صحیح احادیث بھی وحی ہیں
اس کے متعلق قرآن کریم کی آیات بینات میں دلالت و اشارات ملاحظہ فرمائیں:
➊ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ ﴿٤﴾
”وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتے بلکہ وہ وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔“
(53-النجم:3-4)
● قرآن کریم میں نطق (بولنے) کا مادہ بارہ دفعہ مختلف طریقوں سے مذکور ہے۔ پرندوں کی زبان سے آوازیں نکلتی ہیں (النمل 16:27)
● روز قیامت انسانی چمڑے کی شہادت (حم السجدہ 21:41)
● روز قیامت ہر چیز کا بولنا (حم السجدہ 21:41)
●بتوں کا نطق سے عاجز ہونا (الصافات 92:37، الأنبياء21: 63-64)
●روز قیامت انسان کا کسی وقت نطق سے عاجز ہونا (النمل 85:27، المرسلات 35:77)
●نطق کی نسبت اعمال نامہ کی طرف (المؤمنون 62:23، الجاثیہ 29:45)
●انسانوں کا عام اوقات میں نطق (الذاریات 23:51)
●نبی کریم کا اپنی خواہش سے نطق نہ کرنا (النجم 3:53)
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم پر نطق کا اطلاق حقیقتاً ثابت نہیں۔ انسانوں یا پرندوں کے منہ سے جو بات نکلتی ہے اسے نطق کہتے ہیں۔ قرآن کریم میں لفظ الهوىٰ کا استعمال 38 مرتبہ ہوا ہے۔ اس کے مختلف معانی ہیں۔
●اوپر سے آنا اور گرنا (طہ 81:20، النجم 1:53)
●مائل ہونا، محبت کرنا (إبراهيم 37:14)
❀ نفس کا کسی چیز کی خواہش کرنا: اس کا استعمال بہت ہے اور نفسانی خواہشات شریعت کی مخالف اور بے دلیل چیزیں ہوتی ہیں۔ جب الهدىٰ کے ساتھ لفظ نفس مذکور ہو تو آخری معنی مراد ہوگا اور جب یہ لفظ نفس کے بغیر استعمال ہو تو اس کا معنی میلان ہوگا، خواہ یہ میلان خیر کی طرف ہو یا شر کی طرف۔
اس تمہید کے بعد اس آیت کی تفسیر اور تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی آیات میں کفار اور مشرکین کی تردید کرتا ہے کہ وہ نبی کریم کو گمراہ اور غلط راستے پر سمجھتے تھے۔ کبھی انسان خواہش نفس کی وجہ سے جہالت کی بنا پر غلطی کر لیتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کی اس وجہ سے غلطی کے ارتکاب کی براءت ظاہر کرتے ہوئے فرمایا: وما ضل اور کبھی دیدہ دانستہ غلطی ہو جاتی ہے ایسی غلطی کی براءت کے لیے فرمایا: وما غوىٰ کبھی دل کا میلان خیر اور صحیح بات کی طرف ہوتا ہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوتا تو اس سلسلے میں فرمایا: وما ينطق عن الهوىٰ ”وہ نبی کریم اپنی خواہش سے بات نہیں کرتے، یعنی شریعت کے معاملے میں آپ کی گفتگو آپ کا خود ساختہ کلام نہیں اگر چہ وہ صحیح بھی ہو بلکہ وہ کلام وحی پر مبنی ہوتا ہے۔ فرمایا: إن هو إلا وحي يوحىٰ۔
یعنی آپ کی زبان سے جو بھی کلمات نکلتے ہیں، خواہ وہ تلاوت قرآن ہو، خواہ دوسری باتیں ہوں، نبی کریم دونوں قسم کی باتیں اللہ تعالیٰ کی وحی کی وجہ سے زبان سے ادا کرتے ہیں۔ جبکہ دوسرے لوگوں کی زبان سے قرآن کریم کی تلاوت کے علاوہ بہت سی باتیں خواہشات نفس کی وجہ سے زبان سے ادا ہو جاتی ہیں۔ بعض باتیں صحیح بھی ہوتی ہیں لیکن وہ وحی نہیں ہوتیں۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ان آیات میں واضح طور پر دلیل ہے کہ قرآن کریم اور احادیث نبویہ دونوں وحی الہی ہیں۔ اگر چہ عام مفسرین نے اس آیت کو قرآن کریم سے منسلک کیا ہے لیکن لفظ نطق کے عموم کی وجہ سے یہ آیت احادیث کو بھی محیط ہے، بلکہ اگر غور کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کے متعلق لفظ انزال، تنزیل، تلاوت، قراءت اور تعلیم بیان فرمایا ہے جبکہ نطق کا لفظ کسی بھی جگہ قرآن کے لیے استعمال نہیں ہوا، لہذا وما ينطق کے الفاظ حقیقتاً احادیث کے لیے ہیں اور قرآن کریم مجازی طور پر اس میں داخل ہے کیونکہ اعمال نامے کی طرف نطق کی نسبت دو آیتوں (سورۃ المؤمنون 62:23، سورۃ الجاثیہ 29:45) میں بیان کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کتاب (اعمال نامے) کی طرف نطق کی نسبت جائز ہے اور بعض مفسرین نے اس تعمیم کو ترجیح دی ہے۔ آلوسی اور بیضاوی نے لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:
اس سے مراد آپ کا کلام یا قرآن ہے اور سیاق کلام سے دونوں معانی معلوم ہوتے ہیں۔
(تفسیر بیضاوی، مذکورہ آیت)
آلوسی بیان کرتے ہیں: ”میری رائے کے مطابق یہ بعید نہیں کہ وما ينطق عن الهوىٰ کو عموم پر محمول کیا جائے حتی کہ امام احمد اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ جیسے لوگ جو نبی کریم کے لیے اجتہاد کے قائل ہیں، وہ بھی یہ نہیں کہتے کہ آپ نے اجتہاد کے طور پر جو کلام کیا وہ خواہش نفس سے صادر ہوا اللہ کی پناہ! رسول کی شان ایسے نہیں ہو سکتی۔ بلکہ وہ کہتے ہیں کہ آپ کا کلام اجتہاد اور وحی کے درمیان واسطہ (وحی خفی) ہوتا ہے۔
(تفسیر روح المعانی: 72/15)
پس یہ آیت کریمہ صریح دلالت کرتی ہے کہ صحیح احادیث بھی وحی الہی میں داخل ہیں۔
➋ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهٰكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا
”رسول جو کچھ تمہیں دیں وہ لے لیا کرو اور جس چیز سے تمہیں روکیں اس سے رک جایا کرو۔“
(59-الحشر:7)
اس آیت سے بالکل واضح طور پر معلوم ہوا کہ رسول اللہ کی احادیث پر عمل کرنا فرض ہے کیونکہ وہ وحی الہی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ الفاظ فخذوه اور فانتهوا امر کے صیغے سے بیان فرمائے ہیں اور یہ عموم پر دلالت کرتے ہیں، پس معلوم ہوا کہ یہ بھی وحی ہے۔
نوٹ: یہ آیت اگر چہ مال فے (جو بنو نضیر سے حاصل ہوا تھا) کے متعلق ہے لیکن مسلمہ قرآنی قانون ہے کہ خصوصی سبب کا اعتبار نہیں ہوتا بلکہ الفاظ کے عموم کا اعتبار ہوتا ہے جبکہ پرویز صاحب تو سرے سے قرآنی آیت میں سبب نزول کے قائل ہی نہیں تو پھر اس آیت میں کیوں کر تخصیص کا ذکر کرتے ہیں۔
لفظ وما آتاكم عام ہے کہ نبی کریم مال فے، مال غنیمت اور مال زکاۃ وصدقات کو تقسیم کرتے ہوئے اس میں سے جو حصہ کسی کو دیں یا امر کے طور پر جو حکم قرآن یا حدیث میں دیں یا عمل کے طور پر امت کو جو طریقہ اور کیفیت بتائیں یہ سب اسی آیت کے زمرے میں آتا ہے۔ باقی رہ گیا منع کرنا تو اس کے متعلق مستقل فرما دیا: وما نهاكم فانتهوا اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم کا دین صرف اوامر اور نواہی نہیں کیونکہ ما أمركم الرسول جس چیز کا رسول تمہیں حکم دیں۔ نہیں فرمایا بلکہ نبی کریم کا دین اوامر، اقوال، اعمال، تروک اور مناہی سب کو محیط ہے، لہذا رسول کی طرف ان الفاظ کی نسبت سے صراحتاً معلوم ہوا کہ قرآن کے ساتھ ساتھ احادیث کو ماننا بھی ضروری ہے۔ پرویزی جماعت کا اعتراض ہے کہ لفظ ”آتي“ محسوسات کے ساتھ خاص ہے، لہذا لفظ آتاكم یہاں صرف مال فے کے متعلق ہے، عام نہیں۔
