نبی کریم ﷺ کا طریقہ نماز صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

نبی کریم ﷺ کا طریقہ نماز

◈نماز کی نیت:

جس نماز کی ادائیگی کا ارادہ ہو، فرض ہو یا نفل دل میں اس کی نیت کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
إنما الأعمال بالنيات
”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔“
صحیح بخاري، کتاب الإيمان والنذور، رقم: 6689۔ صحیح مسلم، رقم: 1907.
نیت کا محل دل ہے، لہذا زبان سے نیت کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قطعی ثابت نہیں ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”الفاظ سے نیت کرنا علماء مسلمین میں سے کسی کے نزدیک بھی مشروع نہیں۔“
الفتاوى الكبرى.

◈تکبیر تحریمہ:

سجدہ کی جگہ پر نظر رکھ کر ”اللہ اکبر“ کے الفاظ سے تکبیر تحریمہ کہے۔
سنن ابن ماجه، کتاب إقامة الصلوات والسنة فيها، رقم: 803 البحر الزخار : 168/2 – البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔

◈رفع الیدین:

تکبیر کہتے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر یا کانوں کی لو تک اٹھائے۔
صحیح بخاري، کتاب الأذان، باب رفع اليدين في التكبيرة الأولى مع الإفتتاح سواء، رقم: 735۔ صحیح مسلم، کتاب الصلاة، رقم: 390، 391

◈سینے پر ہاتھ باندھنا:

پھر دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر سینے پر باندھ لے۔ چنانچہ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ووضع يده اليمنى على اليسرى على صدره
” میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، تو آپ نے اپنے ہاتھ، دایاں ہاتھ، بائیں ہاتھ پر رکھ کر، سینے پر باندھے۔“
صحیح ابن خزیمه، رقم: 479 ۔ ابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے۔

◈استفتاح کی دعائیں:

تکبیر تحریمہ کے بعد قرآت شروع کرنے سے پہلے دعائے استفتاح پڑھنا مسنون ہے، جو یہ ہے:
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ
” اے اللہ ! تو پاک ہے، تیری ہی تعریف ہے، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان سب سے اونچی ہے اور تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔“
سنن ترمذی، ابواب الصلوة، رقم: 243 – سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، رقم: 775-776- سنن ابن ماجه، کتاب اقامة الصلاة، رقم: 806- مستدرك حاكم: 1/ 235 ۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے اس پر ان کی موافقت کی ہے۔
➋ اگر چاہے تو اس کے علاوہ یہ دعا پڑھے:

اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ، كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ
” اے اللہ ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان ایسی دوری کر دے جیسی مشرق و مغرب کے درمیان تو نے دوری کی ہے۔ اے اللہ ! مجھے خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ ! مجھے میری خطاؤں سے پانی اور برف اور اولے سے دھو دے ۔“
صحیح بخارى، كتاب الأذان، باب ما يقول بعد التكبير ، رقم : 744 ۔ صحیح مسلم، کتاب المساجد ، باب ما يقال بين تكبيرة الإحرام والقرأة ، رقم: 598 .
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک شخص نے کہا:
الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة وأصيلا
”اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا اور تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں، بہت زیادہ۔ وہ ( شراکت اور ہر عیب ) سے پاک ہے ۔ اور صبح و شام ہم اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔“

فضیلت:

یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں ۔“
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے ، میں نے ان کلمات کو پڑھنا کبھی نہیں چھوڑا ۔
صحيح مسلم، کتاب المساجد، باب ما يقال بين تكبيرة الاحرام والقراءة، رقم: 601 .

◈تعوذ:

پھر کوئی ایک تعوذ پڑھیں :
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
” میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود کی شر سے۔“
صحیح ابن خزیمه، رقم: 467۔ ابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه
” میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود ( کے شر ) سے ، اس کے خطرے سے ، اس کی پھونکوں سے اور اس کے وسوسے سے ۔“
سنن ابو داؤد ، کتاب الصلوة ، رقم: 775 – علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔

◈نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنے کی فضیلت:

پھر سورہ فاتحہ پڑھیں:
﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ . الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ . مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ . إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ. اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ‎.‏ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ ‎.
” تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام عالم کا پروردگار ہے۔ جو نہایت مہربان بے حد رحم کرنے والا ہے۔ جو مالک ہے روزِ جزا کا۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔ ہم کو سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا۔ نہ کہ ان لوگوں کا راستہ جن پر تیرا غضب نازل ہوا، اور نہ ان لوگوں کا جو گمراہ ہو گئے۔“
(1-الفاتحة:1 ۔7)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دیا ہے اور میں بندے کا سوال پورا کرتا ہوں، جب بندہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میرے بندے نے میری حمد بیان کی ہے۔ اور جب بندہ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ کہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میرے بندے نے میری ثنا بیان کی ہے۔ جب بندہ کہتا ہے مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری تعظیم کی ہے۔ جب بندہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے، اور میرے بندے کے لیے ہے جو بھی اس نے سوال کیا۔ اور جب بندہ کہتا ہے: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ‎ ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، یہ میرے بندے کے لیے خاص ہے اور میرے بندے کے لیے ہے جو اس نے سوال کیا۔“
صحیح مسلم، کتاب الصلاة ، رقم : 395 .

