ابن زیاد کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ طرز عمل

فونٹ سائز:
مرتب کردہ: ابو عبیدہ محمد ثاقب
مضمون کے اہم نکات

ابن زیاد کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ طرز عمل

ابن زیاد کا صرف یہی جرم نہیں تھا کے اس نے نواسہ رسول سیدنا حسین رضي اللہ عنہ کو شہید کروایا، بلکہ وہ تو دیگر صحابہ کرام کا بے ادب اور گستاخ تھا۔

سیدنا ابو برزہ الاسلمی رضي اللہ عنہ کی گستاخی:

حدثنا مسلم بن إبراهيم، أخبرنا عبد السلام بن أبي حازم أبو طالوت، قال: شهدت أبا برزة دخل على عبيد الله بن زياد، فحدثني فلان، سماه مسلم، وكان في السماط، فلما رآه عبيد الله، قال: إن محمديكم هذا الدحداح، ففهمها الشيخ، فقال: ما كنت أحسب أني أبقى في قوم يعيروني بصحبة محمد صلى الله عليه وسلم، فقال له عبيد الله: إن صحبة محمد صلى الله عليه وسلم لك زين، غير شين، قال: إنما بعثت إليك لأسألك عن الحوض، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر فيه شيئا، فقال له أبو برزة: نعم، لا مرة، ولا ثنتين، ولا ثلاثا، ولا أربعا، ولا خمسا، فمن كذب به، فلا سقاه الله منه، ثم خرج مغضبا.

عبدالسلام بن ابی حازم ابوطالوت بیان کرتے ہیں کہ:میں نے ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ عبیداللہ بن زیاد کے ہاں گئے ، پھر مجھ سے فلاں شخص نے بیان کیا جو ان کی جماعت میں شریک تھا ، ( مسلم نے اس کا نام ذکر کیا ہے ) جب انہیں عبیداللہ نے دیکھا تو بولا : دیکھو تمہارا یہ محمدی موٹا ٹھگنا ہے، تو شیخ ( ابوبرزہ ) اس کے اس طعنہ اور توہین کو سمجھ گئے اور بولے : مجھے یہ گمان نہ تھا کہ میں ایسے لوگوں میں باقی رہ جاؤں گا جو محمد ﷺ کی صحبت کا مجھے طعنہ دیں گے ، تو عبیداللہ نے ان سے کہا : محمد ﷺ کی صحبت تو آپ کے لیے فخر کی بات ہے ، نہ کہ عیب کی ، پھر کہنے لگا : میں نے آپ کو اس لیے بلایا ہے کہ میں آپ سے حوض کوثر کے بارے میں معلوم کروں ، کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق کچھ ذکر فرماتے سنا ہے ؟ تو ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ہاں ایک بار نہیں ، دو بار نہیں ، تین بار نہیں ، چار بار نہیں ، پانچ بار نہیں ( یعنی بہت بار سنا ہے ) تو جو شخص اسے جھٹلائے اللہ اسے اس حوض میں سے نہ پلائے ، پھر غصے میں وہ نکل کر چلے گئے ۔

(سنن ابی داؤد:4749)،(مسند احمد ط الرسالۃ:19779)

ابن زیاد نے بطور تمسخر سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ کو ”دحداح“، ”موٹا ٹھنگنا“ کہا اور پھر بطور طنز ان کو ”محمدی“ کہا جس پر سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا، کیونکہ اس سے جناب رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ عالی کی اہانت جھلکتی ہے۔ ابن زیاد کی یہ بد نصیبی تھی کہ ایک بزرگ صحابی کے لیے اس نے اس طرح کے الفاظ استعمال کیے۔

سیدنا عائذ بن عمرو رضي اللہ عنہ کی گستاخی:

حدثنا الحسن، أن عائذ بن عمرو، وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، دخل على عبيد الله بن زياد، فقال: أي بني إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: إن شر الرعاء الحطمة، فإياك أن تكون منهم، فقال له: اجلس، فإنما أنت من نخالة أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم، فقال: وهل كانت لهم نخالة؟، إنما كانت النخالة بعدهم وفي غيرهم.

حضرت حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائذ بن عمرہ رضی اللہ تعالی عنہ جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں میں سے ہیں، عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے اور کہا، اے بیٹے! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے، بدترین، ذلیل (نگران) سخت گیر ہے تو ان میں سے ہونے سے بچاؤ کر۔تو اس نے جواب دیا، بیٹھئے، تو تو بس محمد ﷺ کے ساتھیوں کا چھان بورا ہے، تو حضرت عائذ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، کیا ان میں چھان بورا بھی تھا؟ چھان بورا تو ان کے بعد اور دوسروں میں پیدا ہوا۔ [صحیح المسلم:1830]

علامہ ابن الجوزی فرماتے ہیں:

قال عبيد الله بن زياد لعائذ: أنت من نخالة أصحاب محمد، أي من رذالتهم. وهذه جرأة قبيحة من ذلك الفاسق على أقوام قد عمهم الله بالشهادة لهم بالخير، فقال:[مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ] [الفتح: 29] وقال النبي صلى الله عليه وسلم: ” لا تسبوا أصحابي، فلو أنفق أحدكم مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه.