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اس مصدر کے مختلف صیغے قرآن کریم میں 129 مرتبہ بیان ہوئے ہیں اور یہ محسوسات اور غیر محسوسات دونوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ غیر محسوسات کے لیے چند آیات ملاحظہ فرمائیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَقَدْ آتَيْنَا إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ
”اور ہم نے ابراہیم کو اس کی دانائی دی۔“
(21-الأنبياء:51)
نیز فرمایا:
وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا
”اور ہم نے دونوں (داود اور سلیمان علیہما السلام میں سے ہر ایک کو علم و حکمت عطا کی۔“
(21-الأنبياء:79)
نیز فرمایا:
وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا
”اور یقیناً ہم نے داود اور سلیمان کو علم عطا کیا۔“
(27-النمل:15)
اور فرمایا:
وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ
”اور بلاشبہ ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی۔“
(31-لقمان:12)
نیز فرمایا:
وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا
”اور بلاشبہ ہم نے داود کو اپنی طرف سے فضل عطا کیا۔“
(34-سبأ:10)
نیز فرمایا:
فَآتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ
”ہم نے ان میں سے ایمان لانے والوں کو ان کا اجر عطا کیا۔“
(57-الحديد:27)
مزید فرمایا:
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا
”اور ان لوگوں کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنائیں جس کو ہم نے اپنی نشانیاں عطا کی تھیں۔“
(7-الأعراف:175)
اور فرمایا:
وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ
”اور ہم نے اس کو حکمت اور فیصلہ کن بات کا سلیقہ عطا کیا۔“
(38-ص:20)
نیز فرمایا:
وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ
”اور یہ ہماری دلیل ہے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں دی تھی۔“
(6-الأنعام:83)
نیز فرمایا:
سَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَمْ آتَيْنَاهُمْ مِنْ آيَةٍ بَيِّنَةٍ
”بنی اسرائیل سے پوچھیں کہ ہم نے انہیں کس قدر واضح دلائل دیے۔“
(2-البقرة:211)
ان کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات کریمہ ہیں جن میں مصدر إيتاء علم و حکمت اور آیات وحی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح مصدر أخذ، محسوسات کے ساتھ خاص نہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
وَأَخَذَ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ
”ظالموں کو زور کی آواز نے آپکڑا۔“
(11-ھود:67)
نیز ارشاد الہی ہے:
قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُم مَّوْثِقًا مِّنَ اللَّهِ
”اس (تمھارے باپ) نے تم سے اللہ کی قسم لے رکھی ہے۔“
(12-يوسف:80)
اور فرمان الہی ہے:
وَأَخَذْتُمْ عَلَىٰ ذَٰلِكُمْ إِصْرِي
”اور اس پر میرا عہد قبول کرتے ہو۔“
(3-آل عمران:81)
نیز رب العالمین نے فرمایا:
وَأَخَذْنَا مِنْكُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا
”اور انھوں (عورتوں) نے تم سے پختہ عہد لیا ہے۔“
(4-النساء:21)
اور ارشاد الہی ہے:
خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ
”درگزر کریں اور نیکی کا حکم کرتے رہیں۔“
(7-الأعراف:199)
اس کے علاوہ اور بھی آیات کریمہ ہیں جن میں مصدر أخذ کے مختلف صیغے غیر محسوسات کے لیے استعمال ہوئے ہیں جن میں سے بعض قبولیت کے معنی میں ہیں اور یہاں پر فخذوه سے بھی قبولیت کا معنی مراد ہے۔ اس آیت کریمہ سے صحابہ کرام نے بہت سے احکام مستنبط کر کے وحی قرآنی کی ذیل میں شمار کیے ہیں۔ یہاں ان کی تفصیل نقل کرنے کی گنجائش نہیں، بہر حال اس آیت کریمہ سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ احادیث بھی وحی الہی ہیں۔