◈آمین کہنے کی فضیلت:

سورہ فاتحہ کے ختم ہونے کے بعد آمین کہے۔ اور جب امام جہری نماز کی امامت کر رہا ہو ، وہ بآواز بلند آمین کہے اور اسی طرح مقتدی بھی۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ پھر آپ نے بلند آواز سے آمین کہی ۔
سنن ترمذی، ابواب الصلاة، رقم : 248 – سنن ابن ماجه رقم: 855۔ سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، رقم: 932۔ شیخ البانی نے اسے صحیح کہا ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أمن الإمام فأمنوا ، فإنه من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه
” جب امام ”آمین“ کہے تو تم بھی آمین کہو (اس وقت فرشتے بھی آمین کہتے ہیں ) تو جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے ساتھ مل گئی اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہو جائیں گے ۔“
صحیح بخارى، كتاب الأذان رقم: 780 ـ صحیح مسلم، رقم : 410 ـ صحیح ابن خزیمه، کتاب الصلاة : 225/1-256، رقم: 5701.

◈نماز کی مسنون قرآت:

پھر قرآن میں سے جو آسان لگے اور یاد ہو پڑھے ۔ ہم آپ کی سہولت کے لیے چند ایک سورتیں لکھتے ہیں:
﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ . اللَّهُ الصَّمَدُ . لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ . وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ‎.﴾
”آپ کہہ دیجیے کہ وہ اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، اس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے، اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔“
(112-الإخلاص:1 ۔ 4)

◈سورۃ اخلاص کی فضیلت:

ایک انصاری صحابی، مسجد قباء میں امامت کراتے تھے۔ ان کا معمول تھا کہ سورۃ فاتحہ کے بعد کوئی دوسری سورت پڑھنے سے پہلے ﴿قل هو الله أحد﴾ ( یعنی سورۃ اخلاص ) تلاوت فرماتے ، ہر رکعت میں اسی طرح کرتے ۔ مقتدیوں نے امام سے کہا کہ آپ پہلے ﴿قل هو الله أحد﴾ کی تلاوت کرتے ہیں ، پھر بعد میں دوسری سورت ملاتے ہیں، کیا ایک سورت تلاوت کے لیے کافی نہیں ؟ اگر قل هو الله أحد کی تلاوت نہیں تو اس کو چھوڑ دیں اور دوسری سورت کی تلاوت کیا کریں۔ امام نے جواب دیا: میں ﴿قل هو الله أحد﴾ کی تلاوت نہیں چھوڑ سکتا۔ انہوں نے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسئلہ پیش کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امام سے کہا کہ ” تم مقتدیوں کی بات کیوں تسلیم نہیں کرتے ؟ اس سورۃ کو ہر رکعت میں کیوں لازمی پڑھتے ہو؟ تو اس نے کہا: مجھے اس سورت کے ساتھ محبت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سورت کے ساتھ تیری محبت تجھے جنت میں داخل کرے گی ۔ “
صحیح بخارى، كتاب الأذان، باب الجمع بين السورتين في الركعة، تعليقاً ـ سنن ترمذی ، ابواب ثواب القرآن، رقم: 2906
﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ. ‏ مِن شَرِّ مَا خَلَقَ . وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ. وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ‎. وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ﴾ ‎.
”اے میرے نبی ! آپ کہہ دیجیے، میں صبح کے رب کی پناہ میں آتا ہوں ، تمام مخلوقات کی شر سے، اور رات کی برائی سے جب اس کی بھیانک تاریکی ہر جگہ داخل ہو جاتی ہے۔ اور ان جادو گر عورتوں سے جو دھاگے پر جادو پڑھ کر پھونکتی ہیں اور گرہیں ڈالتی ہیں۔ اور حاسد کے حسد سے جب وہ اپنا حسد ظاہر کرتا ہے ۔“
(113-الفلق:1 ۔5)
﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ . مَلِكِ النَّاسِ ‎. إِلَٰهِ النَّاسِ . مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ‎.‏ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ . مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ.﴾
”اے میرے نبی! آپ کہہ دیجیے، میں انسانوں کے رب کی پناہ میں آتا ہوں، انسانوں کے حقیقی بادشاہ کی پناہ میں ، انسانوں کے تنہا معبود کی پناہ میں ، وسوسہ پیدا کرنے والے، چھپ جانے والے شیطان کے شر سے جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ پیدا کرتا ہے چاہے وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔“
(114-الناس:1 ۔ 6)

◈رکوع کا بیان:

پھر ” الله أكبر “ کہتے ہوئے رکوع کرے، اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کاندھوں تک اٹھائے ، اور دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھے، اور سبحان ربي العظيم کہے ۔ مذکورہ دعا کا تین مرتبہ یا اس سے زیادہ پڑھنا سنت ہے۔
صحیح بخارى، كتاب الأذان، رقم: 789، 828 – صحیح مسلم، کتاب الصلاة، رقم: 390، 392، 772۔ سنن ترمذی، کتاب الصلاة، رقم: 261 .