عبید اللہ بن زیاد نے عائذ سے کہا: تم محمد ﷺ کے صحابہ کے نخالہ میں سے ہو، یعنی ان کے کم تر اور ردی لوگوں میں سے ہو۔یہ اس فاسق کی طرف سے ان لوگوں کے بارے میں نہایت قبیح جرأت تھی جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر خیر کی شہادت دی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[محمد اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں] اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

میرے صحابہ کو برا نہ کہو، کیونکہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرے تو وہ ان کے ایک مُد، بلکہ آدھے مُد کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔

[كشف المشكل من حديث الصحيحين(ابن الجوزي):2/31 الرقم:501]

سیدنا زيد بن ارقم رضی اللہ عنہ کی گستاخی:

قال يزيد بن حيان: حدثنا زيد بن أرقم في مجلسه ذلك، قال: بعث إلي عبيد الله بن زياد، فأتيته، فقال: ما أحاديث تحدثها وترويها عن رسول الله صلى الله عليه وسلم لا نجدها في كتاب الله عز وجل؟ تحدث أن له حوضا في الجنة! قال: قد حدثناه رسول الله صلى الله عليه وسلم ووعدناه. قال: كذبت، ولكنك شيخ قد خرفت. قال: إني قد سمعته أذناي، ووعاه قلبي من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من كذب علي متعمدا، فليتبوأ مقعده من جهنم، وما كذبت على رسول الله صلى الله عليه وسلم. وحدثنا زيد، في مجلسه، قال: إن الرجل من أهل النار ليعظم للنار حتى يكون الضرس من أضراسه كأحد.

یزید بن حیان کہتے ہیں کہ اسی مجلس میں (جس کا تذکرہ پچھلی حدیث میں ہوا) حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا کہ ایک مرتبہ مجھے عبیداللہ بن زیادنے پیغام بھیج کر بلایا میں اس کے پاس پہنچا تو وہ کہنے لگا کہ یہ آپ کون سی احادیث نبی کریم ﷺ کے حوالے سے نقل کرتے رہتے ہیں جو ہمیں کتاب اللہ میں نہیں ملتیں ؟ آپ بیان کرتے ہیں کہ جنت میں نبی کریم ﷺ کا ایک حوض ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ بات تو نبی کریم ﷺ نے خود ہم سے فرمائی تھی اور ہم سے اس کا وعدہ کیا تھا وہ کہنے لگا کہ آپ جھوٹ بولتے ہیں آپ بوڑھے ہوگئے ہیں اس لئے آپ کی عقل کام نہیں کررہی انہوں نے فرمایا میں نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاداپنے کانوں سے سنا ہے اور دل میں محفوظ کیا ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کسی نسبت کرتا ہے اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے اور میں نے نبی کریم ﷺ پر کبھی جھوٹ نہیں باندھا۔ اور اسی مجلس میں حضرت زید رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بھی ہمارے سامنے بیان فرمائی کہ جہنم میں جہنمی آدمی کا جسم بھی بہت پھیل جائے گا حتی کہ اس کی ایک ڈاڑھ احد پہاڑ کے برابر ہو جائے گی۔

[مسند أحمد-ط الرسالة:19266، المعجم الكبير للطبراني:5021]

یہ تھا ابن زیاد جس کی بے جاوکالت میں آج بعض لوگ پاگل ہوئے جارہے ہیں۔ اصحاب محمد ﷺ کا بہت بڑا گستاخ اور استخفاف و استحقار حدیث کا شکار۔

خلاصہ یہ ہے کہ:

عبید اللہ بن زیاد کا کردار صرف سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل میں حکومتی آمر، منتظم اور ذمہ دار ہونے تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس کا عمومی طرزِ عمل اہلِ بیت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں نہایت گستاخانہ، ظالمانہ اور قابلِ مذمت تھا۔

اس نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف لشکر کشی کا انتظام کیا، قاتل لشکر کو روانہ کیا، اور آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد بھی بے ادبی اور سنگ دلی کا مظاہرہ کیا۔ اسی طرح اس کے رویے سے واضح ہوتا ہے کہ وہ جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام و مرتبہ کا پاس رکھنے والا شخص نہ تھا؛ بلکہ اس کی زبان اور طرزِ گفتگو میں صحابہ کے لیے تحقیر، طعن اور استخفاف پایا جاتا تھا۔

نوٹ: یہ حصہ مولانا ارشد کمال حفظہ اللہ کے مضمون (عبیداللہ بن زیاد)سے ماخوذ ہے۔ (نور الحدیث:شمارہ جنوری تا فروری 2021 ص39 تا42)