➌ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ
”میں تو صرف اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔“
(6-الأنعام:50)
نیز فرمایا:
قُلْ إِنَّمَا أَتَّبِعُ مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ مِنْ رَّبِّي
”کہہ دیجیے: میں تو اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے میری طرف وحی کی جاتی ہے۔“
(7-الأعراف:203)
نیز فرمایا:
وَاتَّبِعْ مَا يُوحَىٰ إِلَيْكَ
”اور جو کچھ آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے اس کی اتباع کریں۔“
(10-یونس:109)
نیز فرمایا:
وَاتَّبِعْ مَا يُوحَىٰ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ
”اور اس چیز کی پیروی کریں جو آپ کی طرف آپ کے رب نے وحی کیا ہے۔“
(33-الأحزاب:2)
نیز فرمایا:
إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ
”میں تو صرف اسی بات کی اتباع کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔“
(46-الأحقاف:9)
ان آیات میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کریم کو حکم تھا کہ وہ صرف وحی کی اتباع کریں، لہذا آپ نے صرف وحی کی اتباع کی۔ لفظ اتباع کی تحقیق پہلے بیان کی جا چکی ہے کہ یہ عمل کرنے کے ساتھ خاص ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ نے اپنی نبوت والی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق اعمال کیے ہیں۔ اگر ان آیات میں وحی سے صرف قرآن کریم مراد ہے تو اس کے مطابق نبی کریم نے جو عمل کیا وہ احادیث میں موجود ہے، لہذا وہ بھی وحی ہے۔ اگر وحی سے مراد وہی جلی اور وحی خفی ہے تو پھر یہ آیت اس بات پر صریح دلیل ہے کہ نبی کریم کے تمام اعمال وحی الہی تھے۔ آپ کے اعمال کی تفصیل احادیث میں موجود ہے، پس تمام احادیث وحی الہی ہیں، اس مسئلے میں یہ آیت قطعی دلیل ہے۔
آپ کے نماز، روزے، حج اور جہاد وغیرہ سے متعلق اعمال احادیث میں مفصل بیان ہو چکے ہیں اور یہ اعمال مذکورہ آیت ”میں تو صرف اس چیز کی اتباع کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔“ کے تابع ہیں۔ اور اگر وہ اعمال اس وحی کے تابع نہیں تو پھر تو (العیاذ باللہ) یہ اعمال آپ نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہوئے سرانجام دیے ہیں جس کا آپ کے متعلق تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ چونکہ آپ نے وحی کی اتباع کرتے ہوئے تمام اعمال کیے تو پھر لازمی بات ہے کہ آپ کے اعمال کو وحی کا درجہ دیا جائے گا، لہذا ثابت ہوا کہ احادیث صحیحہ بھی وحی ہیں۔
➍ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا
”کس چیز نے انھیں اس قبلہ (بیت المقدس) سے پھیر دیا جس کی طرف وہ رخ کیا کرتے تھے؟“
(2-البقرة:142)
نیز فرمایا:
فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا
”پس ہم ضرور آپ کو اس قبلے کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں۔“
(2-البقرة:144)
