مضمون کے اہم نکات
سجدوں میں رفع الیدین!
رسول اللہ ﷺ سے سجدوں کے درمیان رفع الیدین کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ اس پر پیش کیے جانے والے دلائل کا جائزہ پیشِ خدمت ہے:
① سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
[إنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الركوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من السجود، حتىٰ يحاذي بهما فروع أذنيه]
نبی کریم ﷺ کو رکوع جاتے، رکوع سے سر اٹھاتے، سجدہ کرتے اور سجدہ سے سر اٹھاتے وقت اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ ان دونوں کو دونوں کانوں کی لو کے برابر کر دیتے۔
[سنن النسائي: ح 1086،1144]
تبصرہ:
یہ روایت ’’ضعیف‘‘ ہے۔ اس میں قتادہ ’’مدلس‘‘ ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔ انہیں علامہ طحاوی حنفی رحمہ اللہ نے ’’مدلس‘‘ کہا ہے۔ (شرح مشكل الآثار: 226/3)
علامہ عینی حنفی لکھتے ہیں:
[إن قتادة مدلس، لا يحتج بعنعنته إلا إذا ثبت سماعه]
قتادہ مدلس ہیں، ان کی معنعن روایت سے حجت نہیں لی جائے گی، الا کہ سماع ثابت ہو جائے۔
[عمدة القاري: 261/1]
فائدہ:
یہ روایت السنن الکبریٰ للنسائی (228/1، ح: 673، وفي نسخہ: 343/1، ح: 676، مؤسسة الرسالة) میں ابن ابی عدی عن سعید عن قتادہ کی سند سے موجود ہے، نیز دیکھیں الجوہر النقی از ابن الترکمانی حنفی (137/2)یہی صحیح ہے۔ شعبہ عن قتادہ تصحیف (کتابت کی غلطی) ہے۔
② نضر بن کثیر ابو سہل ازدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
منیٰ میں مسجد خیف میں عبداللہ بن طاؤس نے میرے پہلو میں نماز پڑھی۔ جب انہوں نے پہلے سجدے سے سر اٹھایا تو اپنے چہرے کے سامنے رفع الیدین کیا۔ میں نے اس بات کو عجیب سمجھا اور اس کا ذکر وہیب بن خالد سے کیا کہ یہ ایسا کرتے ہیں۔ میں نے ایسا کرتے کسی کو نہیں دیکھا، تو وہیب نے عبداللہ بن طاؤس سے کہا: آپ یہ کام کرتے ہیں۔ میں نے ایسا کرتے کسی کو نہیں دیکھا۔ اس پر عبداللہ بن طاؤس نے کہا: میں نے اپنے والد کو ایسا کرتے دیکھا تھا، میرے والد نے کہا تھا کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ایسا کرتے دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔
[سنن النسائي: 1147]
تبصرہ:
اس کی سند ’’ضعیف‘‘ ہے۔ اس میں نضر بن کثیر ’’ضعیف‘‘ ہے۔
[الكاشف للذهبي: 180/3، تقريب التهذيب لابن حجر: 7147]
③ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[إن النبي صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه في الركوع والسجود]
نبی کریم ﷺ رکوع اور سجدے میں رفع الیدین فرماتے تھے۔
[مسند أبي يعلى: 399/6، ح: 3752، وسنده صحيح]
تبصرہ:
① اس حدیث کا اس مسئلے سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین پر دلیل ہے۔ اس کا مفہوم و ترجمہ یہ ہے:
نبی اکرم ﷺ رکوع (سے پہلے) اور سجود (سجدہ کو جانے سے پہلے رکوع کے بعد قیام) میں رفع الیدین کرتے تھے۔
❀ یہ روایت اسی سند کے ساتھ ان الفاظ سے بھی مروی ہے:
[رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع يديه إذا افتتح الصلاة، وإذا ركع، وإذا رفع رأسه من الركوع]
میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز شروع کرتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے دیکھا۔
[مسند أبي يعلى: 3793]
احادیث ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں۔
فائدہ:
❀ یحییٰ بن ابی اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں:
[رأيت أنس بن مالك يرفع يديه بين السجدتين]
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو سجدوں میں رفع الیدین کرتے دیکھا۔
[جزء رفع اليدين للبخاري: 105، وسنده صحيح]
❀ یہاں سجدوں سے مراد دو رکعتیں ہیں، یعنی دو رکعتوں سے اٹھ کر آپ ﷺ رفع الیدین کرتے تھے۔ اس طرح سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا عمل صحیح احادیث کے موافق ہو جائے گا۔ اگر اس سے مراد سجدے ہی لیے جائیں، تو یہ عمل صحیح احادیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے نا قابلِ قبول ہو گا۔
جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[حديث النبي صلى الله عليه وسلم أولىٰ]
نبی کریم ﷺ کی حدیث (تسلیم و عمل کے) زیادہ قابل ہے۔
اگر اس سے سجدہ والا رفع الیدین مراد لیا جائے تو جو حضرات ضعیف اور غیر صریح روایات سے سجدہ کا رفع الیدین ثابت کر کے منسوخ گردانتے ہیں، ان کا دعویٰ خطا ہو جائے گا، کیونکہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے بعد ایسا کر رہے ہیں۔ لہٰذا مرفوع احادیث اور آثارِ صحابہ کے درمیان جمع و تطبیق ہی زیادہ بہتر ہے۔
④ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
[إن النبي صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه عند التكبير للركوع، وعند التكبير حين يهوي ساجدا]
نبی کریم ﷺ رکوع کے لیے جب اللہ اکبر کہتے، تو رفع الیدین کرتے اور (رکوع کے بعد) سجدہ کو جاتے وقت اللہ اکبر کہتے، تو رفع الیدین کرتے۔
[المعجم الأوسط للطبراني: 39/1، ح: 16]
تبصرہ:
یہ رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرنے پر زبردست دلیل ہے۔ اس میں دونوں سجدوں کے رفع الیدین کا کوئی ذکر نہیں۔
⑤ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
[رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع يديه في الصلاة حذو منكبيه حين يفتتح الصلاة، وحين يركع، وحين يسجد]
میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز شروع کرتے، رکوع جاتے اور سجدہ کرتے وقت رفع الیدین کرتے دیکھا۔ [سنن ابن ماجه: ح860]
تبصرہ:
① یہ روایت ’’ضعیف‘‘ ہے۔ اسماعیل بن عیاش کی روایت حجازیوں سے جمہور کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ ہوتی ہے۔ اس کا استاذ صالح بن کیسان بھی حجازی ہے، لہٰذا یہ روایت جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہوئی۔
② یہ رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین پر دلیل ہے۔
[حين يسجد] کا مطلب ہے کہ جب رکوع کے بعد قیام سے سجدہ کے لیے جاتے، تو رفع الیدین کرتے تھے۔
⑥ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا كبر للصلاة جعل يديه حذو منكبيه، وإذا ركع فعل مثل ذٰلك، وإذا رفع للسجود فعل مثل ذٰلك، وإذا قام من الركعتين فعل مثل ذٰلك]
رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے اللہ اکبر کہتے، تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتے، جب رکوع کرتے، تو اسی طرح کرتے، جب سجدہ کو جانے کے لیے (رکوع سے) اٹھتے، تو اسی طرح کرتے اور جب دو رکعتوں سے اٹھتے، تو اسی طرح رفع الیدین کرتے تھے۔
[سنن أبي داؤد: 738، وسنده حسن]
تبصرہ:
یہ حدیث نماز شروع کرتے، رکوع جاتے، رکوع سے سر اٹھاتے اور دو رکعتوں سے اٹھ کر رفع الیدین کرنے پر زبردست دلیل ہے۔ ولله الحمد!
حافظ نووی رحمہ اللہ رَفَعَ لِلسُّجُودِ کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
[يعني، رفع رأسه من الركوع]
یعنی اپنا سر رکوع سے اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے۔
[خلاصة الأحكام: 352/1]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
[وإذا ركع، وإذا رفع للسجود، وهو مفسر للرواية الأولى التي فيها: وإذا سجد، وأن المراد بها: وإذا رفع من الركوع للسجود]
وإذا ركع، وإذا رفع للسجود یہ حدیث پہلی روایت کی تفسير بیان کرتی ہے، جس میں سجدہ میں جاتے وقت رفع الیدین کا ذکر ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب سجدہ کے لیے رکوع سے سر اٹھاتے۔
[موافقة الخبر الخبر: 410/1]
⑦ حصین بن عبدالرحمن کہتے ہیں:
کہ ہم ابراہیم نخعی کے پاس گئے، تو عمرو بن مرہ نے کہا: ہم نے حضرموت کی مسجد میں نماز پڑھی، تو علقمہ بن وائل نے اپنے والد وائل رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا:
[يرفع يديه حين يفتتح الصلاة، وإذا ركع، وإذا سجد]
آپ ﷺ نماز شروع کرتے، رکوع جاتے اور سجدہ کرتے وقت رفع الیدین کرتے۔
ابراہیم نخعی نے کہا کہ میرے خیال میں تو آپ کے والد نے رسول اللہ ﷺ کو اسی ایک دن دیکھا تھا، تو آپ سے یہ بات یاد رہی۔ عبداللہ نے یاد نہیں کی، پھر ابراہیم نخعی نے کہا: رفع الیدین صرف نماز کے شروع میں ہے۔
[سنن الدارقطني: 291/1، ح: 1108]
تبصرہ:
❀ یہ حدیث نماز کے شروع میں، رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین پر دلیل ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز شروع کرتے، جب رکوع کا ارادہ کرتے اور جب (رکوع کے بعد قیام میں) سجدہ (کا ارادہ) کرتے، تو رفع الیدین کرتے۔ کیونکہ صحیح مسلم (ح: 401) میں رفع الیدین کے ثبوت پر سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث اس حدیث کے مفہوم و مطلب کو واضح کرتی ہے۔ اس میں رکوع کے بعد رفع الیدین کا ذکر ہے۔
❀ باقی رہا ابراہیم نخعی کا قول تو یہ احادیثِ متواترہ اور آثارِ صحابہ و تابعین کے خلاف ہونے کی وجہ سے نا قابلِ قبول ہے۔
لہٰذا یہ دونوں حدیثیں رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین پر دلیل بنتی ہیں۔
علامہ عبدالحق دہلوی رحمہ اللہ (1052ھ) فرماتے ہیں:
[لم يصح رفع اليدين في السجدتين والرفع عنهما]
سجدوں کے درمیان اور سجدوں سے اٹھتے وقت رفع الیدین ثابت نہیں۔
[لمعات التنقيح: 548/2]
الحاصل:
رسول اللہ ﷺ سے باسندِ صحیح سجدوں کے درمیان رفع الیدین کرنا ثابت نہیں۔