تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس سورت میں وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے پناہ لینے کے لیے اللہ تعالیٰ کی تین صفات کے ساتھ پناہ پکڑنے کی تعلیم دی گئی ہے کہ اگر اپنے کسی پرورش کرنے والے کی پناہ پکڑنا چاہو تو بجائے اس کے کہ کسی ایسے شخص کی پناہ پکڑو جو کسی ایک آدھ یا چند آدمیوں کی پرورش کر رہا ہو اور حقیقت میں وہ خود محتاج ہو، تم اس کی پناہ پکڑو جو سب لوگوں کا رب اور سب کی پرورش کرنے والا ہے، جو کسی کا محتاج نہیں اور سب اس کے محتاج ہیں۔ اگر کسی صاحب قوت بادشاہ کی پناہ پکڑنا چاہو تو بجائے اس کے کہ ان بادشاہوں کی پناہ پکڑو جو فوجوں کے محتاج ہیں، جن کا اقتدار محدود اور عارضی ہے اور جن کی اپنی زندگی اور اپنا نفع و نقصان ان کے ہاتھ میں نہیں، تم اس کی پناہ پکڑو جو تمام لوگوں کا بادشاہ ہے اور اس کی قوت اور بادشاہی کسی فوج یا سالار کی محتاج نہیں اور اگر کسی ایسی ہستی کی پناہ لینا چاہو جسے غیبی قوتوں کا مالک ہونے کی وجہ سے تم عبادت کا حق دار سمجھتے ہو تو وہ صرف اور صرف ایک ہی ہے، جو تمام لوگوں کا معبود برحق ہے اور صرف وہی تمھیں ان خطرات میں پناہ دے سکتا ہے جن کے سامنے تمام مربی اور تمام بادشاہ بے بس ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ نہ کوئی غیبی قوتوں کا مالک ہے، نہ کائنات کی کسی چیز میں کسی دوسرے کا دخل ہے اور نہ کسی کا حق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔
➋ سورۂ فلق میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت {” بِرَبِّ الْفَلَقِ “} کے ساتھ ساری مخلوق کے شر سے عموماً اور مخلوق میں سے تین چیزوں کے شر سے خصوصاً پناہ مانگی گئی ہے، یعنی اندھیری رات، گرہوں میں پھونکنے والیوں اور حاسد کے شر سے اور اس سورت میں صرف ایک چیز یعنی ہٹ ہٹ کر وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے اللہ تعالیٰ کی تین صفات کے ساتھ پناہ مانگی گئی، کیونکہ پہلی تینوں چیزیں انسان کے جسم و جان کو نقصان پہنچانے والی ہیں، جب کہ وسوسہ اس کے ایمان کو نقصان پہنچانے والا ہے اور ایمان کی حفاظت کی فکر جسم و جان سے بھی اہم ہے۔
➌ پہلی تین آیات میں {” النَّاسِ “} کا لفظ بار بار لایا گیا ہے، حالانکہ {” بِرَبِّ النَّاسِ “} کے بعد والی آیات میں {” النَّاسِ “} کی ضمیر بھی لائی جا سکتی تھی۔ اس میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے (واللہ اعلم) کہ لوگوں کے وسوسے کا شر اتنا خوف ناک ہے کہ بندہ بار بار اس کا حوالہ دیتا ہے کہ یا اللہ! لوگوں کا رب بھی تو ہے، لوگوں کا بادشاہ بھی تو ہے اور لوگوں کا الٰہ بھی تو ہے، اس لیے لوگوں کے شر سے پناہ بھی توہی دے سکتا ہے۔ اس سورت میں ان تینوں صفات کی پناہ پکڑتے وقت ضمناً بھی بار بار لوگوں کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے، پھر{” مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ…“} کے ساتھ صاف لفظوں میں بھی لوگوں کے وسوسے کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔ تفسیر قاسمی میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور شیخ ناصر سے ایک اور حکمت نقل کی گئی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پناہ مانگنے والے بھی چونکہ لوگ ہیں، اس لیے پناہ مانگتے وقت بار بار ان نسبتوں کا حوالہ دیا جا رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کے درمیان اور لوگوں کے درمیان موجود ہیں کہ یا اللہ! تو لوگوں کا رب بھی ہے، لوگوں کا بادشاہ بھی اور لوگوں کا معبود برحق بھی، تو جب لوگوں کا سبھی کچھ تو ہی ہے تو تیرے علاوہ انھیں پناہ دینے والا اور کون ہو سکتا ہے؟ (قاسمی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صحیح حدیث میں ہے {تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان ہے لوگوں نے کہا کیا آپ کے ساتھ بھی آپ نے فرمایا: ”ہاں! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے پس میں سلامت رہتا ہوں وہ مجھے صرف نیکی اور اچھائی کی بات ہی کہتا ہے“ } ۱؎۔ [صحیح مسلم:2814]
