تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ: ” السَّمَآءِ “} کا لفظ یہاں بطور جنس استعمال ہوا ہے، مراد تمام آسمان ہیں۔ دلیل اس کی سورۂ آل عمران کی یہ آیت ہے: «وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ» [آل عمران: ۱۳۳] ”اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دوڑو اپنے رب کی جانب سے بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین (کے برابر)ہے۔ “
➌ { اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ:} یہاں اتنا ہی ذکر ہے کہ جنت ایمان والوں کے لیے تیار کی گئی ہے، جبکہ سورۂ آل عمران (۱۳۳ تا ۱۳۵)میں ان ایما ن والوں کے چند اعمال کا بھی ذکر ہے جن کی وجہ سے وہ اللہ کے فضل کے حق دار ٹھہرتے ہیں۔ ان میں پہلا عمل خوشی اور تکلیف میں خرچ کرنا ہے، جس کا ذکر یہاں {” اَنْفَقُوْا “} میں گزر چکا ہے۔
➍ { ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ …:} اس سے معلوم ہوا کہ جنت میں داخلہ محض اللہ کے فضل کے ساتھ ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی حق واجب نہیں اور انسان جتنے بھی عمل کر لے وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک نعمت کا بھی بدل نہیں ہو سکتے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: [لَنْ يُّدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُهُ الْجَنَّةَ، قَالُوْا وَلاَ أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ لاَ، وَلاَ أَنَا إِلاَّ أَنْ يَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰهُ بِفَضْلٍ وَ رَحْمَةٍ] [بخاري، المرضٰی، باب تمنی المریض الموت: ۵۶۷۳] ” کسی بھی شخص کو اس کا عمل جنت میں ہرگز داخل نہیں کرے گا۔ “ لوگوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! آپ کو بھی نہیں؟“ فرمایا: ”نہیں، مجھے بھی نہیں، الا یہ کہ اللہ مجھے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے۔“ البتہ اعمال صالحہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے حصول کا سبب بنتے ہیں، دیکھیے سورۂ اعراف(۴۳) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس معلوم ہوا کہ خیر و شر انسان سے بہت نزدیک ہے اور اس لیے اسے چاہیئے کہ بھلائیوں کی طرف سبقت کرے اور برائیوں سے منہ پھیر کر بھاگتا رہے۔ تاکہ گناہ اور برائیاں معاف ہو جائیں اور ثواب اور درجے بلند ہو جائیں۔
اسی لیے اس کے ساتھ ہی فرمایا دوڑو اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین کی جنس کے برابر ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:133] ’ اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور جنت کی طرف سبقت کرو جس کی کشادگی کل آسمان اور ساری زمینیں ہیں جو پارسا لوگوں کے لیے بنائی گی ہیں۔ ‘
یہاں فرمایا ’ یہ اللہ رسول پر ایمان لانے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے، یہ لوگ اللہ کے اس فضل کے لائق تھے، اسی لیے اس بڑے فضل و کرم والے نے اپنی نوازش کے لیے انہیں چن لیا اور ان پر اپنا پورا احسان اور اعلیٰ انعام کیا۔‘
پہلے ایک صحیح حدیث بیان ہو چکی ہے کہ مہاجرین کے فقراء نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ! مالدار لوگ تو جنت کے بلند درجوں کو اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کو پا گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیسے؟“ کہا نماز روزہ تو وہ اور ہم سب کرتے ہیں لیکن مال کی وجہ سے وہ صدقہ کرتے ہیں غلام آزاد کرتے ہیں جو مفلسی کی وجہ سے ہم سے نہیں ہو سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ میں تمہیں ایک ایسی چیز بتاؤں کہ اس کے کرنے سے تم ہر شخص سے آگے بڑھ جاؤ گے مگر ان سے جو تمہاری طرح خود بھی اس کو کرنے لگیں، دیکھو تم ہر فرض نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» کہو اور اتنی ہی بار «اَللّٰهُ أَکْبَرُ» اور اسی طرح «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» }، کچھ دنوں بعد یہ بزرگ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ! ہمارے مالدار بھائیوں کو بھی اس وظیفہ کی اطلاع مل گئی اور انہوں نے بھی اسے پڑھنا شروع کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:843]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أمر بالمسابقة إلى مغفرة الله ورضوانه وجنته، وذلك يكون بالسعي بأسباب المغفرةِ من التوبة النَّصوح، والاستغفار النَّافع، والبعد عن الذُّنوب ومظانِّها، والمسابقة إلى رضوان الله بالعمل الصالح، والحرص على ما يُرضي الله على الدَّوام من الإحسان في عبادة الخالق، والإحسان إلى الخلق بجميع وجوه النفع، ولهذا ذكر الله الأعمالَ الموجبةَ لذلك، فقال: {وجنَّةٍ عرضُها السمواتُ والأرضُ أعِدَّتْ للذين آمنوا باللهِ ورسلِهِ}، والإيمانُ بالله ورُسُلِهِ يدخلُ فيه أصولُ الدِّين وفروعها. {ذلك فضلُ الله يؤتيهِ مَن يشاءُ}؛ أي: هذا الذي بيَّنَّاه لكم وذَكَرْنا [لكم فيه] الطُّرُقَ الموصلة إلى الجنة والطُّرُقَ الموصلة إلى النار، وأنَّ ثواب الله بالأجر الجزيل والثواب الجميل من أعظم منَّته على عباده وفضله، {والله ذو الفضل العظيم}: الذي لا يُحصى ثناءٌ عليه، بل هو كما أثنى على نفسه، وفوق ما يُثني عليه أحدٌ من خلقه.