قربانی کے اہم احکام و مسائل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر طارق ہمایوں شیخ کی کتاب عید الاضحٰی سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

قربانی کے احکام و مسائل

پاکیزہ اور حلال کمائی (رزق حلال) کا حکم ربانی ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِيهِ إِلَّا أَن تُغْمِضُوا فِيهِ ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ ‎﴿٢٦٧﴾‏
”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جو کچھ تم نے (محنت مزدوری یا تجارت سے) کمایا ہے اور جو کچھ ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا ہے اس میں سے عمدہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو اور ناکارہ چیز (کے دینے) کا ارادہ بھی نہ کرنا کہ (اللہ کی راہ میں) اس میں سے دینے لگو، حالانکہ (وہی چیز اگر کوئی دوسرا تمہیں دینا چاہے تو) تم اس کو (کبھی خوشدلی سے) نہ لو گے مگر یہ کہ (دیدہ دانستہ) اس (کے لینے) میں چشم پوشی کر جاؤ اور جان لو کہ اللہ (تمہاری ان چیزوں سے) بے نیاز اور تمام خوبیوں والا ہے۔ “
(2-البقرة:267)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا
”یقینا اللہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ پاکیزہ (حلال) چیزوں کے علاوہ کوئی چیز قبول نہیں فرماتا۔ “
(صحیح مسلم: 1015،1051 صحیح بخاری: 1410)

اعمال میں خلوص نیت

ارشاد ربانی ہے:
لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ
” (یاد رکھو) اللہ تک تو نہ ان (قربانی کے جانوروں) کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ہی ان کے خون، البتہ اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ “
(22-الحج:37)

قربانی کے لیے کون سا جانور مستحب ہے؟

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، کہ ایک مینڈھا لایا جائے جو سینگوں والا ہو، پاؤں کالے ہوں، آنکھیں کالی ہوں، سینہ اور پیٹ بھی کالا ہو۔
(صحیح مسلم: 1967، سنن ابوداؤد: 2792)

نوٹ:

مندرجہ بالا حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جانور خوبصورت ہونا چاہیے۔

قربانی کے جانور کی عمر

❀ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے ماموں سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے نمازِ عید سے پہلے قربانی کر لی۔ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز کے بعد دوبارہ ایک اور جانور ذبح کرنے کو کہا۔ سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ان کے پاس اب صرف ایک سال سے کم عمر بکری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے ہی ذبح کر لو، لیکن تمہارے بعد (اس طرح کی قربانی کرنا) کسی اور کے لیے جائز نہیں ہوگی۔ “
(صحیح بخاری: 983،555 صحیح مسلم: 1961، سنن ابوداؤد: 2800، سنن نسائی: 4399، سنن ترمذی: 1508، موطا امام مالک: 1051)
❀ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دانتے کے علاوہ کوئی جانور (قربانی کے لیے) ذبح نہ کرو، سوائے اگر (دو دانتا جانور تلاش کرنا) تمہارے لیے مشکل ہو جائے تو بھیڑ کا جذع ذبح کر لو۔ “
(صحیح مسلم: 1963 سنن ابوداؤد: 2797، سنن ابن ماجہ: 3141، سنن نسائی: 4383، سنن ترمذی: 1500)
❀ قربانی کا جانور (اونٹ، گائے، مینڈھا / چھترا، بکرا) کم از کم دو دانتوں والا ہونا چاہیے۔
(صحیح مسلم: 1963 سنن ابوداؤد: 2797، سنن ابن ماجہ: 3141، سنن نسائی: 4394، سنن ترمذی: 1500، موطا امام مالک: 1050)

وضاحت:

دو دانتا : جس کے دودھ کے سامنے والے دو دانت گر کر نئے دو دانت آ چکے ہوں۔
جذع: جذع کی عمر کے بارے میں راجح قول یہ ہے کہ اس کی عمر ایک سال مکمل ہو۔
➊ دو دانتوں والا اونٹ پانچ سال کا ہو چکا ہوتا ہے۔
➋ دو دانتوں والی گائے دو سال کی ہو چکی ہوتی ہے۔
➌ دو دانتوں والا مینڈھا / چھترا / بکرا ایک سال کا ہو چکا ہوتا ہے۔