◈رکوع کی مزید دعائیں:

➊ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں یہ دعا پڑھتے :
 اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، خَشَعَ لک سَمْعِي وَبَصَرِي ومخمِي وَعَظْمِي وَعَصَبِي 
” اے اللہ ! میں تیرے ہی لیے جھکا ہوں، تجھ ہی پر ایمان لایا اور تیرا ہی اطاعت گزار ہوا۔ تیرے ہی لیے ڈر کر میرے کان، آنکھیں ، میرا دماغ میری ہڈیاں اور میرے اعصاب عاجز ہو گئے ہیں۔“
صحيح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، رقم : 1812.
➋ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع میں اکثر کہتے تھے:

سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي 

”اے اللہ ! تو پاک ہے، اے ہمارے پروردگار! ہم تیری حمد بیان کرتے ہیں، اے اللہ ! مجھے بخش دے۔“
صحيح بخارى، كتاب الأذان، رقم : 817،794۔ صحیح مسلم، كتاب الصلاة، رقم: 484 .
➌ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں کہتے تھے:
 سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
”بہت پاکیزگی والا ، نہایت مقدس ہے تمام فرشتوں اور روح (جبریل علیہ السلام) کا رب۔“
صحیح مسلم، کتاب الصلوة، رقم: 487 .
➍ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع میں کہتے تھے:
سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ
”پاک ہے وہ ( اللہ ) جو بڑی طاقت اور بادشاہی والا ہے، وہ بہت بڑائی والا اور صاحب عظمت ہے۔“
صحیح سنن ابو داؤد : 247/1، رقم: 873 .
➎ حبیب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں فرماتے:

سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
”اے اللہ ! تیرے ہی لیے پاکی اور تعریف ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔“
صحیح مسلم، کتاب الصلاة، رقم: 458 .
➏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں تین دفعہ پڑھتے تھے:
سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ
”اللہ (شراکت اور ہر عیب سے) پاک ہے ( ہم) اس کی تعریف کے ساتھ (اس کی پاکی بیان کرتے ہیں)۔“
سنن ابوداؤد، باب مقدار الركوع والسجود، رقم: 885 – البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔

◈قیام بعد الرکوع کا بیان:

پھر اگر امام یا منفرد ہو تو رفع الیدین کرتے ہوئے ، اور سمع الله لمن حمده کہتے ہوئے رکوع سے کھڑا ہو جائے ۔ اور پوری طرح سیدھا کھڑا ہو جانے کے بعد یہ دعا پڑھے:
رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ
” اے ہمارے رب! تیرے لیے ہی تعریف ہے، بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت ۔“
صحیح بخاری، كتاب الأذان، رقم : 735، 737،736، 796 ـ صحیح مسلم، كتاب الصلاة، رقم: 476 .

فضیلت:

سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے ، جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا: ”سمع الله لمن حمده“ پس ایک مقتدی نے کہا: ”ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه “ پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: ” ابھی کس نے یہ کلمے پڑھے ہیں؟“ ایک شخص نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ! میں تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تیس سے زائد فرشتے دیکھے جو ان کلموں کا ثواب لکھنے میں جلدی کر رہے تھے ۔“
صحيح البخارى، كتاب الأذان، رقم : 795 .

◈قیام بعد الرکوع کی مزید دعائیں:

اللهم رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا بینھما، وَمِلْءَ مَاشِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ 
”اے ہمارے پروردگار اللہ ! تیرے ہی لیے ساری تعریفیں ہیں، آسمانوں اور زمینوں کے برابر ، اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے اس کے برابر ، اور اس کے علاوہ جو چیز بھی تو چاہے اس کے برابر ۔“
صحیح مسلم، كتاب الأذان، رقم : 476 .
اللهم لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ،اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنْ الوسخ
”اے اللہ ! تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے، اتنی جس سے آسمان بھر جائیں اور زمین بھر جائے اور ہر اس چیز کے بھراؤ کے برابر جو تو چاہے۔ اے اللہ ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ پاک کر دے۔ اے اللہ ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے ۔“
صحيح مسلم، کتاب الصلاة، رقم : 476/204 .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو یہ دعا پڑھتے :
رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ: وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ 
”اے ہمارے رب! تیرے لیے ہی ساری تعریف ہے، جس سے آسمان بھر جائیں اور زمین بھر جائے اور دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ بھر جائے اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے وہ بھر جائے ۔اے تعریف اور بزرگی کے لائق ، سب سے سچی بات جو بندے نے کہی ، وہ یہ ہے، جبکہ ہم سب تیرے بندے ہیں ! اے اللہ ! کوئی روکنے والا نہیں اس چیز کو جو تو نے عطا کی ، اور وہ چیز کوئی دینے والا نہیں جو تو نے روک دی اور کسی کا مقام ومرتبہ اسے تیرے عذاب سے بچا نہیں سکتا۔“
صحیح مسلم، کتاب الصلاة، رقم : 477 .