ان آیات میں تحویل قبلہ کا مختصر ذکر ہے جس کی تفصیل احادیث میں ہے کہ نبی کریم اور صحابہ کرام پہلے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نمازیں پڑھا کرتے تھے لیکن ہجرت مدینہ کے سولہ یا سترہ ماہ بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں قبلے کی طرف رخ موڑنے کا حکم دے دیا۔ پہلے قبلے (بیت المقدس) کا ذکر قرآن کریم میں تو نہیں ہے، صرف صحیح احادیث میں اس کا تفصیلی ذکر ہے، چنانچہ آپ اور صحابہ کرام حدیث (وحی خفی) پر عمل کرتے ہوئے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نمازیں پڑھا کرتے تھے، اس سے ثابت ہوا کہ احادیث صحیحہ وحسنہ دین میں حجت ہیں۔
➎ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَىٰ بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ وَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَن بَعْضٍ ۖ فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ أَنبَأَكَ هَٰذَا ۖ قَالَ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ ﴿٣﴾
”پس جب نبی نے اپنی کسی اہلیہ سے راز کی ایک بات کی، پھر جب اس نے وہ بات (کسی ساتھ والی کو بتادی اور اس چیز کو اللہ نے نبی پر ظاہر کر دیا تو آپ نے کچھ بات بتادی اور کچھ نہ بتائی، پس جب آپ نے وہ بات اس (اہلیہ) سے کی تو اس نے کہا کہ آپ کو کس نے بتایا؟ تو آپ نے فرمایا: مجھے جاننے والے خبر رکھنے والے (اللہ تعالیٰ) نے بتایا ہے۔“
(66-التحريم:3)
اس آیت میں وحی خفی کی طرف پہلا اشارہ یہ ہے کہ نبی کریم نے اپنی ایک اہلیہ سے ایک راز کی بات کی تھی۔ وہ کون سی بات تھی جس کا ذکر قرآن کریم میں نہیں۔ بلکہ اس کا ذکر صحیح احادیث میں ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم نے شہد کو نہ پینے پر قسم اٹھا لی تھی تاکہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما راضی ہو جائیں۔
( صحیح البخاري، تفسير سورة التحريم)
وحی خفی کی طرف دوسرا اشارہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان وأظهره الله عليه ”اس بات کو اللہ تعالیٰ نے آپ پر ظاہر کر دیا۔“ اور نبأني العليم الخبير ”مجھے جاننے والے اور باخبر (اللہ) نے بتایا ہے۔“ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو واقعے کی تفصیل بتادی، لیکن وہ خبر قرآن کریم میں وحی جلی کے طور پر نہیں ملتی بلکہ وحی خفی کے طور پر ملتی ہے۔ اور وحی خفی، اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وأظهره الله عليه اور نبأني العليم الخبير فرما کر دو مرتبہ اس کی نسبت اپنی طرف کی ہے۔ ایک پرویزی نے لکھا ہے کہ ہو سکتا ہے العليم الخبير کوئی انسان ہو جس نے آپ کو خبر دی۔ لیکن اس کی یہ بات صحیح نہیں ہے کیونکہ العليم الخبير جیسی صفات پر جب الف لام داخل ہو جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے لیے استعمال نہیں ہوتیں، یہ اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ لفظ الخبير کا معنی ہے ”باطنی امور کا علم رکھنا“ اور باطنی امور کا علم بھی اللہ تعالیٰ ہی کے لیے خاص ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ باطنی امور کا علم رکھتا ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے، صریح شرک ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہ لوگ کفر اور شرک کا ارتکاب کرتے ہوئے بھی نہیں ڈرتے اور اپنے مذموم مقاصد کے تحت وحی خفی سے انکار کیے جا رہے ہیں۔
➏ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ ﴿١٣﴾ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ ﴿١٤﴾ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ ﴿١٥﴾ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ ﴿١٦﴾ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ ﴿١٧﴾ لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ ﴿١٨﴾