قربانی کے جانور کا بے عیب ہونا

❀ کانا پن ظاہر نہ ہو (دونوں آنکھیں صحیح ہوں)۔
(سنن ترمذی: 1497، سنن ابوداؤد: 2802، سنن نسائی: 4374، سنن ابن ماجہ: 3144، موطا امام مالک: 1049)
❀ لنگڑا پن ظاہر نہ ہو (لنگڑاتا نہ ہو)۔
(سنن ترمذی: 1497، سنن ابوداؤد: 2802، سنن نسائی: 4374، سنن ابن ماجہ: 3144، موطا امام مالک: 1049)
❀ بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو قربانی کے قابل نہیں۔
(سنن ترمذی: 1497، سنن ابوداؤد: 2802، سنن نسائی: 4374، سنن ابن ماجہ: 3144، موطا امام مالک: 1049)
انتہائی کمزور و لاغر جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
(سنن ترمذی: 1497، سنن ابوداؤد: 2802، سنن نسائی: 4374، سنن ابن ماجہ: 3144، موطا امام مالک: 1049)
❀ بوڑھا جانور کہ اس کی ہڈی میں گودا نہ ہو کی قربانی سے بھی منع فرمایا ہے۔
(سنن ترمذی: 1497، سنن ابوداؤد: 2802، سنن نسائی: 4374، سنن ابن ماجہ: 3144، موطا امام مالک: 1049)
❀ قربانی کے جانور کا کان نہ ہی کٹا ہوا ہو اور نہ ہی اس میں سوراخ ہو اور نہ ہی لمبائی کے رخ چیرے ہوئے ہوں۔
(سنن ابوداؤد: 2804، سنن ترمذی: 1498، سنن ابن ماجہ: 3142، سنن نسائی: 4379)
❀ قربانی کے جانور کا سینگ ٹوٹا ہوا نہ ہو اور نہ ہی جڑ سے اکھڑا ہوا ہو۔
(سنن ابوداؤد: 2804، سنن ترمذی: 1498، سنن ابن ماجہ: 3142، سنن نسائی: 4382)

قربانی کے جانور کا خصی ہونا

❀ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما اس حدیث کے راوی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن دو مینڈھے ذبح کیے جو سینگوں والے، چتکبرے اور خصی تھے۔
(سنن ابوداؤد: 2795، سنن ابن ماجہ: 3121، مسند احمد: 3/375)

قربانی کے جانور کا حاملہ ہونا

❀ قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کے بعد اگر اس کے پیٹ سے مکمل بچہ نکل آئے تو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”اگر چاہو تو کھا لو۔ بلاشبہ اس کی ماں کا ذبح کرنا ہی اس کے لیے ذبح ہے۔ “
(سنن ابوداؤد: 2827، سنن ترمذی: 1475، سنن ابن ماجہ: 3199)

وضاحت:

اگر بچہ زندہ نکلے تو اس کو ذبح کرنا لازم ہو گا ورنہ وہ ماں کی طرح ذبیحہ کا حصہ ہے اور حلال ہے اور اس کا کھانا جائز ہے۔

دودھ دینے والے جانور کی قربانی منع ہے :

ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم) فرمائیے اگر مجھے دودھ دینے والے جانور کے سوا کوئی اور جانور نہ ملے تو کیا میں اس جانور کی قربانی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ اپنے سر کے بال کاٹ لو، ناخن اور مونچھیں تراش لو، (بغل) اور زیر ناف بالوں کی صفائی کر لو۔ اللہ کے ہاں تمہاری یہی کامل قربانی ہے۔ “
(صحیح مسلم: 1963، سنن ابن ماجہ: 3123، سنن ابوداؤد: 2789، سنن نسائی: 4370)

قربانی کا ثواب

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ جمعہ کے لیے اذان کے بعد آنے والے نمازیوں کے بارے میں فرمایا: ”جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے جامع مسجد کے دروازے پر آنے والوں کے نام لکھتے ہیں۔ سب سے پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی دینے والے کی طرح لکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی والے کی طرح، پھر مینڈھے کی قربانی کا ثواب پاتا ہے، اس کے بعد مرغی کا اور پھر اس کے بعد انڈے کا۔ لیکن جب امام خطبہ دینے کے لیے آ کر منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو فرشتے اپنے دفاتر بند کر دیتے ہیں۔ “
(صحیح بخاری: 929، صحیح مسلم: 850، سنن نسائی: 1386)
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینگوں والے چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کرنا پسند فرماتے تھے۔
(صحیح بخاری: 5565، صحیح مسلم: 1966، سنن ترمذی: 1494، سنن نسائی: 4399، سنن ابوداؤد: 2807)