◈رفع الیدین کا ثواب:

رفع الیدین نماز کی زینت اور باعث اجر و ثواب ہے۔ چنانچہ نعمان بن ابی عیاش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہر چیز کے لیے زینت ہوتی ہے، اور نماز کی زینت رفع الیدین ہے ۔ “
جزء رفع اليدين ، ص : 59 .
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” جو مقصد تکبیر تحریمہ کے وقت رفع الیدین کا ہے، وہی مقصد رکوع کو جاتے اور رکوع سے اٹھتے ہوئے رفع الیدین کا ہے اور یہ کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے ۔“
كتاب الأم : 91/1 – السنن الكبرى للبيهقي : 82/2.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان فرماتے ہیں کہ ”نماز میں جو شخص رفع الیدین کرتا ہے اس کے لیے ہر ایک اشارے کے بدلے ایک انگلی پر ایک نیکی یا درجہ ملتا ہے ۔ “
الفوائد، للبحيرى ق/ 2/39 ـ مسند الفردوس، للديلمي : 344/4ـ معجم كبير، للطبراني : 297/7 ـ مجمع الزوائد : 103/2ـ سلسلة الصحيحة، رقم: 3286.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”آدمی اپنی نماز میں اپنے ہاتھ کے ساتھ جو اشارہ کرتا ہے اس کے عوض اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ، ہر انگلی کے بدلے ایک نیکی ملتی ہے ۔ “
سلسله احادیث صحیحه، رقم: 3286۔ طبرانی کبیر : 297/17.
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اپنی کتاب الصلاۃ تحقیق و تقدیم شیخ محمد حامد الفقی صفحہ نمبر 56 میں فرماتے ہیں کہ : نماز میں رفع الیدین کرنا نیکیوں کو بڑھا دیتا ہے ۔

◈رفع الیدین کا عرفان وعروج:

ایک دفعہ رفع الیدین کرنے سے دس نیکیاں ملیں تو چار رکعت والی نماز میں صرف رفع الیدین کرنے سے انسان سو (100) نیکیاں حاصل کر لیتا ہے۔ جبکہ پانچوں نمازوں کی نیکیاں (430) بنتی ہیں اور اسلامی سال کے (360) دن ہوتے ہیں۔ اس حساب سے ایک سال میں (154800) نیکیاں حاصل ہوں گی۔
اگر سنن را تبہ کو دیکھا جائے تو وہ ایک دن میں ”بارہ“ رکعت ہیں۔ جن میں رفع الیدین کی تعداد (60) ہے۔ اس لحاظ سے انسان سنن راتبہ پر ایک دن میں چھ سو (600) نیکیاں حاصل کرلے گا۔ جبکہ ایک سال کی نیکیاں دولاکھ سولہ ہزار (216000) بنیں گی۔
سنن را تبہ اور فرائض میں صرف رفع الیدین پر حاصل ہونے والی نیکیاں تین لاکھ ستر ہزار آٹھ سو (370800) تک پہنچ جاتی ہیں۔ اگر کوئی شخص نوافل کا عادی ہے تو اس کی نیکیاں تو اور ہی زیادہ ہوں گی۔ ” ان الله يرزق من يشاء بغير حساب“
پیارے بھائیوں اور بہنو! ہر شخص دنیا میں نفع کا سودا چاہتا ہے۔ اگر آپ نماز میں رفع الیدین کرلیں اور آپ کے رفع الیدین پر اتنی زیادہ نیکیاں حاصل ہو جائیں ۔ بتائیے ، آپ کو اور کیا چاہیے؟ کیا آپ یہ منافع کا سودا ہاتھ سے جانے دیں گے؟ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (57-الحديد:21)

◈سجده:

پھر ” الله أكبر “ کہتے ہوئے سجدہ میں جائے ، اور سجدے میں اپنے دونوں بازوؤں کو پہلوؤں سے اور دونوں رانوں کو پنڈلیوں سے دور رکھے ، اور سات اعضاء: پیشانی ناک سمیت، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں کی انگلیوں کے پوروں پر سجدہ کرے ۔ اور سجدے میں سبحان ربي الأعلى تین یا اس سے زیادہ مرتبہ کہے۔ اس کے علاوہ بھی جو دعائیں چاہے پڑھے۔
سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، رقم: 730 ، 734 ، 895 سنن ترمذی، کتاب الصلاة، رقم: 304، صحیح بخارى، كتاب الأذان، رقم: 812، 828۔ صحیح مسلم، کتاب الصلاة، رقم: 490 – صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، رقم: 772 – مسند البزار – معجم کبیر، للطبرانی۔ مجمع الزوائد : 2/ 315.

◈سجدہ اور قرب الہی:

سجدہ انسان کو رب تعالیٰ کے قریب کر دیتا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا:
﴿وَاسْجُدْ وَاقْتَرِب﴾
”اور اپنے رب کے سامنے سجدہ کیجیے، اور اس کا قرب حاصل کیجیے۔“
(96-العلق:19)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول رب العالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”یقیناً بندہ حالت سجدہ میں اپنے رب سے بہت قریب ہوتا ہے ۔ پس ( سجدے میں ) زیادہ سے زیادہ دعا کرو۔“
صحیح مسلم، کتاب الصلاة، رقم: 482 .

◈سجدہ اور جنت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ( مومن ) ابن آدم سجدے کی آیت تلاوت کرتا ہے۔ پھر ( پڑھنے اور سننے والا ) سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتے ہوئے ایک طرف ہو کر کہتا ہے ، ہائے میری ہلاکت ، تباہی اور بربادی ! آدم کے بیٹے کو سجدے کا حکم دیا گیا ۔ اس نے سجدہ کیا۔ پس اس کے لیے بہشت ہے۔ اور مجھے سجدے کا حکم دیا گیا میں نے نافرمانی کی ، پس میرے لیے آگ ہے ۔“
صحیح مسلم، کتاب الإيمان، رقم: 81.

