امام بخاری رحمہ اللہ (256ھ) فرماتے ہیں:[كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ] (القصص:88): إِلَّا مُلْکَهٗ۔ ہر شے کو فنا ہے، سوائے اللہ تعالیٰ کے چہرے کے۔ اس سے مراد اللہ کی بادشاہت ہے۔
(صحیح البخاری، کتاب التفسیر، قبل الرقم:4772)
امام بخاری رحمہ اللہ ائمہ اہل سنت والجماعت میں سے ہیں، وہ صفات باری تعالیٰ کو سلف کے منہج پر تسلیم کرتے ہیں، آپ رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے چہرے کا اثبات کرتے ہیں، جیسا کہ آپ رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کتاب التوحید (قبل الرقم:7406) میں باب قائم کیا ہے، نیز قرآن وحدیث کے دلائل سے اسے مدلل ومبرہن کیا ہے۔ لہذا امام بخاری رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے لیے حقیقی چہرے کا اثبات کرتے ہیں، اس کی تاویل، تحریف یا تمثیل نہیں کرتے۔
باقی رہا آیت مذکورہ میں ،،وجہ،، کی تفسیر ،،ملک،، (بادشاہت) سے کرنا، تو یہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کا تفسیری معنی کیا ہے۔ بعض سلف سے صفت کو حقیقی مان کر بعض آیات کا تفسیری معنی کرنا ثابت ہے۔
لہذا امام بخاری رحمہ اللہ کو تاویل یا تحریف کا الزام دینا درست نہیں۔