”اور یقیناً اس (رسول) نے اس (جبریل) کو ایک بار اور بھی دیکھا، سدرۃ المنتہیٰ کے پاس، جس کے قریب ہی جنت المأویٰ ہے۔ جس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا۔ آنکھ نے غلطی کی نہ اسے دھوکا ہوا۔ یقیناً اس (رسول) نے اپنے رب کی (بعض) بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔“
(53-النجم:13-18)
ان آیات سے سدرۃ المنتہیٰ کے قریب جبریل علیہ السلام سے نبی کریم کی ملاقات ثابت ہوتی ہے۔ اس درخت کو عظیم الشان چیز نے چھپا رکھا تھا اور اس کے پاس اور بھی بڑی بڑی نشانیاں نظر آئیں، جن کی تفصیل صحیح متواتر احادیث میں واقعہ معراج کی صورت میں مذکور ہے۔ اگر ان احادیث سے صرف نظر کر لیا جائے تو اس کلام سے کوئی تفصیلی بات سمجھ میں نہیں آتی اور تاویلات باطلہ کی بھی اس میں کوئی گنجائش نہیں بلکہ منکرین حدیث اس باب میں جو تاویلات کرتے ہیں، وہ بالکل تحریفات ہیں جو یہود کی فتح عادت تھی۔ ان آیات میں اس وحی خفی کی طرف اشارہ ہے، جس میں واقعہ معراج تفصیل سے مذکور ہے۔ چونکہ یہ واقعہ نبی کریم کے معجزات میں سے ہے، اس لیے اسے اپنی عقل کی میزان پر نہیں تولنا چاہیے۔ یہ ایمان والوں کے لیے ایمان بالغیب کے عقیدے سے تعلق رکھتا ہے، جس کے بغیر کوئی انسان مومن نہیں ہو سکتا۔
➐ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
مَا قَطَعْتُم مِّن لِّينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَىٰ أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ ﴿٥﴾
”تم نے (ان کے) کھجور کے درخت جو کاٹ ڈالے یا انھیں اپنی جڑوں پر قائم رہنے دیا تو یہ سب اللہ کی اجازت سے تھا اور اس لیے تھا کہ وہ (اللہ) فاسقوں کو رسوا کرے۔“
(59-الحشر:5)
اس آیت میں بنو نضیر کی جلاوطنی کا تذکرہ ہے۔ اس جلاوطنی کے ساتھ نبی کریم نے صحابہ کرام کو حکم دیا تھا کہ ان کے بعض باغات کاٹ ڈالو اور بعض کو رہنے دو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: فبإذن الله ”یہ سب اللہ کے حکم سے تھا۔“ جبکہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم قرآن کریم میں کسی بھی جگہ مذکور نہیں ہے، لہذا ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم وحی خفی کے ذریعے سے اپنے رسول کریم کو دیا تھا جس پر آپ نے عمل کیا۔ جو شخص وحی خفی کو نہیں مانتا وہ نبی کریم تک یہ اذن الہی پہنچنے کا کون سا ذریعہ بتائے گا؟ ظاہر ہے ان کے پاس ضد ,عناد اور کج روی کے سوا کوئی دلیل نہیں۔
➑ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ
”یقیناً اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے معاملے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ کے حضور شکایت کر رہی تھی۔“
(58-المجادلة:1)
اس آیت میں ایک خاص واقعے کی طرف اشارہ ہے جس میں ایک عورت اپنے خاوند کے متعلق نبی کریم سے جھگڑ رہی تھی اور اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کر رہی تھی۔ اس عورت کا نام، اس کے خاوند کا نام، وہ بات جو اس نے نبی کریم سے کی اور اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کے الفاظ یہ ساری چیزیں قرآن کریم کی کسی آیت میں مذکور نہیں، البتہ صحیح احادیث میں ان کا تفصیلی ذکر ہے۔ اگر احادیث کی کوئی اہمیت اور حجت نہ ہوتی تو پھر اس قسم کی آیات بینات حقیقت سے خالی رہتیں، البتہ منکرین حدیث یہاں پینترا بدلتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم اس قسم کی احادیث مانتے ہیں۔ ”بعض احادیث مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں۔“ کی وضاحت ان شاء اللہ بعد میں کی جائے گی۔