◈سجدہ اور گناہوں کا مٹنا:

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا، آپ مجھے ایسا حکم دیں کہ میں اسی کا ہو کر رہ جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جان لے کہ تو جب اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرتا ہے وہ تجھے ایک درجہ بلند کرتا ہے اور اس ( سجدے ) کی وجہ سے تیرا ایک گناہ مٹا دیتا ہے ۔“
سلسله احادیث صحیحه، رقم : 1488 ـ مسند احمد : 248/5 – 249 .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب آدم کا بیٹا سجدے کی آیت تلاوت کرتا ہے اور سجدہ کرتا ہے تو شیطان اس سے دور ہو کر رونا شروع کر دیتا ہے، اور کہتا ہے، مجھے افسوس ہے کہ آدم کے بیٹے کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا اس نے سجدہ کیا اس کے لیے جنت ہے۔ مجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا، میں نے انکار کیا میرے لیے دوزخ ہے۔
صحیح مسلم، کتاب الإيمان، رقم : 244 .

◈سجدہ اور جنت میں رسول اللہ ﷺ کی رفاقت:

سیدنا ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رات گزارتا تھا آپ کے لیے وضوء کا پانی اور آپ کی ( دیگر ) ضرورت ( مسواک وغیرہ) لاتا تھا۔ ( ایک رات خوش ہو کر) آپ نے مجھے فرمایا: ( کچھ دین و دنیا کی بھلائی ) مانگو۔ ( مجھ سے دعا کروالو ) میں نے کہا : جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا: اس کے علاوہ کوئی اور چیز ؟ میں نے کہا: بس یہی ! پھر آپ نے فرمایا: ”پس اپنی ذات کے لیے سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو ۔ “
صحيح مسلم، کتاب الصلاة، باب فضل السجود والحث عليه، رقم: 489.

◈سجدہ کی مسنون مزید دعائیں:

سجدہ نماز کا راز اور اس کا عظیم رکن اور رکعت کا خاتمہ ہے،اس سے پہلے جو ارکانِ نماز ہیں وہ اس کے مقدمات ہیں۔ چنانچہ وہ حج میں طواف زیارہ کے زیادہ مشابہ ہیں، کیونکہ وہ حج کا مقصد اور اللہ تعالیٰ کے ہاں داخل ہونے کا محل ہے۔ اور اس سے پہلے جو کچھ ہے وہ اس کے لیے مقدمات ہیں۔ اسی لیے بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے۔ اور اس کی سب سے افضل حالت وہ ہے جس میں وہ اللہ سے سب سے زیادہ قریب ہو، لہذا اس جگہ دعا کرنا قبولیت کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ لہذا سجدہ کی حالت میں زیادہ سے زیادہ دعا کرنے کا حکم ہے۔
➊ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں کثرت سے یہ دعا پڑھتے تھے:
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي
”اے اللہ ! تو پاک ہے، اے ہمارے پروردگار ! ہم تیری حمد بیان کرتے ہیں، اے اللہ ! مجھے بخش دے۔“
صحيح بخارى، كتاب الأذان، رقم : 817،794 ـ صحیح مسلم، كتاب الصلاة، رقم: 484.
➋ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے میں جاتے تو یہ دعا پڑھتے :
 اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ
”اے اللہ ! میں نے تیرے ہی لیے سجدہ کیا، تجھ پر ہی ایمان لایا اور میں تیرا ہی فرمانبردار بنا، میرے چہرے نے اس ذات (اقدس) کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا فرمایا اور اس کی صورت بنائی۔ اس نے اس کی سماعت اور اس کی نظر کو کھولا ہے ۔ وہ اللہ نہایت بابرکت ہے کہ جو بہترین تخلیق کرنے والا ہے ۔“
صحيح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، رقم: 1812.
➌ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سجدے میں یہ دعا کہتے تھے:
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ: دِقَّهُ وَجِلَّهُ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ
”اے اللہ ! میرے چھوٹے اور بڑے، پہلے اور پچھلے ظاہر اور پوشیدہ سب کے سب گناہ معاف کر دے۔“
صحيح مسلم، کتاب الصلاة، رقم : 1084 .
➍ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد کے سجدوں میں پڑھتے تھے:
 اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَبِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ
”اے اللہ ! میں تیری رضا کے ذریعے تیرے غصے سے، تیری معافی کے ذریعے تیری سزا سے، اور میں تیری ذاتِ اقدس کے ساتھ تیری ذات کی پناہ چاہتا ہوں ( کہ تو کہیں ناراض نہ ہو جائے ) میں پوری طرح تیری تعریف نہیں کر سکتا (تو اس حمد و ثناء کے لائق ہے ) تو ویسا ہی ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف و ثناء خود فرمائی ہے۔“
صحيح مسلم، کتاب الصلاة، رقم: 1090.
➎ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں (یہ) کہتے تھے:
 سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
”بہت پاکیزگی والا ، نہایت مقدس ہے تمام فرشتوں اور روح ( جبریل علیہ السلام) کا رب۔“
صحیح مسلم، کتاب الصلاة، رقم: 847 .
 سُبحانَ ربِّيَ الأعلى وبحَمدِه
”سب سے بلند رب پاک ہے، اور ان سب سے بزرگ و برتر ہے ۔“
سنن ابو داؤد، ابواب الركوع والسجود، رقم: 870 – صحیح مسلم، رقم: 484 .
سُبْحَانَكَ  وَبِحَمْدِكَ،  لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
”اے اللہ ! تو ( ہر عیب اور شراکت سے) پاک ہے اور اپنی حمد و ثناء کے ساتھ (بہت زیادہ بزرگی اور شان والا ہے ) صرف تو ہی معبود برحق ہے۔“
صحیح مسلم، كتاب الصلواة، رقم: 485 ـ مسند ابو عوانة : 2/ 169 ـ مسند احمد : 151/6 – صفة صلاة النبي صلى الله عليه وسلم للألباني، ص: 147.
➑ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجود میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے:

سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ،  أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ
”اے اللہ ! تو پاک ہے ( ہر شراکت اور عیب سے ) اور ہر قسم کی تعریف تیری ہے، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔“
معجم كبير للطبراني : 72/1 – سلسلة الصحيحة، رقم: 204.
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
”اے اللہ ! تو پاک ہے، ہمارے رب! ہر قسم کی تعریف کے لائق تو ہی ہے۔ اے اللہ! مجھے بخش دے، بے شک تو توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔“
مسند أحمد، رقم : 3745،3683 ـ سلسلة الصحيحة، رقم : 2084.
➓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع وسجود میں تین دفعہ یہ دعا پڑھتے تھے:
سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ
”اللہ ( شراکت اور ہر عیب سے ) پاک ہے ( ہم ) اس کی تعریف کے ساتھ (اس کی پاکی بیان کرتے ہیں ) ۔“
سنن ابوداؤد، باب مقدار الرکوع والسجود، رقم: 885۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ ۔
 رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي كُلِّهِ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَايَايَ، وَعَمْدِي، وَجَهْلِي، وَهَزْلِي وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
”میرے رب ! میری خطا، میری نادانی اور تمام معاملات میں میرے حد سے تجاوز کرنے میں میری مغفرت فرما، اور وہ گناہ بھی جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے۔ اے اللہ ! میری مغفرت کر ، میری خطاؤں میں ، میرے بالارادہ اور بلا ارادہ کاموں اور میرے ہنسی مزاح کے کاموں میں اور یہ سب میری ہی طرف سے ہیں ۔ اے اللہ ! میری مغفرت کر ان کاموں میں جو میں کر چکا ہوں اور ان میں جو کروں گا اور جنھیں میں نے چھپایا، اور جنھیں ظاہر کیا، تو ہی سب سے پہلے ہے، اور تو ہی سب سے بعد میں ہے اور تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔“
صحیح بخاری، کتاب الدعوات، رقم: 6398، 6399 ـ صحيح مسلم، كتاب الذكر والدعاء، رقم: 2719 – زاد المعاد: 226/1-227
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ
”اے اللہ !میرے گناہوں کو بخش دے، جو میں چھپ چھپ کر یا سر عام کرتا ہوں۔“
مصنف ابن ابي شيبة : 112/12- مستدرك حاكم : 221/1 ۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے اس پر ان کی موافقت کی ہے۔
⓭ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں کہتے :
اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا وَاجْعَلْ مِنْ تَحْتِي نُورًا وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَاجْعَلْ أَمَامِي نُورًا وَاجْعَلْ خَلْفِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا
” اے اللہ ! میرے دل، میری بصارت اور سماعت کو (ایمان کے نور سے ) منور فرما، میرے دائیں بائیں، اوپر نیچے، سامنے اور پیچھے ( ہر طرف) نور پھیلا دے، اور میری (ہدایت کی) روشنی کو بڑھا دے۔“
صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب الدعاء في صلاة الليل وقيامه، رقم: 763 .

◈رکوع وسجود میں امام سے جلدی کرنے کی ممانعت:

محمد بن زیاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم سے کوئی اس بات سے نہیں ڈرتا کہ جب وہ امام سے پہلے اپنا سر اٹھائے تو اللہ اس کے سر کو گدھے کا سر یا اس کی صورت کو گدھے کی صورت بنا دے۔
سنن دارمی، رقم : 1355 – صحیح بخاری، رقم: 691 – صحیح مسلم، رقم: 962 .

◈جلسہ اور اس کی مسنون دعائیں:

پھر ” الله أكبر “ کہتے ہوئے سر اٹھائے ، اور دایاں پاؤں کھڑا رکھے ، اور بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھ جائے، اور دونوں ہاتھ ، دونوں رانوں اور گھٹنوں پر رکھے۔(سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، رقم: 730 – سنن ترمذی، کتاب الصلاة، رقم : 304 – سنن ابن ماجة، كتاب اقامة الصلاة، رقم : 1060 ـ صحيح بخارى، كتاب الأذان، باب سنة الجلوس في التشهد، رقم: 828) اور یہ دعا پڑھے:
رب اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاجْبُرْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي
”اے اللہ ! مجھے بخش دے، اور مجھ پر رحم کر، اور مجھے عافیت دے، اور مجھے رزق عطا فرما اور مجھے ہدایت دے اور میرے نقصان پورے کر ۔“
سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، رقم : 850 – سنن ترمذی ابواب الصلاة، رقم: 284 ـ سنن ابن ماجة، رقم: 898- مستدرك حاكم 1 / 262 ، 271/1۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے، اور ذہبی نے حاکم کی موافقت کی ہے۔
➋ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان پڑھا کرتے تھے:
رب اغْفِرْ لِي، رب اغْفِرْ لِي
اے میرے رب ! مجھے بخش دے ، اے میرے رب ! مجھے بخش دے۔
سنن ابو داؤد، ابواب الركوع والسجود، رقم : 874۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
اس کے بعد ” الله أكبر “ کہتے ہوئے دوسرا سجدہ کرے، اور اس میں بھی وہی سب کچھ کرے جو پہلے سجدہ میں کیا تھا۔ اور اس کے ساتھ ہی پہلی رکعت پوری ہوگئی۔
پھر ” الله أكبر “ کہتے ہوئے دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے۔

◈جلسہ استراحت:

پہلی اور تیسری رکعت کے بعد دوسری اور چوتھی رکعت کے لیے اٹھنے سے پہلے ایک دفعہ اطمینان کے ساتھ بیٹھ جائیں ، اور پھر ہاتھوں کا سہارا لے کر کھڑے ہوں ۔
صحیح بخاری، کتاب الأذان، رقم: 824.
دوسری رکعت کے شروع میں سورہ فاتحہ اور قرآن کی کچھ آیتیں پڑھے ، پھر رکوع کرے، پھر رکوع سے سر اٹھائے اور دو سجدے ٹھیک اسی طرح کرے جیسے پہلی رکعت میں کیے تھے۔

◈تشہد:

دوسرے سجدہ سے سر اٹھانے کے بعد بالکل اسی طرح بیٹھ جائے جیسے دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھا تھا، پھر تشہد پڑھے، اور انگشت شہادت کے ساتھ اشارہ کرے، انگلی کو اٹھائے رکھے، اور اسے ہلاتا رہے اور انگلی میں تھوڑا سا نم ہو ۔(صحیح مسلم، كتاب المساجد، رقم 579، 580 ـ سنن ابو داؤد، کتاب استفتاح الصلاة، رقم: 726 ۔ صحیح بخارى، كتاب الأذان، رقم: 739 – صحیح ابن حبان : 182/5، 184 ـ صحيح ابن خزيمة، رقم: 716 ) تشہد یہ ہے:
التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ
”ساری حمد و ثنا اور نمازیں اور پاکیزہ چیزیں (ساری زبانی قولی اور فعلی عبادتیں ) اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکت نازل ہو، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور گواہی دیتا ہوں کہ بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
صحیح بخاری، كتاب الأذان، باب التشهد في الآخرة، رقم: 831، 835۔ صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب التشهد في الصلاة، رقم: 402 .

◈درود شریف:

تشہد كے بعد درود پاك پڑهے. درود شريف كے مسنون الفاظ يہ ہيں:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
”اے اللہ ! رحمت نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جیسے رحمت نازل کی تو نے ابراہیم علیہ السلام پر اور آل ابراہیم علیہ السلام پر، بیشک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اور برکت نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، جیسے برکت نازل کی ابراہیم علیہ السلام پر اور آل ابراہیم علیہ السلام پر ، بیشک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب الأنبياء، رقم: 3370.

◈درود کے بعد کی دعائیں:

اور اس کے بعد ” خواہ فرض نماز ہو یا نفل “دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے جو دعا چاہے کرے۔
سنن نسائی، کتاب التطبيق، رقم: 1163۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا وَالمَمَاتِ، وَمِنْ فِتْنَةِ المَسِيحِ الدَّجَّالِ
” اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے ، اور قبر کے عذاب سے، اور تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے، اور مسیح دجال کے فتنہ سے ۔“
صحیح مسلم، كتاب الصلاة، رقم: 588.
اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا , وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ , فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ , وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
” اے اللہ ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، اور تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا، پس مجھے اپنی خاص مغفرت سے بخش دے، اور مجھ پر رحم کر ۔ یقینا تو ہی بخشنے والا ، بے حد رحم کرنے والا ہے۔“
صحيح البخاری، کتاب الاذان، رقم: 834.
 اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
”اے اللہ ! مجھے بخش دے جو میں نے پہلے کیا اور جو پیچھے کیا ۔ جو میں نے چھپا کر کیا اور جو میں نے علانیہ کیا۔ جو میں نے زیادتی کی اور جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے ۔ تو ہی مقدم کرنے والا ہے ( اپنی اطاعت کے ساتھ جسے چاہے ) اور تو ہی مؤخر کرنے والا ہے ( جسے چاہے اس کی نافرمانی کی وجہ سے ) تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔“
صحیح مسلم صلاة المسافرين، رقم : 1812.
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ
” اے اللہ ! میں بخل سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میں بزدلی سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں، اور اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ نکمی عمر کی طرف لوٹایا جاؤں، میں دنیا کے فتنے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“
صحيح البخارى، كتاب الدعوات، رقم: 6370.
اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ، وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْغِنَى وَالْفَقْرِ، وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ، وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ
”اے اللہ ! میں تیرے غیب جاننے اور مخلوق پر قدرت رکھنے کے ساتھ سوال کرتا ہوں کہ مجھے اس وقت تک زندگی عطا کیے رکھ جب تک تو زندگی کو میرے لیے بہتر جانتا ہے اور مجھے اس وقت فوت کرنا جب تو وفات کو میرے لیے بہتر جانے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے غائب ( تنہائی میں ) اور حاضر (سب کے سامنے ) ہونے کی حالت میں تیری خشیت کا سوال کرتا ہوں ۔ اور میں تجھ سے راضی اور غصے والی ہر دو حالتوں میں کلمہ حق ( کہنے ) کا سوال کرتا ہوں ( کہ اس کی مجھے توفیق دیے رکھنا ) اور میں تجھ سے غریبی اور امیری ہر دو حالتوں میں میانہ روی ( کی توفیق ) کا سوال کرتا ہوں۔ اور میں تجھ سے ایسی نعمت کا سوال کرتا ہوں جو ختم نہ ہو۔ اور میں تجھ سے آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک کا سوال کرتا ہوں جو کبھی منقطع نہ ہو ۔ اور میں تجھ سے تیرے فیصلے پر راضی رہنے کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے موت کے بعد والی” زندگی کی ٹھنڈک “ کا سوال کرتا ہوں۔ اور اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے ( پر جلال ) چہرے کی طرف دیکھنے کی لذت کا سوال کرتا ہوں۔ اور (اسی طرح) تجھ سے ملاقات کے شوق کا میں سوال کرتا ہوں جو کسی تکلیف دہ مصیبت اور گمراہ کن فتنے کے بغیر ہو ۔ اے اللہ ! ہمیں ایمان کی زینت سے مزین فرما ( جو دل کی گہرائیوں اور اعمال صالحہ کی پنہائیوں کے ساتھ لذت کا ذریعہ بنے) اور ہمیں ( لوگوں کو ) رہنمائی دینے والے اور ( خود ) ہدایت (صراط مستقیم ) پانے والے بنا دے۔“
سنن النسائي، كتاب السهو، رقم : 1306 – الكلم الطيب، لشيخ الإسلام ابن تیمیه رحمه الله، رقم: 104۔ عبدالقادر الارناؤوط نے اسے ”جید الاسناد “قرار دیا ہے۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا اللَّهُ بِأَنَّكَ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي؛ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
”اے اللہ ! بلاشبہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے اللہ کہ تو واحد، اکیلا اور بے نیاز ذات ہے کہ جس نے نہ کسی کو جنا ہے ( تو کسی کا باپ نہیں) اور نہ تو کسی کا جنا ہوا (بیٹا) ہے، اور ( تو وہ ہستی ہے کہ ) اس کا برابر والا (جوڑ کا ) کوئی نہیں ہے۔ یہ کہ تو میرے گناہ بخش دے (سب کے سب ) یقینا تو ہی بخشنے والا، بے حد مہربان ہے۔“

فضیلت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو تشہد میں یہ دعا مانگتے سنا تو تین بار فرمایا: قد غفر لك
سنن النسائی، کتاب السهو، رقم : 1302- شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح سنن النسائی میں درج فرمایا ہے۔ سنن أبي داؤد، رقم : 985۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الْمَنَّانُ بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ
”اے اللہ ! میں تجھ سے اس بات کے ساتھ سوال کرتا ہوں کہ حمد ( وثناء) تیرے ہی لیے ہے ۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ بے حد احسان کرنے والا ، تمام آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے اے بزرگی اور عزت والے رب ! اے زندہ اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے( اللہ ) ! میں تجھ سے جنت مانگتا ہوں اور جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“
سنن النسائی، کتاب السهو، رقم : 1301 – سنن ابن ماجه، رقم : 910۔ سنن ابی داؤد، رقم : 792 ۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔

◈سلام:

پھر ”السلام عليكم ورحمة الله“ کہتا ہوا داہنی طرف ، اور پھر اسی طرح بائیں طرف سے سلام پھیر دے۔
سنن ابو داؤد، ابواب الركوع والسجود، رقم: 96 شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
لیکن اگر تین تین رکعت والی نماز مغرب ہو، یا چار رکعت والی نماز ظہر یا عصر یا عشاء ہو تو تشہد کے بعد ” الله أكبر“ کہتا ہوا کھڑا ہو جائے اور رفع الیدین کرے، اور صرف سورہ فاتحہ پڑھے ، پھر اسی طرح رکوع اور سجدے کرے جس طرح پہلی دونوں رکعتوں میں کیے تھے، اور اسی طرح چوتھی رکعت بھی مکمل کرے، البتہ اس مرتبہ تشہد میں تو رک کرے، یعنی دایاں پاؤں کھڑا رکھے اور اس کے نیچے سے بایاں پاؤں نکال کر کولھے پر بیٹھے ( سنن ابوداؤد، رقم: 730 – صحیح ابن حبان : 82/5 184 ۔ ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ ) پھر مغرب کی تیسری رکعت اور ظہر اور عصر اور عشاء کی نماز میں چوتھی رکعت کے بعد تشہد اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے، اور پھر دعا مانگے ، پھر دائیں اور بائیں طرف سلام پھیر دے، اور اس کے ساتھ ہی نماز مکمل ہو گئی ۔