم فرمائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ہم نے سنے۔ یہ سن کر اکثم نے کہا وہ تو بڑی اچھی اور اعلی باتیں سکھاتے ہیں اور بری اور سفلی باتوں سے روکتے ہیں۔ میرے قبیلے کے لوگو تم اسلام کی طرف سبقت کرو تاکہ تم دوسروں پر سرداری کرو اور دوسروں کے ہاتھوں میں دمیں بن کر نہ رہ جاؤ۔
وہ یہ سب دیکھ رہا تھا، اس سے صبر نہ ہو سکا، پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کئی بار بیٹھنے کا اتفاق ہوا لیکن آج جیسا منظر تو کبھی نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا { تم نے کیا دیکھا؟ } اس نے کہا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی پھر نیچیں کرلی اور اپنے دائیں طرف دیکھنے لگے اور اسی طرف گھوم کر بیٹھ گئے، مجھے چھوڑ دیا، پھر اس طرح سر ہلانے لگے جیسے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کہہ رہا ہو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اچھی طرح سن سمجھ رہے ہوں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اچھا تم نے یہ سب کچھ دیکھا؟ } اس نے کہا برابر دیکھتا ہی رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرے پاس اللہ کا نازل کردہ فرشتہ وحی لے کر آیا تھا }، اس نے کہا اللہ کا بھیجا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں، ہاں اللہ کا بھیجا ہوا }۔ پوچھا پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھ سنائی۔ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسی وقت میرے دل میں ایمان بیٹھ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے میرے دل میں گھر کرلیا }۔ ۱؎ [مسند احمد:318/1:ضعیف]
ایک اور روایت میں عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہیں اوپر کو اٹھائیں اور فرمایا: { جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اس آیت کو اس سورت کی اس جگہ رکھوں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:218/4:ضعیف] یہ روایت بھی صحیح ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فالعدل الذي أمر الله به يشملُ العدلَ في حقِّه وفي حقِّ عباده؛ فالعدلُ في ذلك أداءُ الحقوق كاملةً موفورةً؛ بأن يؤدِّيَ العبد ما أوجب الله عليه من الحقوق الماليَّة والبدنيَّة والمركَّبة منهما في حقِّه وحقِّ عباده، ويعامل الخلق بالعدل التامِّ، فيؤدِّي كلُّ والٍ ما عليه تحت ولايتِهِ، سواء في ذلك ولاية الإمامة الكبرى وولاية القضاء ونواب الخليفة ونواب القاضي. والعدل: هو ما فَرَضَه الله عليهم في كتابه وعلى لسان رسوله وأمرهم بسلوكه، ومن العدل في المعاملات أن تعامِلَهم في عقود البيع والشراء وسائر المعاوضات بإيفاء جميع ما عليك؛ فلا تبخسُ لهم حقًّا، ولا تغشُّهم ولا تخدعُهم وتظلِمُهم؛ فالعدل واجبٌ، والإحسان فضيلةٌ مستحبٌّ، وذلك كنفع الناس بالمال والبدن والعلم وغير ذلك من أنواع النفع، حتى يدخلَ فيه الإحسان إلى الحيوان البهيم المأكول وغيره، وخصَّ الله إيتاء ذي القُربى وإن كان داخلاً في العموم؛ لتأكُّد حقِّهم وتعيُّن صلتهم وبرِّهم والحرص على ذلك، ويدخل في ذلك جميع الأقارب؛ قريبهم وبعيدهم، لكن كلُّ مَن كان أقربَ كان أحقَّ بالبرِّ. وقوله: {وينهى عن الفحشاءِ}: وهو كلُّ ذنبٍ عظيم استفحشته الشرائعُ والفِطَر؛ كالشركِ بالله والقتل بغير حقٍّ والزِّنا والسرقة والعُجب والكِبْر واحتقار الخلق وغير ذلك من الفواحش، ويدخل في المنكر كلُّ ذنبٍ ومعصيةٍ متعلِّق بحقِّ الله تعالى، وبالبغي كلُّ عدوان على الخلق في الدِّماء والأموال والأعراض. فصارت هذه الآية جامعةً لجميع المأمورات والمنهيَّات، لم يبقَ شيءٌ إلاَّ دخل فيها. فهذه قاعدةٌ ترجع إليها سائر الجزئيَّات؛ فكلُّ مسألة مشتملة على عدل أو إحسان أو إيتاء ذي القربى؛ فهي مما أمر الله به، وكلُّ مسألةٍ مشتملة على فحشاء أو منكَر أو بغي؛ فهي مما نهى الله عنه، وبها يُعْلَمُ حُسنُ ما أمر الله به وقُبح ما نهى عنه، وبها يُعتبر ما عند الناس من الأقوال، وتردُّ إليها سائر الأحوال؛ فتبارَكَ مَن جعل في كلامِهِ الهدى والشفاء والنور والفرقان بين جميع الأشياء، ولهذا قال: {يعظِكُم}؛ به، أي: بما بيَّنه لكم في كتابه بأمركم بما فيه غاية صلاحكم ونهيكم عما فيه مضرَّتكم. {لعلَّكم تذكَّرون}: ما يعظِكُم به فتفهمونه وتعقِلونه؛ فإنَّكم إذا تذكَّرتموه وعقلتموه؛ عملتم بمقتضاه، فسعدتُم سعادةً لا شقاوة معها.