نماز کا انتظار کرنے کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

نماز کا انتظار کرنے کی فضیلت

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
‏ ﴿فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمْ ۚ فَإِذَا اطْمَأْنَنتُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ ۚ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا﴾
”پھر جب نماز سے فارغ ہو جاؤ، تو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے ہوئے اللہ کو یاد کرتے رہو، اور جب تمہیں اطمینان ہو جائے تو نماز کو( پہلے کی طرح )قائم کرو، بے شک نماز مقررہ اوقات میں مومنوں پر فرض کر دی گئی ہے۔“
(4-النساء:103)
عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ألا أدلكم على ما يمحو الله به الخطايا ويرفع به الدرجات؟ قالوا: بلى يا رسول الله. قال: إسباغ الوضوء على المكاره، وكثرة الخطا إلى المساجد، وانتظار الصلاة بعد الصلاة، فذلكم الرباط، فذلكم الرباط.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتلاؤں جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ خطائیں مٹا دیتا ہے اور درجے بلند فرماتا ہے؟“ صحابہ کرام نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”مشقت اور ناگواری کے باوجود کامل وضو کرنا، مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنا اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا، پس یہی رباط ہے، پس یہی رباط ہے۔“
صحيح مسلم، كتاب الطهارة، باب فضل إسباغ الوضوء على المكاره، رقم: 251 .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
صلينا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم المغرب، فرجع من رجع، وعقب من عقب، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم مسرعا، قد حفزه النفس، وقد حسر عن ركبتيه، فقال: أبشروا، هذا ربكم قد فتح بابا من أبواب السماء يباهي بكم الملائكة، يقول: أنظروا إلى عبادي قد قضوا فريضة، وهم ينتظرون أخرى.
ایک بار مغرب کی نماز کے بعد کچھ لوگ واپس لوٹ گئے، اور کچھ لوگ عشاء کی نماز کا انتظار کر رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ اس قدر تیز تیز چل کر آئے کہ آپ کا سانس پھولا ہوا تھا۔ حتی کہ آپ کے گھٹنوں کا کپڑا ہٹ گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! خوش ہو جاؤ تمہارے رب نے آسمان کا ایک دروازہ کھول کر تمہیں فرشتوں کے سامنے کیا اور فخر کے طور پر فرمایا: دیکھو یہ میرے بندے ایک نماز ادا کر چکے اور دوسری نماز کا انتظار کر رہے ہیں۔“
سنن ابن ماجه، کتاب ابواب المساجد، باب لزوم المساجد وانتظار الصلوة، رقم: 801 – سلسلة الصحيحة، رقم: 661 .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سبعة يظلهم الله فى ظله يوم لا ظل إلا ظله: الإمام العادل، وشاب نشأ بعبادة الله، ورجل قلبه معلق فى المسجد، ورجلان تحابا فى الله اجتمعا عليه وتفرقا عليه.
”سات شخص ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن حشر میں اپنے سایہ میں رکھے گا جس دن سوائے اس کے سایہ کے سایہ نہ ہوگا۔ ➊ حاکم عادل، ➋ جوان جو اللہ کی عبادت میں جوانی گزارے اور ➌ وہ شخص کہ اس کا دل مسجد میں لگا ہوا ہے، نماز پڑھ کر نکلتا ہے تو بے تاب ہوتا ہے کہ پھر اس کی طرف جائے… الخ“
صحیح بخارى، كتاب الزكاة، باب الصدقة باليمين، رقم: 1423 – صحيح مسلم، كتاب الزكاة، باب فضل اخفاء الصدقة، رقم: 1031
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الملائكة تصلي على أحدكم ما دام فى مصلاه ما لم يحدث: اللهم اغفر له، اللهم ارحمه. لا يزال أحدكم فى صلاة ما كانت الصلاة تحبسه، لا يمنعه أن ينقلب إلى أهله إلا الصلاة.
ملائکہ تم میں سے اس نمازی کے لیے جب تک( نماز پڑھنے کے بعد) وہ اپنے مصلے پر بیٹھا رہے اس وقت تک یوں دعا کرتے رہتے ہیں، کہ اے اللہ! اس کی مغفرت کر۔ اے اللہ! اس پر رحم کر۔ تم میں سے وہ شخص جو صرف نماز کی وجہ سے گھر جانے سے رکا ہوا ہے، سو نماز کے علاوہ اور کوئی اس کے لیے مانع نہیں، تو اس کا( یہ سارا وقت) نماز ہی شمار ہوگا۔
صحيح البخاري، كتاب الاذان، باب من جلس في المسجد ينتظر الصلاة وفضل المساجد، رقم: 659 .