حافظ ابو یعلیٰ موصلی رحمہ اللہ نے ایک حدیث وارد کی ہے جس میں ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ شیطان اپنا ہاتھ انسان کے دل پر رکھے ہوئے ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تب اس کا ہاتھ ہٹ جاتا ہے اور اگر یہ ذکر اللہ بھول جاتا ہے تو وہ اس کے دل پر پورا قبضہ کر لیتا ہے، یہی «وَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ» ہے۔} ۲؎ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:1367]، یہ حدیث غریب ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے ایک صحابی آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے گدھے نے ٹھوکر کھائی تو ان کے منہ سے نکلا شیطان برباد ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں نہ کہو اس سے شیطان پھول کر بڑا ہو جاتا ہے ۳؎، [مسند احمد:71/5:صحیح] اور کہتا ہے کہ میں نے اپنی قوت سے گرا دیا اور جب تم «بسم الله» کہو تو وہ گھٹ جاتا ہے یہاں تک مکھی کہ برابر ہو جاتا ہے“، اس سے ثابت ہوا کہ ذکر اللہ سے شیطان پست اور مغلوب ہو جاتا ہے اور اس کے چھوڑ دینے سے وہ بڑا ہو جاتا ہے اور غالب آ جاتا ہے}۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: شیطان ابن آدم کے دل پر چٹکی مارے ہوئے ہے جہاں یہ بھولا اور غفلت کی کہ اس نے وسوسے ڈالنے شروع کئے اور جہاں اس نے ذکر اللہ کیا اور یہ پیچھے ہٹا۔
سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھ سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ شیطان راحت و رنج کے وقت انسان کے دل میں سوراخ کرنا چاہتا ہے یعنی اسے بہکانا چاہتا ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرے تو یہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شیطان برائی سکھاتا ہے جہاں انسان نے اس کی مان لی پھر ہٹ جاتا ہے۔
پھر فرمایا: جو وسوسے ڈالتا ہے لوگوں کے سینے میں، لفظ «ناس» جو انسان کے معنی میں ہے اس کا اطلاق جنوں پر بھی بطور غلبہ کے آ جاتا ہے۔
قرآن میں اور جگہ ہے «بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ» ۲؎ [72-الجن:6] کہا گیا ہے تو جنات کو لفظ «ناس» میں داخل کر لینے میں کوئی قباحت نہیں، غرض یہ ہے کہ شیطان جنات کے اور انسان کے سینے میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:112] یعنی ’اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن انسانی اور جناتی شیطان بنائے ہیں ایک دوسرے کے کان میں دھوکے کی باتیں بنا سنوار کر ڈالتے رہتے ہیں‘۔
«الْحَمْدُ لِلَّه» اللہ تعالیٰ کے احسان سے یہ تفسیر ختم ہوئی۔ «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ»
«وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ . وَرَضِيَ اللَّهُ عَنِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذه السورة مشتملةٌ على الاستعاذة بربِّ النَّاس ومالكهم وإلههم من الشيطان، الذي هو أصل الشُّرور كلِّها ومادتها، الذي من فتنته وشرِّه أنَّه يوسوس في صدور النَّاس؛ فيحسِّن لهم الشرَّ، ويريهم إيَّاه في صورة حسنةٍ، وينشِّط إرادتهم لفعله، ويثبِّطهم عن الخير ، ويريهم إيَّاه في صورةٍ غير صورتِه، وهو دائماً بهذه الحال، يوسوس ثم يخنُسُ؛ أي: يتأخَّر عن الوسوسة إذا ذكر العبد ربَّه واستعان [به] على دفعه؛ فينبغي له أن يستعين ويستعيذ ويعتصم بربوبيَّة الله للناس كلِّهم، وأنَّ الخلق كلَّهم داخلون تحت الرُّبوبيَّة والملك، فكلُّ دابَّةٍ هو آخذٌ بناصيتها، وبألوهيَّته التي خلقهم لأجلها؛ فلا تتمُّ لهم إلاَّ بدفع شرِّ عدوِّهم الذي يريد أن يقتَطِعَهم عنها ويحول بينهم وبينها، ويريد أن يجعلهم من حزبِه؛ لِيكونوا من أصحاب السعير، والوسواس كما يكون من الجنِّ يكون من الإنس، ولهذا قال: {من الجِنَّةِ والنَّاسِ}.