وضاحت:

➊ اگر کوئی مسلمان ایک اونٹ ذبح کرے تو یہ قربانی ثواب کے اعتبار سے سب سے افضل ہے۔
➋ اگر کوئی پوری گائے ذبح کرے تو وہ ثواب کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہے۔
➌ ثواب کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر مینڈھا / بکرا / دنبہ ذبح کرنا ہے۔
➍ اگر گائے اور اونٹ کی قربانی میں اور حصہ دار شامل ہوں تو مینڈھا / بکرا / دنبہ کی قربانی ان حصوں کی نسبت افضل ہے۔

قربانی کے لیے کتنے جانور ذبح کرنے چاہئیں؟

اگر ریا کاری اور دکھاوا مقصود نہ ہو تو ایک سے زیادہ جانوروں کی قربانی دی جا سکتی ہے۔
(صحیح مسلم: 1966،1965 سنن ابن ماجہ: 3147، سنن ترمذی: 1505، موطا امام مالک: 1058)

ریا کاری سے اجتناب کرنا چاہیے

تابعی سیدنا عطا بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانیاں کس طرح ہوتی تھیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں آدمی اپنی طرف سے ایک بکری قربان کر دیا کرتا تھا۔ بعد میں لوگ فخر (کے طور پر) زیادہ جانور ذبح کرنے لگے تو حال یہ ہو گیا جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ “
(سنن ابن ماجہ: 3147، سنن ترمذی: 1505، موطا امام مالک: 1058)

قربانی کے جانور میں حصہ داری

❀ اونٹ کی قربانی میں زیادہ سے زیادہ سات افراد تک شامل ہو سکتے ہیں۔
(صحیح مسلم: 1318، 1316سنن ابوداؤد: 2809، سنن ابن ماجہ: 3131، سنن ترمذی: 1503، موطا امام مالک: 1057)
❀ گائے کی قربانی میں زیادہ سے زیادہ سات افراد تک شامل ہو سکتے ہیں۔
(صحیح مسلم: 1318 سنن ابوداؤد: 28072809 سنن ابن ماجہ: 3132، سنن ترمذی: 1503، سنن نسائی: 4389، موطا امام مالک: 1057، مسند احمد: 3/304)
❀ مینڈھا / چھترا / بکرا ایک ہی صاحبِ استطاعت فرد کی طرف سے ذبح کیا جا سکتا ہے۔
(صحیح بخاری: 556، صحیح مسلم: 1961، سنن ابوداؤد: 2810، سنن ابن ماجہ: 3147، سنن ترمذی: 1521، موطا امام مالک: 1058)

قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنا

❀ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا گوشت سنبھال رکھنے سے لوگوں کے فقر و فاقہ کی وجہ سے منع فرمایا تھا، پھر اجازت دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم کو قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا، اب کھاؤ اور ذخیرہ کرو۔ “
(صحیح بخاری: 5570،5423 صحیح مسلم: 1971، سنن ابن ماجہ: 3159، سنن ابوداؤد: 2812، سنن نسائی: 4431، موطا امام مالک: 1055، مسند احمد: 3/331)
❀ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کا گوشت کھاؤ، صدقہ کرو اور رکھ بھی لو۔
(صحیح بخاری: 1719، صحیح مسلم: 1973، سنن ابوداؤد: 2812، موطا امام مالک: 1056، سنن نسائی: 4236، سنن ابن ماجہ: 3160، مسند احمد: 3/38)

قربانی کب تک کی جا سکتی ہے؟

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سارے ایامِ تشریق ذبح کے دن ہیں۔ “
(مسند احمد: 16/3)

وضاحت:

ایامِ تشریق قربانی کا وقت 10 ذوالحجہ بعد از نمازِ عید تا 13 ذوالحجہ (قبل از غروبِ آفتاب) ہے۔