➒ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ
”جب کافروں نے اپنے دلوں میں جاہلیت کے زمانے کی سی ضد کا تہیہ کر لیا۔“
(48-الفتح:26)
اس آیت میں صلح حدیبیہ کے واقعے کی طرف اشارہ ہے جس کا کچھ حصہ اشارات کے ساتھ اس سورت میں مذکور ہے، یعنی بیعت کا ذکر، منافقوں کا کردار، درخت کے نیچے بیٹھنا، مال غنیمت کی بشارت اور جنگ بندی وغیرہ۔ اس آیت میں کفار کی جاہلانہ ضد کا اجمالی طور پر ذکر ہے۔ اس ضد سے کیا مراد ہے؟ اس کی تشریح صلح حدیبیہ کے متعلق احادیث میں موجود ہے۔ کفار نے صلح نامہ پر بسم الله الرحمن الرحيم اور محمد رسول الله لکھنے سے انکار کر دیا، نیز نبی کریم اور صحابہ کرام کو بیت اللہ جانے سے روکنے پر اصرار کیا۔ اگر احادیث کے ذخیرے (وحی خفی) پر اعتماد نہ کیا جائے تو پھر سورۂ فتح کی تفسیر کہاں سے حاصل کریں گے؟ عقل کے ذریعے سے تو کوئی قصہ نہیں بنا سکتا اور یہ عذر بھی قبول نہیں کہ بعض احادیث کو مانا جائے اور بعض کا انکار کر کے أفتؤمنون ببعض الكتاب وتكفرون ببعض کا مصداق بن جائیں۔
➓ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللَّهِ ۚ قُل لَّن تَتَّبِعُونَا كَذَٰلِكُمْ قَالَ اللَّهُ مِن قَبْلُ
”وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل ڈالیں، کہہ دیجیے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے۔ اللہ نے پہلے ہی سے ایسے فرما دیا تھا۔“
(48-الفتح:15)
اس آیت میں كلام الله اور قال الله من قبل کا مصداق کسی دوسری آیت میں نہیں ہے۔ آیت کا مضمون اور مقصد یہ ہے کہ جب تم صلح حدیبیہ سے فارغ ہو کر خیبر کی طرف روانہ ہو گے تو منافق لوگ کہیں گے کہ ہم بھی تمھارے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک ہونا چاہتے ہیں کیونکہ غزوہ خیبر آسان تھا اور اس میں مال غنیمت زیادہ حاصل ہونے کی توقع تھی، لہذا اس موقع پر وحی خفی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ تھا کہ جو لوگ حدیبیہ کے سفر میں آپ کے ساتھ نہیں تھے وہ غزوہ خیبر میں آپ کے ساتھ شامل نہیں ہو سکتے کیونکہ غنائم خیبر حقیقت میں ان کے سفر حدیبیہ کی تکالیف اور مصائب کے بدلے میں ایک عمدہ جزا تھی اور یہ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ ”احسان کا بدلہ احسان سے دیا جاتا ہے۔“ (55-الرحمن :60) کے قانون کے مطابق تھی، لیکن منافق لوگ کوشش کرتے رہے تھے کہ وہ غزوہ خیبر میں ضرور شریک ہوں۔ اگر وہ شریک ہو جاتے تو اس کا یہ نتیجہ نکلتا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان جو وحی خفی کی صورت میں تھا، تبدیل ہو جاتا۔ اگر پورے انصاف کے ساتھ اس آیت کے مفہوم پر غور و فکر کیا جائے تو یہ معلوم ہو جائے گا کہ وحی خفی کے اثبات اور اس پر کلام الہی اور فرمان الہی کا اطلاق کرنے میں یہ آیت کریمہ نص قطعی ہے۔
جبکہ اس کی مخالفت میں چون و چرا کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہاں تک دس آیات کریمہ مختصر تشریح کے ساتھ بیان کی گئی ہیں جو کہ وحی خفی کے ثبوت پر دلالت کرتی ہیں اور وہ قرآن کی طرح شرعی حجت ہیں، یعنی صحیح و حسن احادیث بھی حجت شرعیہ کا درجہ رکھتی ہیں۔